تارح

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(تارخ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
تارح (آزر) ابن نحور
تارح (آزر) ابن نحور
نام: تارح (آزر)
پیدائش: اُر، بین النہرین اب عراق
وفات: حران (205 سال)
اولاد: ابرام(ابراہیمنحور، حاران، سارہ[1]
والدین: نحور(والد)
خاندان: سروج(دادا)
قابل احترام: عیسائیت، یہودیت اور اسلام

تارح یا آزر کے متعلق بعض علماء نے فرمایا کہ یہ ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تھا، بعض نے فرمایا کہ والد نہیں چچا کا نام تھا والد کا نام تارخ تھا جو مسلمان تھے اور بعض نے فرمایا کہ آزر بت کا نام تھا۔

اسلام میں[ترمیم]

بت کا نام[ترمیم]

تفسیر طبری میں ہے’’حدثنا محمد بن حمید وسفیان بن وکیع قالا حدثنا جریر، عن لیث، عن مجاہد قال لیس’’آزر‘‘ أبا إبراہیم۔ حدثنی الحارث قال، حدثنی عبد العزیز قال، حدثنا الثوری قال، أخبرنی رجل، عن ابن أبی نجیح، عن مجاہد وإذ قال إبراہیم لأبیہ آزر قال آزر لم یکن بأبیہ، إنما ہو صنم‘‘ ترجمہ

حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد نہیں تھے۔ دوسری روایت حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد نہ تھے آزر ایک بت تھا۔[2]

ابراہیم کے والد کا نام تارخ[ترمیم]

تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے ’’عن ابن عباس قولہ وإذ قال إبراہیم لأبیہ آزر قال إن أبا إبراہیم لم یکن اسمہ آزر، إنما کان اسمہ تارخ‘‘ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد آزر نہ تھے ۔ ان کے والد کا نام تارخ تھا۔ [3]
تفسیر قرطبی میں ہے’’قال مجاہد إن آزر لیس باسم أبیہ وإنما ہو اسم صنم وہو إبراہیم بن تارخ بن ناخور بن ساروع ابن أوغو بن فالغ بن عابر بن شالخ بن أرفخشد بن سام بن نوح علیہ السلام ‘‘ترجمہ:حضرت مجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام نہ تھا ایک بت کا نام تھا۔ ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تارخ بن ناخور بن ساروع بن اوغو بن فالغ بن عابر بن شالخ بن ارفخشد بن سام بن نوح تھا۔[4]
رضویہ میں ہے:’’ اہل تواریخ واہل کتابین (یہودونصاری) کا اجماع ہے کہ آزر باپ نہ تھا سید خلیل علیہ السلام الجلیل کا چچا تھا۔‘ ‘ [5] مفتی محمد امجد علی اعظمی فرماتے ہیں:’’آزر بلاشبہ کافر و مشرک تھا، نصوص قطعیہ سے اس کا مشرک ہونا ثابت ۔ مگر یہ حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا باپ نہ تھا، ان کے والد کا نام تارخ تھا اور آزر چچا تھا۔‘‘ [6]
مفتی احمد یار خان نعیمی آیت {ربنا اغفر لی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب} کے تحت لکھتے ہیں :’’اس آیت میں والدین سے مراد جناب ابراہیم کے سگے والد تارخ اور آپ کی والدہ متلی بنت نمر ہیں یہ دونوں مؤمن تھے ان کے لئے آپ نے بڑھاپے میں دُعائے مغفرت کی ۔‘‘[7]

والد مومن تھے[ترمیم]

