کائنات میں زمین کا محل وقوع

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

کائنات میں زمین کے محل وقوع کی معلومات 400 برس کے دور بینی مشاہدات کا نچوڑ ہے، خصوصاً گزشتہ صدی میں اس سے متعلق ہمارا فہم خاصی حد تک بڑھا ہے۔ شروع میں زمین کو کائنات کا مرکز سمجھا جاتا تھا اور کائنات صرف ان سیاروں پر مشتمل تھی جو ننگی آنکھ سے دیکھے جاسکتے تھے اور ان کے کنارے پر مستقل ستاروں کا کرہ تھا۔[1] سترہویں صدی میں شمس مرکزی نمونے کو تسلیم کیے جانے کے بعد ولیم ہرشل اور دوسروں کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ سورج وسیع ستاروں کی قرص نما شکل میں موجود ہے۔[2] بیسویں صدی تک ایڈون ہبل کے مرغولہ نما سحابیہ کے مشاہدے سے معلوم ہوا کہ ہماری کہکشاں پھیلتی ہوئی کائنات میں موجود ارب ہا ارب کہکشاؤں میں سے ایک ہے[3][4] جس کی درجہ بندی جھرمٹ اور فوق جھرمٹوں میں ہوئی ہے۔ بیسویں صدی کے اختتام تک، کائنات کی کل ساخت خاصی واضح ہو گئی تھی، جہاں فوق جھرمٹ اور خالی جگہیں ریشوں اور خالی جگہوں سے وسیع جال بن رہے تھے۔[5] فوق جھرمٹ اور خالی جگہیں کائنات میں آپس میں بندھی ہوئی سب سے بڑی ساختیں ہیں جن کا ہم مشاہدہ کرسکتے ہیں۔[6] بڑے پیمانے پر (1000 میگا فرسخ سے زائد) کائنات ہم جنس ہو جاتی ہے، یعنی اس کے تمام حصّوں کی اوسط ایک جیسی کمیت، ترکیب اور ساخت ہے۔[7]

چونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ کائنات کا کوئی مرکز یا سرحد نہیں ہے، لہٰذا کوئی بھی مخصوص نقطہ ایسا نہیں ہوگا جس کی نسبت سے ہم کائنات میں زمین کے محل وقوع کو بیان کرسکیں۔[8] تاہم کیونکہ قابل مشاہدہ کائنات کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ وہ کائنات کا ایسا حصّہ ہے جو ارضی مشاہدین کو نظر آتا ہے، اس تعریف کی رو سے زمین کائنات کا مرکز ہے۔[9] زمین کے مقام سے مختلف پیمانے پر موجود مخصوص ساختوں کے لیے حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ اس بات کا اب بھی تعین نہیں کیا جا سکا کہ آیا کائنات لامحدود ہے یا نہیں۔ بہت سے ایسے مفروضے بھی موجود ہیں جن کے مطابق شاید ہماری کائنات ان کثیر کائناتوں میں محض ایک مثال ہے؛ تاہم ابھی تک متعدد کائناتوں (multiverse) کے وجود کا کوئی مشاہدہ نہیں کیا جا سکا، کچھ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ مفروضہ نا قابل انکار ہے۔[10][11]

