زمین کی ارضیاتی تاریخ

زمین پر جو ارضیاتی ادوار اب تک گذرے ہیں ان کی مختصر تفصیل یہ ہے۔
قبل کیمبری دور
[ترمیم]کرہ ارضی میں قدیم ترین چٹانوں کی تشکیل آج سے تقریباً چار ارب 57 کروڑ سال پہلے شروع ہوئی۔ ماقبل کیمبرین زمانہ اس وقت سے لے کر آج سے 57 کروڑ قبل طویل دور پر محیط ہے۔ یہ زمانہ چار ارب سال رہا۔ زمین پر زندگی کا آغاز اس دور میں ہو چکا تھا۔[1] [2] [3]

نچلا قدیم محجرحیات کا دور
[ترمیم]یہ دور 57 کروڑ قبل شروع ہوکر 39 کروڑ پچاس لاکھ سال تک رہا۔ اس کا کل عرصہ 18 کروڑ پچاس لاکھ سال بنتا ہے۔ اس دور میں زندگی کے بے شمار شواہد چٹانوں میں محفوظ ملے ہیں۔ اس سے پہلے تقریباً ڈھائی ارب سال زندگی کا وجود تسلیم کیا جاتا ہے۔ مگر اس کے مجحرات زیادہ نہیں ملے ہیں۔ اس دور کو تین ضمنی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
- کیمبری دور The Cambrian Period [4]
- آرڈود شین زمانہ The Ordovician Period [5]
- سلورین زمانہ The Silurian Period [6]
بالائی قدیم مجحر حیات کا دور
[ترمیم]یہ دور 39 کروڑ پجاس سال سے لے کر22 کروڑ پچاس لاکھ سال قبل تک رہا ہے۔ گویا یہ کل سترہ کروڑ تک محیط رہا ہے اور اسے چار ضمنی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
- ڈیونین ادوار Devonian Peroid، یہ زمانہ پانچ کروڑ سال تک رہا۔ اس عہد میں پہلی دفعہ جل بھومی جانور ظاہر ہوئے۔ [7]
- نچلا کاربن کا ادوار The Lower Carboniferous Peroid، یہ ادوار کل آٹھ کروڑ سال تک رہا۔[8]
- بالائی کاربن کا زمانہ The Upper Carboniferous Peroid، ان ادوار میں کوئلہ وجود میں آیا۔[9]
- پرمین ادوار The Permian Peroid، یہ زمانہ ساڑھے چار کروڑ سال پرمحیط ہے۔[10]
درمیانی قدیم مجحر حیات کا دور
[ترمیم]یہ دور 22 کروڑ پجاس سال سے لے کر6 کروڑ پچاس لاکھ سال قبل تک رہا ہے۔ گویا یہ کل سولہ کروڑ تک محیط رہا ہے اور اسے تین ضمنی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے
- تین پرتی زمانہ The Triassic peroid، یہ زمانہ چار کروڑ پچاس لاکھ سال تک جاری رہا۔ اس زمانہ میں رینگنے والے جانور خوب پھلے پھولے۔[11]
- پہاڑی زمانہ The Jurassic peroid، یہ زمانہ بھی چار کروڑ پچاس لاکھ سال تک جاری رہا۔ اس زمانے میں ڈاینو سار اور آکٹوپس نما جانور عروج پر تھے۔[12]
- چاک دار زمانہ The Cretacious peroid، یہ زمانہ چھ کروڑ پچاس لاکھ سال جاری رہا۔ اس دور میں چاک کے ذخائر پیدا ہوئے اور زمین پر پھول دار پودے پہلے پہل نمودار ہوئے۔[13]
نئی حیات کا دور
[ترمیم]یہ زمانہ چھ کروڑ پچاس لاکھ سال قبل سے لے کر زمانہ حال تک پھیلا ہوا ہے۔ اس عہد نے زمین نے موجودہ شکل اختیار کی۔ یہ عہد شیر دار جانوروں اور پھول پودوں کا عہد کہلاتا ہے۔ اس عہد کو اتفاق رائے سے دو حصہ میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
- تیسرا زمانہ The Tertiary peroid
- چوتھا زمانہ The Quarternary peroid
- یہ دونوں زمانے مزید زمانی ادوار میں تقسیم کیے گئے ہیں۔[14]
تیسرا زمانہ (The Tertiary peroid)
