صنعت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

کسی صنعت کی تعریف معاشیات کی رو سے ایک مخصوص جغرافیائی دائرے میں کسی مخصوص زمرے کے مصنوعات کی تیاری کرنے والے سبھی ادارہ جات پر ہوتا ہے۔ مثلًا بھارت میں ریاست مہاراشٹر کی شکر کی صنعت۔ اس میں گنے کے کسان اور وہ سب کارخانہ دار آ جاتے ہیں جو شکر اور متصلہ مصنوعات جیسے کی گُڑ کے بنانے سے جڑے ہیں۔ دودھ کی صنعت سے وہ سارے کاروبار جڑے ہیں جو دودھ کے کاروبار اور اس بننے والی مصنوعات سے جڑے ہیں۔ دودھ سے جو اشیا بن کر نکلتی ہیں ان میں دہی، لسی، چھانجھ، آئس کریم وغیرہ شامل ہیں۔ کسی صنعت میں اشیا کی نوعیت کے حساب سے اس کی مخصوص خصوصیات ہوتی ہیں۔ مثلٓا دودھ کی اشیا کی شیلف پر زندگی محدود ہوتی ہے۔ لہٰذا ان کی بکری یا تو فورًا ہونا چاہیے یا پھر مصنوعات بے کار ہو جاتے ہیں۔ مگر کچھ مصنوعات کی شیلف زندگی زیادہ ہوتی ہے۔ کئی دوا ساز کمپنیاں اپنی دواؤں دو دو سال تک اس کے استعمال کی میعاد لکھتی ہیں۔ کچھ مصنوعات ایسی بھی ہیں جن کی شیلف زندگی لامحدود ہے یا مصنوعات کے رکھنے پر منحصر ہے۔ جیسے کہ پلاسٹک اور اسٹیل سے بننے والے مصنوعات۔ یہ عملًا رکھ رکھاؤ پر منحصر رہتے ہیں اور اپنے بننے کے سالوں بعد بھی قابل فروخت ہیں۔

معیشت میں صنعتوں کی اہمیت[ترمیم]

کسی بھی فعال معیشت میں صنعتوں کی اپنی اہمیت ہوتی۔ کل گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی) کا حساب اشیا اور خدمات کی کل تعداد کے حساب سے ہوتا ہے۔ یہ جب یہ زیادہ ہوتے ہیں، تو ملک میں کم قیمتوں پر زیادہ اشیا دست یاب ہوں گے۔ اسی طرح بیرون ملک اس ملک کے سکے کی قیمت بھی زیادہ ہوگی۔ ملک کی مصنوعات دیگر ملکوں میں بیچے جائیں گے۔ مگر ان کی کمی کی صورت میں ملک میں زیر دوران دولت کی اندرونی افادیت بے حد کم ہو جائے گی۔ بیرون ملک میں بھی اس ملک کی مصنوعات کم ہی فروخت ہوں گی اور اسی طرح اس ملک کے سکے کی قیمت بھی کم گردانی جائے گی۔

ایک ساتھ صنعتوں کا متاثر ہونا[ترمیم]

2015ء میں پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے ایک بیان کے مطابق گذشتہ سہ ماہی میں ملک کی ٹیکسٹائل برآمدات میں 12 فیصد کمی واقع ہوئی تھی جس کی بنیادی وجہ یہاں بر آمدات کی کمی ہے۔ [1]

حوالہ جات[ترمیم]