صدقہ (یہودیت)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مضامین بسلسلہ
یہودیت
Star of David.svg
Lukhot Habrit.svg  Menora.svg

باب یہودیت


یہودیت میں صدقہ (عبرانی: צדקה‎؛ عربی: صدقة؛ انگریزی: Tzedakah) کا تصور اسلامی صدقہ سے فرق ہےـ ہر یہودی پر فرض ہے کہ وہ غریبوں کو خیرات دیں اور قوم کی بہتری کے لیے کام کریں ـ عبرانی لفظ کا تعلق عدل و انصاف سے ہے اور صدقہ دینا انصاف کرنے کے برابر ہے۔ صدقہ کا حکم ہر یہودی پر ہے خواہ وہ امیر ہو یا غریب۔

تورات کے احکامات کے مطابق[ترمیم]

تورات کی کتاب استثنا میں حکم ہے:

جب تم اس ملک میں رہو گے جسے خداوند تمہارا خدا تمہیں دے رہا ہے تب تمہارے لوگوں میں کوئی بھی غریب شخص ہو سکتا ہے۔ تمہیں اس غریب شحص کے لیے اپنے دِل کو سخت نہیں کرنا چاہیے اپنی مٹھی کو کسنا نہیں چا ہئے۔ اس کے بجائے اپنے ہاتھوں کو کھو لو اور اس آدمی کو جن چیزوں کی بھی ضرورت ہو تو قرض دو۔

— کتاب استثنا 15: 7-8

علما کی وضاحت[ترمیم]

بارہویں صدی کے یہودی عالم اور فلسفی موسی بن میمون کے مطابق صدقہ کی آٹھ درجات ہیں ـ[1]

  1. دل برا کر کہ دینا
  2. خوشی سے دینا مگر کم دینا
  3. مناسب دینا مگر کسی کے مانگنے کے بعد دینا
  4. کسی کے مانگنے سے پہلے دے دینا
  5. دینا مگر دینے والے کو ظاہر نہ ہو کہ کس کو دیا گیا ہے
  6. دینا مگر ملنے والے کو ظاہر نہ ہو کہ کس نے دیا ہے
  7. ایسے دینا کہ نہ دینے والے نہ ملنے والے کو پتا لگے کہ کس نے کس کو دیا
  8. کسی کو کام دینا تاکہ وہ خود کما سکے

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]