تفسیر نعیمی میں اسی آیت کے تحت لکھا ہے :’’حضرت ابرہیم علیہ السلام کے سگے ماں باپ مومن متقی موّحد تھے آپ کی والدہ کا نام متلی بنت نمر تھا اور والد کا نام تارخ ابن نحور تھا حضرت ہود علیہ السلام کی اُمت میں سے تھے۔‘‘مزید اسی کے تحت فرمایا:’’ یہاں آیت میں والدہ اور والد دونوں کا ذکر ہے آپ کی والدہ کے مومنہ ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں ۔‘‘[8]
یہی کلام صاحب روح المعانی نے کیا ہے’’ودعا ہناک فقال{ رَبَّنا إِنِّی أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِی بِوادٍ غَیْرِ ذِی زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ إلی قولہ رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسابُ} فإنہ یستنبط من ذلک أن المذکور فی القرآن بالکفر ہو عمہ حیث صرح فی الأثر الأول أن الذی ہلک قبل الہجرۃ ہو عمہ ودل الأثر الثانی علی أن الاستغفار لوالدیہ کان بعد ہلاک أبیہ بمدۃ مدیدۃ فلو کان الہالک ہو أبوہ الحقیقی لم یصح منہ علیہ السلام ہذا الاستغفار لہ أصلا فالذی یظہر أن الہالک ہو العم الکافر المعبر عنہ بالأب مجازا وذلک لم یستغفر لہ بعد الموت وأن المستغفر لہ إنما ہو الأب الحقیقی ولیس بآزر‘‘[9]

ابی لفظ چچا اور دادا کیلئے[ترمیم]

یہ اعتراض کہ لفظ ’’ابی‘‘ صرف باپ کے لئے استعمال ہوتا ہے درست نہیں۔ قرآن اہل عرب پر نازل ہوا اور اہل عرب ہماری طرح چچا، تایا اور دادا کو ابو، نواسوں کو بیٹا کہہ دیتے تھے۔ اس کی بے شمار مثالیں قرآن وحدیث سے ملتی ہیں چنانچہ قرآن پاک میں سورۃ کہف میں دو بچوں کے متعلق فرمایا { وَکَانَ تَحْتَہُ کَنزٌ لَّہُمَا وَکَانَ أَبُوْہُمَا صَالِحًا }ترجمہ کنز الایمان:اور اس کے نیچے ان کا خزانہ تھا اور ان کا باپ نیک آدمی تھا ۔[10]
جب کہ مذکورہ باپ ان کا حقیقی باپ نہ تھا بلکہ ساتواں دادا تھا چنانچہ تفسیر ابن کثیر میں ہے’’وکان بینہما و بین الاب الذی حفظا بہ سبعۃ آبائ‘‘[11] روزِ حنین جب ارادہ الہٰیہ سے تھوڑی دیر کیلئے کفار نے غلبہ پایا معدود بندے رکاب رسالت میں باقی رہے ، اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شان جلال طاری تھی فرمایا ’’انا النبی لاکذب انا ابن عبدالمطلب ‘‘ترجمہ:میں نبی ہوں کچھ جھوٹ نہیں ، میں ہوں بیٹا عبدالمطلب کا ۔[12]
ایک حدیث میں ہے ، بعض غزوات میں فرمایا ’’انا النبی لاکذب ، انا ابن عبدالمطلب، انا بن العواتک ‘‘ترجمہ:میں نبی ہوں کچھ جھوٹ نہیں ، میں ہوں عبدالمطلب کا بیٹا ، میں ہوں ان بیبیوں کا بیٹا جن کا نام عاتکہ تھا ۔ [13] علامہ مناوی صاحب تیسیر وامام مجدالدین فیروز آبادی صاحب قاموس وجوہری صاحب صحاح وصنعانی وغیرہم نے کہا کہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی جدات میں نو بیبیوں کا نام عاتکہ تھا۔ [14]
ترمذی شریف کی بسند حسن حدیث پاک ابوہریرہ سے مروی ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں ’’عم الرجل صِنوُ اَبِیہ‘‘ ترجمہ: آدمی کا چچا اس کے باپ کے بجائے ہوتا ہے ۔[15] مسلم شریف کی حدیث پاک ہے جس میں آپ نے ابوطالب کو اپنا باپ کہا چنانچہ فرمایا ’’ان ابی واباک والنار‘‘ ترجمہ:بے شک میرا اورتیرا باپ آگ میں ہے۔[16]
دوسری حدیث پاک میں آپ نے اپنے چچا سیدنا عباس کو ابو کہا چنانچہ تفسیر کبیر میں ہے ’’فاما والدہ فھو تارخ والعم قد یسمی بالاب علی ماذکرنا ان اولاد یعقوب سموا اسماعیل بکونہ ابا یعقوب مع انہ کان عما لہ وقال علیہ السلام ’’ردوا علی ابی‘‘ یعنی العم العباس‘‘ترجمہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام تارخ تھا اور چچا کو باپ کہہ دیا جاتا ہے۔ جیسا ہم نے ذکر کیا کہ اولاد ِیعقوب کو اولادِ اسماعیل بھی کہا جاتا ہے حالانکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے چچا تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ نے فرمایا مجھ پر میرے باپ کو پیش کرو یعنی چچا عباس کو۔[17]
المستدرک للحاکم کی صحیح حدیث پاک ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’انا دعوۃ ابی ابراہیم ‘‘ترجمہ:میں اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں۔ حضرت حسن و حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے متعلق فرمایا ’’ہذان ابنای‘‘ترجمہ:یہ دونوں میرے بیٹے ہیں۔ اسی طرح کی اور بے شمار مثالیں ہے۔ لہذا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد آزر نہیں تھے بلکہ تارخ تھے، یہی نظریہ رکھنے میں احتیاط اور عافیت ہے۔

