الیاس (اسلام)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(الیاس علیہ السلام سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
الیاس (اسلام)
(عربی میں: إلياس ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Prophet Ilyas Name.svg
 

معلومات شخصیت
مقام پیدائش بعلبک  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ واعظ،  اسلامی نبی،  نبی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پیغمبر۔ قرآن مجید کی دو سورتوں میں آپ کا ذکر ہے۔ سورۃ انعام کی آیہ 85 میں زکریا علیہ السلام، یحییٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ آپ کا نام آیا ہے۔ اور قرآن نے چاروں کو صالح کہا ہے۔ سورۂ صافات آیہ 123 میں آپ کو رسولوں میں شمار کیا گیا ہے پھر آیہ 124 سے 129 تک آپ کا مختصر قصہ ہے کہ آپ کی قوم بعل نامی بت کو پوجتی تھی۔ بعل سونے کا بنا ہوا تھا اور بیس گز لمبا تھا اور اس کے چار چہرے بنے ہوئے تھے اور چار سو خدام اس بت کی خدمت کرتے تھے جن کو ساری قوم بیٹوں کی طرح مانتی تھی اور اس بت میں سے شیطان کی آواز آتی تھی جو لوگوں کو بت پرستی اور شرک کا حکم سنایا کرتا تھا آپ نے اُسے خدائے واحد کی پرستش کے لیے کہا۔ اسی سورۃ کی آیہ 130 میں آپ کو ال یاسین بھی کہا گیا ہے۔ مگر مترجمین و مفسرین نے ال یاسین کو الیاس ہی لکھا ہے۔

آپ ہی کی صفات سے متصف ایک پیغمبر کا نام بائبل میں ایلیاہ ہے۔ مفسرین کا خیال ہے کہ بائبل کے ایلیاہ دراصل قرآن کے الیاس ہی ہیں۔ ثعلبی اور طبری وغیرہ نے آپ کے تفصیلی حالات لکھے ہیں جو زیادہ تر اسرائیلیات سے ماخوذ ہیں۔ بعض علما کے نزدیک الیاس، ادریس اور خضر ایک ہی شخصیت کے تین نام ہیں۔

عام روایات کے مطابق آپ اسرائیلی نبی تھے اور موسی علیہ السلام کے بعد مبعوث ہوئے۔ مورخین نے آپ کا نسب نامہ الیاس بن یاسین بن فخاص بن یغرا بن ہارون لکھا ہے اور عام خیال یہی ہے کہ آپ ملک شام کے باشندوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تھے۔ یہودیوں اور مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ آپ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور خشکی پر لوگوں کی کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ تری پر رہنمائی کے لیے خضر کو مامور کیا گیا ہے۔

تمہید

گزشتہ صفحات میں یہ واضح ہوچکا کہ حضرت موسیٰ و ہارون ((علیہ السلام)) کے بعد قرآن عزیز میں ان کے ابتدائی جانشینوں کے نام مذکور نہیں۔ حضرت یوشع (علیہ السلام) کا دو جگہ ذکر آیا ‘ مگر ایک جگہ ” فتیٰ “ (جوان) یعنی صاحب موسیٰ ((علیہ السلام)) کہہ کر تذکرہ کیا اور دوسری جگہ یعنی سورة مائدہ میں حضرت یوشع (علیہ السلام) اور کالب بن یوفنا کو ” رجلان “ (دو اشخاص) کہہ کر تذکرہ کیا ہے اور حضرت حزقیل (علیہ السلام) کا ذکر جمہور کی روایت کے مطابق صرف قصہ کے ضمن ہی میں آتا ہے ورنہ آیت میں کسی صفت کے ساتھ بھی ان کا تذکرہ موجود نہیں ہے۔ سب سے پہلے جس نبی اور پیغمبر کا ذکر حضرت موسیٰ اور ہارون ((علیہ السلام)) کے بعد قرآن عزیز میں صراحت کے ساتھ موجود ہے وہ حضرت الیاس (علیہ السلام) ہیں۔ یہ حضرت حزقیل (علیہ السلام) کے جانشین اور بنی اسرائیل میں ایلیاہ کے نام سے مشہور ہیں۔

