ایڈون ہبل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ایڈون پاؤل ہبل (٢٠ نومبر ١٨٨٩ء تا ٢٨ ستمبر ١٩٥٣ء) [1] ایک امریکی فلکیات دان تھے  جنہوں نے  ماورائے کہکشانی فلکیات  کے میدان میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے، ان کو عام طور پر بیسویں صدی کا سب سے زیادہ قابل  احترم کونیاتی شاہد گردانا جاتا ہے۔ ہبل  نے اس بات کا مظاہرہ کیا کہ کہکشاؤں کی مراجعتی  سمتی رفتار  زمین کے فاصلے  کے بڑھنے کے ساتھ بڑھتی ہے یعنی اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے،[2] اس کو  "ہبل کا قانون" کہتے ہیں، ہرچند کہ یہ نسبت ان سے پہلے جارج لیمیترے نے دریافت کرلی تھی تاہم اس نے اپنے اس کام کو ایک غیر معروف جریدے میں شایع کروایا تھا جس کی وجہ سے اس کو وہ توجہ نہ مل سکی۔

ایڈون ہبل اس لیے بھی جانا جاتا ہے کہ اس نے ان اجسام کے لیے کافی ثبوت شواہد مہیا کیے تھے جن کو  پہلے سحابیہ  کہتے تھے اور جو اصل میں ملکی وے کہکشاں سے دور کی کہکشائیں تھیں۔[3] امریکی فلکیات دان ویسٹو  سلیفر  نے ایک دہائی پہلے ہی یہ ثبوت مہیا کردیے تھے تاہم ان کو اتنی شہرت نہ مل سکی تھی۔[4][5]

سوانح حیات [ترمیم]

ایڈون ہبل کی والدہ ورجن لی جیمز (١٨٦٤ء تا ١٩٣٤ء) [6] جبکہ والد جان پاؤل ہبل، ایک  بیمہ کار عامل تھے جو مسوری میں واقع مارشفیلڈ میں رہتے تھے وہ ١٩٠٠ء [7] میں ایلی نوائے میں واقع وہیٹون میں منتقل ہوئے۔ ہبل اپنے عہد شباب میں اپنی ذہانت کی بجائے چستی کی وجہ سے مشہور تھے، ہر چند کہ انہوں نے سوائے املا کے  تمام مضامین میں اچھے نمبر حاصل کیے تھے۔ ایڈون خدا داد صلاحیتوں کے حامل بیس بال، فٹ بال، باسکٹ بال کے کھلاڑی تھے وہ اسکول و کالج دونوں جگہوں پر دوڑ میں حصّہ لیتے تھے۔[8] وہ باسکٹ بال کے کھیل میں کورٹ میں مختلف مقام سے حصّہ لیتے تھے۔ اصل میں تو ہبل نے یونیورسٹی آف شکاگو کی باسکٹ بال کی ٹیم کی قیادت ١٩٠٧ء میں ہونے والی پہلی کانفرنس ٹائٹل میں کی۔ اس نے اسکول میں ہونے والی دوڑ میں سات مرتبہ پہلا مقام حاصل کیا۔       

یونیورسٹی آف شکاگو میں اس کی تعلیم کے اہم مضامین ریاضی اور فلکیات تھے  یہاں پر اس نے ١٩١٠ء میں سند فضیلت حاصل کی۔ ہبل کاپا سگما اخوت  کا بھی رکن رہا۔ اس نے سند فضیلت حاصل کرنے کے بعد تین برس کوئنز کالج، آکسفورڈ  میں بطور رہوڈز متعلم بھی گزارے  جہاں شروع میں اس نے سائنس کی بجائے علم قانون (اپنے بستر مرگ پر پڑے ہوئے والد کی خواہش پر) پڑھا بعد میں اس نے ادب اور ہسپانوی زبان[9] کو بھی شامل کرکے اپنی ماسٹر کی سند حاصل کی۔[10]

