آثاریات

آثاریات یا علم آثار قدیمہ (انگریزی: Archaeology آرکیالوجی) بشریات کی ایک شاخ ہے جس میں مختلف انسانی تمدنوں کے مابین اختلافات اور مشابہات کا مطالعہ کرنے کے لیے مادی شواہد ڈھونڈے جاتے ہیں اور ان کی تعبیر تغیر و تسلسل کے حوالے سے کی جاتی ہے۔[1][2] آثارِ قدیمہ کے ماہرین مختلف تمدنوں کی مادی باقیات پر کام کرتے ہوئے اس امر کو پیش نظر رکھتے ہیں کہ تحریر سے تہی معاشرتوں کے متعلق معلومات کا یہی ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔ اگر تحریریں بھی دستیاب ہوں تو مادی آثار معاون مواد کا کام دیتے ہیں۔ یونانی زبان سے ماخوذ اصطلاح آرکیالوجی کا لغوی مطلب ”انسان اور اس سے متعلق اداروں، رسموں اور چیزوں کی ابتدا اور ان کے ارتقا کا مطالعہ“ ہے۔
تاریخ
[ترمیم]آرکیالوجی کی تاریخی حیثیت پندرھویں صدی عیسوی سے شروع ہوتی ہے، جب قدیم فن پارے جمع کرنے کا شوق اپنے عروج پر تھا۔ اسی سلسلے میں قدیم یونانی مجسموں کے حصول کے لیے کھدائی کا کام ہوا یہی جستجو اور تلاش آثار قدیمہ کے مضمون میں بدل گئی۔ پہلے پہل قدیم رومنوں اور یونانیوں کی معدوم آبادیوں کو کھوجا گیا۔ انیسویں صدی عیسوی کے اواخر میں ہنریک شلیمان (Heinrich Schliemann) اور آرتھر ایوانز (Arthur Evans) نے ہزاروں سال سے چھپے یونانیوں کے شہر ٹرائے اور کریٹ ڈھونڈ نکالے۔ ان دریافتوں نے بھی آثار قدیمہ کو بطور علم عمدہ تحریک فراہم کی۔
نپولین بوناپارٹ کے ساتھ موجود فرانسیسی عالموں نے قدیم مصری آثار پر خاصا مبسوط کام کیا اور یوں مصریات کا آغاز ہوا جسے آج آثار قدیمہ کا ایک اہم شعبہ مانا جاتا ہے۔ اس اہم دریافت کے بعد سے قدیم مصری معاشرت کا مطالعہ جاری ہے اور مصر کی تاریخ کے کئی اہم ادوار پر سیر حاصل کام ہو چکا ہے۔
ایڈورڈ رابسن (1863ء - 1794ء) نے ہائبل کے جغرافیے پر کام کرتے ہوئے قدیم تحریروں کا مطالعہ کیا۔ اس نے ایران سے دستیاب ہونے والے دارا اول کے زمانے کا ایک کتبہ بھی پڑھ لیا۔ میسوپوٹیمیا کے آثار قدیمہ میں انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی عیسوی کے اوائل میں قابل قدر کام ہوا۔ 1947ء میں ڈیڈسی اسکرول پڑھنے میں کامیابی ہوئی جس نے اس خطے کے آثار قدیمہ پر ہونے والی تحقیق کو نئے رخ پر ڈال دیا۔
بر صغیر میں وادی سندھ اور گندھارا تہذیب جبکہ امریکا کی مایا تہذیب کے آثار انیسویں صدی عیسوی میں دریافت ہوئے۔
کلاسیکل آرکیالوجی میں زیادہ تر مادی باقیات پر کام ہوتا تھا اور اسے خطے کے مادی تمدن کی تعبیر میں استعمال کیا جاتا تھا۔ لیکن آج بشری آثار قدیمہ (Anthropological Archeology) کا چلن زیادہ ہے۔ اس میں تمدنی روایات کا زمانی مطالعہ کرتے ہوئے تمدنی عملوں کو واضح کیا جاتا ہے۔ مختلف ادوار کے زمانی تعین کے لیے مختلف طریقے استعمال ہوتے ہیں جن میں تابکار کاربن اور پوٹاشیم آرگون کی شرح انحطاط سے مدد لی جاتی ہے۔ 1832ء میں ڈنمارک کے ماہر آثار قدیمہ کرسچیئن تھامسن نے ہتھیاروں اور استعمال کی دیگر چیزوں میں استعمال ہونے والے ساختی مواد کو تمدنی ترقی کے مختلف مراحل کے مطالعہ کی بنیاد بنایا۔ اس کی رو سے حجری دور، کانسی کے دور اور لوہے کے دور تمدنی ترقی کے بنیادی اور اہم مراحل قرار پائے۔ تجزیاتی کیمیا اور جینیات میں ہونے والی ترقی نے بھی آثار قدیمہ کو اہم تحقیقی اوزار فراہم کیے۔ ان کی مدد سے حیوانی اور نباتاتی باقیات کا مطالعہ کیا گیا اور معلوم ہوا کہ انسان نے کب زراعت اور گلہ بانی کا آغاز کیا۔ آج کے ماہر آثار قدیمہ اشرافیہ، طبقات اور ریاست جیسی سماجی تنظیموں میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔ اس حوالے سے لوئیس لیکی (Louis Leaky) اور میری لیکی (Mary Leakey) کے کام کو خاصی وقعت دی گئی ہے۔ انھوں نے مشرقی افریقا میں 1.7 ملین سال پرانے انسانی ڈھانچوں کا مطالعہ کیا۔
لندن کے برٹش میوزیم، امریکا کے نیچرل ہسٹری میوزیم، ڈنمارک کے نیشنل میوزیم اور برلن کے عجائب گھروں میں لوہے کے دور کی اہم باقیات رکھی گئی ہیں۔ قاہرہ، یروشلم اور ایتھنز کے عجائب گھروں میں بھی بڑا وقیع مواد موجود ہے۔ دنیا کی کئی معروف یونیورسٹیوں میں آثار قدیمہ کے تحقیقی اسکول اور عجائب گھر موجود ہیں جنھیں سرکاری و غیر سرکاری اداروں سے ضروری مالی معاونت میسر ہے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Sinclair, A. (2016). "The Intellectual Base of Archaeological Research 2004–2013: A visualisation and analysis of its disciplinary links, networks of authors, and conceptual language". Internet Archaeology (بزبان انگریزی) (42). DOI:10.11141/ia.42.8.
- ↑ A. Sinclair (2022). "Archaeological Research 2014 to 2021: an examination of its intellectual base, collaborative networks and conceptual language using science maps". Internet Archaeology (بزبان انگریزی) (59). DOI:10.11141/ia.59.10.
| ویکی ذخائر پر آثاریات سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |