الیاس علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

پیغمبر ۔ قرآن مجید کی دو سورتوں میں آپ کا ذکر ہے۔ سورۃ انعام کی آیہ 85 میں حضرت زکریا علیہ السلام، یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ آپ کا نام آیا ہے۔ اور قرآن نے چاروں کو صالح کہا ہے۔ سورۂ صافات آیہ 123 میں آپ کو رسولوں میں شمار کیا گیا ہے پھر آیہ 124 سے 129 تک آپ کا مختصر قصہ ہے کہ آپ کی قوم بعل نامی بت کو پوجتی تھی۔بعل سونے کا بنا ہوا تھا اور بیس گز لمبا تھا اور اس کے چار چہرے بنے ہوئے تھے اور چار سو خدام اس بت کی خدمت کرتے تھے جن کو ساری قوم بیٹوں کی طرح مانتی تھی اور اس بت میں سے شیطان کی آواز آتی تھی جو لوگوں کو بت پرستی اور شرک کا حکم سنایا کرتا تھا آپ نے اُسے خدائے واحد کی پرستش کے لیے کہا۔ اسی سورۃ کی آیہ 130 میں‌آپ کو ال یاسین بھی کہا گیا ہے۔ مگر مترجمین و مفسرین نے ال یاسین کو الیاس ہی لکھا ہے۔

آپ ہی کی صفات سے متصف ایک پیغمبر کا نام بائبل میں ایلیاہ ہے۔ مفسرین کا خیال ہے کہ بائبل کے ایلیاہ دراصل قرآن کے الیاس ہی ہیں۔ ثعلبی اور طبری وغیرہ نے آپ کے تفصیلی حالات لکھے ہیں جو زیادہ تر اسرائیلیات سے ماخوذ ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک الیاس، ادریس اور خضر ایک ہی شخصیت کے تین نام ہیں۔

عام روایات کے مطابق آپ اسرائیلی نبی تھے اور حضرت موسی علیہ السلام کے بعد مبعوث ہوئے۔ مورخین نے آپ کا نسب نامہ الیاس بن یاسین بن فخاص بن یغرا بن ہارون لکھا ہے اور عام خیال یہی ہے کہ آپ ملک شام کے باشندوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تھے۔ یہودیوں اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور خشکی پر لوگوں کی کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ تری پر رہنمائی کے لیے حضرت خضر کو مامور کیا گیا ہے۔

قوم الیاس

الیاس علیہ السلام بعض کے نزدیک حضرت ہارون کی نسل سے ہیں۔ اللہ نے ان کو ملک شام کے ایک شہر "بعلبک" کی طرف بھیجا۔ وہ لوگ "بعل" نامی ایک بت کو پوجتے تھے۔ حضرت الیاس نے ان کو خدا کے غضب اور بت پرستی کے انجام بد سے ڈرایا۔[1] قوم الیاس فلسطین کے مغربی وسطی علاقہ سامرہ میں آباد تھی اور وہی بعل کی پوجاکرتی تھی۔ بائبل کی کتاب سلاطین میں ہے کہ بادشاہ اخی اب کی بیوی ازابیل نے بعل نام کے ایک بت کی پرستش شروع کی تھی۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) نے انہیں بت پرستی سے روکا، اور معجزے بھی دکھلائے۔ لیکن نافرمان قوم نے ہدایت کی بات ماننے کے بجائے حضرت الیاس (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کو ناکام بناکر خود انہی پر بلائیں مسلط فرمائیں اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کو اپنے پاس بلالیا۔ اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں آسمان پر زندہ اٹھالیا گیا تھا۔ لیکن کسی مستند روایت سے اس بات کی تائید نہیں ہوتی۔[2]

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. تفسیر عثمانی مفسر مولانا شبیر احمد عثمانی،الصافات،125
  2. تفسیر آسان قرآن مفتی تقی عثمانی ،الصافات،123