١٩٠٩ء میں ہبل کے والد اپنے خاندان کے ساتھ شکاگو سے  شیلبیویل، کینٹکی  میں منتقل ہو گئے اس طرح سے خاندان ایک چھوٹے سے قصبے میں رہنے لگا  اور بالاخر قریبی لوئسویل  میں منتقل ہو گیا۔ اس کے والد کا انتقال ١٩١٣ء کے موسم سرما میں ہوا اس وقت ایڈون انگلستان میں ہی موجود تھا 1913ء کے موسم گرما میں ایڈون اپنی والدہ، دو بہنوں اور چھوٹے بھائی  کی دیکھ بھال کرنے کے لیے اپنے بھائی ولیم کی طرح واپس پلٹا۔ خاندان ایک مرتبہ پھر لوئسویل کی ہائی لینڈ میں واقع ایویرٹ ایونیو میں منتقل ہوا تاکہ ایڈون اور ولیم کے لیے کچھ آسانی پیدا ہو۔[11] 

ہبل ایک ذمہ دار بیٹا تھا، جس نے عہد طفلی سے  فلکیات  سے  زبردست دلچسپی رکھنے کے باوجود اپنے والد کی خواہش پر سر تسلیم خم کیا اور قانون کو پہلے یونیورسٹی آف شکاگو میں اور بعد میں آکسفورڈ میں پڑھااگرچہ اس دوران اس نے کسی نہ کسی طرح ریاضی اور سائنس کے مضامین کو بھی شامل کر لیا تھا۔ ١٩١٣ء میں اپنے والد کی موت کے بعد ایڈون آکسفورڈ سے مڈویسٹ واپس آیا تاہم اس کا قانون کو بطور پیشہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ لہٰذا اس نے ایک برس تک ہسپانوی، طبیعیات اور ریاضی کو نیو البانے انڈیانا میں واقع نیو البانے ہائی اسکول میں پڑھانا شروع کر دیا، جس کے بعد اس نے ٢٥ برس کی عمر میں اپنا پیشہ بطور پیشہ وار فلکیات دان کے شروع کیا۔  

وہ وہاں پر باسکٹ بال کے ٹیم کے لڑکوں کی تربیت بھی کرتا تھا۔ ہائی اسکول میں ایک برس پڑھانے کے بعد وہ ایک کالج میں اپنے یونیورسٹی آف شکاگو کے ایک سابقہ پروفیسر کی مدد سے داخل ہو گیا  تاکہ وہ یونیورسٹی کی یارکیس  رصدگاہ میں فلکیات کی تعلیم حاصل کرسکے۔ یہاں پر اس نے ١٩١٧ء میں  اپنی  پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ اس کے تحریری مقالے کا عنوان  مدھم سحابیوں کی عکاسانہ تفتیش تھا۔  

١٩١٧ء میں جب ریاست ہائے متحدہ نے جرمنی کے خلاف  اعلان جنگ کر دیا، تو ہبل نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے کو جلدی مکمل کیا تاکہ وہ فوج  میں شامل ہو سکے۔ ہبل نے ریاست ہائے متحدہ کی فوج میں رضاکارانہ شامل ہونے کی رضا مندی دی اور نئی  بنی ہوئی چھیاسویں  ڈویژن میں شامل ہو گیا۔ اس کو میجر کا عہدہ دیا گیا اور 9 جولائی ١٩١٨ء کو اس کو ملک سے باہر تعنیات کرنے کے لیے موزوں قرار دے دیا گیا، تاہم چھیاسویں ڈویژن نے کبھی جنگ کا سامنا نہیں کیا۔ جنگ عظیم اوّل کے خاتمے کے بعد ہبل نے ایک برس کیمبرج میں گزارا جہاں اس نے فلکیات سے متعلق اپنی پڑھائی کو تازہ کیا۔[12] ١٩١٩ء میں ہبل کو کیلی فورنیا میں واقع پاساڈینا میں موجود کارنیگی انسٹیٹیوشن کی ماؤنٹ ولسن رصدگاہ میں ملازمت کی پیش کش ہوئی۔ یہ پیش کش جارج ایلیری ہیل نے کی جو اس رصدگاہ کے ڈائریکٹر اور بانی تھے۔ ہبل اس ملازمت پر ١٩٥٣ء تک اپنی موت کے وقت تک قائم رہا، ہبل وہ پہلا فلکیات دان تھا جس نے نئی مکمل ہونے والی  ٢٠٠ انچ کی  دیوہیکل انعکاسی ہیل دوربین کا استعمال کیا جو کیلی فورنیا میں واقع سان ڈیاگو کے قریب ماؤنٹ پالومار رصدگاہ میں نصب تھی۔  