[ترمیم]یہ زمانہ آج سے چھ کروڑ پجاس لاکھ سال پہلے کے وقت سے لے کر پچیس لاکھ سال پہلے تک کے عرصہ پر پھیلا ہوا ہے۔ یعنی یہ کل سوا چھ کروڑ سال کی طوالت پر محیط ہے۔ اس زمانے میں زمین پر پہاڑ بنے۔ اس عہد میں ہمالیہ پہاڑ وجود میں آیا۔ اس دور میں بر اعظموں کی شکلیں تقریباً وہی تھیں جو آج کل ہیں۔ لیکن کچھ فرق بھی تھا۔ مثلاً مشرقی ایشیا اور مغربی ایشیا کے آر پار ایک سمندری راستہ تھا اور عہد حاضر کے عرب و عراق اور ایران کا بیشتر حصہ اور پاکستان اور بھارت کے کچھ حصہ سمندر کے نیچے تھے۔ اس دور میں شروع سے آخر تک مڈغاسکر اور آسٹریلیا جزیروں کی شکل میں تھے۔ لیکن یور ایشیا اور شمالی امریکا کے دوران الاسکا اور سائبیریا کا زمینی راستہ موجود تھا۔ جس پر سے بہت سے انوع کے شیر دار جانور وں کے گلے ادھر ادھر آئے گئے۔ چنانچہ شمالی براعظموں کے جانوروں نے جنوبی بر اعظم کے جانوروں نسبت باہمی مماثلت زیادہ برقرار رکھی۔ اگرچہ اس دور کے اوائل میں جنوبی امریکا اور افریقہ کے جانوروں کا بھی کسی قدر تعلق شمالی بر اعظموں سے رہا۔ بحیرہ روم کی شکل اور جسامت میں مسلسل کم و بیشی ہوتی رہی۔ ہمالیہ، پرانیز فرانس اور اسپین کے درمیان پھیلا ہوا ایک پہاڑی سلسلہ جو خلیج بسکے سے لے کر بحیرہ روم تک پھیلا ہوا ہے، الپس اور دوسرے پہاڑی سلسلے نمودار ہوئے۔ افریقہ میں رفٹ وادیاں بنیں۔ اس دور کے آخر دنوں میں امریکا کے مغربی علاقوں میں، وسطی ایشیا میں اور شمالی اور جنوبی افریقہ میں صحرا بھی نمودار ہوئے۔ ان سب ارضیاتی تبدیلیوں نے شیر دار جانوروں اور پرندوں کی کرہ ارض پر تقسیم اور ان کے پھیلاؤ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ نباتی زندگی کے ارتقائ نے زمین کا حلیہ تبدیل کر کے رکھ دیا۔ تاہم اس دور کا سب سے اہم واقع شیر دار جانوروں کا ارتقائ پزیر ہونا تھا۔[15] [16]
درمیانی حیات کے دور ( میسوز ٹک عہد Mesozoic Peroid ) میں چھوٹے شیر دار جانور وجود رکھتے تھے۔ لیکن ان میں سے اکثر اسی عہد کے ساتھ معدوم ہو گئے تھے۔ صرف تھیلی دار جانور اور آنول والے شیر دار جانور بچ نکلے۔[17]
تیسرا زمانہ پانچ ضمنی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے:
- پہلا نذدیکی زمانہ Palaeocene
- فجری نذدیکی زمانہ Eocene
- خفیف نزدیکی زمانہ Oligocene
- کم نذدیکی زمانہ Mioicene
- زیادہ نذدیکی زمانہPliocene[18]
پہلا نزدیکی زمانہ Palaeocene
[ترمیم]یہ زمانہ تقریباً ساٹھ لاکھ سال رہا۔ یعنی چھ کروڑ پچاس لاکھ سال پہلے سے لے کر پانچ کروڑ نوے لاکھ سال تک رہا۔ اس زمانے کی بری زندگی کے بارے میں معلومات کم ہیں۔ کیوں کہ ایسی چٹانیں کم ملی ہیں جن میں اس دور کے بری جانوروں کے محجرات محٰفوظ ہوں۔ تاہم ایشیا اور جنوبی امریکا اور ریاست ہائے امریکا میں کچھ آثار ملے ہیں۔ دنیا میں شیر دار جانوروں کے کل پیتیس 35 بڑے سلسلے رہے ہیں۔ جن میں سے آج کل کل بیس سلسلے زندہ ہیں۔ اس زمانے میں ترقی یافتہ سلسلوں میں شاذ ہی کسی کا نشان ملتا ہے، البتہ زیادہ قدیم سلسلے مثلاً ڈائینوسار قدیم کترنے والے جانور خوب پھل پھول رہے تھے۔[19]
فجری نزدیکی زمانہ Eocene
[ترمیم]یہ زمانہ تقریباً دو کروڑ پجاس لاکھ سال رہا۔ یعنی پانچ کروڑ نوے لاکھ قبل سے لے کر تین کروڑ چالیس لاکھ سال تک رہا۔ اس دور میں کھروں والے شیر دار جانور نمودار ہوئے۔ اس زمانے کے آزاد شیر داروں کے اگرچہ زیادہ محجرات زیادہ نہیں ملے۔ تاہم اس زمانے میں شیر دار جانوروں کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہو چکی ہیں۔ اس زمانے کی خاص بات ہے وہ یہ ہے کہ آزاد شیر داروں کی کچھ قسموں نے ارتقائی منازل طے کر کے دو ایسی خصوصیات حاصل کرلی تھیں جو آج کے شیر دار جانوروں میں ہیں، یعنی ہاتھوں اور پاؤں سے کسی چیز کو پکڑنے کے قابل ہونا اور درختوں پر جھول سکنے کی صلاحیت رکھنا، نیز جسم اور دماغ کے حجم کا وہ تناسب جو آج کے انسان کے قریب ترین ہے۔[20][21]
خفیف نزدیکی زمانہ Oligocene