قابل مشاہدہ کائنات میں  ہمارے محل وقوع کا نقشہ۔
جز قطر نوٹس مآخذ
زمین 12,756.2کلومیٹر
(استوائی)
پیمائش کے لیے زمین کا ٹھوس حصّہ استعمال کیا گیا ہے؛ زمین کے کرۂ فضائی کی کوئی متفقہ آخری سرحد نہیں ہے۔
ارضی ہالہ، ایک بالائے بنفشی درخشاں ہائیڈروجن کے جوہروں کی پرت، 100,000 کلومیٹر پر موجود ہے۔۔
خلا کی خَلائیات کی سرحد کے طور پر بیان کردہ کرمان خط 100 کلومیٹر پر واقع ہے۔
[12][13][14][15]
چاند کا مدار 768,210 کلومیٹر زمین کی نسبت چاند کے مدار کا اوسط قطر۔ [16]
فضائے بسیط 6,363,000-;
12,663,000کلومیٹر
(110-210 زمینی رداس)
وہ خلا جہاں زمین کے مقناطیسی میدان اور شمسی ہواؤں سے بنائی گئی اس کی مقنا دم کا غلبہ ہے۔ [17]
زمینی مدار 29 کروڑ 92 لاکھ کلومیٹر
2فلکی اکائی
سورج کی نسبت زمین کے مدار کا اوسط قطر۔
سورج، عطارد اور زہرہ شامل ہے۔
[18]
اندرونی نظام شمسی ~6.54 فلکی اکائی سورج، اندرونی سیارے (عطارد، زہرہ، زمین اور مریخ) اور سیارچوں کی پٹی شامل ہے۔
حوالہ فاصلہ مشتری کے ساتھ 2:1 کی گمگ کے ساتھ ہے جو سیارچوں کی پٹی کی بیرونی حد کا تعین کرتا ہے۔
[19][20][21]
بیرونی نظام شمسی 60.14 فلکی اکائی بیرونی سیارے (مشتری، زحل، یورینس، نیپچون) شامل ہیں۔
یپچون کے مداری قطر کا حوالہ فاصلہ ہے۔
[22]
کائپر پٹی ~96 فلکی اکائی بیرونی نظام شمسی کے گرد موجود برفیلے اجسام کی پٹی۔ اس میں بونے سیارے پلوٹو، ہومیا اور میک میک شامل ہیں۔
حوالہ فاصلہ نیپچون کے ساتھ 2:1 کی گمگ کے ساتھ ہے جو عمومی طور پر اہم کائپر پٹی کی بیرونی حد سمجھی جاتی ہے۔
[23]
شمسی کرہ 160 فلکی اکائی شمسی ہوا کی زیادہ سے زیادہ حد اور بین السیاروی ذریعہ۔ [24][25]
منتشر قرص 195.3 فلکی اکائی کائپر پٹی کے گرد تھوڑے دور تک پھیلے ہوئے برفیلے اجسام کا علاقہ۔ اس میں بونا سیارہ ایرس شامل ہے۔
حوالہ فاصلہ ایرس کے اوج شمسی کو دو گنا کرکے حاصل کیا گیا ہے، پھیلی ہوئی قرص کا معلوم دور ترین جسم۔
اس وقت ایرس کا اوج شمسی منتشر قرص کا معلوم دور ترین نقطہ ہے۔
[26]
اورٹ بادل 100,000–200,000 فلکی اکائی
0.613–1.23 فرسخ [c]
ایک کھرب سے زائد دم دار ستاروں کا کروی خول۔ وجود فی الوقت مفروضاتی ہے تاہم اس کا قیاس لمبے عرصے والے دم دار تاروں کے مدار سے لگایا گیا ہے۔ [27]
نظام شمسی 1.23 فرسخ سورج اور اس کے سیاروں کو نظام۔ حوالہ قطر سورج کی کرہ کی چوٹی سے ہے؛ اس کے ثقلی اثرات والا حصّہ۔ [28]
مقامی بین النجمی بادل 9.2 فرسخ بین النجمی گیس کے بادل جس میں سے سورج اور دوسرے کئی ستارے محو سفر ہیں۔ [29]
مقامی بلبلہ 2.82–250 فرسخ بین النجمی وسیلے کے درمیان میں جوف جس میں سورج اور دوسرے کئی ستارے محو سفر ہیں۔