ہبل نے یو ایس فوج میں جنگ عظیم دوم کے دوران ایبرڈین پروونگ گراؤنڈ میں بھی خدمات انجام دیں۔ اپنی ان خدمات کے عیوض  اس نے لیجیون آف میرٹ کا تمغا بھی حاصل کیا۔

ہرچند کہ ہبل کی پرورش بطور مسیحی  ہوئی تھی تاہم بعد میں وہ  لا ادری ہو گیا تھا۔[13][14]

١٩٤٩ء میں ہبل کو دل کا دورہ اس وقت پڑا جب وہ کولوراڈو میں چھٹیاں گزار رہا تھا۔ اس دوران  اس کی تیمار داری اس کی بیوی گریس ہبل نے کی۔ اس کو  تبدیل شدہ  غذا اور کام کے اوقات پر عمل کرنا پڑا۔ اس کی موت  دماغی رگوں میں فوراً خون کے جمنے کی وجہ سے ٢٨ ستمبر ١٩٥٣ء میں کیلی فورنیا میں واقع سان مارینو میں ہوئی۔ اس کی کوئی تدفین نہیں ہوئی نہ ہی اس کی بیوی نے اس کی قبر کے نشان کے بارے میں کسی کو کبھی بتایا۔  [15][16][17]

دریافتیں [ترمیم]

کائنات ملکی وے سے بھی کہیں دور تک آگے  [ترمیم]

ماؤنٹ ولسن رصدگاہ میں موجود ١٠٠ انچ والی ہوکر دوربین  جس کا استعمال کرتے ہوئے ہبل نے کہکشانی فاصلوں اور کائنات کے پھیلاؤ کی شرح کو ناپا تھا۔  

١٩١٩ء میں ایڈون ہبل  کی کیلی فورنیا میں واقع ماؤنٹ ولسن رصدگاہ میں آمد  اور ١٠٠ انچ والی ہوکر دوربین کی تکمیل لگ بھگ ایک ساتھ ہی ہوئی  جو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی دوربین تھی۔ اس وقت کائنات کے بارے میں مروج تصّور  یہ تھا کہ کائنات  صرف ملکی وے کہکشاں پر ہی مشتمل ہے۔ ماؤنٹ ولسن میں موجود ہوکر دوربین کا استعمال کرتے ہوئے ہبل نے کافی مرغولہ نما سحابیوں بشمول اینڈرومیڈا سحابیہ اور مثلث مجمع النجوم میں موجود  قیقاوسی متغیرات  (ستارے کی ایک قسم جس کو استعمال کرتے ہوئے کہکشاں کا فاصلہ ناپا جاتا ہے [18][19]-  مزید تفصیلات کے لیے معیاری شمع کو دیکھیں)کی شناخت کی۔ اس کے ١٩٢٢ءتا ١٩٢٣ء کے مشاہدات نے حتمی طور پر ثابت کیا کہ یہ سحابیہ اصل میں اس قدر دور ہیں کہ یہ ملکی وے کہکشاں کا حصّہ نہیں ہوسکتے، بلکہ اصل میں یہ تو ہماری کہکشاں سے باہر مکمل کہکشائیں ہیں۔ اس تصّور کی  فلکیات کی دنیا میں کئی لوگوں  نے مخالفت کی بطور خاص ہارورڈ یونیورسٹی  کے ہارلو شیپلی نے۔ مخالفت کے باوجود، اس وقت کے ٣٥ سالہ ہبل نے  ٢٣ نومبر ١٩٢٤ء کو پہلی مرتبہ اپنے مشاہدات نیو یارک ٹائمز میں شایع کیں، [20] اور بعد میں مزید بہتر طور پر ایک مقالے کا حصّہ بنا کر پہلی جنوری ١٩٢٥ء کو ایک امریکن ایسٹرونومیکل  سوسائٹی کے اجلاس میں پیش کیا۔[21]

ہبل کا درجہ بندی کا نظام 

ہبل کی دریافت نے کائنات کا سائنسی  نقطہ نظر تبدیل کر دیا۔ ہبل کی پھیلتی ہوئی کائنات کے نظرئیے کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ  کہکشاں کے باہر سحابیہ کی ہبل کی دریافت نے مستقبل کے فلکیات دانوں کے لیے راہ ہموار کی۔[22] ہرچند کہ اس کے کچھ جانے پہچانے رفقائے کاروں نے ہبل کی پھیلتی ہوئی کائنات کے تصّور کا تمسخر اڑایا تاہم ان کی پروا کیے بغیر ہبل نے اپنی سحابیہ سے متعلق کھوج کو شایع کر دیا۔ ہبل کے اس شایع شدہ کام کی وجہ سے اس کو  امریکن ایسوسی ایشن پرائز  کا ایوارڈ اور  برٹن ای لیونگسٹن  کی کمیٹی کی طرف سے مبلغ پانچ سو ڈالر کا انعام ملا۔

