یہودیت میں خدا کا تصور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فارسی صوبہ یہود مدیناتا سے ایک چوتھی صدی قبل مسیح کا درم (چوتھائی شیکل) سکہ، ممکنہ طور پر یہوواہ کو ظاہر کیا گیا ہے جو ایک پنکھ اور پہاڑی سورج تخت پر بیٹھا ہے

خدا ایک واحد رب، معبود یا پروردگار کے لیے استعمال ہوا ہے انگریزی میں اس کو حرفِ کبیر سے شروع کر کے خدا لکھا جاتا ہے اور یہ واحد، یکتا اور ناقابلِ شریک قادرِ مطلق کا تصور توحیدیت پر قائم مذاہب میں پایا جاتا ہے جن کو مشترکہ طور پر ابراہیمی ادیان کہتے ہیں؛ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کثرت پرستی میں بھی بعض اوقات متعدد خداؤں میں سب سے عظیم یا ایک بڑے خدا کے لیے اس کا استعمال دیکھنے میں آتا ہے عبرانیوں میں خدا کے بارے مؠں مختلف عقائد ہیں[1] کچھ روایتی یہودیوں کے مطابق خدا ایک ہے۔ اور اسی نے تمام موجودات کو پیدا کیا۔ اس طرح کچھ کا ماننا ہے ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کا خدا ہی اسرائیلیوں کے قومی خداؤں میں سے ہے۔ کہ اس نے انہیں موسٰی کا قانون دیا جیسا کہ تورات میں بیان کیا گیا ہے۔ اور انہیں فرعون سے نجات دلائی۔ کچھ جدید سوچ کے حامل یہودیوں کا کہنا ہے کہ خدا ایک طاقت یا اس کی مثل ہے۔ [2]

یہودیت[ترمیم]

یہودی مذہب وہ آسمانی مذہب ہے جس کاانحصار زیادہ تر تورات، تلمود اور علماء، مفتیان اور قضاة یہود کے فتاویٰ یا فیصلوں پر ہے۔ بائبل میں خدا اپنے بندوں سے کہتا ہے کہ اپنے باپ دادا کے خداؤں کو چھوڑ کر اللہ کی عبادت کرےـ مگر یہ بات بعد میں واضع ہوئی تھی۔ بائبل میں زیادہ زور بت پرستی چھوڑنے پر ہے:

تو کسی بھی شَے کی صورت پر خواہ وہ اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا نیچے پانیوں میں ہو، کوئی بت نہ بناناـ تُو ان کے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ ہی اُن کی عبادت کرناـ کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیوٌر خدا ہوں ـ

خروج 20: 4-5

تلمود میں تصور خدا[ترمیم]

تلمود یہودیوں کے نزدیک بہت تقدس کی حامل ہے اور توریت و عہد عتیق کے مساوی حیثیت رکھتی ہے۔ (بلکہ توریت سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل ہے جیسا کہ گرافٹ نے کہا:

جان لو کہ خاخام کے اقوال پیغمبروں سے زیادہ بیش قیمت ہیں

یہودیوں کے نزدیک خدا کا تصور کیسا ہے اور وہ خدا کو کس زاویہ نگاہ سے دیکھتے ہیں اس کتاب کے چند جملے بیان کر نے سے معلوم ہو جاتا ہے:

دن بارہ گھنٹوں پر مشتمل ہے۔ پہلے 3 گھنٹوں میں خدا شریعت کا مطالعہ کرتا ہے۔ اس کے بعد 3 گھنٹے احکام صادر کرنے میں صرف کر دیتا ہے۔ پھر تین گھنٹے دنیا کو روزی دیتا ہے۔ اور آخری 3 گھنٹے سمندری حوت جو مچھلیوں کی بادشاہ ہے کے ساتھ کھیل کود میں مصروف رہتا ہے

خدا کے نام[ترمیم]

بائبل کے عبرانی مسوراتی متن میں چوحرفی اسم خداوندی اور منسلک فارمز کے ہجوں، حرف علت پوائنٹس کے ساتھ سرخ رنگ میں ظاہر کئے

خدا کا نام عبرانی بائبل میں اکثر چوحرفی اسم خداوندی (”یہوہ“ عبرانی: יהוה‎) استعمال کیا جاتا ہے۔ یہودی روایتی طور پر اسے نہیں بولتے ہیں، بلکہ اس کی بجائے خدا کو ”ھا شم“ کہتے ہیں جس کا معنی "نام" ہے۔ عبادت میں چوحرفی اسم خداوندی تلفظ ادونائی کے ساتھ متبادل ہے، مطلب "میرا استاد"۔

آہنی دور میں توحید اور مقامی خدا[ترمیم]

یہودی زبانی قانون

اسرائیل کے آہنی دور کی سلطنتوں (سامریہ) اور جودہ کا قومی خدا یہواہ تھا۔ اس خدا کے دور فعالیت میں اختلاف کیا جاتا ہے، شاید وہ اس سے پہلے ابتدائی آہنی دور میں یا کانسی کے اختتامی دور میں پائے جاتے ہیں۔[3][4] ان کا نام کنعانی مذاہبِ کے ادوار میں مل سکتا ہے جب کنعان کی زمین میں، (جس میں اسرائیل، فلسطین، لبنان، اردن اور شام کے جدید علاقے شامل تھے)۔ کنعانی مذہب پر عمل کیا جاتا تھا، کنعانی مذہب قدیم سامی مذاہب کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے جو قدیم لیون میں رہنے والے کنعانیوں کی طرف سے عام روایات کے مطابق کم سے کم ابتدائی کانسی دور میں شمار کیا جاتا ہے لیکن مصری نسخوں کے مطابق جنوبی ٹرانس جوردان کے خانہ بدوش ان کا ذکر ملتا ہے۔[5] خدائے یکتا کو ماننے والوں کی تاریخ میں دیکھیں تو وہ ایک خدا کے پیروکار ہیں،[6] اور اخلاقی طور پر سختی سے اس پہ قائم ہیں۔ قدیم اسرائیل میں توحید کے نقطہ نظر پر علما کی طرف سے کوئی اتفاق نہیں ہوا ہے، لیکن یہواہ کو "واضح طور پر مشرق وسطیٰ کے دیوتاؤں کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔" [7] ایک سے زیادہ معبودوں کی عبادت (شرک) اور خدا کا تصور متعدد (تثلیث کے اصول کے طور پر) یہودیوں میں ناقابل برداشت ہیں۔ دوئی یا تثلیث کے طور پر خدا کا خیال یہودیوں میں شرک کا تصور سمجھا جاتا ہے۔