نام

قرآن عزیز نے ان کا نام الیاس بتایا ہے اور انجیل یوحنا میں ان کو ایلیاہ نبی کہا گیا ہے۔ بعض آثار میں ہے کہ الیاس اور ادریس ایک نبی کے دو نام ہیں مگر یہ صحیح نہیں ہے اول تو ان آثار کے متعلق محدثین کو کلام ہے اور وہ ان کو ناقابل حجت قرار دیتے ہیں۔ [1] دوسرے قرآن عزیز کا انداز بیان بھی ان آثار کی تردید کرتا ہے اس لیے کہ اس نے انعام اور والصافات میں حضرت الیاس کے جو اوصاف و حالات قلم بند کئے ہیں ان میں کسی ایک جگہ بھی یہ ارشاد نہیں ملتا کہ ان کو ادریس بھی کہتے ہیں اور سورة انبیاء میں ادریس (علیہ السلام) کا جس آیت میں تذکرہ ہے اس میں بھی کوئی ایسا اشارہ نہیں پایا جاتا کہ جس سے ان دونوں پیغمبروں کے اوصاف و حالات کی مشابہت پر بھی استدلال کیا جاسکے چہ جائیکہ ان حالات کو صرف ایک ہی شخصیت سے متعلق سمجھ لیا جائے۔ علاوہ ازیں مورخین نے حضرت ادریس (علیہ السلام) کا جو نسب نامہ بیان کیا ہے وہ اس نسب نامے سے قطعاً جدا ہے جو حضرت الیاس سے متعلق ہے اور اس لحاظ سے دونوں کے درمیان صدیوں کا بعد ہوجاتا ہے پس اگر یہ دونوں نام ایک ہی پیغمبر کے ہوتے تو قرآن عزیز ضرور اس جانب اشارہ کرتا اور مورخین ضرور ہر دو نسب ناموں کی وحدت کسی دلیل سے بیان کرسکتے اس لیے صحیح یہ ہے کہ حضرت ادریس حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے درمیانی دور کے پیغمبر ہیں اور حضرت الیاس (علیہ السلام) اسرائیلی نبی ہیں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد مبعوث ہوئے ہیں چنانچہ طبری کہتے ہیں کہ یہ حضرت الیسع (علیہ السلام) کے چچا زاد بھائی تھے اور یہ کہ ان کی بعثت حزقیل (علیہ السلام) نبی کے بعد ہوئی ہے۔

نسب

بیشتر مورخین کا اس پر اتفاق ہے کہ حضرت الیاس (علیہ السلام) حضرت ہارون (علیہ السلام) کی نسل سے ہیں اور ان کا نسب نامہ یہ ہے : الیاس بن یاسین بن فخاص بن یعز ربن ہارون (یا) الیاس بن عازر بن یعزر بن ہارون (علیہ السلام) ۔

قرآن عزیز اور حضرت الیاس (علیہ السلام)

قرآن عزیز میں حضرت الیاس (علیہ السلام) کا ذکر دو جگہ آیا ہے ‘ سورة انعام میں اور سورة والصافات میں۔ سورة انعام میں تو ان کو صرف انبیاء (علیہ السلام) کی فہرست میں شمار کیا ہے اور سورة الصافات میں بعثت اور قوم کی ہدایت سے متعلق حالات کو مختصر طور پر بیان کیا ہے۔ [2] [3]

بعثت

حضرت الیاس (علیہ السلام) کی بعثت کے متعلق مفسرین اور مورخین کا اتفاق ہے کہ وہ شام کے باشندوں کی ہدایت کے لیے بھیجے گئے تھے اور بعلبک کا مشہور شہر ان کی رسالت و ہدایت کا مرکز تھا۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قوم مشہور بت بعل کی پرستار اور توحید سے بیزار ‘ شرک میں مبتلا تھی ‘ خدا کے برگزیدہ پیغمبر نے ان کو سمجھایا اور راہ ہدایت دکھائی۔ صنم پرستی اور کواکب پرستی کے خلاف وعظ و پند کرتے ہوئے توحید خالص کی جانب دعوت دی۔

