اسپیکٹرل لائن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

روشنی کے طیف (Spectrum) میں موجود خط (Line) کو طیفی خط (Specteral line) کہا جاتا ہے۔
روشنی جب کسی منشور (prism) سے گزرتی ہے تو مختلف رنگوں میں بٹ جاتی ہے جسے طیف کہتے ہیں۔ سورج سے آتی ہوئی روشنی بھی منشور سے گزر کر اسی طرح طیف بناتی ہے۔ لیکن جب نہایت باریک بینی سے اس طیف کا جائیزہ لیا جاتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس میں کچھ سیاہ خطوط موجود ہیں جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اس میں کچھ تعددوں (یا طول موج) کے نوریہ (فوٹون) غائب ہیں۔ ایسا اس وقت ممکن ہے جب گرم اجسام سے نکلتی روشنی اور دیکھنے والے کے درمیان سرد گیس موجود ہو۔
مختلف عناصر (elements) جب گیس کی حالت میں ہوتے ہیں تو مختلف تعددوں (یا طول موج) کی امواج خارج یا جذب کرتے ہیں۔ طیفی خطوط کو عناصر کا اِنفرادی خصوصیت (finger print) بھی کہا جا سکتا ہے۔ ستاروں سے آتی ہوئی روشنی کو منشور سے گزار کر کے بتایا جا سکتا ہے کہ کس ستارے میں کون کون سے عناصر موجود ہیں۔
گیس کی حالت میں عناصر طیفی خطوط کی شکل میں توانائی خارج کرتے ہیں لیکن ٹھوس حالت میں مادے سیاہ جسمی اشعاع کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

چند عناصر کی طیفی خطوط۔ ہائیڈروجن سے نکلنے والی چار خطوط (Balmer series) بالترتیب 656.3، 486.1، 434.0 اور 410.2 نینو میٹر کی طول موج رکھتی ہیں۔
مولیکیول کا نام فنگر پرنٹ فریکوینسی[1]
Hydroxyl radical (OH) 1612.231 MHz
Methyladyne (CH) 3263.794 MHz
فورملڈی ہائیڈ (H2CO) 829.66 MHz
میتھینول (CH3OH) 6668.518 MHz
ہیلیئم آئیسوٹوپ (3He) 8665.65 MHz
Cyclopropenylidene (C3H2) 18.343 GHz
آبی بخارات (H2O) 22.235 GHz
امونیا (NH3) 23.694 GHz

مسلسل طیف (Continuous spectrum)[ترمیم]

بہت گرم اجسام سے نکلنے والی روشنی کا طیف مسلسل ہوتا ہے۔ یعنی اس میں نہ کوئیِ طیفی خط ہوتا ہے اور نہ کسی تعدد کے نوریہ غائب ہوتے ہیں۔

مسلسل طیف (Continuous spectrum)۔ اس میں کوئیِ سیاہ خط نہیں ہے۔ دونوں سرے اس لیے کالے ہیں کیونکہ انسانی آنکھ زیریں سرخ ( دائیں طرف) اور بالا بنفشی (بائیں طرف) نہیں دیکھ سکتی۔

جذبی طیف (Absorption spectrum)[ترمیم]

جب بہت گرم اجسام سے نکلنے والی روشنی کسی ٹھنڈی گیس میں سے گزرتی ہے تو گیس اپنی نوعیت کے لحاظ سے کچھ مخصوص نوریہ جذب کر لیتی ہے۔ اس طرح گرم اجسام کے مسلسل طیف میں کچھ سیاہ خطوط نمودار ہو جاتی ہیں۔
سورج سے نکلتی روشنی جب سورج کی فضاء سے گزرتی ہے تو اُس فضاء میں موجود گیسوں کی وجہ سے سورج کے طیفِ مسلسل میں لگ بھگ 20000 طیفی خطوط داخل ہو جاتی ہیں۔ ان میں سے لگ بھگ 75 فیصد کی پہچان ہو چکی ہے اور 25 فیصد کی وضاحت ہونا ابھی باقی ہے۔

(Absorption spectrum) اس طیف میں سیاہ خطوط ان نوریہ کو ظاہر کرتی ہیں جو راستے میں موجود کسی گیس نے جذب کر لیے۔

1868 میں Norman Lockyer نامی سائینس دان نے سورج کی روشنی کے طیف میں سوڈیئم کی دوہرے خطوط کے نزدیک 587.56 نینو میٹر پر ایک نئے خط کا مشاہدہ کیا اور بتایا کہ یہ ایک نیا عنصر ہے جس کا نام اس نے ہیلیئم رکھا۔ زمین پر ہیلیئم اس کے 27 سال بعد 1895 میں دریافت ہوئِ۔

1868 میں سورج کی شعاعوں کا تجزیہ کر کے ہیلیئم کی پیلے رنگ کا خط دریافت کر لیا گیا تھا۔

اخراجی طیف (Emission spectrum)[ترمیم]