خدا، ہر ایک کا مؤجب، واحد ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر ایک سلسلہ میں سے ایک، اور نہ ہی کسی قسم کی ایک نوع (جس میں بہت سے افراد شامل ہیں) میں سے، اور نہ ہی ایک ایسی شے سے جو بہت سے عناصر سے مل کر بنی ہے، نہ ہی ایک سادہ چیز سے جو انفرادی طور پر تقسیم کے قابل ہے۔ بلکہ، خدا کسی دوسری ممکنہ یکجانیت ہونے کے برعکس ایک واحد مطلق ہے۔ [8]

صوفیانہ تصور کے مطابق، تمام وجود خدا کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جن کا حتمی وجود کسی اور پر منحصر نہیں ہے، کچھ یہودی علما سمجھتے ہیں کہ خدا کائنات کو چلاتے ہیں اور خود کو خدا کی موجودگی کا ظھور قرار دیتے ہیں۔ اس مذہبی غور و فکر کے مطابق، یہودیوں کو ہمیشہ توحید کے ساتھ مطابقت پسند دیکھا ہے اور وہ اسی کی تائید کرتے ہیں۔

قبالہ (جو یہودیت کی تعلیم پر مشتمل ہے) روایت رکھتا ہے کہ الہی دس صفات پر مشتمل ہے۔ اس کو یہودیت کی لڑی بیان کیا جا سکتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہودی توحید کے ساتھ اور یہودیوں کے ادوار کے ساتھ اختلافات ہوسکتے ہیں، لیکن ماہرین قبالہ (قبالہ کا علم رکھنے والے) نے مسلسل زور دیا ہے کہ ان کی تہذہب سختی سے توحید پرست کی قائل ہے۔[9]

کوئی یقین جس کو انسانیت اور خدا کے درمیان مصالحت کرانے کے لیے استعمال کیاسکتا ہو ، چاہے ضروری یا اختیاری ہو، روایتی طور پراسے حیاتیاتی سمجھا جاتا ہے۔ موسیٰ بن میمون لکھتے ہیں کہ

خدا صرف وہی ہے جس کی ہم عبادت اور تعریف کرسکتے ہیں۔ کوئی بھی کام خدا کی سر پرستی کے بغیر نہیں ہو سکتا، چاہے پھر وہ ایک فرشتہ ہو ، ستارہ ہو ، یا عناصر میں سے ایک۔ خدا اور ہمارے درمیان میں کوئی ثالث نہیں ہے۔ اس یقین کے ساتھ کہ ہماری تمام عبادات خدا کی طرف پہنچ جانی چاہئیں۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔

یروشلم کے مندر کی جدید طرز پر دوبارہ تعمیر کہ یہواہ کا دوسرا مندر اس طرح نظر آئے جیسا بادشاہ ہیروڈ I کے دور میں اس کی بحالی کے بعد کی طرح دیکھا تھا۔

کچھ یہودی مذہبی حکام نے اس قول سے اختلاف کیا۔ خاص طور پر، موسیٰ بن نحمان کی رائے تھی کہ ہمیں اجازت ہے کہ ہم فرشتوں سے کہیں کہ وہ ہمارے توسط سے خدا سے مانگیں۔ یہ دلیل خاص طور پر سلیخوت (Selichot) دعا جسے ("مخنیسی رخامیم") کہا جاتا ہے، میں فرشتوں سے درخواست کریں کہ وہ ان کی طرف سے خدا سے شفاعت کریں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. James Kugel, ""The God of Old, Inside the Lost World of the Bible" ( New York: en:Simon & Schuster، 2003)
  2. http://www.myjewishlearning.com/article/modern-jewish-views-of-god
  3. Mark S. Smith، "God in Translation: Deities in Cross-Cultural Discourse in the Biblical World," [1]، (Eardmans, 2010) pp. 96-98, ISBN 9780802864338
  4. en:Patrick D. Miller، "The Religion of Ancient Israel," [2] (Westminster John Knox Press, 2000)، ISBN 978-0-664-22145-4
  5. Thomas Römer, "The Invention of God" (Cambridge: Harvard University Press، 2015) in chapter "Between Egypt and Seir"
  6. John M. Duffey۔ Science and Religion: A Contemporary Perspective۔ Wipf and Stock۔ |access-date= requires |url= (معاونت)
  7. Smith, Mark S.The early history of God: Yahweh and the other deities in ancient Israel. Wm. B. Eerdmans Publishing Co.; 2nd ed.، 2002. ISBN 978-0-8028-3972-5
  8. موسی بن میمون، 13 principles of faith، Second Principle
  9. Wainwright, William۔ Edward N. Zalta, ویکی نویس.۔ "Monotheism, The Stanford Encyclopedia of Philosophy" (اشاعت Fall 2013۔)۔