فلسطین میں حضرت الیاس علیہ السلام کا مزار مبارک

قوم الیاس (علیہ السلام) اور بعل

یہ مشرق میں آباد سامی اقوام کا مشہور اور سب سے زیادہ مقبول دیوتا تھا یہ بت مذکر تھا اور زحل یا مشتری کا مثنیٰ سمجھا جاتا تھا۔ فینیقی ‘ کنعانی ‘ موآبی اور مدیانی قبائل خاص طور پر اس کی پرستش کرتے تھے اس لیے بعل کی پرستش عہد قدیم سے چلی آتی تھی اور موآبی اور مدیانی اس کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عہد سے پوجتے چلے آتے تھے چنانچہ شام کا مشہور شہر بعلبک بھی اسی کے نام سے منسوب تھا اور حضرت شعیب کو مدین میں اسی کے پرستاروں سے واسطہ پڑا تھا۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ حجاز کا مشہور بت ہبل بھی یہی بعل ہے۔ بعل دیوتا کی عظمت کا یہ حال تھا کہ وہ مختلف مربیانہ عطاء و نوال کی وجہ سے مختلف ناموں کے ساتھ موسوم تھا چنانچہ توراۃ میں سامی قوموں کی پرستش بعل کا ذکر کرتے ہوئے بعل کو بعل بریث اور بعل فغور کے نام سے بھی یاد کیا گیا ہے اور عقرونیوں کے یہاں بعل زبوب کا اور اضافہ پایا جاتا ہے کلدانیوں کے یہاں بعل باء کے زیر کے ساتھ بولا جاتا ہے اور وہ اکثر بیل اور بیلوس یا بعل اور بعلوس بھی کہتے ہیں۔ سامی اور عبرانی زبانوں میں بعل کے معنی مالک ‘ سردار ‘ حاکم اور رب کے آتے ہیں اسی لیے اہل عرب شوہر کو بھی ” بعل “ کہتے ہیں لیکن جب بعل پر الف لام لے آتے ہیں یا کسی شئے کی جانب اضافت کرکے بولتے ہیں تو اس وقت فقط دیوتا اور معبود مراد ہوتا ہے۔ یہود یا مشرقی اسرائیلیوں کے یہاں بعل کی پرستش کے لیے مختلف موسموں میں عظیم الشان مجالس منعقد ہوا کرتی تھیں اور اس کے لیے بڑے بڑے ہیکل اور عظیم الشان قربان گاہیں بنائی جاتی تھیں اور کاہن اس کو بخورات کی دھونی دیتے اور اس پر طرح طرح کی خوشبوئیں چڑھاتے تھے اور کبھی کبھی اس کو انسانوں کی بھینٹ بھی دی جاتی تھی۔ [4] کتب تفسیر میں منقول ہے کہ بعل سونے کا تھا ‘ بیس گز کا قد تھا اور اس کے چار منہ تھے اور اس کی خدمت پر چار سو خادم مقرر تھے۔ [5] حضرت الیاس (علیہ السلام) کے زمانہ میں بھی یمن و شام کا یہ بت ہی محبوب دیوتا تھا اور حضرت الیاس (علیہ السلام) کی قوم دوسرے بتوں کے ساتھ خصوصیت سے اس بت کی پرستش کرتی تھی چنانچہ اسی تقریب سے قرآن عزیز میں اس کا ذکر آیا ہے : { وَاِنَّ اِلْیَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ اِذْ قَالَ لِقَوْمِہٖ اَلَا تَتَّقُوْنَ ۔ اَتَدْعُوْنَ بَعْلًا وَّتَذَرُوْنَ اَحْسَنَ الْخَالِقِیْنَ ۔ اللّٰہَ رَبَّکُمْ وَرَبَّ آبَائِکُمُ الْاَوَّلِیْنَ ۔ فَکَذَّبُوْہُ فَاِنَّہُمْ لَمُحْضَرُوْنَ ۔ اِلَّا عِبَادَ اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ وَتَرَکْنَا عَلَیْہِ فِی الْاٰخِرِیْنَ ۔ سَلَامٌ عَلٰی اِلْ یَاسِینَ ۔ اِنَّا کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِیْنَ۔ } [6] ” اور بلاشبہ الیاس رسولوں میں سے تھا اور وہ وقت ذکر کے قابل ہے جب اس نے اپنی قوم سے کہا کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے کیا تم بعل کو پکارتے ہو اور سب سے بہتر خدا کو چھوڑے ہوئے ہو اللہ ہی تمہارا اور تمہارے اگلے باپ دادوں کا پروردگار ہے پس انھوں نے الیاس کو جھٹلایا تو بلاشبہ وہ لائے جائیں گے پکڑے ہوئے بجزان کے جو چن لیے گئے ہیں اور ہم نے بعد کے لوگوں میں الیاس کا ذکر باقی رکھا۔ الیاس پر سلام ہو بلاشبہ ہم نیکوکاروں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں بیشک وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ “

