گرافکس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(تخطیط سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خطوط یعنی لکیریں ، گرافکس (graphics) میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں اور پھر ان بنیادوں پر شمارندی گرافکس (computer graphics) سے بناۓ گئے کمالات تخلیق پاتے ہیں۔

سادہ سے الفاظ میں کہا جائے تو خطوط بنانے کو گرافکس (graphics) کہا جاتا ہے یعنی لکیریں ڈالنا۔ اب ظاہر ہے کہ خطوط سے ہی تمام اقسام کی اشکال ہی نہیں بلکہ تحریر بھی وجود میں آتی ہے اس لیے یہ لفظ ایک بہت وسیع مفہوم رکھتا ہے۔

بیان[ترمیم]

گرافکس آج کل سائنس میں جس مفہوم میں استعمال ہوتا ہے وہ اصل میں بصری تجلی یا اظہار ہے جو کہ کسی کرباس (canvas)، کمپیوٹر اسکرین، کاغذ اور یا پھر پتھر وغیرہ جیسی کسی بھی سطح پر کی جاسکتی ہے اور اسکے بنیادی مقاصد تفریح ، تدریس ، فراہمی اطلاعات اور تشہیر وغیرہ ہوسکتے ہیں۔ گرافکس کی عام مثالوں میں تصویر، نقاشی ، فن الخط (line art)، مُخط (diagrams)، اعداد، علامات ہندساتی نمونے (geometric designs) ، نقشہ جات ، ہندسیاتی اشکال اور کمپیوٹر سے بناۓ گئے متحرک تصاویری نمونے بھی شامل ہیں۔

گرافکس میں عام طور پر مختلف ذرائع اظہار (جسے متن ، تفسیرہ (illustration) اور رنگ) ایک ساتھ ہی شامل ہوتے ہیں۔ یعنی اسکا مطلب یہ ہوا کہ کسی بھی ایک گرافکسی نمونے میں (مقاصد کے لحاظ سے) کوئی بھی ایک یا دو زرائع اظہار حاوی ہوسکتے ہیں۔ بعض گرافکس ایسی ہوتی ہیں کہ جن میں صرف متن کا عنصر زیادہ ہوتا ہے اور بعض ایسی کہ جن میں تصاویر یا یا اشکالی خطوط حاوی ہوتے ہیں جیسے نشرہ (brochure) اور کوئی موقع رابط (website) وغیرہ۔

تاریخ[ترمیم]

نقاشی ایک ایسا شعبۂ گرافکس ہے کہ جس میں تقریباً تمام ہی دیگر شعبے ذیلی شعبہ جات کے طور پر آجاتے ہیں۔

خطوط کھینچے کی اور لکیریں بنانے کی انسانی فطرت زمانۂ قدیم سے سامنے آتی رہی ہے اور اگر اس طرح غور کیا جاۓ تو graphics یا تخطط کوئی نیا فن نہیں ہے بلکہ اس قسم کی گرافکس کے آثار غاروں میں زمانہ قبل از تاریخ سے ملتے ہیں، کچھ آثار 40 ہزار تا 10 ہزار قبل مسیح میں بالائی عہد حجری (upper palaeolithic) یا اس سے بھی قدیم ہیں اور ان میں سے اکثر گرافکس؛ فلکیاتی، موسمیاتی اور ترتیب زمانی تفصیلات کو محفوظ کرتی ہوئی پائی گئی ہیں۔ عصر حاضر میں شمار کی جانے والی گرافکسات یا graphics میں سے چند وہ ہیں جو تقریباًًًًًًًًًًًًًًً 6 ہزار سال پرانی ہیں اور یہ یا تو حدول حجری (stone tables) کی صورت میں ملتی ہیں یا پھر مہر اسطوانہ (cylinder seals) کی شکل میں اور ان ہی کی وجہ سے زمانۂ تاریخ کی ابتداء ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان میں نہایت قدیم وہ گرافکس بھی شامل ہیں کہ جو مصر کے فرعونوں نے البَردی (papyrus) کو استعمال کرتے ہوئے اہرام کی تیاری اور انکے نقشہ جات بنانے کیلیے تیار کی تھیں، بعض گرافکس کے لیے سنگ چونا (limestone) اور لکڑی کو بھی کام میں لایا گیا تھا۔ قدیم یونان میں بھی اس زمانے کے علماء نے اپنے ریاضیاتی اور ہندساتی (geometrical) کام جیسے نظریۂ فیثا غورث وغیرہ کو محفوظ کرنے کیلیے گرافکس کا سہارا لیا تھا ، یہ عرصہ قریبا 600 تا 250 قبل مسیح کا بتایا جاتا ہے۔

نقاشی[ترمیم]

