زمین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اگر آپ کسی اور صفحہ کی تلاش میں ہیں تو دیکھیں زمین (فرش)


زمین کا خلائ منظر

زمین نظام شمسی کا وہ واحد سیارہ ہے جہاں پر زندگی موجود ہے۔ پانی زمین کی ۳­/­۲ سطح کو ڈھکے ہوئے ہے۔ زمین کی بیرونی سطح پہاڑوں، ریت اور مٹی کی بنی ہوئی ہے۔ پہاڑ زمین کی سطح کا توازن برقرار رکھنے کے لئے بہت ضروری ہیں۔ اگر زمین کو خلا سے دیکھا جائے تو ہمیں سفید رنگ کے بڑے بڑے نشان نظر آئیں گے۔ یہ پانی سے بھرے بادل ہیں جو زمین کی فضا میں ہر وقت موجود رہتے ہیں۔ پچھلے چند سالوں سے ان بادلوں کی تعداد میں کمی آئی ہے جس کا اثر زمین کی فضا کو پڑا ہے۔ زمین کا صرف ایک چاند ہے۔ زمین کا شمالی نصف کرہ زیادہ آباد ہے جبکہ جنوبی نصف کرہ میں سمندروں کی تعداد زیادہ اور خشکی کم ہونے کی وجہ سے کم آبادی ہے، اِس کے علاوہ اور کئ وجوہات ہیں (جیسے پچھلے دور میں اُن علاقوں کا کم جاننا وغیرہ)۔ قطب شمالی اور قطب جنوبی پر چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات رہتی ہے۔ عام دن اور رات کا دورانیہ چوبیس گھنٹے کا ہوتا ہے۔

آبادی[ترمیم]

زمین کی انسانی آبادی چھ ارب سے تجاوز کر چکی ہے۔ اور انسان اس پر ہمہ وقت جنگوں میں مصروف رہتے ہیں۔

تاریخ وار ترتیب[ترمیم]

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: زمین کی تاریخ

دنیا کے سات براعظم

نظام شمسی میں پائے جانے والے قدیم ترین مواد کی تاریخ 4.5672±0.0006 بلین سال قدیم ہے۔[1] آغاز میں زمین پگھلی ہوئی حالت میں تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ زمین کی فضا میں پانی جمع ہونا شروع ہو گیا اور اس کی سطح ٹھنڈی ہو کر ایک قرش(crust) کی شکل اختیار کر گئی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی چاند کی تشکیل ہوئی۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ مریخ کی جسامت کا ایک جسم تھیا (Theia)، جس کی کمیت زمین کا دسواں حصہ تھی، زمین سے ٹکرایا اور اس تصادم کے نتیجے میں چاند کا وجود عمل میں آیا۔ اس جسم کا کچھ حصہ زمین کے ساتھ مدغم ہو گیا، کچھ حصہ الگ ہو کر خلا میں دور نکل گیا، اور کچھ الگ ہونے والا حصہ زمین کی ثقلی گرفت میں آگیا جس سے چاند کی تشکیل ہوئی۔

پگھلے ہوئے مادے سے گیسی اخراج اور آتش فشانی کے عمل سے زمین پر ابتدائی کرہ ہوا ظہور پذیر ہوا۔ آبی بخارات نے ٹھنڈا ہو کر مائع شکل اختیار کی اور اس طرح سمندروں کی تشکیل ہوئی۔ مزید پانی دمدار سیاروں کے ٹکرانے سے زمین پر پہنچا۔ اونچے درجہ حرارت پر ہونے والے کیمیائی عوامل سے ایک (self replicating) سالمہ (molecule) تقریباًًً 4 ارب سال قبل وجود میں آیا، اور اس کے تقریباًًً 50 کروڑ سال کے بعد زمین پر موجود تمام حیات کا جد امجد پیدا ہوا۔

ضیائی تالیف کے ارتقاء کے بعد زمین پر موجود حیات سورج کی توانائی کو براہ راست استعمال کرنے کے قابل ہو گئی۔ ضیائی تالیف سے پیدا ہونے والی آکسیجن فضاء میں جمع ہونا شروع ہو گئی اور کرہ ہوا کے بالائی حصے میں یہی آکسیجن اوزون (ozone) میں تبدیل ہونا شروع ہو گئی۔ چھوٹے خلیوں کے بڑے خلیوں میں ادغام سے پیچیدہ خلیوں کی تشکیل ہوئی جنھیں (eukaryotes) کہا جاتا ہے۔ آہستہ آہستہ یک خلوی جانداروں کی بستیاں بڑی سے بڑی ہوتی گئیں، ان بستیوں میں خلیوں کا ایک دوسرے پر انحصار بڑھتا چلا گیا اور خلیے مختلف کاموں کے لئے مخصوص ہوتے چلے گئے۔ اس طرح کثیر خلوی جانداروں کا ارتقاء ہوا۔ زمین کی بالائی فضا میں پیدا ہونے والی اوزون (ozone) نے آہستہ آہستہ زمین کے گرد ایک حفاظتی حصار قائم کر لیا اور سورج کی بالائے بنفشی شعاعوں (ultra violet rays) کو زمین تک پہنچنے سے روک کر پوری زمین کو زندگی کے لئیے محفوظ بنا دیا۔ اس کے بعد زندگی زمین پر پوری طرح پھیل گئی۔

  • زمین کی عمر
  • اگرچہ کائنات کی عمر کے بارے میں سائنسدان متفق نہیں ہیں ۔ لیکن زمین کی عمر کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ آج سے پانچ ارب سال پہلے گیس اور غبار کا ایک وسیع و عریض بادل کشش ثقل کے

