موسیٰ (مذہبی شخصیت)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(موسیٰ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
Disambigua compass.svg یہ صفحہ مذہبی شخصیت موسیٰ (یہودیت، مسیحیت اور اسلام) کے عمومی موضوع کے متعلق ہے۔ اس نام سے مشابہت رکھنے والے دیگر صفحات کے لیے ← موسیٰ (ضد ابہام) ملاحظہ فرمائیں۔
موسىٰ
מֹשֶׁה
کیتھیڈرل میں موسیٰ کی شبیہ۔ مسوری، ریاستہائے متحدہ امریکا
كليم اللہ، پیغمبر، غیب داں، شارع، مُصلح
ولادت 1300 قبل مسیح
سرزمین جاسان، زیریں مصر
وفات 1271 قبل مسیح
جبل نیبو، موآب
قابل احترام یہودیت، مسیحیت، اسلام، بہائیت
مزار جبل نیبو، اردن
تہوار 4 دسمبر (مسیحیت میں)
رموز لوحی شریعت
نسب بن عمرام بن قہات بن لاوی بن یعقوب۔
پیغمبر موسیٰ کی ایک روسی راسخ الاعتقاد شبیہ

موسیٰ (انگریزی: Moses، عبرانی: מֹשֶׁה‎، جدید موشے طبری موشا موسے؛ سریانی: ܡܘܫܐ مؤشے؛ عربی: موسى ؛ یونانی: Mωϋσῆς مؤسس بمطابق عہد نامہ جدید اور سپتواجنتا) ابراہیمی مذاہب کے ایک پیغمبر ہیں۔ عبرانی بائبل کے مطابق، موسیٰ ایک مصری شہزادے تھے جو بعد میں مذہبی رہنما اور شارع رہنما بن گئے۔جنہوں نے توریت تالیف کی تھی یا جن کو جنت سے توریت کا حصول ہوا۔ ان کو موشی ریبنو (מֹשֶׁה רַבֵּנוּ، لغوی معنی: "موسیٰ ہمارے استاد") بھی کہا جاتا ہے، یہودیت میں ان کو سب سے اہم پیغمبر تصور کیا جاتا ہے۔[1][2]اس کے علاوہ ان کو مسیحیت، اسلام اور بہائیت کے ساتھ ساتھ دوسرے ابراہیمی مذاہب میں بھی اہم پیغمبر سمجھا جاتا ہے۔

کتاب خروج کے مطابق، موسیٰ ایک ایسے وقت میں پیدا ہوا تھا جب اس کی قوم بنی اسرائیل کو ایک اقلیتی غلام بنا کر رکھا تھا،جن کی تعداد میں اضافہ ہورہا تھا اور فرعون فکر مند تھا کہ وہ لوگ مصر کے دشمنوں کے ساتھ اتحاد نہ کرلیں۔[3]

جب فرعون نے حکم دیا کہ تمام نوزائیدہ عبرانی لڑکوں کو ہلاک کیا جائے تاکہ بنی اسرائیل کی آبادی کم ہوسکے۔ تو عبرانی موسیٰ کی ماں یوکابد نے خفیہ طور پر اُسے چھپا دیا۔ جس لقیط (لاوارث بچہ) کو فرعون کی بیٹی (مدراش میں جس کی نشاندہی ملکہ بتیاہ کے نام سے ہوئی) نے اپنا لیا تھا جو اس کو دریائے نیل سے ملا تھا اور وہ مصری شاہی خاندان کے ساتھ پلے بڑھے۔ موسیٰ بعد میں ایک غلام کے مالک کو قتل کر کے بحیرہ احمر کے پار مدیان فرار ہوگئے تھے (کیونکہ یہ مالک ایک عبرانی شخص کو مار رہا تھا)، مدیان میں ان کو رب کے فرشتے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔[4]جس نے حورب پہاڑ میں جلتی ہوئی جھاڑی پر موسیٰ سے بات کی (جس کو انہوں نے خدا کا پہاڑ کہا)۔