ماضی کے سپر نوا دھماکے کی وجہ سے ہونے والا اثر

[30][31]
گولڈ پٹی 1,000 فرسخ نوجوان ستاروں کا حلقہ جس میں میں سے سورج فی الوقت سفر کر رہا ہے۔ [32]
جوزا بازو 3000 فرسخ
(لمبائی)
ملکی وے کہکشاں کے مرغولے نما بازو جس میں فی الوقت سورج سفر کر رہا ہے۔ [33]
نظام شمسی کا مدار 17,200 فرسخ کہکشانی مرکز کی نسبت نظام شمسی کے مدار کا اوسط قطر۔

سورج کا مداری رداس لگ بھگ 8,600 پار سیک ہے یا کہکشانی مرکز سے نصف سے تھوڑا سے زیادہ۔

نظام شمسی کا ایک مداری عرصہ 22 کروڑ 25 لاکھ برس سے لے کر 25 کروڑ برس تک کا ہے۔

[34][35]
ملکی وے کہکشاں 30,000 فرسخ ہماری اپنی کہکشاں 2 ارب سے 4 ارب ستاروں پر مشتمل ہے اور ان کے درمیان میں بین النجمی وسیلہ بھی بھرا ہوا ہے۔ [36][37]
ملکی وے کا ذیلی گروہ 840,500 فرسخ ملکی وے کہکشاں اور وہ سیارچہ بونی کہکشائیں جو ثقلی طور پر اس سے بندھی ہوئی ہیں۔

مثال میں شامل ہیں بونا برج قوس، دب اصغر بونا اور کلب اکبر بونا۔

حوالہ جاتی فاصلہ اسد ٹی بونی کہکشاں کا مداری قطر کا ہے، جو ملکی وے کے ذیلی گروہ کی سب سے دور دراز کہکشاں ہے۔

[38]
مقامی گروہ 3 میگا فرسخ [c] کم از کم 47 کہکشاؤں کا گروہ ملکی وے جس کا حصّہ ہے۔

اینڈرومیڈا (سب سے بڑی) غالب، ملکی وے، مثللثی؛ باقی بونی کہکشائیں ہیں۔

[39]
مقامی چادر 7 میگا فرسخ کہکشاؤں کا گروہ بشمول مقامی گروہ نسبتاً اسی سمتی رفتار سے مقامی خلا سے دور سنبلہ جھرمٹ کی طرف حرکت کر رہا ہے۔ [40][41]
سنبلہ فوق جھرمٹ 30 میگا فرسخ وہ فوق جھرمٹ جس کا حصّہ ہمارا مقامی گروہ ہے۔

یہ لگ بھگ 100 کہکشاؤں کے گروہ اور جھرمٹوں میں مشتمل ہے، مرکز میں سنبلہ جھرمٹ ہے۔

ہمارا مقامی گروہ سنبلہ فوق جھرمٹ کے بیرونی کنارے پر واقع ہے۔

[42][43]
مقامی فوق جھرمٹ 160 میگا فرسخ ایک گروہ جو اس فوق جھرمٹ کے ساتھ ملا ہوا ہے جس کا ہمارا مقامی گروہ حصّہ ہے۔

مرکز میں عظیم کشش گر، مار آبی شہسوار فوق جھرمٹ اور 300 سے 500 کہکشانی گروہ اور جھرمٹ شامل ہیں۔

[44][45][46][47]
قابل مشاہدہ کائنات 28,000 میگا فرسخ 100 ارب سے زیادہ کہکشائیں جو دسیوں لاکھوں فوق جھرمٹوں میں، کہکشانی ریشوں اور خالی جگہوں میں ترتیب دی ہوئی ہیں، وہ ایک جھاگ کی طرح فوق ساخت بناتی ہیں۔ [48][49]
کائنات کم ازکم 28,000 میگا فرسخ قابل مشاہدہ کائنات کے پار ناقابل مشاہدہ کائنات کے علاقے موجود ہیں جہاں سے روشنی ابھی تک زمین تک نہیں پہنچی ہے۔

کوئی اطلاع موجود نہیں ہے کیونکہ روشنی اطلاع کی ترسیل کا سب سے تیز رفتار وسیلہ ہے۔

