فرعون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

فرعون کسی خاص شخص کا نام نہیں ہے بلکہ شاہان مصر کا لقب ہے جس طرح چین کے بادشاہ کو خاقان اور روس کے بادشاہ کو زار اور روم کے بادشاہ کو قیصر اور ایران کے بادشاہ کو کسریٰ کہتے تھے اسی طرح مصر کے بادشاہ کو فرعون کہتے تھے۔
فرعون اصل میں فارا، اَوْہ تھا، مصری زبان میں فارا محل کو کہتے ہیں اور اَوْہ کے معنی اونچا کے ہیں فارا اوہ کے معنی ہوئے اونچا محل، اس سے شاہ مصر کی ذات مراد ہوتی تھی[1]
لغوی معنی "عظیم محل" ہیں جس سے مراد بادشاہ کا محل تھاـ سمجھا جاتا تھا کہ تمام فرعون مصری دیوتاؤں کی اولاد ہیں ـ[2]

اردو انگریزی ہیروغلیف
فرعون pharaoh
O1
O29

یہودیت کے مطابق[ترمیم]

اسلام کے مطابق[ترمیم]

فرعون کا ذکر قرآن میں بنی اسرائیل کے قصہ میں آتا ہےـ فرعون کا تکبر تاریخ اور ادب میں مشہور ہےـ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو اپنی رسالت کی نشانیاں دکھائیں مگر اس نے ماننے سے انکار کیاـ جب بنی اسرائیل کو اللہ نے آزاد کیا اور جزیرہ نمائے سینا کی طرف لے گئے تو بالآخر فرعون پانی میں ڈوب کر مر گیا۔ (القرآن 10: 90 تا 92) مگر اس کا اللہ کے عذاب سے کوئی بچاؤ نہ رہاـ اس کا گناہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو خدا کے برابر سمجھا (القرآن 79: 20 تا 25) اور اس کے نتیجہ میں اللہ نے اس کو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنایاـ[3]

موسی کے فرعون کی شناخت[ترمیم]

جس فرعون کے زمانے میں حضرت موسیٰ پیدا ہوئے اور جس کے ہاں پرورش پائی وہ رمسیس ثانی تھا، جو اس وقت بہت بوڑھا ہو چکا تھا اس نے اپنے بیٹے منفتاح کو شریک حکومت کر لیا تھا جو اس کی ڈیڑھ سو اولادوں میں سے 13 تیرھویں نمبر پر تھا اور جو غرق ہوا وہ منفتاح نامی فرعون تھا فرعون کی فہرست میں کم از کم 14 نام موجود ہیں ـ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر جلالین ،جلال الدین سیوطی سورۃ یونس آیت83
  2. The Encyclopedia of World History. p. 30
  3. The New Encyclopedia of Islam p. 354