خدا نے موسیٰ کو دوبارہ مصر بھیجا تاکہ وہ بنی اسرائیلیوں کو غلامی سے نجات دلا سکے اور ان کی آزادی کا مطالبہ کرے۔ مگر موسیٰ نے کہا کہ وہ صاف صاف بول نہیں سکتا اور رُک رُک کے بولتا ہے اور نہ ہی اچھے الفاظ ادا کرسکتا ہے۔[5]پھر خدا نے ہارون موسیٰ کے بھائی کو اس کی جگہ بات کرنے کو کہا۔مصری آفتوں کے بعد، موسیٰ نے بنی اسرائیلیوں کے مصر سے خروج اور بحیرہ احمر عبور کرنے میں قیادت کی۔ اس کے بعد وہ لوگ جبل موسیٰ میں آباد ہوئے۔ جہاں موسیٰ کو دس احکام موصول ہوئے۔ 40 سال صحرا میں بھٹکنے کے بعد جبل نیبو میں میدان تیہ پر موسیٰ انتقال کرگئے۔[6][7] ربیائی یہودیت کے مطابق موسیٰ 1391-1271 قبل مسیح تک زندہ رہے۔ [8] جیروم کے مطابق 1592 قبل مسیح،[9] اور جیمس یوشر کے مطابق 1571 قبل مسیح ان کا پیدائش کا سال تھا۔[10]

پیدائش[ترمیم]

بچے (موسیٰ) کی پیدائش سے قبل فرعون فیصلہ سنا چکا تھا کہ تمام عبرانی لڑکوں کو قتل کردیا جائے۔ اسرائیلی قبیلے لاوی کے ایک شخص نے اپنے ہی قبیلے کی ایک عورت سے شادی کی۔ اس نے ایک بچے کو جنم دیا۔ انہوں نے بچے کو تین ماہ تک چھپائے رکھا لیکن جب ان کے لیے مزید چھپا کر رکھنا ناممکن ہوگیا تو انہوں نے سرکنڈوں کی ایک ٹوکری بنا کر اسے رال سے جوڑا، بچے کو اس ٹوکری میں رکھ کر دریا کے کنارے جھاؤ میں رکھ دیا۔

اس بچے کی بہن میریم دور کھڑی رہی کہ بچے کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ اسی دوران میں فرعون کی بیٹی دریا پر غسل کرنے کو آئی، اس نے جھاؤ کی جھاڑ میں ٹوکری پڑے دیکھا، اس نے اپنی لونڈی سے کہا کہ ٹوکری اٹھا لاؤ۔

جب ٹوکری کھول کر دیکھا تو اس میں بچہ تھا۔ بچہ رو رہا تھا، شہزادی کو بچے پر ترس آیا یہ بچہ کسی عبرانی کا ہے، شہزادی نے کہا۔

موسیٰ کا ملنا(تفصیل)، 1638ء،نکولس پوسن کی مصوری

بچے کی بہن نے شہزادی سے کہا کہ میں کسی عبرانی عورت کو بلا لاؤں جو اس کو دودھ پلائے؟ فرعون کی بیٹی نے کہا تمہاری مہربانی ہوگی اگر تم ایسا کرو۔ اس طرح بچے کی بہن اپنی ماں کو بلا لائی، فرعون کی بیٹی نے کہا اے عورت اس بچے کو لے اور اس کی آیاگری کر، میں تمہیں اس کا معاوضہ دوں گی۔ عورت یعنی بچہ کی ماں بچے کو گھر لے گئی اور اس کی پرورش شروع کردی۔

بچہ جب بڑا ہوگیا تو وہ اسے فرعون کی بیٹی کے پاس لے گئی۔ فرعون کی بیٹی نے بچے کو اپنا متبنیٰ بنالیا۔ فرعون کی بیٹی نے کہا اسے پانی سے نکالا تھا۔ اس لیے میں اس کا نام موسیٰ رکھوں گی۔[11]

موسیٰ کا فرار اور شادی[ترمیم]