[ترمیم]یہ زمانہ تقریباً نوے لاکھ سال رہا یعنی تین کروڑ چالیس لاکھ سال قبل سے لے کر دو کروڑ پچاس لاکھ سال قبل تک۔ اس زمانے کے آزاد شیر دار جانوروں کے کافی مجحرات ملے ہیں۔ اس زمانے کی خاص خصوصیت یہ ہے کہ کرہ ارضی پر وسیع عریض گھاس کے میدان وجود میں آ گئے۔ ان کے ساتھ گھاس خور جانور بھی نمودار ہوئے۔ جب کہ پہلے تو بری جانوروں میں زیادہ تر جنگل کے پتے کھا کھانے والے ہی تھے۔ طاق کھر والے جانور اسی زمانے میں زبردست اکثریت میں تھے۔ تاریخ کا سب سے عظیم الجثہ شیر دار جانور اسی دور میں وسطی ایشیا میں ظہور پزیر ہوا۔ جس کو ماہرین اندرا کو تھریم کے نام سے یاد کرتے ہیں یہ ایک لمبی گردن والا دینو سارس تھا، جس کا قد یعنی پاؤں سے لے کر کندھوں تک عموداً تقریباً پندرہ فٹ یا پانچ میٹر تھا۔ فجری بن مانس کے لا تعداد مجحرات کے فایوم کے علاقہ میں ملے ہیں۔ ان کے ساتھ ہی ہاتھیوں کے ابتدائی اجداد کے ڈھانچے ملے ہیں۔[22][23]
کم نزدیکی زمانہ Mioicene
[ترمیم]یہ زمانہ ایک کروڑ تیس لاکھ سال کے عرصہ پر محیط ہے۔ یعنی دو کروڑ پچاس لاکھ سال قبل سے لے کر ایک کروڑ بیس لاکھ سال تک۔ اس زمانے میں یوریشیا کا بیشتر حصہ جنگلات سے پر ہوا تھا۔ اس زمانے کے آخر دنوں کے قریب یوریشیا اور افریقہ کے درمیان ایک زمینی پل سے بندر اور بن مانس شمالی بر اعظموں کی طرف منتقل ہوئے۔ ان میں دیو قامت مانس بھی شامل تھے جو بعد میں معدوم ہو گئے۔ جس کا نام ’ ڈرایوپتھے کس ‘ ہے۔ یہی دیو قامت مانس زمانے آج کل کے بن مانسوں کا جد امجد سمجھا جاتا ہے۔ آج کل دنیا میں چار قسم کے مانس موجود ہیں۔ * 1 چمپانزی 2 اورنگوتان 3 گوریلا 4 گبن * اس عہد میں رام مانس کا ظہور میں آیا۔ یہی انسانی نسل کا دادا یا پر دادا ہے۔[24][25]
زیادہ نزدیکی زمانہ Pliocene
[ترمیم]زیادہ نذدیکی زمانہ یہ زمانہ تقریباً پچانوے لاکھ سال پر پھیلا ہوا ہے۔ یعنی ایک کروڑ بیس لاکھ سال قبل تک۔ اس زمانے میں کرہ ارض پر بیشتر علاقوں میں آب و ہوا سرد اور خشک ہو گئی۔ گھوڑوں اور سینگ دار جانوروں کی نسلوں میں تنوع پیدا ہوا۔ اسی زمانے میں جانوروں کو جنگل اور میدان میں سے کسی ایک جگہ کو اپنے مسکن کے طور پر منتخب کرنے کا مرحلہ درپیش ہوا۔ چنانچہ کچھ جانور جنگلی بن گئے اور کچھ میدانی۔ اسی زمانے میں دیو قامت مانس ’ ڈرایوتپھے کس ‘ سے بھی بہت بڑا ’ عظیم الہیکل مانسGigantopithecus ‘ میدانی علاقوں میں ظاہر ہوا۔ اس کا وزن 150 پونڈ سے بھی زیادہ ہوتا تھا۔ اسی زمانے میں نسل انسانی کا باپ ’ جنوبی مانس ‘ ( آسٹریلوتپھے کس ) بھی ظہور میں آیا۔ جنوبی مانس نے اسی زمانے میں اوزار بنانے سیکھے۔ اوزار بنانے کی محنت نے اس کو مزید ترقی دی اور آئندہ زمانے میں ( یعنی چوتھے زمانے میں ) وہ ارتقائ کے بلند ترین مرحلے میں داخل ہوا، یعنی جدید انسان بنا۔[26][27]
چوتھا زمانہ The Quarternary peroid
[ترمیم]یہ زمانہ گذشتہ پچیس لاکھ سال سے لے کر عہد حاضر پر محیط ہے۔ اس کے دو حصے ہیں؛
- انتہائی نزدیکی زمانہ Pleistocene
- مکمل نزدیکی زمانہ Holocene[28]
یہ زمانہ گذشتہ پچیس لاکھ سال قبل ( اور بعض کے نزدیک سترہ لاکھ سال قبل ) سے شروع ہوکر دس ہزار سال ( یا گیارہ ہزار سال ) قبل پر پھیلا ہوا ہے۔ گویا اس کا عرصہ بیس لاکھ سے چورانوے لاکھ سال تک پھیلا ہوا ہے۔ اس دور میں زمین پر بار بار زبر دست موسمی تبدیلیاں واقع ہوئیں۔ بار بار زمین کے بیشتر حصوں پر خصوصاً شمالی علاقوں پر برف کی موٹی دبیز تہیں چھاگئیں۔ جن کی موٹائی دس ہزار فٹ ( تین ہزار میٹر) یا اس سے بھی زیادہ ہوتی تھی اور پھر بار بار یہ برف پگھل گئیں۔ اسی زمانے کے دوران برف جمنے اور پگھلنے کے آتھ ادوار کی نشان دہی ہوتی ہے۔ آخری برف آج سے دس ہزار سال پہلے پگھل کر ختم ہوئی۔ یوں اس پورے دور کو برفانی دور کہا جاتا ہے۔ جس میں بار بار برف پگھلی اور جمی۔ زمین کی پوری ارضیاتی زندگی میں یہ آخری برف سازی تھی۔ جب کہ پہلی کوئی ستاون کروڑ سال پہلے ہوئی تھی۔[29][30]