بہرحال تَسَلسَلیت کے حامی دلیل دیتے ہیں کہ کائنات میں مزید کہکشائیں اسی طرح کے جھاگ کی صورت کے فوق ساخت کی شکل میں ہوں گی۔

[50]
a Semi-major and semi-minor axes
b 1 AU or فلکیاتی اکائی is the distance between the Earth and the Sun, or 150 million km. Earth's orbital diameter is twice its orbital radius, or 2 AU.
c A parsec (pc) is the distance at which a star's parallax as viewed from Earth is equal to one second of arc، equal to roughly 206,000 AU or 3.0857×1013 km.
One پارسک (Mpc) is equivalent to one million پارسکs.

حوالہ جات  [ترمیم]

  1. Thomas S. Kuhn (1957)۔ The Copernican Revolution۔ Harvard University Press۔ صفحات 5–20۔ آئی ایس بی این 0-674-17103-9۔
  2. "1781: William Herschel Reveals the Shape of our Galaxy"۔ Carnegie Institution for Science۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مارچ 2014۔
  3. "The Spiral Nebulae and the Great Debate"۔ Eberly College of Science۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اپریل 2015۔
  4. "1929: Edwin Hubble Discovers the Universe is Expanding"۔ Carnegie Institution for Science۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اپریل 2015۔
  5. "1989: Margaret Geller and John Huchra Map the Universe"۔ Carnegie Institution for Science۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اپریل 2015۔
  6. John Carl Villanueva۔ "Structure of the Universe"۔ Universe Today۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اپریل 2015۔
  7. Robert P Kirshner (2002)۔ The Extravagant Universe: Exploding Stars, Dark Energy and the Accelerating Cosmos۔ مطبع جامعہ پرنسٹن۔ صفحہ 71۔ آئی ایس بی این 0-691-05862-8۔
  8. Klaus Mainzer and J Eisinger (2002)۔ The Little Book of Time۔ Springer۔ آئی ایس بی این 0-387-95288-8۔۔ P. 55.
  9. Andrew R. Liddle؛ David Hilary Lyth (13 اپریل 2000)۔ Cosmological inflation and large-scale structure۔ Cambridge University Press۔ صفحات 24–۔ آئی ایس بی این 978-0-521-57598-0۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 1 مئی 2011۔
  10. Clara Moskowitz۔ "5 Reasons We مئی Live in a Multiverse"۔ space.com۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 اپریل 2015۔
  11. Kragh، H. (2009). "Contemporary History of Cosmology and the Controversy over the Multiverse". Annals of Science 66 (4): 529. doi:10.1080/00033790903047725. 
  12. "Selected Astronomical Constants, 2011"۔ The Astronomical Almanac۔ مورخہ 26 اگست 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 فروری 2011۔
  13. World Geodetic System (WGS-84Available online from National Geospatial-Intelligence Agency Retrieved 27 اپریل 2015.
  14. "Exosphere — overview"۔ University Corporation for Atmospheric Research۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 اپریل 2015۔
  15. Dr. S. Sanz Fernández de Córdoba (2004-06-24)۔ "The 100 km Boundary for Astronautics"۔ Fédération Aéronautique Internationale۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-05-07۔
  16. NASA Moon Factsheet and NASA Solar System Exploration Moon Factsheet ناسا Retrieved on 17 نومبر 2008
  17. Hannu Koskinen (2010)، Physics of Space Storms: From the Surface of the Sun to the Earth، Environmental Sciences Series، Springer، آئی ایس بی این 3-642-00310-9
  18. NASA Earth factsheet and NASA Solar System Exploration Earth Factsheet ناسا Retrieved on 17 نومبر 2008
