لیلۃ المبیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

لَـیْـلَـة ٱلْـمَـبِـیْـت اُس رات کا نام ہے جس میں علی ابن ابی طالب علیہ السلام بستر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آنحضرت کی حفاظت کے پیش نظر سو گئے تھے اور اس پر سورہ بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی تھی حسب روایات؛

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْرِىْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّـٰهِ ۗ وَاللّـٰهُ رَءُوْفٌ بِالْعِبَادِ (207)

یہ آیت مبارکہ آية لَـیْـلَـة ٱلْـمَـبِـیْـت کے نام سے معروف ہے اور اہل تشیع کے نزدیک امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کے فضائل میں نازل ہونے والی آیات میں سے اہم ترین ہے۔ [1]

یہ وہی رات ہے جس میں سرداران قریش نے جناب محمد بن عبد اللہ رسول خدا کو نعوذباللہ قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن علی ابن ابی طالب ان کے بستر پر سو گئے اور قریش کا یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔[2][3]

لیلۃ المبیت کا ماجرا[ترمیم]

جب کفار دین اسلام ، اس کی آفاقی دعوت اور روز بروز مسلمانوں کی بڑھتی تعداد سے خائف ہوئے تو نعوذ باللہ اس دین کا قلع قمع کرنے کے لیے دار الندوة میں صلاح مشورے کے لیے جمع ہوئے۔ وہاں یہ طے پایا کہ ہر قبیلے کا ایک ایک شخص مل کر نعوذباللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کر دیں۔ اس طرح کسی سے انفرادی طور پر قتل کا بدلہ نہیں لیا جائے گا اور سارے قبیلے مل کر خون بہا ادا کر دیں گے جو بہت آسان ہو گا۔ دارالندوہ میں یہ طے کر کے قریش کی ساری شاخوں میں سے ایک ایک آدمی اکٹھا ہوا اور رات کے وقت سب مل کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر پہنچے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو قریش کے اس منصوبے کی خبر کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے اس رات اپنے بستر پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سلا دیا اور خود اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اپنی مٹھی میں خاک بھر کر گھر کا معاصرہ کیے ہوئے قریشیوں پر پھینکی جس سے ان کی بصارت جاتی رہی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ان کا گھیرا توڑ کر نکل گئے۔ قریشیوں کو کچھ دکھائی دیا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے بستر مبارک حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سوئے ہیں۔ انھوں نے انہیں جگا کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے بارے میں دریافت کیا جس پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم نے لا علمی کا اظہار کیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اہنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو کفار اس انتہائی خطرناک سازش سے بچا لیا۔

حوالہ جات[ترمیم]