تلمود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلسلہ مضامین
یہودیت
Star of David.svg
Lukhot Habrit.svg  Menora.svg

باب یہودیت

تلمود (عبرانی תַּלְמוּד) عبرانی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ لمد (למד) ہے۔ عبرانی میں لمد کے معنی وہی ہوتے ہیں جو عربی میں لمذ کے ہوتے ہیں، یعنی پڑھنا۔[1] اسی سے تلمیذ بمعنی شاگرد بھی آتا ہے۔
تلمود یہودیت کا مجموعہ قوانین ہے، جو یہوددیوں کی زندگی میں تقدس کا درجہ رکھتا ہے اور اسے یہودی تقنین میں دوسرا ماخذ قرار دیا گیا ہے۔
تلمود کے دو جزو ہیں:

  • مشنی۔ (عبرانی משנה) ہالاخا (فقہ یہود) کا سب سے اولین مجموعہ، جو دوسری صدی عیسوی تک زبانی منتقل ہوتا رہا۔
  • جمارہ۔ (آرامی גמרא) یہودی حاخامات نے مشنی کی جو تشریحات اِرقام کی اس کا مجموعہ جمارہ کہلاتا ہے۔ مشنی کے اختتام کے بعد یہودی مدراش میں یہی رائج تھا۔

مشنی اور جمارہ یہ دونوں نام آپس میں ایک دوسرے کی جگہ بھی استعمال ہوتے ہیں۔ یہودی ادب میں مشنی کے مماثل ایک اور کتاب موجود ہے، جس کا نام بریثا (آرامی ברייתא) ہے۔ اسے مشنی کی تدوین کے بعد تناییم (عبرانی תנאים) نے مدون کیا تھا۔

تعارف[ترمیم]

تلمود میں توریت کا ایک حصہ ضرور موجود ہے مگر سب سے زیادہ حصہ مذہبی حضرات کے خیالات، انکی غور و فکر اور انکے ڈبیٹوں کا خلاصہ ہے جو حکومت کر نے کے طریقے، سوسائٹی پر کنٹرول، مذہبی رسومات ، خاندانوں کے اندر اور انکے درمیان تعلقات، معیشت،تعلیم و تربیت، زراعت کر نے کے طریقہ اورد یگر تمام معاملات کے متعلق معلومات ہیں۔یہ صرف ایک زمانے کے نہیں بلکہ ہر زمانے میں ہونے والے ڈبیٹ، ریسرچ،خیالات اور ھدایا ت کامجموعہ ہے۔اس میں میڈیسن،آسٹرونومی، جادوگری ، سیکس، ہنسی مذاق اور زندگی کے دیگر تمام شعبوں کے متعلق معلومات ہیں۔یہ کتاب کئی جلدوں پر مشتعمل ہے جو ہزاروں برسوں میں لکھی گئی ہے۔ تلمود کا معنی Study or teaching ہے اور یہ یہودیوں کا مذہب ہے۔ یہ 36 جلدوں میں موجود ہے اور اس میں ایک ملین آٹھ سو ہزار الفاظ ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

یہودی ’’ حاخاموں‘‘ نے برسوں توریت پر مختلف خود ساختہ شرحیں اور تفسیریں لکھیں ہیں۔ ان تمام شرحوں اور تفسیروں کو حاخام ’’ یوخاس‘‘ نے 1500ء میں جمع بندی کر کے اس میں کچھ دوسری کتابوں کا جو 230ء اور 500ء میں لکھی گئی تھیں اضافہ کر دیا۔ اس مجموعہ کا ’’تلمود‘‘یعنی تعلیم دیانت و آداب یہود کے نام سے موسوم کیا گیا۔ یہ کتاب یہودیوں کے نزدیک بہت تقدس کی حامل ہے اور توریت و عہد عتیق کے مساوی حیثیت رکھتی ہے۔ ( بلکہ توریت سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے جیسا کہ گرافٹ نے کہا: جان لو کہ خاخام کے اقوال پیغمبروں سے زیادہ بیش قیمت ہیں)۔

یہودی حاخامات کے نزدیک اللہ تعالیٰ نے طورسینا پر موسی علیہ السلام پر دو شریعتیں نازل کی:

  • مکتوب شریعت
  • زبانی شریعت

اور یہی زبانی شریعت اصل شریعت ہے، جو اللہ کی مراد اور مکتوب شریعت یعنی تورات کی حقیقی تفسیر ہے۔

چنانچہ یہود کے اندر دُہری شریعت کا آغاز ہوا اور 40 نسلوں تک یہ سری شریعت زبانی منتقل ہوتی رہی اور یہودی حاخامات زبانی و سری شریعت کی آڑ میں تورات کی من مانی تفسیر کرتے رہے۔ زبانی شریعت کے مکتوب نہ ہونے کی وجہ سے یہودی قوم متعین عقائد پر متفق نہیں تھی۔ ہر یہودی ربی کی اپنی تشریح و تفسیر ہوتی، جس پر اس کے خاندان اور متبعین یقین رکھتے تھے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. قاموس الکتاب المقدس از ڈاکٹر پطرس عبد الملك، ڈاکٹر جون الكزینڈر تھامسن، استاذ ابراہيم مطر۔