چاند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

یہ مقالہ زمین کے چاند کے متعلق ہے، مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: قدرتی سیارچہ

چاند (عربی میں قمر) - Moon Moon symbol
Full moon in the darkness of the night sky. It is patterned with a mix of light-tone regions and darker, irregular blotches, and scattered with varying sizes of impact craters, circles surrounded by out-thrown rays of bright ejecta.
مکمل چند - زمین کے شمالی نصف کرے سے دکھائی دی جانے والی تصویر.
تعین کاری
صفات
محوری خصوصیات
Perigee 362600 km
(356400370400 km)
Apogee 405400 km
(404000406700 km)
384,399 کلومیٹر  (0.00257 AU)[1]
انحراف 0.0549 [1]
27.321582 d
(27 d 7 h 43.1 min[1])
29.530589 d
(29 d 12 h 44 min 2.9 s)
1.022 km/s
میلانیت 5.145° to the دائرۃ البروج[2][lower-alpha 1]
regressing by one revolution in 18.6 years
progressing by one revolution in 8.85 years
قدرتی سیارچہ زمین
طبیعی خصوصیات
اوسط رداس
1,737.10 کلومیٹر  (0.273 Earths)[1][3]
1,738.14 کلومیٹر  (0.273 Earths)[3]
قطبی رداس
1,735.97 کلومیٹر  (0.273 Earths)[3]
چپٹا پن 0.00125
محیط 10,921 کلومیٹر  (خط استواial)
3.793×107 کلومیٹر2  (0.074 Earths)
حجم 2.1958×1010 کلومیٹر3  (0.020 Earths)
کمیت 7.3477×1022 کلوگرام  (0.012300 Earths[1])
اوسط کثافت
3.3464 g/cm3[1]
0.606 × Earth
1.622 m/s2  (0.1654 g)
0.3929±0.0009[4]
2.38 km/s
27.321582 d  ( synchronous )
استوائی گردشی_رفتار
4.627 m/s
Albedo 0.136[5]
سطحی درجہ حرارت کم اوسط زیادہ
Equator 100 K 220 K 390 K
85°N [6] 70 K 130 K 230 K
29.3 to 34.1 arcminutes[3][lower-alpha 3]
فضا[7]
Composition by volume
چاند، دھیمے سرخ رنگ میں، چاند گہن کے دوران۔
چاند

چاند ہماری زمین کا ایک سیارچہ ہے۔ زمین سے کوئی دو لاکھ چالیس ہزار میل دور ہے۔ اس کا قطر 2163 میل ہے۔ چاند کے متعلق ابتدائی تحقیقات گلیلیو نے 1609ء میں کیں۔ اس نے بتایا کہ چاند ہماری زمین کی طرح ایک کرہ ہے۔ اس نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ چاند پر پہاڑ اور آتش فشاں پہاڑوں کے دہانے موجود ہیں۔ اس میں نہ ہوا ہے نہ پانی۔ جن کے نہ ہونے کے باعث چاند پر زندگی کے کوئی آثار نہیں پائے جاتے۔ یہ بات انسان بردار جہازوں کے ذریعے ثابت ہو چکی ہے۔ دن کے وقت اس میں سخت گرمی ہوتی ہے اور رات سرد ہوتی ہے۔ یہ اختلاف ایک گھنٹے کے اندر واقع ہو جاتا ہے۔

چاند کا دن ہمارے پندرہ دنوں کے برابر ہوتا ہے۔ یہ زمین کے گرد 29 یا 30 دن میں اپنا ایک چکر پورا کرتا ہے۔ چاند کا مدار زمین کے اردگرد بڑھ رہا ہے یعنی اوسط فاصلہ زمین سے بڑھ رہا ہے۔ قمری اور اسلامی مہینے اسی کے طلوع و غروب سے مرتب ہوتے ہیں۔ چاند ہمیں رات کو صرف تھوڑی روشنی ہی نہیں دیتا بلکہ اس کی کشش سےسمندر میں مد و جزر بھی پیدا ہوتا ہے۔ سائنس دان وہاں سے لائی گئی مٹی سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چاند کی ارضیات زمین کی ارضیات کے مقابلے میں زیادہ سادہ ہے۔ نیز چاند کی پرت تقریباً میل موٹی ہے۔ اور یہ ایک نایاب پتھر اناستھرو سائٹ سے مل کر بنی ہے۔

ابتداء[ترمیم]

چاند کی ہییت کے متعلق مختلف نظریات ہیں، ایک خیال یہ ہے کہ یہ ایک سیارہ تھا جو چلتے چلتے زمین کے قریب بھٹک آیا، اور زمیں کی کشش ثقل نے اسے اپنے مدار میں ڈال لیا۔ یہ نظریہ خاصہ مقبول رہا ہے، مگر سائنسدانوں نے اعتراض کیا ہے کہ ایسا ممکن ہونے کے لیے چاند کو ایک خاص سمتار سے زمین کے قریب ایک خاص راستے (trajectory) پر آنا ضروری ہو گا، جس کا امکان بہت ہی کم ہے۔