ہبل نے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے کہکشاؤں کی درجہ بندی کے نظام کو بھی تشکیل دیا اور ان کو تصاویری خاکوں کی مدد سے ظاہری صورت کی بنیاد پر درجہ بند کیا۔ اس نے کہکشاؤں کے مختلف گروہ کو ترتیب دیا جس کو اب ہم ہبل سلسلے کے نام سے جانتے ہیں۔[23]

سرخ منتقلی فاصلے کے ساتھ بڑھتی ہے [ترمیم]

١٩٢٩ء میں ہبل نے فاصلے اور کہکشاؤں  کی سرخ منتقلی کے درمیان نسبت کی جانچ کی جس میں اس نے اپنی کہکشاؤں کے فاصلوں کی پیمائش کو شامل کیا جس کی بنیاد ہنریٹا سوان لیویٹ کا وقتی ضوفشانی کا تعلق برائے قیقاوسی ہے جس کے ساتھ ساتھی فلکیات دانوں ویسٹو سلیفر اور ملٹن ایل ہیومیسن کا پہلے سے موجود ناپا ہوا مواد بھی تھا۔ اس نے ان اجسام کے فاصلوں اور ان کی سرخ منتقلی کے درمیان قریبی نسبتی تعلق تلاش کر لیا تھا جس کو اب ہم ہبل کا قانون کہتے ہیں۔ سرخ منتقلی کی وجہ اس وقت تک غیر واضح تھی۔ یہ بلغاریہ  کا کیتھولک راہب اور طبیعیات دان  جارج لیمیترے تھا جس نے دریافت کیا کہ ہبل کا مشاہدہ فرائیڈ مین کے آئن سٹائن کی عمومی اضافیت کو بنیاد بنا کر پھیلتی ہوئی کائنات کے  نمونے کو سہارا دیتا ہے، جس کو اب ہم بگ بینگ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دو کہکشاؤں کے درمیان جتنا لمبا فاصلہ ہوگا ان کی ایک دوسرے سے دور بھاگنے کی رفتار میں بھی اسی نسبت سے اضافہ ہوگا۔ اگر اس طرح سے اس کی تشریح کی جائے، تو ہبل کی ٤٦ کہکشاؤں کی ناپی ہوئی قدر ہبل کا مستقل دیتی ہے جس کی رفتار ٥٠٠ کلومیٹر فی ایم پی سی ہے، یہ قدر آج کی مانی ہوئی قدر سے کہیں زیادہ ہے جس کی وجہ فاصلوں کی نپائی میں ہونے والی غلطی تھی۔  

ہبل کو خود بھی لیمیترے کی تشریح پر کچھ خاص یقین نہیں تھا۔ ١٩٣١ء میں اس نے ایک ولندیزی ماہر تکونیات ولیم ڈی سٹر  کو ایک خط لکھا  جس میں اس نے اپنا نقطہ نظر سرخ منتلقی کی نسبت سے تعلق نظری تشریح پر بیان کیا تھا:[24]

میں اور جناب ہمیسن آپ کے سحابیوں کے سمتی رفتار اور فاصلے والے مقالے سے متعلق دل کی گہرائیوں سے داد دیتے ہیں۔ ہم نے 'بظاہر' سمتی رفتار کی اصطلاح استعمال کی تھی تاکہ ارتباط کی تجرباتی خصلت پر زور دے سکیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی توجیہ آپ پر اور ان چند لوگوں پر چھوڑ دینی چاہیے جو اس مضمون پر اختیار سے بات کرنے کے مجاز ہیں۔

آج نظر آنے والی   بظاہر سمتی رفتار کو جانا جاچکا ہے کہ یہ خلاء کے پھیلاؤ کی وجہ سے مناسب فاصلے میں بڑھتی ہیں۔ روشنی پھیلی ہوئی خلاء میں سے گزر کر سفر کرتی ہے جس کے دوران اس کو ہبل کی سرخ منتقلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ ایک ایسا نظام ہے جو ڈوپلر کے اثر سے الگ ہوتا ہے (ہرچند کہ دونوں نظام قریبی کہکشاؤں کے لیے ہم رتبہ تبدیلی کے برابر ہیں۔ )  

