زمین کی ارضیاتی تاریخ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

زمین پر جو ارضیاتی ادوار اب تک گزرے ہیں ان کی مختصر تفصیل یہ ہے۔

قبل کیمبری دور[ترمیم]

کرہ ارضی میں قدیم ترین چٹانوں کی تشکیل آج سے تقریباً چار ارب 57 کروڑ سال پہلے شروع ہوئی ۔ ماقبل کیمبرین زمانہ اس وقت سے لے کر آج سے 57 کروڑ قبل طویل دور پر محیط ہے ۔ یہ زمانہ چار ارب سال رہا ۔ زمین پر زندگی کا آغاز اس دور میں ہوچکا تھا ۔

نچلا قدیم محجرحیات کا دور[ترمیم]

The Lower Palaeozoic Era یہ دور 57 کروڑ قبل شروع ہوکر 39 کروڑ پچاس لاکھ سال تک رہا ۔ اس کا کل عرصہ 18 کروڑ پچاس لاکھ سال بنتا ہے ۔ اس دور میں زندگی کے بے شمار شواہد چٹانوں میں محفوظ ملے ہیں ۔ اس سے پہلے تقریباً ڈھائی ارب سال زندگی کا وجود تسلیم کیا جاتا ہے ۔ مگر اس کے مجحرات زیادہ نہیں ملے ہیں ۔ اس دور کو تین ضمنی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔

  • کیمبری دور The Cambrian Period
  • آرڈود شین زمانہ The Ordovician Period
  • سلورین زمانہ The Silurian Period

بالائی قدیم مجحر حیات کا دور[ترمیم]

The Upper Palaeozic Era یہ دور 39 کروڑ پجاس سال سے لے کر22 کروڑ پچاس لاکھ سال قبل تک رہا ہے ۔ گویا یہ کل سترہ کروڑ تک محیط رہا ہے اور اسے چار ضمنی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

  • # ڈیونین ادوار Devonian Peroid، یہ زمانہ پانچ کروڑ سال تک رہا ۔ اس عہد میں پہلی دفعہ جل بھومی جانور ظاہر ہوئے۔
  • # نچلا کاربن کا ادوار The Lower Carboniferous Peroid، یہ ادوار کل آٹھ کروڑ سال تک رہا۔
  • # بالائی کاربن کا زمانہ The Upper Carboniferous Peroid، ان ادوار میں کوئلہ وجود میں آیا۔
  • # پرمین ادوار The Permian Peroid، یہ زمانہ ساڑھے چار کروڑ سال پرمحیط ہے۔

درمیانی قدیم مجحر حیات کا دور[ترمیم]

The Mesozoic Peroid 

یہ دور 22 کروڑ پجاس سال سے لے کر6 کروڑ پچاس لاکھ سال قبل تک رہا ہے ۔ گویا یہ کل سولہ کروڑ تک محیط رہا ہے اور اسے تین ضمنی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے

    1. تین پرتی زمانہ The Triassic peroid، یہ زمانہ چار کروڑ پچاس لاکھ سال تک جاری رہا ۔ اس زمانہ میں رینگنے والے جانور خوب پھلے پھولے ۔
    2. پہاڑی زمانہ The Jurassic peroid، یہ زمانہ بھی چار کروڑ پچاس لاکھ سال تک جاری رہا ۔ اس زمانے میں ڈاینو سار اور آکٹوپس نما جانور عروج پر تھے ۔
    3. چاک دار زمانہ The Cretacious peroid، یہ زمانہ چھ کروڑ پچاس لاکھ سال جاری رہا ۔ اس دور میں چاک کے ذخائر پیدا ہوئے اور زمین پر پھول دار پودے پہلے پہل نمودار ہوئے۔