تفسیری نکتہ

سورة انعام میں حضرت الیاس (علیہ السلام) کا جن آیات کے اندر ذکر آیا ہے وہ حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ذریت اور ان کی نسل کے انبیاء و رسل کی ایک مختصر فہرست ہے ارشاد ہے : { کُلًّا ھَدَیْنَاج وَ نُوْحًا ھَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِہٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰی وَ ھٰرُوْنَط وَ کَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ۔ وَ زَکَرِیَّا وَ یَحْیٰی وَ عِیْسٰی وَ اِلْیَاسَط کُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًاط وَ کُلًّا فَضَّلْنَا عَلَی الْعٰلَمِیْنَ ۔ } [7] ” ہم نے (ان میں سے) ہر ایک کو ہدایت عطا کی اور نوح کو ہدایت بخشی ان سے پہلے اور ابراہیم کی نسل میں سے داؤد ‘ سلیمان ‘ ایوب ‘ یوسف ‘ موسیٰ اور ہارون کو بھی یہی راہ دکھائی اور ہم اسی طرح نیک کر داروں کو نیکی کا بدلہ دیتے ہیں اور زکریا ‘ یحییٰ ‘ عیسیٰ اور الیاس کو بھی ‘ یہ سب صالح انسانوں میں سے تھے اور اسماعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی ان سب کو ہم نے دنیا والوں پر برتری دی تھی۔ “ قرآن عزیز نے اس فہرست انبیاء (علیہ السلام) کو تین جداجدا حلقوں میں بیان کیا ہے اس کی حکمت کیا ہے ؟ اکثر مفسرین اس کے اکتشاف پر متوجہ ہوئے ہیں ان تمام اقوال میں سب سے بہتر توجیہی قول صاحب المنار کا ہے جس کا حاصل یہ ہے : اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر انبیاء و رسل کو تین جدا جدا جماعتوں میں اس لیے بیان فرمایا ہے کہ انبیائے بنی اسرائیل میں خصوصی امتیازات کے پیش نظر تین قسم کی جماعتیں تھیں ‘ بعض انبیاء (علیہ السلام) وہ تھے جو صاحب تخت و تاج اور صاحب حکومت تھے یا وزارت و سرداری کے مالک تھے اور بعض انبیاء (علیہ السلام) کی زندگی اس کے برعکس زاہدانہ اور راہبانہ تھی اور دولت و ثروت سے یکسر نفور فقیرانہ معیشت کے حامل تھے اور بعض نہ تو اپنی قوم میں حاکم اور صاحب تاج و تخت تھے اور نہ خالص را ہبانہ زندگی کے حامل بلکہ ایک طرف قوم کے ہادی و پیغمبر تھے اور دوسری جانب متوسط معیشت سے وابستہ۔ لہٰذا جب قرآن عزیز نے ان انبیاء ورسل کا ذکر کیا تو ان کے زمانہ ہائے بعثت اور بعض دوسری خصوصیات میں مشابہت سے الگ ہو کر اسی نقطہ نظر سے ان کو تین جماعتوں میں تقسیم کردیا اور پھر ترتیب درجات کے لحاظ سے ترتیب ذکر کو بھی ضروری سمجھا یعنی پہلی فہرست میں اول حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کا ذکر کیا جو نبی و رسول ہونے کے علاوہ صاحب مملکت بھی تھے اور اس کے بعد حضرت ایوب اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کا تذکرہ کیا جو اگرچہ صاحب مملکت نہ تھے مگر اول الذکر چھوٹی سی ریاست کے مالک تھے اور ثانی الذکر حکومت مصر کے وزیر اور مختار کل تھے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ و ہارون (علیہ السلام) کا نام آیا جو نہ بڑی حکومت کے مالک تھے اور نہ چھوٹی ریاست نہ کسی حکومت کے مالک نہ کسی حکومت کے وزیر اور مختار کل بلکہ اپنی قوم کے رسول اور پیغمبر بھی تھے اور ان کے سردار بھی ! اور دوسری فہرست میں ان انبیائے کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ ہے جنہوں نے ساری عمر زہادت میں گزاری۔ انھوں نے نہ رہنے کو مکان بنایا اور نہ کھانے پینے کا سامان فراہم کیا۔ دن بھر تبلیغ حق میں مصروف رہتے اور شب کو یاد الٰہی کے بعد جہاں جگہ میسر آجاتی ہاتھ کا تکیہ سر کے نیچے رکھ کر سو رہتے۔ حضرت یحییٰ ‘ زکریا ‘ عیسیٰ اور الیاس (علیہ السلام) اس سلسلہ میں بہت مشہور اور ممتاز ہیں۔ اور تیسری فہرست میں ان پیغمبروں کا ذکر ہے جنہوں نے نہ حکومت و سرداری کی اور نہ خالص زہادت اختیار کی بلکہ متوسط زندگی سے وابستہ رہ کر حق تبلیغ و ریاست ادا کیا۔ چنانچہ حضرت اسماعیل ‘ الیسع ‘ یونس اور لوط (علیہ السلام) اسی درمیانی زندگی کے حامل تھے۔