شجرہ نسب[ترمیم]

تارح
سارہ[18] ابرام (ابراہیم علیہ السلام) ہاجرہ حاران
نحور
اسماعیل مِلکہ لوط اِسکہ
بنی اسماعیل 7 بیٹے[19] بیتوایل پہلی کی بیٹی دوسری بیٹی
اسحاق (اسحاق علیہ السلام) ربقہ لابان بنی موآب بنی عمون
عیسو یعقُوب(یعقوب علیہ السلام) راحیل
بلہاہ
بنی ادوم زلفہ
لیاہ
1. رئبون
2. شمعون
3. لاوی
4. یہودہ
9. یساکار
10. زبولون
11. دینہ
7. جاد
8. آشر
5. دان
6. نفتالی
12. یوسف (یوسف علیہ السلام)
13. بنیامین


حوالہ جات[ترمیم]

  1. کتاب پیدائش 20:12 ”اور فی الحقیقت وہ میری بہن بھی ہے کِیُونکہ وہ میرے باپ کی بیٹی ہے اگرچہ میری ماں کی بیٹی نہیں۔ پھر وہ میری بیوی ہوئی۔“
  2. تفسیر طبری ،فی التفسیر،سورۃ الانعام،سورت6،آیت74
  3. تفسیر طبری، سورۃ الانعام، سورت6، آیت74
  4. (تفسیر قرطبی، فی التفسیر، سورۃ الانعام، سورت6، آیت74
  5. فتاویٰ رضویہ، جلد30، صفحہ284، رضافائونڈیشن، لاہور
  6. فتاوی امجدیہ ،جلد4، صفحہ311، مکتبہ رضویہ، کراچی
  7. تفسیر قرآن نورالعرفان ،پارہ13،سورۃ ابرہیم، آیت 41
  8. تفسیر نعیمی ،پارہ13، سورۃ ابرہیم، آیت 41
  9. تفسیر روح المعانی، فی التفسیر، سورۃ الانعام، سورت6، آیت74
  10. سورۃ الکہف، سورت18، آیت82
  11. تفسیر ابن کثیر،فی التفسیر، سورۃ الکہف، سورت18، آیت82
  12. صحیح البخاری کتاب الجہاد باب من قاد دابۃ غیرہ فی الحرب،جلد4، صفحہ30، دار طوق النجاۃ
  13. تاریخ دمشق الکبیر باب معرفۃ امہ وجداتہٖ الخ،جلد3، صفحہ60، داراحیاء التراث العربی بیروت
  14. (التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث انا ابن العواتک،جلد1، صفحہ275، مکتبۃ الامام الشافعی، ریاض)
  15. جامع الترمذی، ابواب المناقب، مناقب ابی الفضل عم النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، جلد5، صفحہ653، مصطفیٰ البابی، مصر
  16. (صحیح مسلم، کتاب الایمان باب بیان ان من مات علی الکفر ،جلد1،صفحہ191، داراحیاء التراث العربی، بیروت)
  17. تفسیر کبیر، سورۃ الانعام، سورت6، آیت74
  18. [Genesis 20:12]: سارہ - ابراہیم کی سوتیلی بہن تھی.
  19. [Genesis 22:21-22]: عُوض، بُوز، قموایل، کسد، حزُو، فِلداس، اور اِدلاف