نئی حیات کا دور== The Cenozic Era یہ زمانہ چھ کروڑ پچاس لاکھ سال قبل سے لے کر زمانہ حال تک پھیلا ہوا ہے ۔ اس عہد نے زمین نے موجودہ شکل اختیار کی ۔ یہ عہد شیر دار جانوروں اور پھول پودوں کا عہد کہلاتا ہے ۔ اس عہد کو اتفاق رائے سے دو حصہ میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔

    1. تیسرا زمانہ The Tertiary peroid
    2. چوتھا زمانہ The Quarternary peroid
    3. یہ دونوں زمانے مزید زمانی ادوار میں تقسیم کئے گئے ہیں۔

تیسرا زمانہ[ترمیم]

The Tertiary peroid یہ زمانہ آج سے چھ کروڑ پجاس لاکھ سال پہلے کے وقت سے لے کر پچیس لاکھ سال پہلے تک کے عرصہ پر پھیلا ہوا ہے ۔ یعنی یہ کل سوا چھ کروڑ سال کی طوالت پر محیط ہے ۔ اس زمانے میں زمین پر پہاڑ بنے ۔ اس عہد میں ہمالیہ پہاڑ وجود میں آیا ۔ اس دور میں بر اعظموں کی شکلیں تقریباً وہی تھیں جو آج کل ہیں ۔ لیکن کچھ فرق بھی تھا ۔ مثلاً مشرقی ایشیا اور مغربی ایشیا کے آر پار ایک سمندری راستہ تھا اور عہد حاضر کے عرب و عراق اور ایران کا بیشتر حصہ اور پاکستان اور بھارت کے کچھ حصہ سمندر کے نیچے تھے ۔ اس دور میں شروع سے آخر تک مڈغاسکر اور آسٹریلیا جزیروں کی شکل میں تھے ۔ لیکن یور ایشیا اور شمالی امریکہ کے دوران الاسکا اور سائبیریا کا زمینی راستہ موجود تھا ۔ جس پر سے بہت سے انوع کے شیر دار جانور وں کے گلے ادھر ادھر آئے گئے ۔ چنانچہ شمالی براعظموں کے جانوروں نے جنوبی بر اعظم کے جانوروں نسبت باہمی مماثلت زیادہ برقرار رکھی ۔ اگرچہ اس دور کے اوائل میں جنوبی امریکہ اور افریقہ کے جانوروں کا بھی کسی قدر تعلق شمالی بر اعظموں سے رہا ۔ بحیرہ روم کی شکل اور جسامت میں مسلسل کم و بیشی ہوتی رہی ۔ ہمالیہ ، پرانیز �â فرانس اور اسپین کے درمیان پھیلا ہوا ایک پہاڑی سلسلہ جو خلیج بسکے سے لے کر بحیرہ روم تک پھیلا ہوا ہے �á ، الپس اور دوسرے پہاڑی سلسلے نمودار ہوئے ۔ افریقہ میں رفٹ وادیاں بنیں ۔ اس دور کے آخر دنوں میں امریکہ کے مغربی علاقوں میں ، وسطی ایشیا میں اور شمالی اور جنوبی افریقہ میں صحرا بھی نمودار ہوئے ۔ ان سب ارضیاتی تبدیلیوں نے شیر دار جانوروں اور پرندوں کی کرہ ارض پر تقسیم اور ان کے پھیلاؤ میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ نباتی زندگی کے ارتقائ نے زمین کا حلیہ تبدیل کر کے رکھ دیا ۔ تاہم اس دور کا سب سے اہم واقع شیر دار جانوروں کا ارتقائ پزیر ہونا تھا ۔ درمیانی حیات کے دور ( میسوز ٹک عہد Mesozoic Peroid ) میں چھوٹے شیر دار جانور وجود رکھتے تھے ۔ لیکن ان میں سے اکثر اسی عہد کے ساتھ معدوم ہوگئے تھے ۔ صرف تھیلی دار جانور اور آنول والے شیر دار جانور بچ نکلے ۔ تیسرا زمانہ پانچ ضمنی ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔

    1. پہلا نذدیکی زمانہ Palaeocene
    2. فجری نذدیکی زمانہ Eocene
    3. خفیف نزدیکی زمانہ Oligocene
    4. کم نذدیکی زمانہ Mioicene
    5. زیادہ نذدیکی زمانہPliocene

پہلا نزدیکی زمانہ[ترمیم]

Palaeocene یہ زمانہ تقریباً ساٹھ لاکھ سال رہا ۔ یعنی چھ کروڑ پچاس لاکھ سال پہلے سے لے کر پانچ کروڑ نوے لاکھ سال تک رہا ۔ اس زمانے کی بری زندگی کے بارے میں معلومات کم ہیں ۔ کیوں کہ ایسی چٹانیں کم ملی ہیں جن میں اس دور کے بری جانوروں کے محجرات محٰفوظ ہوں ۔ تاہم ایشیا اور جنوبی امریکہ اور ریاست ہائے امریکہ میں کچھ آثار ملے ہیں ۔ دنیا میں شیر دار جانوروں کے کل پیتیس 35 بڑے سلسلے رہے ہیں ۔ جن میں سے آج کل کل بیس سلسلے زندہ ہیں ۔ اس زمانے میں ترقی یافتہ سلسلوں میں شاذ ہی کسی کا نشان ملتا ہے ، البتہ زیادہ قدیم سلسلے مثلاً ڈائینوسار قدیم کترنے والے جانور خوب پھل پھول رہے تھے ۔

فجری نزدیکی زمانہ[ترمیم]

Eocene یہ زمانہ تقریباً دو کروڑ پجاس لاکھ سال رہا ۔ یعنی پانچ کروڑ نوے لاکھ قبل سے لے کر تین کروڑ چالیس لاکھ سال تک رہا ۔ اس دور میں کھروں والے شیر دار جانور نمودار ہوئے ۔ اس زمانے کے آزاد شیر داروں کے اگرچہ زیادہ محجرات زیادہ نہیں ملے ۔ تاہم اس زمانے میں شیر دار جانوروں کے بارے میں کافی معلومات حاصل ہوچکی ہیں ۔ اس زمانے کی خاص بات ہے وہ یہ ہے کہ آزاد شیر داروں کی کچھ قسموں نے ارتقائی منازل طے کر کے دو ایسی خصوصیات حاصل کرلی تھیں جو آج کے شیر دار جانوروں میں ہیں ، یعنی ہاتھوں اور پاؤں سے کسی چیز کو پکڑنے کے قابل ہونا اور درختوں پر جھول سکنے کی صلاحیت رکھنا ، نیز جسم اور دماغ کے حجم کا وہ تناسب جو آج کے انسان کے قریب ترین ہے ۔

خفیف نزدیکی زمانہ[ترمیم]

Oligocene یہ زمانہ تقریباً نوے لاکھ سال رہا یعنی تین کروڑ چالیس لاکھ سال قبل سے لے کر دو کروڑ پچاس لاکھ سال قبل تک ۔ اس زمانے کے آزاد شیر دار جانوروں کے کافی مجحرات ملے ہیں ۔ اس زمانے کی خاص خصوصیت یہ ہے کہ کرہ ارضی پر وسیع عریض گھاس کے میدان وجود میں آگئے ۔ ان کے ساتھ گھاس خور جانور بھی نمودار ہوئے ۔ جب کہ پہلے تو بری جانوروں میں زیادہ تر جنگل کے پتے کھا کھانے والے ہی تھے ۔ طاق کھر والے جانور اسی زمانے میں زبردست اکثریت میں تھے ۔ تاریخ کا سب سے عظیم الجثہ شیر دار جانور اسی دور میں وسطی ایشیا میں ظہور پزیر ہوا ۔ جس کو ماہرین اندرا کو تھریم کے نام سے یاد کرتے ہیں یہ ایک لمبی گردن والا دینو سارس تھا ، جس کا قد �â یعنی پاؤں سے لے کر کندھوں تک عموداً �á تقریباً پندرہ فٹ یا پانچ میٹر تھا ۔ فجری بن مانس کے لا تعداد مجحرات کے فایوم کے علاقہ میں ملے ہیں ۔ ان کے ساتھ ہی ہاتھیوں کے ابتدائی اجداد کے ڈھانچے ملے ہیں ۔