  19. Petit, J.-M.; Morbidelli, A.; Chambers, J. (2001). "The Primordial Excitation and Clearing of the Asteroid Belt" (PDF). Icarus 153 (2): 338–347. doi:10.1006/icar.2001.6702. Bibcode2001Icar.۔153.۔338P. http://www.gps.caltech.edu/classes/ge133/reading/asteroids.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 مارچ 2007. 
  20. Roig, F.، Nesvorný، D.، & Ferraz-Mello, S. (2002). "Asteroids in the 2 : 1 resonance with Jupiter: dynamics and size distribution". Monthly Notices of the Royal Astronomical Society 335 (2): 417–431. doi:10.1046/j.1365-8711.2002.05635.x. Bibcode2002MNRAS.335.۔417R. 
  21. M. Brož، D. Vokrouhlický، F. Roig, D. Nesvornýy, W. F. Bottke and A. Morbidelli (2005). "Yarkovsky origin of the unstable asteroids in the 2/1 mean motionresonance with Jupiter". Monthly Notices Royal Astronomical Society 359: 1437–1455. doi:10.1111/j.1365-2966.2005.08995.x. Bibcode2005MNRAS.359.1437B. 
  22. NASA Neptune factsheet and NASA Solar System Exploration Neptune Factsheet NASA Retrieved on 17 نومبر 2008
  23. M. C. De Sanctis, M. T. Capria, and A. Coradini (2001). "Thermal Evolution and Differentiation of Edgeworth–Kuiper Belt Objects". The Astronomical Journal 121 (5): 2792–2799. doi:10.1086/320385. Bibcode2001AJ.۔.۔121.2792D. http://www.iop.org/EJ/abstract/1538-3881/121/5/2792۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 اگست 2008. 
  24. NASA/JPL (2009)۔ "Cassini's Big Sky: The View from the Center of Our Solar System"۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2009۔
  25. Fahr, H. J.; Kausch, T.; Scherer, H.; Kausch; Scherer (2000). "A 5-fluid hydrodynamic approach to model the Solar System-interstellar medium interaction" (PDF). Astronomy & Astrophysics 357: 268. Bibcode2000A&A.۔.357.۔268F. http://aa.springer.de/papers/0357001/2300268.pdf.  See Figures 1 and 2.
  26. "JPL Small-Body Database Browser: 136199 Eris (2003 UB313)" (2008-10-04 last obs)۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جنوری 2009۔
  27. Alessandro Morbidelli (2005)۔ "Origin and dynamical evolution of comets and their reservoir"۔ arXiv:astro-ph/0512256 |class= ignored (معاونت)۔
  28. Mark Littmann (2004)۔ Planets Beyond: Discovering the Outer Solar System۔ Courier Dover Publications۔ صفحات 162–163۔ آئی ایس بی این 978-0-486-43602-9۔
  29. Mark Anderson, "Don't stop till you get to the Fluff"، New Scientist no. 2585, 6 جنوری 2007, pp. 26–30
  30. DM Seifr; Lallement; Crifo; Welsh (1999). "Mapping the Countours of the Local Bubble". Astronomy and Astrophysics 346: 785–797. Bibcode1999A&A.۔.346.۔785S. 
  31. Dr. Tony Phillips۔ "Evidence for Supernovas Near Earth"۔ NASA۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-04-30۔
  32. S. B. Popov, M. Colpi, M. E. Prokhorov, A. Treves and R. Turolla (2003). "Young isolated neutron stars from the Gould Belt". Astronomy and Astrophysics 406 (1): 111–117. doi:10.1051/0004-6361:20030680. Bibcode2003A&A.۔.406.۔111P. http://www.aanda.org/articles/aa/abs/2003/28/aah4133/aah4133.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 اکتوبر 2009. 
  33. Harold Spencer Jones, T. H. Huxley, Proceedings of the Royal Institution of Great Britain، Royal Institution of Great Britain, v. 38–39
  34. Eisenhauer، F.; Schoedel، R.; Genzel، R.; Ott، T.; Tecza، M.; Abuter، R.; Eckart، A.; Alexander، T. (2003). "A Geometric Determination of the Distance to the Galactic Center". Astrophysical Journal 597 (2): L121–L124. doi:10.1086/380188. Bibcode2003ApJ.۔.597L.121E. 