١٩٣٠ء میں ہبل کہکشاؤں کی تقسیم اور مکانی خم کے تعین میں شامل ہوا۔ اس سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ شاید کائنات چپٹی اور متجانس ہے، تاہم  چپٹے پن سے بڑے پیمانے پر ہونے والی سرخ منتقلی  انحراف کرتی ہے۔ ایلن سینڈیج  کے مطابق:

ہبل کو یقین ہے کہ اس کے اعداد و شمار مکانی خم کے بارے میں زیادہ معقول نتائج دیتے ہیں بشرطیکہ سرخ منتقلی کو مراجعتی قیاس کئے بغیر درست کیا جائے۔ اپنے لکھے گئے خط کے آخر تک وہ اسی بات پر قائم رہا اور اس کا جھکاؤ اس نمونے کی طرف تھا جہاں کسی پھیلاؤ کا وجود نہیں ہے، لہٰذا سرخ منتقلی " اب تک غیر شناخت یافتہ قانون قدرت کو ظاہر کرتی ہے۔"

[25]

ہبل کی سروے کی  تیکنیک  میں مسائل موجود تھے جس کی وجہ سے بڑی سرخ منتقلیوں  میں چپٹے پن سے انحراف  ملتا ہے۔ بطور خاص تیکنیک  کہکشانی ارتقا سے ہونے والی ضو فشانی تبدیلی کو مد نظر نہیں رکھتی۔ اس سے پہلے 1917ء میں البرٹ آئن سٹائن نے یہ معلوم کیا کہ اس کا نیا بنایا ہوا عمومی نظریہ اضافیت بتاتا ہے کہ کائنات کو لازمی طور پر یا تو پھیلنا چاہیے یا پھر سکڑنا۔  اپنی مساوات  کے ان  نتائج پر اسے یقین نہیں آیا، لہٰذا آئنسٹائن  نے ایک کائناتی مستقل(پیوند) اپنی مساوات میں متعارف کروایا  تاکہ اس مسئلے سے نمٹا جاسکے۔ جب آئنسٹائن نے ہبل کی سرخ منتقلی کے بارے میں جانا تو اس کو فوراً اس بات کا احساس ہو گیا کہ عمومی اضافیت کے پیش کردہ کائناتی پھیلاؤ لازمی طور پر اصلی ہوگا اور اپنی باقی ماندہ  زندگی وہ اپنی اس مساوات کی تبدیلی کو زندگی کی بھیانک غلطی کہتا رہا۔ اصل میں آئنسٹائن نے ایک مرتبہ ہبل سے ملاقات کی تھی اور اس کو قائل کرنے کی کوشش بھی کی تھی کہ کائنات پھیل رہی ہے۔[26] ہبل نے ٣٠ اگست ١٩٣٥ء میں  سیارچہ ١٣٧٣  سنسناتی  کو بھی دریافت کیا۔  اس دوران اس نے کونیات کے لیے  مشاہداتی رسائی  اور  سحابیوں کے دور کو بھی لکھا۔

نوبیل انعام کا نہ ملنا [ترمیم]

اس وقت طبیعیات میں ملنے والا نوبیل انعام فلکیات میں ہونے والی کام کو  تسلیم نہیں کرتا تھا۔ ہبل نے اپنے پیشے کے بعد کے عرصے کا زیادہ تر حصّہ  اس بات میں صرف کیا کہ فلکیات کو بجائے ایک الگ سائنس کے طبیعیات کا حصّہ ہی مانا جائے۔ اس نے یہ کام اس لیے کیا تاکہ فلکیات دانوں   - بشمول اس  کے خود - کے  فلکیاتی طبیعیات  میں قابل قدر کام کو نوبیل پرائز کمیٹی تسلیم کرلے۔ اس کی یہ  مہم اس کی زندگی میں ہی ناکام  ہو گئی تھی، تاہم اس کی موت کے کچھ عرصے بعد نوبیل پرائز کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ فلکیاتی کام بھی طبیعیات کے زمرہ میں نوبیل انعام کا حقدار ہوگا۔ تاہم اس انعام  کو ماضی میں کیے جانے والے کام پر نہیں دیا جائے گا۔

