یوسف علیہ السلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یوسف علیہ السلام
یوسف علیہ السلام
Joseph of Islam.png
وجہ وفات طبعی (120 سال کی عمر مین وفات)
قبر مسجد خلیل، فلسطین
والد یعقوب علیہ السلام
والدہ راحیل
آسمانی کتابوں میں ذکر بائبل و قرآن میں یوسف کے نام سے



یوسف علیہ السلام اللہ تعالٰی کے نبی تھے۔ آپ کا ذکر بایبل میں بھی ملتاہے۔ آپ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ آپ کا تعلق نبیوں کے خاندان سے تھا۔ گیارہ سال کی عمر سے ہی نبی ہونے کے آثار واضح ہونے لگے۔ آپ نے خواب میں دیکھا کہ گیارہ ستارے، سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ آپ کے والد حضرت یعقوب علیہ السلام نے آپ کو اپنا خواب کسی اور کو سنانے سے منع کیا۔ قرآن مجید کی ایک سورت ان کے نام پہ ہے۔قران نےحضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو احسن القصص کہا ہے۔سورہ انعام اور سورہ غافر میں بھی ان کا ذکر آیا ہے۔ آپ نے 120 سال عمر پائی۔

زندگی

خواب

آپ نے 12 سال کی عمر میں خواب میں دیکھا کہ آپ ایک سونے کے تحت پر بیٹھے ہیں اور سورج ، چاند اور دس ستارے آپ کو سجدہ کر رہے ہیں آپ نے یہ خواب اپنے والد محترم یعقوب(ع) کو سنایا خواب سننے کے بعد یعقوب(ع) نے آپ کو یہ خواب اپنے بھائیوں اور ہر کسی کو سنانے سے منع کیا۔۔

حسدِ برادران

یوسف(ع) کی سوتیلی ماں لیاہ نے یہ خواب چپکے سے سن لیا اور یہ خواب کے کے بھائیوں کو سنا دیا اور اس پر آپ کے ایک بھائی یہودا نے کہا :- خواب میں سورج چاند ستارے مطلب یہ کہ سورج کو باپ چاند کو ماں اور دس ستارے یعنی ہم دس بھائی ہیں یعنی یوسف ہمیں خود سے حقیر سمجھتا ہے اور بابا کو ہم سے چھیننا چاہتا ہے۔۔۔ انکے بھائی اس خواب کے بعد ان سے حسد کرنے لگے اور ایک دن ان کو اپنے ساتھ صحرا لے گئے (صحرا کعنان سے تین میل دور ایک مقام ہے) انہوں نے یوسف(ع) کو مار مار کر زخمی کر دیا اور آپ کے ایک بھائی یہودا نے تو خنجر نکال کر قتل کرنے کی بھی کوشش کی اس پر آپ کے سب سے بڑے بھائی لاوی نے اپنے بھائیوں کو منع کیا اور اپ کے زخموں سے خون صاف کرنے لگ گئے پھر لاوی نے اپنے بھائیوں سے یوسف کو چھوڑدینے اور گھر واپس لے جانے کی بات کی اس پر انہرں نے لاوی کو بھی قتل کرنے کی دھمکی دی پھر لاوی نے ان سے کہا یوسف کو گھر مت لے کر جاؤ اور نہ ہی قتل کرو بلکہ اسے یہاں سے دور بھگا دو اس پر وہ سارے بھائی یوسف(ع) کو لے کر صحرا کے ایک سب سے نمکین پانی والے اور گہرے کنویں کی طرف لے گۓ اور یوسف(ع) کو اس میں ڈال دیا اورآپ کی قمیض اتار کر اس پر بکری ذبح کر کے اس کا خون لگا دیا اور اپنے والد محترم حضرت یعقوب علیہ سلام کے پاس گھر واپس چلے گۓ گھر پہنچنے کے بعد جب یعقوب(ع) نے دریافت کیا کہ یوسف کہاں ہے تو وہ سارے بھائی زمین پر گھٹنوں کے بل بیٹھ کر رونے لگے اور یعقوب(ع) کو وہ خون الود قمیض دیکھا کر کہنے لگے کہ ہم یوسف کو سامان کے پاس چھوڑ کر کھیل رہے تھے جب شام ہوئ تو ہم نے سوچا کہ اب واپس جانا چاہیے جب واپس مڑ کر دیکھا تو یوسف کو بھیڑیا کھا گیا تھا ۔ اس پر اپ وہ قمیض لے کرروتے روتے اپنے حجرے میں چلے گۓ اور کچھ ہی لمحے بعد باہر اۓ اور فرمانے لگے کہ اگر یوسف کو بھیڑیا کھا گیا ہے تو یوسف کی قمیض کیوں نہیں پھٹی۔ اس کے بعد ان بھائیوں کے پاس کوئی جواب نہ تھا کچھ دیر بعد یہودا نے کہا بابا ہم تو خود اس بات پر حیران ہیں پھر یعقوب(ع) نے فرمایا کہ اے میری اولاد توبہ کرلو وہ اللہ سب جانتا ہے ۔ اس کے بعد یعقوب(ع) کافی عرصہ اپنے بیٹوں سے ناراض رہے یہاں تک کے ان کی اولادیں بھی ہو گیئں۔اور نکل مقانی کر کے ان سے علاحدہ ہوگۓ۔

