جادہ شیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
جادہ شیر کہکشاں
ESO-VLT-Laser-phot-33a-07.jpg
The Milky Way's Galactic Center in the
night sky above Paranal Observatory
(the laser creates a guide-star for the telescope).
Observation data
Type Sb, Sbc, or SB(rs)bc[1][2] (barred spiral galaxy)
Diameter 100–180 kly (31–55 kpc)[3]
Thickness of thin stellar disk ≈2 kly (0.6 kpc)[4][5]
Number of stars 200–400 billion (3×1011 ±1×1011)[6][7][8]
Oldest known star ≥13.7 Gyr[9]
Mass 0.8–1.5 × 1012 سانچہ:Solar mass[10][11][12]
Angular momentum 1×1067 J s[13]
Sun's distance to Galactic Center 27.2 ± 1.1 kly (8.34 ± 0.34 kpc)[14]
Sun's Galactic rotation period 240 Myr[15]
Spiral pattern rotation period 220–360 Myr[16]
Bar pattern rotation period 100–120 Myr[16]
Speed relative to CMB rest frame 552 ± 6 km/s[17]
Escape velocity at Sun's position 550 km/s[12]
Dark matter density at Sun's position 0.0088سانچہ:Sup sub سانچہ:Solar masspc-3 or 0.35سانچہ:Sup sub GeV cm-3[12]
See also: کہکشاں, List of galaxies

جادۂ شِیر (انگریزی: Milky Way) اس کہکشاں کا نام ہے جس میں ہماری زمین، سورج اور نظام شمسی واقع ہیں۔ اس کا قدیم نام جو عربی میں رائج رہا اور سولہویں صدی عیسوی تک یورپ میں بھی رائج تھا درب التبانہ تھا۔ اسے اپنی مذہبی زبان لاطینی سے لفظ بہ لفظ ترجمہ کر کے Milky Way رکھا گیا جس سے اردو اور فارسی میں ترجمہ کیا گیا۔ یہ کائنات میں واقع اربوں کہکشاؤں میں سے ایک ہے۔ دوسری کہکشاؤں کی طرح جادۂ شیر میں بھی اربوں ستارے ہیں۔

اس کو دوودھیا کہکشاں بھی کہ سکتے ہیں.

یہ کہکشاں چار چکردار بازوں پر مشتمل ہے۔ اس کہکشاں کا پھیلاؤ یا قٍطر تقریباً ایک لاکھ نوری سال ہے، جبکہ موٹایَ ایک ہزّار نوری سال ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہمارے کہکشاں میں 200 سے 400 ارب ستارے ہیں۔

کہکشاں کے ستارے کہکشاں کے مرکز کے گرد گومتے ہیں ۔ ہمارا سورج 220 کلومیٹر فی سیکنڈ کے رفتار سے ایک چکر 24 کروڑ سال میں پورا کرتا ہے۔

مظاہرہ[ترمیم]

A view of the Milky Way toward the constellation Sagittarius (including the Galactic Center) as seen from an area not polluted by light (the Black Rock Desert, Nevada)

جادہ شیر کو ایک سفید پٹی کی شکل میں آسمان پر 30 ڈگری زاویہ پر دیکھا جاسکتا ہے۔[18] ہماری آنکھوں کو آسمان پر جتنے بھی ستارے نظر آتے ہیں، یہ سبھی اسی جادہ شیر کہکشاں کا حصہ ہیں، [19] یہ نور یا روشنی کی پٹی، گیلاکٹک پیلن کے رخ میں موجود ستارے اور دوسرے فلکیاتی اجسام سے نکلنے والی روشنی ہے۔ اس پٹی میں موجود اندھیرے طبقے یا علاقے، مثلاً گریٹ رفٹ اور کولسیک، ایسے طبقے یا علاقہ جات ہیں، جہاں کی باہمی ستاری دھول (انٹرسٹیلار ڈسٹ) اس روشنی کو روک لیتی ہے، جس کی وجہ سے اندھیرا علاقہ نظر آتا ہے۔ ایسے ہی علاقوں کو جو روشنی کو روک لیتے ہیں اور اندھیرا خطہ پیدا کرتے ہیں "زون آف اوائی ڈینس" کہتے ہیں۔ جادہ شیر کی چمک بنسبت سطحی روشنی کے کم ہوتی ہے۔ اس مدھم روشنی کی وجہ، اس کے پس منظر کی روشنی اور نوری آلودگی یا پھر چاند سے دمک کی وجہ سے نکلنے والی روشنی ہے۔ اس جادہ شیر کو نگاہوں سے دیکھنے کے لیے 20.2 میگنیٹیوڈ ہر مربع آرک سکنڈ اندھیرا ہونا چاہئے۔ [20] یہ تب ہی نظر آستا ہے جب لمٹنگ میگنی ٹیوڈ تقریباً +5.1 یا پھر +6.1 ہو۔[21] شہروں میں اور نیم شہروں میں جلنے والی لائٹس کی روشنی میں اس کا دیکھنا ناممکن کے برابر ہے۔ جب کہ دیہاتوں اور گاؤں قصبوں میں جہاں روشنی کم ہوا کرتی ہے، یہاں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ جب چاند اپنی بالائی سے اندر رہتا ہے تب بھی اس جادہ شیر کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ [nb 1]

پیرال ابزرویٹری چلی سے لی گئی تصویر۔ جس میں جادہ شیر ایک کمانی شکل میں نظر آتا ہے۔ جسے فِش آئی لینس یعی مچھلی کی آنکھ نما عدسے والے ٹیلی سکوپ سی لی گئی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام ssr100_1_129 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  2. ^ Frommert، Hartmut; Kronberg، Christine (August 26, 2005). "Classification of the Milky Way Galaxy". SEDS. http://messier.seds.org/more/mw_type.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 2015-05-30.
  3. ^ Hall، Shannon (2015-05-04). "Size of the Milky Way Upgraded, Solving Galaxy Puzzle". Space.com. http://www.space.com/29270-milky-way-size-larger-than-thought.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 2015-06-09.
  4. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام ask-astro کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  5. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Rix_Bovy کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  6. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام nasa20071129 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  7. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام ut20081216 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  8. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام odenwald کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  9. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام HD_140283_.28arXiv.29 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  10. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام McMillan2011 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  11. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Kafle2012 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  12. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام Kafle2014 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  13. ^ Karachentsev، Igor. "Double Galaxies §7.1". Izdatel'stvo Nauka. https://ned.ipac.caltech.edu/level5/Sept02/Keel/Keel7.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 April 2015.
  14. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام apj692_2_1075 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  15. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام sparke_gallagher کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  16. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام rotation_pattern_speeds کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  17. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام dipole کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  18. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام pasachoff1994 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا
  19. ^ Rey، H. A. (1976). The Stars. Houghton Mifflin Harcourt. pp. 145. ISBN 0395248302.
  20. ^ Crumey، Andrew (2014). "Human contrast threshold and astronomical visibility". Monthly Notices of the Royal Astronomical Society 442: 2600–2619. doi:10.1093/mnras/stu992.
  21. ^ خطا در حوالہ: غلط <ref> ٹیگ؛ حوالہ بنام steinicke_sakiel2007 کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا

مزید مطالعہ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]


خطا در حوالہ: <ref> tags exist for a group named "nb", but no corresponding <references group="nb"/> tag was found, or a closing </ref> is missing