یعقوب علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
یٰعقوب نبی اللہ علیہ السلام
وجۂ وفات طبعی
مقام روضہ [[مسجدِخلیل، فلسطین]]
والد کا نام اسحاق علیہ السلام
والدہ کا نام رفقہ
انبیاء میں شمار نامعلوم
ہمعصر انبیاء کوئی نہیں
تورات میں ذکر یعقوب کے نام سے
زبور میں ذکر
انجیل میں ذکر عہد نامہ قدیم میں یعقوب کے نام سے
قرآن میں ذکر سورۃ یوسف میں یعقوب کے نام سے
پیشرو نبی اسحاق علیہ السلام
جانشین نبی یوسف علیہ السلام



حضرت یعقوب علیہم السلام کا لقب اسرائیل ہے۔ اس کا معنی ہے عبداللہ۔ اللہ کا بندہ۔[1] حضرت یعقوب کو مسلمان، یہودی اور عیسائی نبی مانتے ہیں۔ آپ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام آپ ہی کے بیٹے تھے۔آپ کا ذکر عہد نامہ قدیم میں ایک سو ستر سے زاہد بار[2] اور قرآن میں نام کے ساتھ دس سورتوں میں سولہ بار آیا ہے۔[3]

قرآن میں ذکر[ترمیم]

قرآن میں آپ کا ذکر کئ بار آیا ہے آپ کا ذکر سورۃ یوسف میں بھی آیا ہے۔

واقعات[ترمیم]

آپ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے تھے بچپن ہی سے بےحد شریف اور علم و شعور کے مالک تھے۔آپنے والد اسحاق کے بعد نبوت کے منصب پر فائض ہوۓ آپ کا علاقہ نبوت شہر کنعان تھا۔وہاں آپ نے کافی عرصہ نبوت کے فرائض سرانجام دیے آپ کو کنعانی یعنی عبرانی آپ کو "اسرائیل" یعنی اللہ کا بندہ کہہ کر پکارتے تھے۔ کافی عرصہ بعد آپ کو ایک عبرانی لڑکی راحیل(یوسف کی ماں) سے عشق ہو گیا اور راحیل بھی آپ سے بےحد عشق کرتی تھی۔ راحیل کا باپ اس شہر کا گورنر تھا ۔یعقوب(ع) اپنا رشتہ لے کر راحیل کے باپ کے پاس گۓ لیکن اس نے اس رشتے سے انکار کر دیا۔ تاہم یعقوب(ع) کی بے حد اسرار کے بعد وہ آپ(ع) سے رشتہ جڑنے کے لیے رازی ہوگیا۔ لیکن اس پر اس کی چند شرائط تھیں وہ شرائط درج ذیل ہیں:

  • راحیل سے شادی کرنے سے پہلے یعقوب(ع) کو راحیل کی بڑی بہن لیاہ سے شادی کرنی ہوگی۔
  • یعقوب(‏‏ع) کو پورے ۴۰(چالیس) سال تک بغیر کسی پیسے کے راحیل کے باپ کی بکڑیاں چرانی ہوں گی۔

چنانچہ یعقوب(ع) ان تمام شرائط پر کھڑے اُترے اور اپنی محبت راحیل کے ساتھ چین کی زندگی گزاری۔ یہ واقعہ عشق کی ایک عظیم قربانی کو بیان کرتا ہے نہیں تو کوئی بھلا کسی کی بکڑیاں چالیس سال تک بغیر کسی پیسے کے چراتا ہے کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔

پھر آپ واپس لوگوں کو دینِ ابراہیمی(اسلام) کی دعوت دینے میں جُٹ گیۓ۔کئی سال بعد آپ کے بیٹے یوسف کو ایک خواب آیا کہ :اس کو سورج،چاند اور دس ستارے سجدہ کر رہے ہیں۔یعقوب(ع) نے یوسف کو یہ خواب اپنے بھائیوں کو بتانے سے منع فرمایا۔۔۔ تاہم یوسف نے ایسا ہی کیا۔لیکن یعقوب(ع) کی دوسری بیوی لیاہ(راحیل کی بڑی بہن) نے آپ(ع) کی باتیں سن لیں اور اپنے دس بیٹوں کو بتا دی یہ بات سن کر ان دس بیٹوں کو بہت غصہ آیا اور انہوں نے یوسف کو لے جاکر مارنے کا منصوبہ بنایا انہوں نے یعقوب(ع) سے اجازت مانگی تو انہوں نے منع فرما دیا پھر وہ سب اپنی ماں لیاہ کے پاس گیۓ اور اس سے درخواست کی کہ وہ یعقوب(ع) سے انہیں یوسف کو لے جانے کی اجازت دلا دیں۔ لیاہ(دس بیٹوں کی ماں) کے اسرار پر اپ نے انہیں یوسف کو لے جانے کی اجازت دے دی۔اور انہوں نے یوسف کو کنویں میں پھینک کر اس کی قمیض پر بکڑی کا خون لگا کر واپس چلے گیۓ۔جب یعقوب(ع) نے ان سے یوسف کا پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے اس پر یعقوب(ع) بےحد غمگین ہوگیۓ اور انہوں نے اس بات اس بات کو ماننے سے انکار کردیا۔جب انہوں نے یعقوب(ع) کو یوسف کی خون سے بھری ہوئ قمیض دکھائی تو یعقوب(ع) کا سینا کھول اٹھا اس پر وہ بہت غمگین ہوگۓ۔ جب آپ نے اس قمیض پر غور فرمایا تو دیکھا کہ قمیض تو کہیں سے نہیں پھٹی تو یوسف کو بھیڑیے نے کیسے کھالیا۔اپ(ع) نے فرمایا: اگر یوسف کو بھیڑیوں نے کھایا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ یوسف کی قمیض کہیں سے نہیں پھٹی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد آپ(ع) کافی عرصہ اپنے بیٹوں سے ناراض رہے یہاں تک کہ بیٹوں سے الگ ہو کر اپنا الگ گھر بنالیا۔ یوسف کی جدائی کے بعد آپ(ع) پورا پورا دن کمرے میں رہ کر روتے رہتے یہاں تک کہ رو رو کر آپ(ع) کی بینائی بھی چلی گئ۔اسکے تقریباً 40 سال بعد آپ کو معلوم ہوا کہ یوسف عزیزِمصر ہے اور مصر میں آپ(ع) کا انتظار کر رہا ہے تو آپ(ع) سے برداشت نہ ہوا کہ آپ(ع) اتنی طاقت ہو کہ آپ اُڑ کر یوسف کے پاس پہنچ جایئں لیکن آپ(ع) تو اندھے تھے آپ(ع) اتنا سفر کیسے کرتے تو یوسف نے اپنے ایک بھائی لاوی کے ہاتھ ایک قمیض بھیجی جو حضرتابراہیم علیہ السلام جو کہ یعقوب(ع) کے دادا ان کی تھی جو انہوں نے اپنے بیٹےاسحاق علیہ السلام اور اسحاق(ع) نے یعقوب(ع) اور یعقوب نے اپنے بیٹے یوسف کو دی تھی بھجوائی یعقوب(ع) نے وہ قمیض اپنی انکھوں پر رکھی اور اللہ کے کرم سے آپ(ع) کی بینائی واپس آگئ ۔پھر آپ(ع) یوسف سے ملنے مصر گیۓ جہاں۴۰۰۰(چار ہزار)مصری آپ(ع) کے استقبال میں کھڑے تھے پھر آپ(ع) اپنے بیٹے یوسف سے ملے اور خوشی خوشی زندگی بسر کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد آپ(ع) ۲۴(چوبیس)سال مصر میں رہے پھر ۱۴۷(ایک سو سنتالیس) سال کی عمر میں وفات پاگیےآپ(ع)کیوفات پر اہلِ مصر ۷۰(ستر) روز تک روۓ آپ(ع) اپنے باپ،دادا اسحاق و ابراہیم کے ساتھ مسجدِ خلیل جو فلسطین میں ہے دفن ہیں۔

اولاد و ازواج[ترمیم]

قرآن میں حضرت یعقوب کے بارہ بیٹوں کا ذکر ہے لیکن ان کے نام اور ان کی ماؤں کے نام مذکور نہیں، سوائے حضرت یوسف نبی کے جن کے نام پر پوری سورہ قرآن میں ہے اور جن کے حالات کو قدرے تقصیل سے بیان کیا گيا ہے۔[4] جبکہ عہد نامہ قدیم میں آپ کی دو بیویوں اور دو باندیوں اور ان کے بارہ بیٹوں کا ذکر نام کے ساتھ آیا ہے۔[5]

عہد نامہ جدید[ترمیم]

جدید تحقیقات آثار قدیمہ[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ تفسیر ضیاء القرآن پیر کرم شاہ سورۃ البقرہ:آیت45
  2. ^ کلید الکتاب، صفحہ 1675، دسویں اشاعت، مسیحی اشاعت خانہ، لاہور
  3. ^ اطلس القرآن (اردو ترجمہ)،شوقی ابو الخلیل، صفحہ 108، دارالسلام لاہور
  4. ^ قرآن، سورہ یوسف۔
  5. ^ عہد نامہ قدیم؛ پیدائش، اس کا 3/4 حصہ حضرت یعقوب اور ان کے خاندان کے حالات بیان کرتا ہے، جن میں سے کئی بیانات کو مسلمانہیں مانتے۔