اس شدید موسمی کایا پلٹ کی بنا پر بہت سے جانوروں کی اقسامیں معدوم ہوگئیں اور بہتوں میں زبردست ارتقائ ہوا اور ارتقائ کا انقلابی مرحلہ کیفیتی تبدیلی کا مرحلہ اسی دور میں ہوا۔ اسی دور میں جدید انسان اپنی موجودہ شکل میں سامنے آیا۔ انسانیت کی صبح صادق اسی عہد میں طلوع ہوئی۔ قدیم پتھر کا زمانہ اسی دور سے تعلق رکھتا ہے۔ جو تقریبا! پچیس تیس لاکھ سال قبل سے شروع ہو کر بارہ ہزار سال قبل ختم ہوتا ہے۔ قدیم پتھر کے زمانے علی الترتیب تین حصہ کیے جاتے ہیں۔
مکمل نزدیکی زمانہ Holocene
[ترمیم]یہ زمانہ گذشتہ دس ہزار یا گیارہ ہزار سال پر پھیلا ہوا ہے۔ اس دور کے آغاز سے پہلے ہی برف پگھلنی شروع ہو گئی تھی۔ آج سے تقریباً پندرہ ہزار سال پہلے برف پگھلنے کا عمل شروع ہوا جو اچانک ہوا۔ سائنس دانوں کی رائے میں سورج کی تابکاری بڑھ جانے کی وجہ سے زمین پر گرمی بڑھ گئی۔ تقریباً آٹھ ہزار سال پہلے ایک طرف تو برف پگھلنے سے دریاؤں کے پاٹ زیاہ بھر گئے، دوسرے بارشیں بھی زیادہ ہوئیں۔ اس دور میں کافی سیلاب آئے۔ اس زمانے میں جانداروں کی نسلوں میں کوئی جسمانی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ ماسوائے دو باتوں کے کہ ایک تو انسانی آبادیوں میں زبردست اضافہ ہوا، دوسرا عظیم شیر دار تیزی سے معدوم ہو گئے۔ اسی زمانے میں بھی ایک چھوٹا برفانی دور گذرا۔ اس کا عروج 1750ء میں ہوا۔ جب کہ پرانے عظیم برفانی دور کے بعد نسبتاً گرم زمانے میں سب سے زیادہ برفانی تودے زمین پر نمودار ہو گئے تھے۔[33][34]
مزید دیکھیے
[ترمیم]- Steven M. Stanley (1999)۔ Earth system history (New ایڈیشن)۔ New York: W. H. Freeman۔ ISBN:978-0-7167-3377-5
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "Precambrian"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ Alexandra Witze۔ "Earth's Lost History of Planet-Altering Eruptions Revealed"۔ Scientific American۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Introduction to Geologic History — Earth@Home"۔ Earth@Home۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Cambrian Period"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Ordovician Period"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Silurian Period"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Devonian Period"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Carboniferous Period"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Carboniferous Period"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Permian Period"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Triassic Period"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Jurassic Period"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Cretaceous Period"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Cenozoic Era"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Cenozoic Era"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Mountain building and plate tectonics"۔ National Geographic۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18[مردہ ربط]
