مندائیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مندائیت
"مندائی صلیب" (درفش)، جو مندائی دین کی مذہبی علامت ہے۔
"مندائی صلیب" (درفش)، جو مندائی دین کی مذہبی علامت ہے۔

رہنما آدم، شيث ،نوح، سام، ادریس، یحییٰ۔
بانی یوحنا اصطباغی/یحییٰ بن زکریا
ارکان اركان دین مندائیت :
  • توحید "سهدوثا اد ھیی"
  • خضاب "المصبتا"
  • وضو و نماز " ارشاما وابراخا "
  • صوم کبیر، مشکل روزہ "صوما"
  • صدقہ " زدقا"
ابتدا آدم وسام ویوحنا اصطباغی/یحییٰ بن زکریا
مقدس مقامات بیت العبادت، یردنا ضفۃ النہر
قریبی عقائد والے مذاہب ابراہیمی ادیان مسیحیت، اسلام، یہودیت، بہائیت
پیروکاروں کی تعداد 70 ہزار

مندائیت ایک مذہبی گروہ ہے جو خود کو یوحنا اصطباغی کی امت بتاتا ہے اور آدم، ہابیل، شیث، انوس، نوح، سام اور ارم کو نبی مانتا ہے جبکہ ابراہیم، موسیٰ اور یسوع مسیح کی نبوت کا انکار کرتا ہے۔ عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ مندائیت کا آغاز مسیحیت کے غناسطی فرقے کے طور پر ہوا اور پھر ارتقا کے مراحل سے گزرتا ہوا یہ ایک الگ مذہبی گروہ بن گیا۔ ان کی مذہبی علامت ”درفش“ بھی مسیحیت کے مذہبی نشان صلیب سے ملتی جلتی ہے۔ درفش دراصل ایک صلیب ہے جس پر ریشم کا کپڑا ایک خاص انداز سے لٹکا ہوتا ہے۔[1]

عقیدہ خدا[ترمیم]

خدا کے متعلق ان کا عقیدہ ہے کہ خدا واحد، ازلی، ابدی اور لامحدود اور مادہ سے منزہ ہے۔ اس کے وجود کا ثبوت مادہ کا وجود ہے۔ خدا کے تین سو ساٹھ معاون ہیں جو عالم مادہ میں تمام کام سر انجام دیتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک جداگانہ عالم نور کا مالک اور بادشاہ ہے۔ ان میں سے چند کے نام یہ ہیں:
ماری آدر بوتا، ھیبل زیوا، شیشلام ربا، مندا ھییا، سام زیوا، سیمات ھییا، ماھزیل مالا لا، اوثار راما، ابتاھیل، یہیی یوھنا (یحیی یوحنا) اور بہرام ریا۔
پروردگار بزرگ کو ”ملکا نہورا ریا“ کے نام سے پکارتے ہیں جو پیغامبر حیات ہیں۔

تخلیق دنیا[ترمیم]

خدائے یکتا نے سب سے پہلے ایک مخلوق پیدا کی جس کو ”ھیی قدما“ (ھیی قدیم) کہتے ہیں اور اس کو میثهیا سے تعبیر کرتے ہیں۔ آفریدہ دوم کو ھیی ثنیای (ھیی الثانی) کا نام دیتے ہیں۔ اور اس سے مراد یحیی معمدانی ہے۔

آفریدہ سوم کو ھیی اثلیثاثی کا نام دیا ہے جس سے مراد عیسی/یسوع ہیں۔ اس کے بعد خدا نے سات عالم ”آلمی دھشوخا“ (عوالم ظلمت) کو ہیدا کیا اور اس عالم کو سورج سے روشنی بخشی۔ آسمان سات طبقوں سے بنا ہوا ہے۔ سورج طبقہ چہارم میں ہے اور چاند طبقہ ہفتم میں۔ زمین و آسمان دو مادوں آب و آتش سے مرکب ہیں اور تمام مخلوقات عالم بھی انہی دو مادوں سے عالم وجود میں آئی ہیں۔ آدم کو ”گبرا قدمیا“ (Gabra Qadmia) کہتے ہیں۔ اس کے معنی مرد اول کے ہیں اس کا لقب آدم مادی بھی ہے۔

خدا نے چاہا کہ آدم کو پیدا کرے تو اس نے ھیبل زیوا کو زمین پر بھیجا۔ اس نے پہلے آدم کو پھر اس کی بائیں پسلی سے حوا کو پیدا کیا۔ اس کے بعد بادشاہ نور کے حکم سے ان میں روح پھونک دی اور بپتسمہ کا طریقہ سکھایا۔ اس کے بعد خدا نے فرشتوں کو بھیجا کہ اس کا سجدہ کریں۔ سب نے سجدہ کیا لیکن ”ھاد بیشا“ (ابلیس) نے انکار کیا۔ اس نے خدا سے کہا کہ مجھے تو نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے خاک سے تو میں اسے سجدہ کیوں کر کروں۔ خدا نے اسے لعنت کی اور عالم نور سے بھگا دیا۔

فلسفہ وجود[ترمیم]