قوم الیاس

الیاس علیہ السلام بعض کے نزدیک ہارون کی نسل سے ہیں۔ اللہ نے ان کو ملک شام کے ایک شہر "بعلبک" کی طرف بھیجا۔ وہ لوگ "بعل" نامی ایک بت کو پوجتے تھے۔ الیاس نے ان کو خدا کے غضب اور بت پرستی کے انجام بد سے ڈرایا۔[8] قوم الیاس فلسطین کے مغربی وسطی علاقہ سامرہ میں آباد تھی اور وہی بعل کی پوجاکرتی تھی۔ بائبل کی کتاب سلاطین میں ہے کہ بادشاہ اخی اب کی بیوی ازابیل نے بعل نام کے ایک بت کی پرستش شروع کی تھی۔ الیاس (علیہ السلام) نے انہیں بت پرستی سے روکا اور معجزے بھی دکھلائے۔ لیکن نافرمان قوم نے ہدایت کی بات ماننے کی بجائے الیاس (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کو ناکام بناکر خود انہی پر بلائیں مسلط فرمائیں اور الیاس (علیہ السلام) کو اپنے پاس بلالیا۔ اسرائیلی روایتوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں آسمان پر زندہ اٹھالیا گیا تھا۔ لیکن کسی مستند روایت سے اس بات کی تائید نہیں ہوتی۔[9]

موعظت

حضرت الیاس (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا واقعہ اگرچہ قرآن میں بہت مختصر مذکور ہے تاہم اس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ یہود بنی اسرائیل کی ذہنیت اس درجہ مسخ تھی کہ دنیا کی کوئی برائی ایسی نہیں تھی جس کے کرنے پر یہ حریص نہ ہوں اور کوئی خوبی ایسی نہ تھی جس کے یہ دلدادہ ہوں اور انبیاء ورسل کے ایک طویل اور پیہم سلسلہ کے باوجود بت پرستی ‘ عناصر پر ستی ‘ کو اکب پرستی ‘ غرض غیر اللہ کی پرستش کا کوئی شعبہ ایسا نہ تھا جس کے یہ پر ستار نہ بنے ہوں۔ پس قرآن عزیز میں بنی اسرائیل سے متعلق ان واقعات میں جہاں ان کی بدبختی اور کج روی پر روشنی پڑتی ہے وہیں ہم کو یہ موعظت و عبرت بھی حاصل ہوتی ہے کہ اب جبکہ انبیاء ور سل کا سلسلہ منقطع ہوچکا اور خاتم النّبیین کی بعثت اور قرآن عزیز کے آخری پیغام نے اس سلسلہ کو ختم کردیا ہے تو ہمارے لیے از بس ضروری ہے کہ بنی اسرائیل کی مسخ فطرت اور تباہ ذہنیت کے خلاف خدائی احکام کو مضبوطی سے پکڑیں اور ان میں کجروی اور زیغ سے کام لے کر ان کی خلاف ورزی کی جرأت نہ کریں ‘ گویا ہمارا شیوہ سپرد و تسلیم ہو ‘ انکار و انحراف نہ ہو کہ ” اسلام “ کے یہی اور صرف یہی معنی ہیں۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. (البدایہ والنہایہ جلد ١‘ ص ٢٣٧۔ ٢٣٩)
  2. سورة اَنعام : آیت ٨٥
  3. سورة والصافات : آیت ١٢٣‘ ١٣٠۔
  4. (دائرۃ المعارف للبستانی جلد ٥)
  5. (روح المعانی جلد ٢٣ ص ٦٢٧)
  6. (الصافات : ٣٧/١٢٣ تا ١٣٣)
  7. (الانعام : ٦/٨٤ تا ٨٦)
  8. تفسیر عثمانی مفسر مولانا شبیر احمد عثمانی،الصافات،125
  9. تفسیر آسان قرآن مفتی تقی عثمانی ،الصافات،123