جب اندھیرے میں موجود ایک گرم گیس ٹھنڈی ہونے لگتی ہے تو اس گیس میں سے گیس کی نوعیت کے لحاظ سے کچھ مخصوص تعدد کے نوریے خارج ہوتے ہیں۔ یہ نوریے بالکل اسی تعدد کے ہوتے ہیں جو گیس گرم ہوتے وقت جذب کرتی ہے۔
1864 میں William Huggins نے نیبولا سے آتی ہوئی روشنی میں 495.9 نینو میٹر اور 500.7 نینو میٹر کی دو چمکدار خطوط کا مشاہدہ کیا جو زمین پر موجود کسی مادے سے خارج نہیں ہوتی تھیں۔ اس وقت غلطی سے اسے ایک نیا عنصر nebulium سمجھا گیا مگر 1927 میں Ira Bowen نے بتایا کہ یہ آکسیجن کی بہت زیادہ تکسیدی حالت میں نکلتی ہیں۔ ایسی حالت لیباٹری میں ممکن نہیں مگر نیبولامیں ممکن ہے جہاں ایک مربع سینٹی میٹر میں صرف ایک ایٹم ہوتا ہے۔

(Emission spectrum) جب کوئی گیس ٹھنڈی ہونے لگتی ہے تو اس میں سے کچھ مخصوص تعدد کے نوریے خارج ہوتے ہیں جس سے گیس با آسانی شناخت کی جا سکتی ہے۔

سرخ منتقلی (Red shift)[ترمیم]

آواز کے طرح روشنی کی لہروں میں بھی ڈوپلر کا اثر (Doppler effect) ہوتا ہے۔ یعنی جب ایک ستارہ ہم سے دور جا رہا ہوتا ہے تو اس کی روشنی میں موجود طیفی خطوط اپنی اصل جگہ سے ہٹ کر کم تعدد (یعنی زیادہ بڑی طول موج) کی طرف چلی جاتی ہیں۔ ستارہ جتنی زیادہ رفتار سے پرے ہٹ رہا ہو گا تعدد میں کمی یعنی سرخ منتقلی (Red shift) بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔ اس طرح سائینس دان دور دراز کے ستاروں اور کہکشاوں کی رفتار اور سمت بھی معلوم کر سکتے ہیں اور ان میں موجود گیسوں کی ماہیت بھی معلوم ہو جاتی ہے۔ چونکہ کائنات پھیل رہی ہے اس لیے تقریباً سارے ستاروں اور کہکشاوں کی روشنی میں طیفی خطوط کا سرخ متتقلی موجود ہوتا ہے۔

Red shift: جب کوئی ستارہ ہم سے دور جا رہا ہوتا ہے تو اس کی طیفی خطوط اپنی جگہ سے کھسک کر سرخ کنارے کی طرف چلی جاتی ہیں یعنی ان کی طول موج (wave length) بڑھ جاتی ہے۔
جب دو ستارے ایک ہی مرکز کے گرد گردش کرتے ہیں تو انکی پوزیشن کے لحاظ سے طیفی خط دو حصوں میں بٹ جاتی ہے۔ ایسا ڈوپلر اثر کی وجہ سے ہوتا ہے۔

نیلا منتقلی (Blue shift)[ترمیم]

جب ایک ستارہ ہماری جانب تیزی سے آ رہا ہوتا ہے تو اس کے طیف میں موجود طیفی خطوط اپنی اصل جگہ سے ہٹ کر زیادہ تعدد (یعنی زیادہ چھوٹی طول موج) کی طرف چلی جاتی ہیں۔ ستارہ جتنی زیادہ رفتار سے ہماری جانب بڑھ رہا ہو گا تعدد میں اضافہ یعنی نیلا منتقلی (Blue shift) بھی اتنا ہی زیادہ ہو گا۔
اینڈرومیڈا نامی ایک کہکشاں (Andromeda Galaxy) ہم سے 25 لاکھ نوری سال کے فاصلے پر ہے مگر دوسری کہکشاوں کے برعکس یہ ہم سے دور نہیں جا رہی بلکہ 110 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے ہماری جانب آ رہی ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ ہماری کہکشاں (ًMilky way) سے چار ارب سال بعد ٹکرا جائے گی۔ اینڈرو میڈا سے آتی ہوئی روشنی میں طیفی خطوط کا نیلا منتقلی موجود ہے۔

لیتھیئم خط[ترمیم]

لیتھیئم سے نکلنے والی روشنی طیف پر 670.8 نینو میٹر یعنی 6708 انگسٹرام کی طول موج رکھتی ہے۔

سوڈیئم خط[ترمیم]

نمکین پانی کو شعلے پر گرم کر کے سوڈیئم کی دو لکیروں کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔

جب الیکٹرون سوڈیئم کے 3p کے دو مختلف مدارچوں (orbitals)سے 3s کے واحد مدارچے پر آتے ہیں تو 589 اور 589.6 نینو میٹر کی دو لائینیں بناتے ہیں جو پیلے رنگ کی ہوتی ہیں اور ایک دوسرے سے بہت نزدیک ہوتی ہیں۔ 589 نینو میٹر والی لائن دوسری لائن سے دو گنا چمکدار ہوتی ہے۔[2]

نیل[ترمیم]

کپڑے دھونے کے نیل کا مولیکول 613 نینو میٹر طول موج کی نارنجی روشنی جذب کر لیتا ہے جبکہ نیلی روشنی منعکس کرتا ہے اور اس وجہ سے نیلا نظر آتا ہے۔

وٹامن بی ٹو[ترمیم]

وٹامن B2 یعنی ریبوفلےون (riboflavin) کا مولیکیول 450 نینو میٹر طول موج کی نیلی روشنی جذب کرتا ہے اور پیلا نظر آتا ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]