شعیب علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(شعيب علیہ السلام سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شعیب
علیہ السلام
شُعیب
معلومات شخصیت
مقامِ پیدائش مدین   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
مقام وفات ماحص[*]   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مبلغ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر


شعیب علیہ السلام، اللہ تعالی کے بھیجے گئے ایک نبی تھے اور آپ موسیٰ علیہ السلام کے سسر بھی تھے۔قرآن مجید کے مطابق شعیب علیہ السلام مدین کی طرف بھیجا گئے تھے۔ آپ کو اس وقت مدین بھیجے گئے تھے جب اہل مدین ناپ طول میں کمی کرتے تھے اور قسم قسم کے سرکشیوں او نافرمانیوں میں ڈوبے ہوئے تھے۔
شعیب میکیل کے بیٹے تھے اور میکیل یشجر کے اور یشجر مدین کے اور مدین ابراہیم ( علیہ السلام) کے بیٹے تھے۔شعیب (علیہ السلام) نابینا (ہو گئے) تھے چونکہ اپنی قوم سے خطاب کرنے میں آپ کو کمال تھا اس لیے آپ کا لقب خطیب الانبیاء ہوا۔ آپ کی قوم کافر بھی تھی اور ناپ تول میں بھی کمی کرتی تھی۔ ابن عساکر نے عبد اللہ ابن عباس : کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب شعیب (علیہ السلام) کا ذکر کرتے تھے تو فرماتے تھے وہ خطیب الانبیاء تھے اس لیے کہ اپنی قوم سے خطاب اچھے اسلوب سے کرتے تھے۔[1]
سوا شعیب (علیہ السلام) کے اور کوئی نبی دو امتوں کی ہدایت کے لیے نہیں بھیجا گیا ایک امت ان کی یہ قبیلہ ہے جس کا نام مدین ہے اور شعیب (علیہ السلام) بھی اسی قبیلہ میں کے ہی اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے شعیب (علیہ السلام) کو اس قبیلہ کا بھائی فرمایا ہے اور دوسری امت بن کے رہنے والے لوگ ہیں جن سورة شعراء میں اصحاب الایکہ فرمایا ہے اور بعضے مفسر کنویں والے لوگوں کو بھی جن کو سورة فرقان اور سورة قاف میں اصحاب الرس فرمایا ہے ان کی ہی امت میں شمار کر کے یوں کہتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) تین امتوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے ہیں لیکن حافظ عماد الدین ابن کثیر نے کہا اصحاب الایکۃ ایک ہی امت کے لوگ میں جن میں کم تولنے اور کم ناپنے کا رواج تھا اور اسی ایک امت کی ہدایت کے لیے شعیب (علیہ السلام) بھیجے گئے ہیں یہ لوگ پیڑوں کی بھی پوجا کیا کرتے تھے اس واسطے ان کو اصحاب الایکہ یعنے پیڑوں والے کہہ کر جو سورة شعراء میں بتا دیا ہے اکثر مفسروں کا قول یہی ہے کہ شعیب (علیہ السلام) نے بڑی عمر پائی ہے موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت تک زندہ تھے۔ اور ایک شخص قبطی کو مار کر مصر سے مدین کو جب موسیٰ (علیہ السلام) گئے تو ان کی ملاقات شعیب (علیہ السلام) سے ہوئی اور وہ دو بہنیں جن کا قصہ سورة قصص میں ہے شعیب (علیہ السلام) کی بیٹیاں تھیں جن میں سے ایک کا نکاح حضرت موسیٰ سے ہوا شعیب (علیہ السلام) نابینا تھے [2]

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. تفسیر مظہری قاضی ثناءاللہ پانی
  2. تفسیر احسن التفاسیر ۔ حافظ محمد سید احمد حسن