ہاجرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ہاجرہ
ہاجرہ
پیدائش 2000 قبل مسیحمصر
وفات صحرائے پران
بچے اسماعیل

حضرت ہاجرہ (عبرانی: הָגָר؛ یونانی: Ἄγαρ Agar؛ لاطینی: Agar؛ عربی: هاجر) حضرت ابراہیم کی زوجہ اور حضرت اسماعیل کے والدہ ماجدہ ہیں۔ہاجرہ مصریہ کی اولادبنی اسمعیل کہلائی۔ اور آگے چل کر قریش اسی کی ایک شاخ پیدا ہوئی۔ ان کا وطن عرب رہا۔[1] یہ بادشاہ نے حضرت سارہ کو بطور خدمتگار دی فرعون مصر نے حضرت سارہ کو اپنی بیٹی جن کا نام ہاجرہ تھا، خدمت گزاری کے لئے دے دی تھی، حضرت سارہ نے یہی ہاجرہ حضرت ابراہیم کو عطا کردیں اور حضرت ابراہیم نے ان سے نکاح کرلیا، انہی ہاجرہ کے بطن سے یہ صاحبزادے پیدا ہوئے اور ان کا نام اسماعیل رکھا گیا۔[2] ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایاحضرت ابراہیم نے سارہ کے ساتھ ہجرت کی ان کو لے کر ایسی آبادی میں پہنچے جہاں باشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا ظالم حکمرانوں میں سے ایک ظالم حکمران رہتا تھا اس سے بیان کیا گیا کہ ابراہیم یہاں ایک خوبصورت عورت لے کر آئے ہیں آپ کے پاس اس نے ایک آدمی دریافت کرنے کو بھیجا کہ اے ابراہیم یہ عورت تمہارے ساتھ کون ہے آپ نے فرمایا میری بہن ہے پھر حضرت ابراہیم لوٹ کر سارہ کے پاس گئے اور کہا کہ میری بات کو جھوٹا نہ کرنا میں نے لوگوں کو بتایا کہ تو میری بہن ہے واللہ اس زمین پر میرے اور تیرے سوا کوئی مومن نہیں اور حضرت سارہ کو اس بادشاہ کے پاس بھیج دیا وہ بادشاہ حضرت سارہ کے پاس گیا وہ کھڑی ہوئیں اور وضو کر کے نماز پڑھی اور دعا کی کہ اللہ اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنی شرمگاہ کی بجز اپنے شوہر کے حفاظت کی ہے تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر تو وہ بادشاہ زمین پر گر کر خر اٹے لینے لگا یہاں تک کہ پاؤں زمین پر رگڑنے لگا ۔ابوہریرہ نقل کیا کہ سارہ نے کہا یا اللہ اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اس عورت نے اس کو قتل کیا اس کی یہ حالت جاتی رہی بادشاہ نے دوسری یا تیسری بار کہا کہ واللہ تم نے میرے پاس ایک شیطان کو بھیجا اس کو ابراہیم کے پاس لے جاؤ اور (ہاجرہ) لونڈی ان کو دیدو وہ لوٹ کر حضرت ابراہیم کے پاس گیئں تو کہا کہ آپ نے دیکھ لیا کہ اللہ نے اس کو ذلیل کیا اور ایک لونڈی خدمت کے لئے دلوائی۔ [3]

  1. تفسیر ماجدی عبدالماجد دریا آبادی،البقرہ 40
  2. تفسیر معارف القرآن مفتی محمد شفیع،الصافات،101
  3. صحیح بخاری:جلد اول:حدیث نمبر 2127