نقاشی (Drawing)

نقاشی ، نقش بنانے کو کہا جاتا ہے اور اس عمل میں کسی بھی قسم کی قابل نقش پذیر سطح (جیسے کاغذ ، دیوار ، پتھر اور لکڑی وغیرہ) پر کسی پرزے (tool) مدد سے دباؤ ڈالتے ہوئے خطوط یا لکیریں کھینچی جاتی ہیں جو انسانی ذہن (brain) میں موجود کسی خاکے کا اس سطح پر نقشہ بنا دیتی ہیں۔ جو پرزے اس نقشکاری کیلیے استعمال کیے جاتے ہیں ان میں رصاصی مداد (pencil)، قلم، روشنائی، فرشہ (brush)، مومی مداد، کوئلہ، رقیقہ (pastel) اور نشانگر (marker) وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔

رنگکاری[ترمیم]

رنگوں کی استرکاری (رنگکاری) سے بنائی گئی ایک رنگکاری (painting) کا نمونہ۔

رنگکاری (Painting)

رنگکاری بنیادی طور پر گرافکس کی ایک ایسی شاخ ہے کہ جس میں رنگوں کی تہـ کسی بھی سطح پر چڑھا کر تصاویر بنائی جاتی ہیں جبکہ رنگائی (Coloring) ایک ایسا عمل ہے کہ جس میں کسی بھی شۓ پر رنگ کیا جاتا ہے دونوں میں فرق یہ ہے کہ رنگکاری میں محور ایک تصویر ڈھالنے کا ہوتا ہے جبکہ رنگائی میں مقصد اس شۓ پر رنگ کردینے کا ہوتا ہے خواہ اس سے کوئی تصویر یا شکل بنتی ہو یا نا بنتی ہو۔ مزید قابل غور بات یہ ہے کہ ان دونوں اصناف میں جو اصل ذریعہ استعمال ہوتا ہے ، یعنی رنگ اسکا نام بعض اوقات اردو میں paint اور color دونوں کی صورت میں ایک ہی ہوسکتا ہے اور تمیز کا عمل صرف سیاق و سباق پر منحصر ہوجاتا ہے۔ دیگر اصناف گرافکس کی طرح رنگکاری میں بھی دو اہم اصناف دیکھنے میں آتی ہیں ایک تو تخیلاتی (imaginary) ہے جس میں اہمیت تصویر کے تناسب اور منظرت (persepctive) کے بجاۓ اس چیز کو دی جاتی ہے جسکا تخیل دماغ میں حاوی ہو اور دوسری صنف واقعیت (realism) کی ہے جس میں نظر میں آنے والے منظر کی حقیقی تصویر کشی کی کوشش کی جاتی ہے اور تصویر کی منظرت کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے تاکہ وہ حقیقت سے قریب تر لگے۔

طباعتکاری[ترمیم]

فن طباعت کو استعمال کرتے ہوئے گرافکس یا مصوری کا انداز، طباعتکاری کہلاتا ہے۔

طباعتکاری (Printmaking)

تاریخی اعتبار سے طباعتکاری کا آغاز کاغذ کی تیاری کے بعد چین سے ہوا اور اسکا اندازہ لگ بھگ 105ء لگایا جاتا ہے۔ چین کے بعد اس فن و طرز کو مسلمانوں نے ترقی دی اور بالاخر پندرھویں صدی میں یہ طرزیاتِ طباعت ، مسلمانوں سے ہوتی ہوئی یورپ میں پہنچ گئی۔ طباعت اور طباعتکاری میں فرق یہ ہے کہ طباعت میں تو ہر وہ شۓ آجاتی ہے کہ جو چھاپی جارہی ہو یعنی متن ، حروف اور تصاویر وغیرہ جبکہ عام طور پر طباعتکاری سے مراد مصورانہ اور فنکارانہ تصاویر کی چھپائی کی لی جاتی ہے۔

فن الخط[ترمیم]

انسانی کھوپڑی اور دماغ کا سہمی تراشہ دکھانے کیلیۓ فن الخط سے بنایا گیا طبی تفسیرہ (medical illustration) ایک عمدہ نمونہ۔

فن الخط (Line art)

فن الخط بھی ایک طرح کی گرافکس ہی ہے کہ جس میں ایک سادہ پسمنظر یا صفحے پر صرف لکیریں کھینچ کر تصاویر اجاگر کی جاتی ہیں یہ لکیریں یا خطوط سیدھے اور خمدار ، دائری اور چوکور غرض ہر سمت میں لگاۓ جاتے ہیں تاکہ تخیل کے مطابق ذوالعبادی یا سہ البعادی مناظر کا اظہار کیا جاسکے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]