ام جمیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ام جمیل ابولہب کی بیوی اس کا اصل نام ارویٰ بنت حرب ہے۔جبکہ کنیت ام جمیل تھی،یہ ابوسفیان کی بہن تھی اور بھینگی تھی جس کی وجہ سےلقب عوراء (کانی) ہے اپنے بدبخت شوہرابولہب (عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب) کی طرح اس شقیہ کو بھی آنحضرت ﷺ سے سخت ترین عداوت تھی۔ حضور اکرم ﷺ کے خاندان کو دکھ اور اذیت پہنچانے میں سب سے آگے آگے ہوتی تھی۔ ابوبکرصدیق کی صاحبزادی اسماء بنت ابوبکرکا بیان ہے کہ جب یہ سورۃ اللہب نازل ہوئی اور ام جمیل نے اس کو سنا تو غصہ میں بھری ہوئی رسول اللہ ﷺ کی تلاش میں نکلی، اس کے ہاتھ میں پتھر تھے اور وہ حضور ﷺ کی ہجو میں اپنے ہی کچھ اشعار پڑھتی جا رہی تھی، جب حرم میں پہنچی تو وہاں ابوبکر صدیق کے ساتھ حضور تشریف فرما تھے ابوبکر نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ آرہی ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ ﷺ کو دیکھ کر کوئی بے ہودہ حرکت کرے گی، آپ ﷺ نے فرمایا مجھے دیکھ نہ سکے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آپ ﷺ کے موجود ہونے کے باوجود آپ ﷺ کو نہ دیکھ سکی، اور اس نے ابوبکر سے کہا میں نے سنا ہے کہ تمہارے صاحب نے میری ہجو کی ہے؟ ابوبکر نے کہا اس گھر کے رب کی قسم انہوں نے تیری کوئی ہجو نہیں کی، اس پر وہ واپس چلی گئی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیرجلالین ،جلال الدین السیوطی، سورہ اللہب