مندائیوں کے نزدیک ہر چیز کے دو وجود ہیں ایک وجود پنہاں اور دوسرا وجود ظاہری۔ وجود پنہاں کو ”امشونی کشطا“ اور وجود ظاہری کو ”ارہ تیبل“ کے نام سے پکارتے ہیں۔ ابن ندیم نے الفہرست میں امشونی کشطا کو کشطنین کے نام سے یاد کیا ہے۔ روح مرنے کے بعد اگر نیک ہو تو عالم انوار یا بہشت میں جاتی ہے، اگر بری ہو تو عالم مادی و فانی اور دوزخ میں جاتی ہے۔ اگر کسی روح کی نیکی اور بدی برابر ہو تو اسے اس وقت تک عالم ”مطراثی“ یا ”مطراثا“ (برزخ) میں رکھتے ہیں جب تک کہ اس کی تطہیر نہ ہو جائے۔

مقدس کتب[ترمیم]

مندائیت کی بہت سی مذہبی کتابیں ہیں۔ ان کا مذہبی لٹریچر بہت وسیع ہے۔ ان کا مذہبی لٹریچر غناسطی مذاہب میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی چند مذہبی کتب درج ذیل ہیں:

  • کنزا ربا
  • دراشہ اد یہیا
  • قلستا
  • کتاب دیوان یہ نیک لوگوں کے تذکرے ہیں۔ اس کتاب اس کے نسخے کمیاب ہیں۔
  • اسفر ملواشہ
  • سیدرا د نیشماتا یہ مذہبی نغمے ہیں جن میں مردہ کی تجہیز و تکفین اور کیفیت انتقال روح کا بیان ہے۔
  • کتاب انیانی اس میں وہ دعائیں جنہیں یہ لوگ نماز میں پڑھتے ہیں۔
  • قماھا د ھیبل زیوا اس میں ایک ہزار دو اشعار ہیں جو طلسم و جادو اور ٹونے ٹوٹکے سے متعلق ہیں۔ اس سے جادو اور طلسم سیکھا جاتا ہے۔
  • کتاب پگرا علم الابدان پر محتوی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں ان غذاؤں اور دواؤں کا ذکر ہے جس سے انسانی بدن کو فائدہ پہنچتا ہے۔
  • تریسا الپی شیالا اس میں مسائل کا جواب ہے۔

عبادات[ترمیم]

وضو و نماز[ترمیم]

مندائی وضو کرتے ہوئے۔

روزمرہ کی عبادات میں سے ایک عبادت نماز ہے۔ یہ دن بھر میں تین مرتبہ نماز پڑھتے ہیں۔ اوقات نماز میں سے ایک طلوع آفتاب سے پہلے، دوسرا زوال آفتاب کے بعد اور تیسرا غروب آفتاب کے بعد ہے۔ نماز سے پہلے وضو کرتے ہیں۔ ان کا قبلہ برج جدی ہے۔ ان کی نماز میں سجدہ نہیں بلکہ صرف رکوع اور قیام ہوتا ہے۔

روزہ[ترمیم]

یہ مسلمانوں اور مسیحیوں کی طرح روزہ نہیں رکھتے بلکہ نفس کو ممنوعات سے روکتے ہیں اور اسی کو روزہ کہتے ہیں۔

صدقہ[ترمیم]

اس مذہب میں صدقہ بھی دیا جاتا ہے۔

بپتسمہ[ترمیم]

مندائی مذہب کی بنیادی دینی رسم بپتسمہ ہے۔ اس کی چند قسمیں درج ذیل ہیں:

  1. بپتسمہ ولادت۔ یہ بچہ کو پیدائش کے بعد دیتے ہیں۔
  2. عید پنجا۔ ان کے عید کے پانچ دن ہوتے ہیں جو یہ لوگ ہر سال مناتے ہیں۔ ان کو عربی میں الخمسة المسترقة کہتے ہیں۔ یہ دن وہ سال میں شمار نہیں کرتے۔ عید کے ان پانچ دنوں ہر مندائی پر لازم ہے کہ دن میں تین بار آب رواں سے غسل کرے۔

ممنوع اور حرام باتیں[ترمیم]

مندائیت میں حسب ذیل باتیں حرام و ممنوع ہیں:

  1. کسی کو قتل کرنا (مگر دفاع میں جائز ہے)
  2. شراب نوشی
  3. جھوٹی قسمیں کھانا
  4. غسل جنابت سے قبل کھانا اور پینا
  5. راہزنی اور چوری
  6. ایام عید میں اور یکشنبہ (اتوار) کو کام کرنا
  7. دوسروں کی بد گوئی اور غیبت
  8. زنا کرنا
  9. ختنہ کرنا
  10. وقت مقررہ پر قرض نہ ادا کرنا
  11. ہر اس جانور کا گوشت کھانا جس کی دُم ہو
  12. اپنے دینی بھائی کے علاوہ کسی پر اعتماد کرنا اور اس کے ساتھ میل جول رکھنا
  13. جھوٹی گواہی دینا
  14. زن شوہر دار پر نظرِ بد ڈالنا
  15. امانت میں خیانت کرنا
  16. جوا کھیلنا
  17. ہم جنس پرستی کرنا
  18. مندائی کے علاوہ اور کسی دین کے حامی کے ساتھ کھانا پینا

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مندائیت، دائرۃ المعارف بریٹانیکا۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 اگست 2017ء

مآخذ[ترمیم]

  • تاریخ الحکما۔ علامہ جمال الدین تفطی متوفی 646ء
  • الفہرست۔ ابن ندیم
  • الصابئون فی حاضر هم وماضیهم۔ عبد الرزاق الحسنی
  • کتاب مقدس۔ مقالہ سید تقی حسین
  • مقالہ ڈاکٹر محمد جواد۔
  • J. Hastings, Encyclopaedia of Religion and Ethics Vol III
  • E. S. Drawer, Mandaeans of Iraq and Iram