- ↑ "Early Mammals"۔ Natural History Museum London۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Cenozoic subdivisions"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Paleocene Epoch"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Eocene Epoch"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Evolution of Primates"۔ Smithsonian National Museum of Natural History۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Oligocene Epoch"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Evolution of Grasslands"۔ National Geographic۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18[مردہ ربط]
- ↑ "Miocene Epoch"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Human Evolution Timeline"۔ Smithsonian National Museum of Natural History۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Pliocene Epoch"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Australopithecus"۔ Smithsonian National Museum of Natural History۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18[مردہ ربط]
- ↑ "Quaternary Period"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Ice Age"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Glacial periods and ice ages"۔ National Geographic۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18[مردہ ربط]
- ↑ "Paleolithic Period"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Human Evolution Timeline"۔ Smithsonian National Museum of Natural History۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Holocene Epoch"۔ Encyclopaedia Britannica۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18
- ↑ "Little Ice Age"۔ National Geographic۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-01-18[مردہ ربط]
بیرونی روابط
[ترمیم]- Cosmic Evolutionآرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ tufts.edu (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) — a detailed look at events from the origin of the universe to the present
- Valley, John W. "A Cool Early Earth?" Scientific American. 2005 Oct:58–65.
- Davies, Paul. "Quantum leap of life". The Guardian. 2005 Dec 20.
- Evolution timelineآرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ johnkyrk.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- Artist's Conception of Cold Early Earth
- Theory of the Earth & Abstract of the Theory of the Earthآرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ uwmc.uwc.edu (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- Paleomaps Since 600 Ma (Mollweide Projection, Longitude 0)آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ issuu.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)
- Paleomaps Since 600 Ma (Mollweide Projection, Longitude 180)آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ issuu.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)