یوسف علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
یوسف علیہ السلام نبی اللہ
مکمل نام یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام
وجۂ وفات طبعی
مقام روضہ [[مسجد خلیل،فلسطین]]
والد کا نام یعقوب علیہ السلام
والدہ کا نام راحیل
آسمانی کتب نہیں
آسمانی صحائف نہيں
انبیاء میں شمار نامعلوم
تورات میں ذکر یوسف کے نام سے
زبور میں ذکر
انجیل میں ذکر انگریزی انجیل میں جازف سمیتھ (JOSEPH SMITH) کے نام سے
قرآن میں ذکر یوسف کے نام سے اور ایک پوری ‎سورۃ بھی آپ کے نام پر ہے



حضرت یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کے نبی تھے۔ آپ کا ذکر بایبل میں بھی ملتاہے۔ آپ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کا تعلق نبیوں کے خاندان سے تھا۔ گیارہ سال کی عمر سے ہی نبی ہونے کے آثار واضح ہونے لگے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام نے آپ کو اپنا خواب کسی اور کو سنانے سے منع کیا۔ قرآن مجید کی ایک سورت ان کے نام پہ ہے۔قران نےحضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص کہا ہے۔سورہ انعام اور سورہ غافر میں بھی ان کا ذکر آیا ہے۔ آپ نے 120 سال عمر پائی۔

مدفن[ترمیم]

یوسف

آپ مسجد خلیل میں اپنے باپ،دادا اور پردادا کے ساتھ دفن ہیں۔

واقعات[ترمیم]

حضرت یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کے نبی تھے انکے بھائی اس خواب کے بعد ان سے حسد کرنے لگے اور ایک دن ان کو اپنے ساتھ صحرا لے گئے ان کو ایک کنویں میں ڈال دیا اور اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ سلام کے پاس آئے اور کہا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور ان کا کرتا پیش کیا جس پر کسی جانور کا خون لگا کر لائے تھے ۔آپ ایک قافلے والوں کے ہاتھ کنویں سے نکالے گئے اور اسی قافلے والوں نے انھیں مصر لا کر عزیز مصر کو بطور غلام بیچ ڈالا عزیزِ مصر نے انھیں اچھی طرح رکھا اور کئی سالوں تک آپ انکے گھر پر رہے اور جوان ہو گئے جوانی اور خوبصورتی کے عالم میں عزیز مصر کی بیوی زلیخا حضرت یوسف علیہ وسلام کے عشق میں مبتلا ہو گئی اور چاہا کہ یوسف سے جنسی تعلق بنائے اور ان کو اپنے کمرے بلوایا خواہش کا اظہار یوسف سے کیا حضرت یوسف علیہ وسلام نے ان کی یہ خواہش رد کردی عزیزِ مصر کی بیوی نے زبر دستی کرنی چاہی تو حضرت یوسف علیہ وسلام دروازے کی طرف بھاگے اور خدائے پاک کے حکم سے ساتوں دروازے خودبخود کھلتے چلے گئے آخری دروازے پر انھوں نے عزیز مصر کو کھڑا پایا عورت نے جلد چالاکی سے کہا۔ جو تیرے گھر میں برائی کا ارادە کرے یا تو اُس کو قید کیا جائے اور یا سخت عذاب دیا جائے۔ حضرت یوسف علیہ اسلام نے فرمایا۔ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہ ہی مجھ کو اپنا مطلب پورا کر نے کے لیئے پھسلاتی تھی۔ اس موقع پر زلیخا کے خاندان کے ایک شیر خوار بچے نے گواہی دی۔ کہ قمیص اگر آگے سےپھٹی ہے۔تو عورت سچی ہے اور اگر قمیض پیچھے سے پھٹی ہے تو یوسف سچا اور عورت جھوٹی ہے۔ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کا معجزە تھا کہ دودھ پیتاگہوارہ میں جھولتا ہوا بچہ الله کے حکم سے بول اُٹھا۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ چار بچوں نے الله کے حکم سے کلام کیا۔ فرعون کی مشاطہ کے لڑکے نے۔ حضرت یوسف کے گواە نے۔ حضرت عیسٰی نے اپنی والدە کی پاکدامنی بیان کی جس کا ذکر سورە مریم میں ہے۔ اور بنی اسرائیل کے ایک بزرگ جریح پر اس طرح کی تہمت لگی تو ایک نوزائیدە بچے نے گواہی دی۔ زلیخا بادشاە وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی۔ لیکن اس واقعے کی خبر شہر بھر میں مشہور ہوگئی۔ شہر کی عورتوں نے زلیخا پر طن و تشنیع شروع کردی۔ چند عورتوں نے کہا دیکھو وزیر کی بیوی اپنے نوکر پر جان دے رہی ہے۔ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں ہے۔ اصل میں حضرت یوسف علیہ السلام کے حُسن کی شہرت پورے مصر میں پھیل چکی تھی۔ اصل میں ان کو بھی حضرت یوسف علیہ السلام کے دیدار کا شوق تھا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے۔ (شہر کی عورتوں نے کہا کہ عزیز کی بیوی اپنےجوان غلام کو اپنا مطلب نکالنے کےلئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے۔ اسکے دل میں حضرت یوسف علیہ السلام کی محبت بیٹھ گئی ہے۔ وە صریح غلطی میں ہے۔) زلیخا نے جب انکی اس فریب والی غیبت کا حال سُنا تو زلیخا نے انکو بلایا۔ اور ان کے لئے مجلس مرتب کی۔ اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چُھری اور سامنے پھل رکھ دیئے۔ جن کو وە کاٹ کر کھائیں۔ جیسا کہ قرآن میں ہے۔ (اور ان میں سے ہر ایک کو چُھری دی اور کہا زلیخا نے کہ اے یوسف ان کےسامنے نکل آوٴ۔پھر جب ان عورتوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھاتو بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور زبان سے نکلا پاکی ہے الله کو یہ تو انسان نہیں یہ تو یقیناً

کوئی بڑا بزرگ فرشتہ ہے۔)

حضرت یوسف علیہ السلام زلیخا کے کہنےپر جب کمرے سے باھر نکلے تو انکے رعب و جلال اور جمال سے بےخود ہوگئیں۔اور ان تیز چُھریوں سے پھل کاٹنے کی جگہ اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ پھر زلیخا نے حضرت یوسف سے کہا چلے جاوٴ۔حضرت یوسف علیہ السلام وآپس کمرے میں آگئے۔ پھر زلیخا نے کہا کہ دیکھا تم تو ایک دفعہ یوسف کےجمال کو برداشت نہ کرسکیں بتلاوٴ میرا کیا ہوا ہوگا۔ اس پر سب عورتوں نے زلیخا سے معافی مانگی۔ حدیث میں ہے۔کہ شبِِ معراج میں تیسرے آسمان پر حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم کی حضرت یوسف علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ جس کو آدھا حُسن دیا گیا تھا۔ایک اور حدیث میں ہے۔کہ حُسن کے تین حصے کیے گئے اور ایک حصہ یوسف علیہ السلام اور ایک انکی والدە کو دیا گیا اور ایک حصہ پوری دُنیا میں تقسیم کیا گیا۔

شجرہ نسب[ترمیم]

آدم علیہ السلام
چند پشتیں اور
تارخ یا آزر
ابراہیم علیہ السلام (پردادا)
اسحاق علیہ السلام (دادا)
یعقوب علیہ السلام(باپ)
یوسف(ع) دس بھائی اور ایک بہن

حوالہ جات[ترمیم]