ڈاک ٹکٹ [ترمیم]

٦ مارچ ٢٠٠٨ء میں ریاست متحدہ امریکا کی پوسٹل سروس نے ٤١ سینٹ کا ٹکٹ ہبل کی خدمات کے اعتراف میں بعنوان  "امریکی سائنس دانوں " کے ایک  شیٹ پر جاری کیا جس کو فنکار وکٹر اسٹابن  نے بنایا تھا۔ اس پر یہ درج ہے :

"دور دراز ستاروں کا رہنما" کہلانے والے فلکیات دان ایڈون ہبل (١٨٨٩ء تا 1953ء) ایڈون ہبل نے کائنات کی وسیع اور پیچیدہ نوعیت کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ عرق ریزی سے کی گئی اس کی مرغولہ نما سحابیہ کی تحقیق نے ہماری ملکی وے کہکشاں کے علاوہ دیگر کہکشاؤں کے وجود کو ثابت کیا۔ اگر ہبل کی ١٩٥٣ء میں اچانک موت واقع نہیں ہوتی تو وہ طبیعیات کا نوبیل انعام وصول کر لیتا۔

اعزازت [ترمیم]

تمغے 

  • ١٩٢٤ء میں نیو کومب کلیولینڈ پرائز؛ 
  • ١٩٣٨ء میں بروس میڈل ؛
  • ١٩٣٩ء میں فرینکلن میڈل ؛
  • ١٩٤٠ء میں گولڈ مڈل آف رائل ایسٹرونومیکل سوسائٹی؛
  • ١٩٤٦ء میں بیلسٹکس تحقیق میں کی جانے والی مدد کے نتیجے میں لیجیون آف میرٹ 

خدمات کے اعتراف میں نام پر نام رکھنا

  • سیارچہ ٢٦٩ ہبل؛
  • چاند پر موجود ہبل شہاب ثاقب گڑھا ؛
  • مدار میں موجود ہبل خلائی دوربین؛
  • نیو یارک میں واقع بروکلین کے ایڈورڈ آر مرروو ہائی اسکول میں موجود ایڈون پی ہبل افلاک نما؛
  • ایڈون ہبل ہائی وے ؛
  • ہبل کی جائے پیدائش مسوری کے شہر مارشفیلڈ کا سالانہ دیا جانے والا ایڈون پی ہبل میڈل آف انیشیٹو ؛
  • ایلی نوائے کے شہر ویٹن میں واقع ہبل مڈل اسکول کا نام ہبل کے لیے اس وقت بدلا جب ویٹن سینٹرل اسکول ١٩٩٢ء میں مڈل اسکول سے ہائی اسکول میں تبدیل ہوا۔

دیگر قابل ذکر اعزازات

  • مسوری کی مشہور شخصیات ٢٠٠٣ء؛
  • ٢٠٠٨ء کی "امریکی سائنس دانوں " کے ڈاک ٹکٹ کا سلسلہ، 0.4$

حالیہ ثقافت[ترمیم]

