ہاجرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہاجرہ
ہاجرہ

معلومات شخصیت
پیدائش 2000 قبل مسیح
مصر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
مقام وفات مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شوہر ابراہیم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد اسماعیل

ہاجرہ (عبرانی: הָגָר؛ یونانی: Ἄγαρ Agar؛ لاطینی: Agar؛ عربی: هاجر) ابراہیم علیہ السلام کی زوجہ اور اسماعیل کے والدہ ماجدہ ہیں۔ ہاجرہ مصریہ کی اولادبنی اسمعیل کہلائی۔ اور آگے چل کر قریش اسی کی ایک شاخ پیدا ہوئی۔ ان کا وطن عرب رہا۔[1] یہ بادشاہ نے سارہ کو بطور خدمتگار دی فرعون مصر نے سارہ کو اپنی بیٹی جن کا نام ہاجرہ تھا، خدمت گزاری کے لیے دے دی تھی، سارہ نے یہی ہاجرہ ابراہیم کو عطا کر دیں اور ابراہیم نے ان سے نکاح کر لیا، انہی ہاجرہ کے بطن سے یہ صاحبزادے پیدا ہوئے اور ان کا نام اسماعیل رکھا گیا۔[2] ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابراہیم نے سارہ کے ساتھ ہجرت کی ان کو لے کر ایسی آبادی میں پہنچے جہاں باشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا ظالم حکمرانوں میں سے ایک ظالم حکمران رہتا تھا اس سے بیان کیا گیا کہ ابراہیم یہاں ایک خوبصورت عورت لے کر آئے ہیں آپ کے پاس اس نے ایک آدمی دریافت کرنے کو بھیجا کہ اے ابراہیم یہ عورت تمہارے ساتھ کون ہے آپ نے فرمایا میری بہن ہے پھر ابراہیم لوٹ کر سارہ کے پاس گئے اور کہا کہ میری بات کو جھوٹا نہ کرنا میں نے لوگوں کو بتایا کہ تو میری بہن ہے واللہ اس زمین پر میرے اور تیرے سوا کوئی مومن نہیں اور سارہ کو اس بادشاہ کے پاس بھیج دیا وہ بادشاہ سارہ کے پاس گیا وہ کھڑی ہوئیں اور وضو کر کے نماز پڑھی اور دعا کی کہ اللہ اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنی شرمگاہ کی بجز اپنے شوہر کے حفاظت کی ہے تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر تو وہ بادشاہ زمین پر گر کر خر اٹے لینے لگا یہاں تک کہ پاؤں زمین پر رگڑنے لگا۔ ابوہریرہ نقل کیا کہ سارہ نے کہا یا اللہ اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اس عورت نے اس کو قتل کیا اس کی یہ حالت جاتی رہی بادشاہ نے دوسری یا تیسری بار کہا کہ واللہ تم نے میرے پاس ایک شیطان کو بھیجا اس کو ابراہیم کے پاس لے جاؤ اور (ہاجرہ) لونڈی ان کو دیدو وہ لوٹ کر ابراہیم کے پاس گیئں تو کہا کہ آپ نے دیکھ لیا کہ اللہ نے اس کو ذلیل کیا اور ایک لونڈی خدمت کے لیے دلوائی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر ماجدی عبد الماجد دریابادی،البقرہ 40
  2. تفسیر معارف القرآن مفتی محمد شفیع،الصافات،101
  3. صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2127