صحت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

صحت کے لیے اردو زبان میں متبادل کے طور پر تندرستی کا لفظ مستعمل ہے۔ یہ لفظ دو الفاظ تن اور درستی کا مرکب ہے۔ اس سے مراد جسم کی وہ کیفیت ہے جو معمول کے مطابق ہو یا جسمانی و ذہنی تندرستی ہے۔ انسان کی صحت مندی ظاہری امور کے ساتھ ساتھ پوشیدہ یا جسم کی اندرونی صحت پر بھی محیط ہے۔ ایک شخص جو کھانسی، زکام یا بخار سے دوچار ہوتا ہے، وہ عمومًا موسمی تبدیلیوں یا ماحولیاتی اثرات کی وجہ سے عارضی طور پر بیمار ہو سکتا ہے۔ جو شخص ملیریا یا تپ محرقہ کے عارضوں سے پریشان ہوتا ہے وہ مزید بڑی اور زیادہ عرصے تک چلنے والی بیماریوں سے پریشان ہوتا ہے۔ تاہم کئی بار کوئی شخص ذیابطیس اور تھائیرائڈ جیسی بیماریوں سے بھی پریشان ہو سکتا ہے۔ یہ بیماریاں صحیح دیکھ ریکھ کی صورت میں جان لیوا نہیں ہوتی ہیں۔ مگر اگر وقت پر علاج نہیں کیا جائے تو یہ امراض لوگوں کی جان بھی لے سکتے ہیں۔ کچھ بیماریاں عالمی طور پر جان لیوا ہی ہوتی ہیں۔ ان میں کینسر اور ایڈز شامل ہیں۔

اچھی صحت کے کچھ اصول[ترمیم]

اچھی صحت کے لیے ضروری ہے کہ انسان وقت پر کھائے، پیے، سوئے، کسرت کرے اور اسی طرح حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھے۔ تاہم جدید دور میں لوگ رات کی نیند پر توجہ نہیں دیتے اور دن کے وقت کام کاج کی وجہ سے سو بھی نہیں سکتے۔ کام کے بوجھ کی وجہ سے لوگوں کے کھانے پینے میں کافی بے اعتدالیاں پائی گئی ہیں۔ کھانے کے اوقات طے نہیں ہوتے اور ان میں کبھی کم فاصلہ اور کبھی ضرورت سے کہیں وقفہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جدید آرام و آسائش کی وجہ لوگ کم تر جسمانی مشقت کے کام کرتے ہیں ۔اس سے ویسے بھی مشقت نہیں ہوتی۔ فطری مشقت کی جگہ لوگ جیم اور کسرت کے آلات کو بروئے کار لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وقت کی کمی اور کام کاج اور مصروفیات کی وجہ سے اس پر بھی عمل آوری نہیں ہوتی۔ کھانے پینے میں جنک فوڈ کا چلن عام ہے۔ اس میں سڑک کی بھیل پوری، نوڈلز، پاپ کون وغیرہ لوگ بہ کثرت کھاتے ہیں، جو کسی بھی طرح سے مفید نہیں ہے۔ اس کے علاوہ تیار شدہ کھانوں میں کئی ملاوٹیں ہوتی ہیں جو صحت کے لیے مضر ہیں۔ محلوں اور گھر کی صفائی کی وجہ سے بھی لوگوں کی صحت اچھی رہ سکتی ہے۔ بہ صورت دیگر کئی بیماریاں اپنے آپ آتی ہیں۔ ان میں سے ایک بیماری جس کا 2010ء کے دہے میں کافی تذکرہ ہوا تھا، وہ سوائن فلو ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]