کم نزدیکی زمانہ[ترمیم]

Mioicene یہ زمانہ ایک کروڑ تیس لاکھ سال کے عرصہ پر محیط ہے ۔ یعنی دو کروڑ پچاس لاکھ سال قبل سے لے کر ایک کروڑ بیس لاکھ سال تک ۔ اس زمانے میں یوریشیا کا بیشتر حصہ جنگلات سے پر ہوا تھا ۔ اس زمانے کے آخر دنوں کے قریب یوریشیا اور افریقہ کے درمیان ایک زمینی پل سے بندر اور بن مانس شمالی بر اعظموں کی طرف منتقل ہوئے ۔ ان میں دیو قامت مانس بھی شامل تھے جو بعد میں معدوم ہوگئے ۔ جس کا نام ’ ڈرایوپتھے کس ‘ ہے ۔ یہی دیو قامت مانس زمانے آج کل کے بن مانسوں کا جد امجد سمجھا جاتا ہے ۔ آج کل دنیا میں چار قسم کے مانس موجود ہیں ۔

  • 1 چمپانزی 2 اورنگوتان 3 گوریلا 4 گبن
  • اس عہد میں رام مانس کا ظہور میں آیا ۔ یہی انسانی نسل کا دادا یا پر دادا ہے۔

زیادہ نزدیکی زمانہ[ترمیم]

Pliocene زیادہ نذدیکی زمانہ یہ زمانہ تقریباً پچانوے لاکھ سال پر پھیلا ہوا ہے ۔ یعنی ایک کروڑ بیس لاکھ سال قبل تک ۔ اس زمانے میں کرہ ارض پر بیشتر علاقوں میں آب و ہوا سرد اور خشک ہوگئی ۔ گھوڑوں اور سینگ دار جانوروں کی نسلوں میں تنوع پیدا ہوا ۔ اسی زمانے میں جانوروں کو جنگل اور میدان میں سے کسی ایک جگہ کو اپنے مسکن کے طور پر منتخب کرنے کا مرحلہ درپیش ہوا ۔ چنانچہ کچھ جانور جنگلی بن گئے اور کچھ میدانی ۔ اسی زمانے میں دیو قامت مانس ’ ڈرایوتپھے کس ‘ سے بھی بہت بڑا ’ عظیم الہیکل مانسGigantopithecus ‘ میدانی علاقوں میں ظاہر ہوا ۔ اس کا وزن 150 پونڈ سے بھی زیادہ ہوتا تھا ۔ اسی زمانے میں نسل انسانی کا باپ ’ جنوبی مانس ‘ ( آسٹریلوتپھے کس ) بھی ظہور میں آیا ۔ جنوبی مانس نے اسی زمانے میں اوزار بنانے سیکھے ۔ اوزار بنانے کی محنت نے اس کو مزید ترقی دی اور آئندہ زمانے میں ( یعنی چوتھے زمانے میں ) وہ ارتقائ کے بلند ترین مرحلے میں داخل ہوا ، یعنی جدید انسان بنا ۔

چوتھا زمانہ[ترمیم]

The Quarternary peroid یہ زمانہ گزشتہ پچیس لاکھ سال سے لے کر عہد حاضر پر محیط ہے ۔ اس کے دو حصہ ہیں ۔

    1. انتہائی نزدیکی زمانہ Pleistocene
    2. مکمل نزدیکی زمانہ Holocene
    3. انتہائی نزدیکی زمانہ Pleistocene

