مندرجات کا رخ کریں

سمکیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

سمکیات یا ماہی شناسی (انگریزی: Ichthyology) حیوانیات کی وہ شاخ ہے جو مچھلیوں کے مطالعے سے متعلق ہے، جس میں ہڈی دار مچھلیاں (Osteichthyes)، غضروفی مچھلیاں (Chondrichthyes) اور بغیر جبڑے والی مچھلیاں (Agnatha) شامل ہیں۔ فِش بیس کے اعداد و شمار مطابق مارچ 2025ء تک مچھلیوں کے 35،800 انواع مترشح کیے جا چکے ہیں۔[1] چونکہ یہ ایک وسیع حیاتیاتی گروہ سے متعلق علم ہے اس لیے اس میں کئی ذیلی شعبے شامل ہوتے ہیں، جیسے درجہ بندی (ٹیکسانومی)، تشریح الاعضا یا شکلیات (اناٹومی/مارفولوجی)، خلقیات (ایتھولوجی)، ماحولیات (ایکولوجی) اور فعلیات (فزیالوجی)۔ انسانی خوراک کے طور پر مچھلیوں کی اہمیت کے باعث معاشی سمکیات بھی اس میدان کا ایک اہم حصہ ہے۔

قدیم یونانی نیچرلسٹ خصوصاً ارسطو مچھلیوں کی حیاتیات کے بہت سے پہلوؤں سے واقف تھے۔ انیسویں صدی عیسوی کے اختتام تک زیادہ تر پیش رفت درجہ بندی کے میدان میں ہوئی، جب نئے انواع مترشح کیے گئے اور پہلے سے معلوم انواع کے باہمی تعلقات واضح کیے گئے۔ بیسویں صدی عیسوی کے وسط میں بحری جغرافیہ (oceanography) میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور زیرِ آب مشاہدے کے نئے آلات اور طریقوں (خصوصاً خود مختار سانس لینے کے آلے، SCUBA) نے مچھلیوں کے رویے اور ماحولیات کے قدرتی حالات میں مطالعے کے لیے نئی راہیں کھول دیں۔

مچھلیوں کو ٹینکوں میں رکھنے کے بہتر طریقوں کی ترقی سے انھیں تجربہ گاہی جانور کے طور پر استعمال کرنے میں اضافہ ہوا، خصوصاً خلقیات، ماحولیات، فعلی تشریح الاعضا، علم السموم اور طفیلیات کے شعبوں میں۔ بہت سی اقسام کی مچھلیاں شوقیہ ماہی خانے رکھنے والے افراد بھی پالتے ہیں جن میں سے کچھ ان کے رویے کے بارے میں مفید مشاہدات کرتے ہیں۔ تاہم مچھلیوں پر زیادہ تر تحقیق اداروں کے ماہی خانوں میں کی جاتی ہے، جہاں بڑے ٹینک قدرتی ماحول کی نقل پیش کر سکتے ہیں اور جامعات و عجائب گھروں میں، جہاں محفوظ نمونوں کے بڑے ذخیرے موجود ہوتے ہیں۔ مزید برآں ماہی گیری سے متعلق تحقیق سرکاری اداروں کی تجربہ گاہوں میں کی جاتی ہے، جو قدرتی مچھلیوں کی آبادی کو اس طرح منظم کرتے ہیں کہ وہ ایک قابلِ تجدید وسیلہ بنی رہے۔[2]

حوالہ جات

[ترمیم]