  35. Stacy Leong (2002)۔ "Period of the Sun's Orbit around the Galaxy (Cosmic Year)"۔ The Physics Factbook۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  36. Eric Christian؛ Safi-Harb Samar۔ "How large is the Milky Way?"۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 نومبر 2007۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  37. Frommert, H.; Kronberg, C. (25 اگست 2005)۔ "The Milky Way Galaxy"۔ SEDS۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 9 مئی 2007۔
  38. Irwin، V.; Belokurov, V.; Evans, N. W. (2007). "Discovery of an Unusual Dwarf Galaxy in the Outskirts of the Milky Way". The Astrophysical Journal 656 (1): L13–L16. doi:10.1086/512183. Bibcode2007ApJ.۔.656L.۔13I. 
  39. "The Local Group of Galaxies"۔ University of Arizona۔ Students for the Exploration and Development of Space۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2 اکتوبر 2009۔
  40. Tully، R. Brent; Shaya، Edward J.; Karachentsev، Igor D.; Courtois، Hélène M.; Kocevski، Dale D.; Rizzi، Luca; Peel، Alan (مارچ 2008). "Our Peculiar Motion Away from the Local Void". The Astrophysical Journal 676 (1): 184–205. doi:10.1086/527428. Bibcode2008ApJ.۔.676.۔184T. 
  41. R. Brent Tully (مئی 2008)، "The Local Void is Really Empty"، Dark Galaxies and Lost Baryons, Proceedings of the International Astronomical Union, IAU Symposium، صفحات 146–151، arXiv:0708.0864، Bibcode:2008IAUS.۔244.۔146T Check |bibcode= length (معاونت)، ڈی او آئی:10.1017/S1743921307013932
  42. R. Brent Tully (1982). "The Local Supercluster". The Astrophysical Journal 257: 389–422. doi:10.1086/159999. Bibcode1982ApJ.۔.257.۔389T. http://articles.adsabs.harvard.edu/cgi-bin/nph-iarticle_query?1982ApJ.۔.257.۔389T&data_type=PDF_HIGH&whole_paper=YES&type=PRINTER&filetype=۔pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 اپریل 2015. 
  43. "Galaxies, Clusters, and Superclusters"۔ NOVA Online۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 27 اپریل 2015۔
  44. "Newly identified galactic supercluster is home to the Milky Way"۔ National Radio Astronomy Observatory۔ ScienceDaily۔ 3 ستمبر 2014۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  45. Irene Klotz (3 ستمبر 2014)۔ "New map shows Milky Way lives in Laniakea galaxy complex"۔ Reuters۔ ScienceDaily۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  46. Elizabeth Gibney (3 ستمبر 2014)۔ "Earth's new address: 'Solar System, Milky Way, Laniakea'"۔ Nature۔ ڈی او آئی:10.1038/nature.2014.15819۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  47. Camille M. Carlisle (3 ستمبر 2014)۔ "Laniakea: Our Home Supercluster"۔ Sky and Telescope۔
  48. Glen Mackie (1 فروری 2002)۔ "To see the Universe in a Grain of Taranaki Sand"۔ Swinburne University۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2006۔
  49. Charles Lineweaver؛ Tamara M. Davis (2005)۔ "Misconceptions about the Big Bang"۔ Scientific American۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 نومبر 2008۔
  50. Margalef-Bentabol، Berta; Margalef-Bentabol, Juan; Cepa, Jordi (8 فروری 2013). "Evolution of the cosmological horizons in a universe with countably infinitely many state equations". Journal of Cosmology and Astroparticle Physics. 015 2013 (02): 015. doi:10.1088/1475-7516/2013/02/015. Bibcode2013JCAP.۔.02.۔015M. http://iopscience.iop.org/1475-7516/2013/02/015.