منافق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

منافق۔ اسم فاعل نفاق کرنے والا مرد۔ دورخی کرنے والا۔ یعنی زبان و عمل سے بظاہر مسلمان اور دل سے اسلام کے خلاف عقیدہ رکھنے والا۔ یہ نافقاء ونفقۃ سے ہے۔ جس کے معنی ہیں گوہ (جنگلی چوہا) کا بھٹ۔۔ جس کے کم از کم دو منہ ہوتے ہیں ایک دہانے سے گوہ اس میں داخل ہوتی ہے شکاری اس طرف متوجہ ہوتا ہے تو دوسرے سوراخ سے باہر نکل جاتی ہے (تبریزی) ۔ اصطلاح قرآنی میں نفاق اور منافقت اسی دورخی کا نام ہے بظاہر زبان سے آدمی مومن ہونے کا اقرار کرتا ہے اور دکھاوے کی نمازیں بھی پڑھتا ہے لیکن دل میں کافر رہتا ہے اسلام کے خلاف عقیدہ رکھتا ہے ایسے آدمی کو عرف شریعت میں منافق کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر عقیدہ مؤمنانہ ہو اور عمل کافرانہ تو دورخی کی ایک یہ بھی شکل ہوتی ہے ایک دروازے سے آدمی اسلام کے دائرے میں داخل ہوتا ہے اور دوسرے راستہ سے خارج ہوتا ہوا نظر آتا ہے لیکن قرآنی اصطلاح میں ایسے آدمی کو منافق نہیں کہا جاتا بلکہ فاسق اور عاصی کہا جاتا ہے (شرح عقائد نسفی) [1] منافق نفق سے ماخوذ ہے، جس کا معنی سرنگ ہے۔ اور بعض نے اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ لومڑی اپنے بل کے دو منہ رکھتی۔ ایک کا نام نافقاء اور دوسرے کا نام قاصعاء ہے۔ ایک طرف سے وہ داخل ہوتی ہے۔ جب کوئی شکاری اس کا تعاقب کرتا ہے تو دوسری طرف سے نکل جاتی ہے۔ اور اگر دوسری جانب سے اس کا کوئی تعاقب کرتا ہے تو پہلے سوراخ سے نکل جاتی ہے۔ کیونکہ اس کے بل کی ایک طرف کا نام نافقاء ہے، اسی سے منافق ماخوذ ہے۔ اس کے بھی دو پہلو ہیں ایک کفر جو اس کے دل میں ہے دوسرا ایمان جو اس کی زبان پر ہے۔ اگر کفر سے اسے کسی نقصان کا اندیشہ ہو تو وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے لگتا ہے۔ اور اگر اسلام کے باعث اسے کوئی تکلیف پہنچ رہی ہو تو فوراً اپنے کافر ہونے کا اعلان کردیتا ہے۔ یعنی وہ حقیقت میں عقیدے کا نہیں، مفاد کا آدمی ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کی زبان اور دل میں ہم آ ہنگی نہیں ہوتی۔ وہ دل میں اپنے مفادات کی پرورش کرتا رہتا ہے اور زبان پر اس بات کو لاتا ہے جس سے اس کے دل میں اگنے والی فصل کی آبیاری ہوسکے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انوار البیان فی حل لغات القرآن جلد4 صفحہ303 ،علی محمد، سورہ المنافقون، آیت1،مکتبہ سید احمد شہید لاہور
  2. تفسیر روح القرآن، ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی، المنافقون، آیت1