موسیٰ جب جوان ہوا تو وہ اپنے رشتے داروں سے ملنے گیا۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ وہ لوگ انتہائی مشقت کرتے ہیں اور ان سے بہت کام لیا جاتا ہے۔ موسیٰ کی موجودگی میں ایک مصری نے ایک عبرانی کو تشدد کر کے مار ڈالا۔

موسیٰ نے ارد گرد کا جائزہ لیا اور تسلی کی کہ اسے کوئی دیکھ نہیں رہا۔ موسیٰ نے اس قاتل مصری کو مار ڈالا اور مصری کی لاش ریت میں چھپا دی۔ موسیٰ خوف زدہ ہوگیا۔ اس نے اپنے آپ کہا ضرور لوگوں کو پتا چل جائے گا کہ میں نے کیا کیا ہے۔

جب فرعون کو موسیٰ کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس نے ایک مصری کو قتل کیا ہے تو فرعون نے اس کے خلاف کرنے کا حکم دیا لیکن موسیٰ فرار ہوگیا اور مدین آگیا۔

مدین کے کاہن کو یترو (عربی میں شعیب) کہا جاتا تھا۔ اس کی سات بیٹیاں تھیں۔ موسیٰ کنویں کے قریب بیٹھا تھا، وہ ساتوں کنویں سے اپنے باپ کی بھیڑ بکریوں کو پانی پلانے آئیں لیکن دوسرے چرواہے نے ان کی بھیڑوں اور بکریوں کو دور ہٹا دیا۔ موسیٰ ان کی مدد کو آیا، اس نے کنویں سے پانی نکالا اور ان کے جانوروں کو پلایا۔ لڑکیاں جب گھر واپس آئیں تو انہوں اپنے باپ کو بتایا کہ ایک مصری نے ان کی کیسے مدد کی۔ یترو نے کہا تم اس شخص کو وہاں کیوں چھوڑ آئی ہو؟ جاؤ اسے بلا لاؤ تاکہ وہ ہمارے ساتھ کھانا کھائے۔ موسیٰ ان کے ساتھ جانے پر راضی ہوگیا۔ کاہن یترو نے اپنی بیٹی صفورہ کی شادی موسیٰ سے کردی۔

مصر میں اسرائیلی غلامی کی زندگی گزار رہے تھے۔ اسرائیلیوں نے خدا کو مدد کے لیے پکارا اور خدا نے ان کی پکار سن لی۔ خدا نے ان کو اپنا عہد یاد کروایا۔[12]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بائبل: عہد نامہ قدیم (عہدِ عتیق)، استثناء 34:10
  2. موسیٰ بن میمون، ایمان کے 13 اصول، ساتواں اصول ۔
  3. عہد نامہ قدیم(عہدِ عتیق)، خروج 1:10
  4. ڈوگلس کے۔ اسٹوارٹ (15 جون 2006)۔ ایکسوڈس: این ایکسیجیٹیکل اینڈ تھیولوجیکل ایکسوپزیشن آف ہولی اسکرپچر۔ B&H بپلشنگ گروپ۔ صفحہ۔110-113۔ 
  5. عہد نامہ قدیم(عہدِ عتیق)، خروج 4:10
  6. ڈیور، ولیم جی۔ (2002)۔ What Did the Biblical Writers Know and When Did They Know It? (پیپر بیک ed.)۔ Grand Rapids, Mich. [u.a.]: ایرڈمنس۔ صفحات۔98–99۔ 
  7. Finkelstein, I.، Silberman, NA.، The Bible Unearthed: Archaeology's New Vision of Ancient Israel and the Origin of Its Sacred Texts, p.68
  8. en:Seder Olam Rabbah[مکمل حوالہ درکار]
  9. Jerome's Chronicon (4th century) gives 1592 for the birth of Moses
  10. The 17th-century Ussher chronology calculates 1571 BC (Annals of the World، 1658 paragraph 164)
  11. خروج باب 2، آیت 1 تا 10
  12. خروج باب 2 آیت 11 تا 17، 19 تا 24
موسیٰ (مذہبی شخصیت)
پیشرو 
شریعت کا آغاز
شارع جانشین 
یشوع