کھیل "تخلیق کی سال گرہ"، جس کو کورنیل سے تعلق رکھنے والے طبیعیات دان حسن پدامسی نے لکھا تھا اس میں ہبل کی زندگی کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔[27] ہبل کا مشہور قول کچھ یوں شامل ہے : "پانچ حسوں کے ساتھ انسان اپنے گرد کی کائنات کو کھوج کر اس کو مہم جوئی کی سائنس کہہ سکتا ہے۔ "[28]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Biography of Edwin Hubble (1889–1953)". NASA. Retrieved June 21, 2011.
  2. Hubble, Edwin (1929). "A relation between distance and radial velocity among extra-galactic nebulae". PNAS 15 (3): 168–173. Bibcode:1929PNAS...15..168H. doi:10.1073/pnas.15.3.168. PMC 522427. PMID 16577160.
  3. Hubble, Edwin (December 1926). "Extragalactic nebulae.". Astrophysical Journal 64 (64): 321–369. Bibcode:1926ApJ....64..321H. doi:10.1086/143018.
  4. Slipher, V.M. (1917). "Proc. Am. Philos. Soc." 56. pp. 404–409.
  5. Segal, I.E. (December 1993). "Proc. Natl. Acad. Sci. USA" 90. pp. 11114–11116.
  6. "Virginia Lee Hubble (James) (c.1864 - 1934)". Retrieved 11 March 2014.
  7. Gale E. Christianson (1996). Edwin Hubble: mariner of the nebulae. University of Chicago Press. pp. 13–18.
  8. Gale E. Christianson (1996). Edwin Hubble: mariner of the nebulae. University of Chicago Press.
  9. Michael D. Lemonick (Mar 29, 1999). "Astronomer Edwin Hubble". The Times. UK. Retrieved May 29, 2011.
  10. The Rhodes Trust. "Rhodes Scholars: Complete List, 1903–2010". The Rhodes Trust. Retrieved May 29, 2011. Hubble, Edwin – The Queen's College, Illinois (1910)
  11. John F. Kielkopf. "Edwin Hubble, Family, and Friends in Louisville 1909–1916".
  12. Gale E. Christianson (1996). Edwin Hubble: Mariner of the Nebulae. University of Chicago Press. p. 183. ISBN 978-0-226-10521-5.
  13. Gale E. Christianson (1996). Edwin Hubble: Mariner of the Nebulae. University of Chicago Press. p. 183. ISBN 978-0-226-10521-5. One morning, while driving north with Grace after the failed eclipse expedition of 1923, he broached Whitehead's idea of a God who might have chosen from a great many possibilities to make a different universe, but He made this one. By contemplating the universe, one might approximate some idea of its Creator. As time passed, however, he seemed even less certain: "We do not know why we are born into the world, but we can try to find out what sort of a world it is — at least in its physical aspects." His life was dedicated to science and the objective world of phenomena. The world of pure values is one which science cannot enter, and science is unconcerned with the transcendent, however compelling a private revelation or individual moment of ecstasy. He pulled no punches when a deeply depressed friend asked him about his belief: "The whole thing is so much bigger than I am, and I can't understand it, so I just trust myself to it; and forget about it."
  14. Tom Bezzi (2000). Hubble Time. iUniverse. p. 93. ISBN 978-0-595-14247-7. John terribly depressed, and asked Edwin about his belief. Edwin said, "The whole thing is so much bigger than I am, and I can't understand it, so I just trust myself to it, and forget about it." It was not his nature to speculate. Theories, in his opinion, were appropriate cocktail conversation. He was essentially an observer, and as he said in The Realm of the Nebulae: "Not until the empirical resources are exhausted, need we pass on to the dreamy realms of speculation." Edwin never exhausted those empirical resources. "I am an observer, not a theoretical man," he attested, and a lightly spoken word in a lecture or in a letter showed that observation was his choice.
  15. Bill Bryson (2010). Short History of Nearly Everything: Special Illustrated Edition. Random House Digital, Inc.
  16. Paul Kupperberg (2005). Hubble and the Big Bang. The Rosen Publishing Group. pp. 45–6.
  17. J. L. Heilbron (2005). The Oxford guide to the history of physics and astronomy, Volume 10. Oxford University Press US. pp. 156–7.
  18. A Science Odyssey:People and Discoveries
  19. 1929:Edwin Hubble Discovers the universe is expanding
  20. Sharov, Aleksandr Sergeevich; Novikov, Igor Dmitrievich (1993). Edwin Hubble, the discoverer of the big bang universe. Cambridge University Press. p. 34. ISBN 978-0-521-41617-7. Retrieved December 31, 2011.
  21. Marcia Bartusiak (2010). The Day We Found the Universe. Random House Digital, Inc. pp. x–xi.
  22. "life in the universe Astronomy Encyclopedia. London: Philip's, 2002. Credo Reference".
  23. David L. Block, Ivacircnio Puerari, Alan Stockton (2000). Toward a new millennium in galaxy morphology. Springer. pp. 146–150.
  24. Robert P. Kirshner (January 6, 2004). "Hubble's diagram and cosmic expansion" (PDF). PNAS. Retrieved February 12, 2012.
  25. Sandage, Allan (1989), "Edwin Hubble 1889–1953", The Journal of the Royal Astronomical Society of Canada, Vol. 83, No.6. Retrieved March 26, 2010.
  26. Public Broadcasting Station (PBS). "Cosmological Constant". PBS.org. Retrieved May 29, 2011.
  27. Symmetry Magazine, "On Stage: Hubble's Contentious Life and Science"
  28. Edwin Hubble life summary