انہدام کے باعث ٹکروں میں تقسیم ہوگیا سورج جو مرکز میں واقع تھا سب سے زیادہ گیس اس نے اپنے پاس رکھی ۔ باقی ماندہ گیس سے دوسرے کئی گیس کے گولے بن گئے ۔ گیس اور غبار کا یہ بادل ٹھندا تھا اور اس سے بننے والے گولے بھی ٹھندے تھے ۔ سورج ستارہ بن گیا اور دوسرے گولے سیارے ۔ زمین انہی میں سے ایک گولہ ہے ۔ سورج میں سارے نظام شمسی کا 99٪ فیصد مادہ مجتمع ہے ۔ مادے کی کثرت اور گنجانی کی وجہ سے اس میں حرارت اور روشنی ہے ۔ باقی ماندہ ایک فی صدی سے تمام سیارے جو نظام شمسی کا حصہ ہے بنے ۔ نظام شمسی کے یہ گولے جوں جوں سکڑتے گئے ان میں حرارت پیدا ہونے لگی ۔ سورج میں زیادہ مادہ ہونے کی وجہ سے اس شدید سمٹاؤ کی وجہ سے اٹمی عمل اور رد عمل شروع ہوا اور اٹمی دھماکے شروع ہوئے ، جس سے شدید ایٹمی دھماکے ہوئے ، جن سے شدید حرارت پیدا ہوئی ۔ زمین میں بھی ان ہی اصولوںکے تحت حرارت پیدا ہوئی ۔ حرارت سے مادہ کا جو حصہ بخارات بن کر اڑا فضا کے بالائی حصوں کی وجہ سے بارش بن کر برسا ۔ ہزاروں سال یہ بارش برستی رہی ۔ ابتدا میں تو بارش کی بوندیں زمین تک پہنچتی بھی نہیں تھیں ۔ بلکہ یہ راستہ میں دوبارہ بخارات بن کر اڑ جاتی تھیں ۔ مگر لاکھوں کروڑں سال کے عمل سے زمین ٹھنڈی ہوگئی ۔ اس کی چٹانیں بھی صاف ہوئیں خشکی بھی بنی اور سمندر وجود میں آئے۔

ارضیاتی تاریخ[ترمیم]

Crystal Clear app kdict.png تفصیلی مضمون کے لئے ملاحظہ کریں: زمین کی ارضیاتی تاریخ

ساخت اور ڈھانچہ[ترمیم]

Earth cutaway.png زمین قطبین پر شلجم کی طرح تقریباً چپٹی گول شکل میں ہے۔[2] زمین کے گھومنے سے اس میں مرکز گریز اثرات شامل ہوجاتے ہیں۔ جس کے باعث یہ خط استوا کے قریب تھوڑی ابھری ہوئی ہے اور اس کے قطبین یا پولز قدرے چپٹے ہیں۔ ان مرکز گریز اثرات ہی کی وجہ سے زمین کے اندرونی مرکز سے سطح کا فاصلہ خط استوا کے مقابلے میں قطبین پر 33 فیصد کم ہے۔ یعنی مرکز سے جتنا فاصلہ خط استوا کے مقامات پر زمین کی سطح تک ہے مرکز سے قطبین کی سطح کا فاصلہ اس سے لگ بھگ ایک تہائی کم ہے۔[3]

کیمیائی ساخت[ترمیم]

پرت کی کیمیائی ساخت[4]
مقام کلیہ مرکب
براعظم سمندری
سایقہ SiO2 60.2% 48.6%
ایلومینا Al2O3 15.2% 16.5%
لائم CaO 5.5% 12.3%
Magnesia MgO 3.1% 6.8%
آیرن آکسائڈ FeO 3.8% 6.2%
دوڈیم آکسائڈ Na2O 3.0% 2.6%
پوٹاشیم آکسائڈ K2O 2.8% 0.4%
آئرن آکسائڈ ۳ Fe2O3 2.5% 2.3%
پانی H2O 1.4% 1.1%
کاربن دو اکسید CO2 1.2% 1.4%
ٹٹانیم ڈائےآکسائڈ TiO2 0.7% 1.4%
Phosphorus Pentoxide P2O5 0.2% 0.3%
Total 99.6% 99.9%
Chimborazo, Ecuador. The point on Earth's surface farthest from its center.[5]

مدار اور گردش[ترمیم]

زمین کی گردش

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ خطا در حوالہ: حوالہ بنام bowring_housch1995 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  2. ^ خطا در حوالہ: حوالہ بنام milbert_smith96 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  3. ^ خطا در حوالہ: حوالہ بنام ngdc2006 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  4. ^ خطا در حوالہ: حوالہ بنام brown_mussett1981 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  5. ^ "The 'Highest' Spot on Earth". Npr.org. 7 April 2007. Retrieved 31 July 2012. 

حواشی[ترمیم]

خطا در حوالہ: <ref> tag defined in <references> has group attribute "n" which does not appear in prior text.
خطا در حوالہ: <ref> tag defined in <references> has group attribute "n" which does not appear in prior text.
خطا در حوالہ: <ref> tag defined in <references> has group attribute "n" which does not appear in prior text.
خطا در حوالہ: <ref> tag defined in <references> has group attribute "n" which does not appear in prior text.
خطا در حوالہ: <ref> tag defined in <references> has group attribute "n" which does not appear in prior text.
خطا در حوالہ: <ref> tag defined in <references> has group attribute "n" which does not appear in prior text.
خطا در حوالہ: <ref> tag defined in <references> has group attribute "n" which does not appear in prior text.
خطا در حوالہ: <ref> tag defined in <references> has group attribute "n" which does not appear in prior text.

خطا در حوالہ: <ref> tag defined in <references> has group attribute "n" which does not appear in prior text.

مزید دیکھیے[ترمیم]

کرہ ارض