موجودہ دور میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ 4.6 بلین سال پہلے ایک دمدار ستارہ زور دار دھماکے سے زمین سے ٹکرایا، جس سے دمدارستارہ اور زمین کا بہت سا مادہ تبخیر ہو کر زمین سے نکل گیا۔ آہستہ آہستہ یہ مادہ زمین کے مدار میں گردش کرتے ہوئے اکٹھا ہو کر چاند بن گیا۔ پانی اور ایسے عناصر جو آسانی سے اُڑ سکتے تھے نکل گئے، اور باقی عنصر چاند کا حصہ بنے۔ اس نظریہ کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ چاند کی کثافت زمین کی اوپر والی مٹی کی پٹیوں کی کثافت کے تقریباً برابر ہے، اور اس میں لوہا کی مقدار بہت کم ہے۔ کیونکہ دمدارستارے کا آہنی حصہ زمین میں دھنس گیا تھا جو زمین کا آہنی گودا بنا۔ کمپیوٹر پر Simulation سے اس نظریہ کو تقویت ملی ہے۔ [8]

چاند کی تسخیر[ترمیم]

20 جولائی 1969ء کو نیل آرم سٹرانگ وہ پہلے انسان تھے جس کے قدم چاند پر پڑے۔

چاند کی حقیقت سے پردہ اٹھ چکا ہے۔ عام نظریہ یہ ہے کہ یہ زمین سے جدا ہوا ہے۔ چاند پر ہوا اور پانی نہیں ہے۔ اور نہ ہی وہاں سبزہ وغیرہ ہے۔ چاند پر سب سے پہلے اپالو 2 اتارا گیا تھا۔ اس کی سر زمین سے جو نمونے اکھٹے کیے گئے ان کے مطالعے سے پتہ چلا ہے کی ان میں کثیر مقدار میں لوہا، ٹیٹانیم، کرومیم اور دوسری بھاری دھاتیں پائی جاتی ہیں۔

چاند پر کالونی[ترمیم]

امریکا 2020ء تک چاند کے جنوبی قطب پر ایک کالونی کے قیام کا ارادہ رکھتا ہے ناسا کے مطابق اس کا مقصد نظامِ شمسی کے بارے میں دریافتوں کی غرض سے مزید انسان بردار مشن روانہ کرنا ہے۔ 1972ء کے بعد یہ کسی انسان کو چاند کی سطح پر بھیجنے کا پہلا منصوبہ ہے۔ قومی ہوائی و خلائی انتظامیہ (این اے ایس اے) نے کہا ہے کہ یہ طویل المدتی منصوبہ دنیا کے 14 خلائی اداروں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ (بحوالہ روزنامہ جنگ کراچی بتاریخ 6 دسمبر 2006ء)

کشش ثقل[ترمیم]

اس کی کشش ثقل gravitational force زمین کی نسبت چھ گنا کم ہے۔ چودہ دنوں میں سورج اس پر چمکتا ہے تو اس کا درجہ حرارت 120 ڈگری فارن ہائیٹ پر جا پہنچتا ہے۔

چاند زمین سے[ترمیم]

زمین سے ہمیں ہمیشہ چاند کا ایک ہی رخ نظر آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ چاند کی محوری گردش اور چاند کے زمین کے اردگرد گردش کا دورانیہ ایک ہی ہے۔ ہمیں زمین سے کسی ایک وقت میں چاند کا تقریباًً 41 فی صد حصہ نظر آتا ہے اگر چاند پورا ہو۔ مگر یہ حصہ کچھ بدلتا ہے اور ہم مختلف اوقات میں چاند کا نصف سے کچھ زیادہ حصہ ملاحظہ کر سکتے ہیں جو 59 فی صد بنتا ہے مگر ایک وقت میں 41 فی صد سے زیادہ نظر نہیں آ سکتا۔ زمین سے چاند کا اوسط فاصلہ 385000 کلو میٹر ہے جو افزائشِ مدوجزری کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔ اگر زمین چاند اور سورج کے درمیان آ جائے تو جزوی یا مکمل چاند گرہن لگتا ہے۔ اس وقت چاند سیاہ یا سرخی مائل نظر آتا ہے۔ اگر چاند سے زمین کو دیکھا جائے تو زمین ہمیشہ آسمان میں ایک ہی جگہ نظر آتی ہے۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

کیا انسان کبھی چاند پر اترا؟

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 1.3 1.4 1.5 نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ W06 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  2. ^ 2.0 2.1 نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Lang2011 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. ^ 3.0 3.1 3.2 3.3 3.4 نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ NSSDC نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  4. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Williams1996 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  5. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Saari نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  6. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Vasavada1999 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  7. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ L06 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  8. Trinh Thuan, Chaos and Harmony, Oxford university press, 2001.

بیرونی روابط[ترمیم]

  • علم الخلاء علم الہیئت، حیاتیات خلا (حیاتیات الفلک)، کم ثقلی (حالت بے وزنی)، سفر بین السیارہ، صاروخ (پرتابہ)


نقص حوالہ: "lower-alpha" نام کے حوالے کے لیے ٹیگ <ref> ہیں، لیکن مماثل ٹیگ <references group="lower-alpha"/> نہیں ملا یا پھر بند- ٹیگ </ref> ناموجود ہے