یہ زمانہ گزشتہ پچیس لاکھ سال قبل ( اور بعض کے نزدیک سترہ لاکھ سال قبل ) سے شروع ہوکر دس ہزار سال ( یا گیارہ ہزار سال ) قبل پر پھیلا ہوا ہے ۔گویا اس کا عرصہ بیس لاکھ سے چورانوے لاکھ سال تک پھیلا ہوا ہے۔ اس دور میں زمین پر بار بار زبر دست موسمی تبدیلیاں واقع ہوئیں ۔ بار بار زمین کے بیشتر حصوں پر خصوصاً شمالی علاقوں پر برف کی موٹی دبیز تہیں چھاگئیں ۔ جن کی موٹائی دس ہزار فٹ ( تین ہزار میٹر) یا اس سے بھی زیادہ ہوتی تھی اور پھر بار بار یہ برف پگھل گئیں ۔ اسی زمانے کے دوران برف جمنے اور پگھلنے کے آتھ ادوار کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ آخری برف آج سے دس ہزار سال پہلے پگھل کر ختم ہوئی ۔ یوں اس پورے دور کو برفانی دور کہا جاتا ہے ۔ جس میں بار بار برف پگھلی اور جمی ۔ زمین کی پوری ارضیاتی زندگی میں یہ آخری برف سازی تھی ۔ جب کہ پہلی کوئی ستاون کروڑ سال پہلے ہوئی تھی ۔ اس شدید موسمی کایا پلٹ کی بنا پر بہت سے جانوروں کی اقسامیں معدوم ہوگئیں اور بہتوں میں زبردست ارتقائ ہوا اور ارتقائ کا انقلابی مرحلہ کیفیتی تبدیلی کا مرحلہ اسی دور میں ہوا ۔ اسی دور میں جدید انسان اپنی موجودہ شکل میں سامنے آیا ۔ انسانیت کی صبح صادق اسی عہد میں طلوع ہوئی ۔ قدیم پتھر کا زمانہ اسی دور سے تعلق رکھتا ہے ۔ جو تقریبا! پچیس تیس لاکھ سال قبل سے شروع ہو کر بارہ ہزار سال قبل ختم ہوتا ہے ۔ قدیم پتھر کے زمانے علی الترتیب تین حصہ کیئے جاتے ہیں۔

    1. نچلا قدیم پتھر کا دور
    2. درمیانہ قدیم پتھر کا دور
    3. بالائی قدیم پتھر کا زمانہ۔

مکمل نزدیکی زمانہ[ترمیم]

Holocene یہ زمانہ گزشتہ دس ہزار یا گیارہ ہزار سال پر پھیلا ہوا ہے ۔ اس دور کے آغاز سے پہلے ہی برف پگھلنی شروع ہوگئی تھی ۔ آج سے تقریباً پندرہ ہزار سال پہلے برف پگھلنے کا عمل شروع ہوا جو اچانک ہوا ۔ سائنس دانوں کی رائے میں سورج کی تابکاری بڑھ جانے کی وجہ سے زمین پر گرمی بڑھ گئی ۔ تقریباً آٹھ ہزار سال پہلے ایک طرف تو برف پگھلنے سے دریاؤں کے پاٹ زیاہ بھر گئے ، دوسرے بارشیں بھی زیادہ ہوئیں ۔ اس دور میں کافی سیلاب آئے ۔ اس زمانے میں جانداروں کی نسلوں میں کوئی جسمانی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ۔ ماسوائے دو باتوں کے کہ ایک تو انسانی آبادیوں میں زبردست اضافہ ہوا ، دوسرا عظیم شیر دار تیزی سے معدوم ہوگئے ۔ اسی زمانے میں بھی ایک چھوٹا برفانی دور گزرا ۔ اس کا عروج 1750ء میں ہوا ۔ جب کہ پرانے عظیم برفانی دور کے بعد نسبتاً گرم زمانے میں سب سے زیادہ برفانی تودے زمین پر نمودار ہوگئے تھے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. یحیٰی امجد ۔ تاریخ پاکستان قدیم دور

بیرونی روابط[ترمیم]