قافلے والے

آپ ایک قافلے والوں کے ہاتھ کنویں سے نکالے گئے اور اسی قافلے والوں نے انھیں مصر لا کر عزیز مصر کو بطور غلام بیچ ڈالا عزیزِ مصر نے انھیں اچھی طرح رکھا اور کئی سالوں تک آپ انکے گھر پر رہے اور جوان ہو گئے جوانی اور خوبصورتی کے عالم میں عزیز مصر کی بیوی زلیخا حضرت یوسف علیہ وسلام کے عشق میں مبتلا ہو گئی اور چاہا کہ یوسف سے جنسی تعلق بنائے اور ان کو اپنے کمرے بلوایا خواہش کا اظہار یوسف سے کیا حضرت یوسف علیہ وسلام نے ان کی یہ خواہش رد کردی عزیزِ مصر کی بیوی نے زبر دستی کرنی چاہی تو حضرت یوسف علیہ وسلام دروازے کی طرف بھاگے اور خدائے پاک کے حکم سے ساتوں دروازے خودبخود کھلتے چلے گئے آخری دروازے پر انھوں نے عزیز مصر کو کھڑا پایا عورت نے جلد چالاکی سے کہا۔ جو تیرے گھر میں برائی کا ارادە کرے یا تو اُس کو قید کیا جائے اور یا سخت عذاب دیا جائے۔ حضرت یوسف علیہ اسلام نے فرمایا۔ معاملہ اس کے برعکس ہے۔ یہ ہی مجھ کو اپنا مطلب پورا کر نے کے لیے پھسلاتی تھی۔ اس موقع پر زلیخا کے خاندان کے ایک شیر خوار بچے نے گواہی دی۔ کہ قمیص اگر آگے سےپھٹی ہے۔تو عورت سچی ہے اور اگر قمیض پیچھے سے پھٹی ہے تو یوسف سچا اور عورت جھوٹی ہے۔ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کا معجزە تھا کہ دودھ پیتاگہوارہ میں جھولتا ہوا بچہ الله کے حکم سے بول اُٹھا۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ چار بچوں نے الله کے حکم سے کلام کیا۔ فرعون کی مشاطہ کے لڑکے نے۔ حضرت یوسف کے گواە نے۔ حضرت عیسٰی نے اپنی والدە کی پاکدامنی بیان کی جس کا ذکر سورە مریم میں ہے۔ اور بنی اسرائیل کے ایک بزرگ جریح پر اس طرح کی تہمت لگی تو ایک نوزائیدە بچے نے گواہی دی۔ زلیخا بادشاە وقت ریان بن ولید کی بھانجی تھی۔ لیکن اس واقعے کی خبر شہر بھر میں مشہور ہوگئی۔ شہر کی عورتوں نے زلیخا پر طن و تشنیع شروع کردی۔ چند عورتوں نے کہا دیکھو وزیر کی بیوی اپنے نوکر پر جان دے رہی ہے۔ عزیز کی بیوی صریح غلطی میں ہے۔ اصل میں حضرت یوسف علیہ السلام کے حُسن کی شہرت پورے مصر میں پھیل چکی تھی۔ اصل میں ان کو بھی حضرت یوسف علیہ السلام کے دیدار کا شوق تھا۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہے۔ (شہر کی عورتوں نے کہا کہ عزیز کی بیوی اپنےجوان غلام کو اپنا مطلب نکالنے کےلئے بہلانے پھسلانے میں لگی رہتی ہے۔ اسکے دل میں حضرت یوسف علیہ السلام کی محبت بیٹھ گئی ہے۔ وە صریح غلطی میں ہے۔) زلیخا نے جب انکی اس فریب والی غیبت کا حال سُنا تو زلیخا نے انکو بلایا۔ اور ان کے لئے مجلس مرتب کی۔ اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں چُھری اور سامنے پھل رکھ دیئے۔ جن کو وە کاٹ کر کھائیں۔ جیسا کہ قرآن میں ہے۔ اور ان میں سے ہر ایک کو چُھری دی اور کہا زلیخا نے کہ اے یوسف ان کےسامنے نکل آوٴ۔پھر جب ان عورتوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دیکھاتو بڑا جانا اور اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور زبان سے نکلا پاکی ہے الله کو یہ تو انسان نہیں یہ تو یقیناً کوئی بڑا بزرگ فرشتہ ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام زلیخا کے کہنےپر جب کمرے سے باھر نکلے تو انکے رعب و جلال اور جمال سے بےخود ہوگئیں۔اور ان تیز چُھریوں سے پھل کاٹنے کی جگہ اپنے ہاتھ کاٹ لیے۔ پھر زلیخا نے حضرت یوسف سے کہا چلے جاوٴ۔حضرت یوسف علیہ السلام وآپس کمرے میں آگئے۔ پھر زلیخا نے کہا کہ دیکھا تم تو ایک دفعہ یوسف کےجمال کو برداشت نہ کرسکیں بتلاوٴ میرا کیا ہوا ہوگا۔ اس پر سب عورتوں نے زلیخا سے معافی مانگی۔

حسن و جمال

حدیث میں ہےکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :

جب دنیا بنی تو حُسن کے تین حصے کیے گئے جن میں سے ایک حصہ یوسف علیہ السلام ایک انکی والدە کو دیا گیا اور ایک حصہ پوری دُنیا میں تقسیم کیا گیا۔

اس سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ یوسف(ع) کتنے حسین تھے۔

شجرہ نسب

آدم علیہ السلام
چند پشتیں اور
تارخ یا آزر
ابراہیم علیہ السلام (پردادا)
اسحاق علیہ السلام (دادا)
یعقوب علیہ السلام(باپ)
یوسف(ع) دس بھائی اور ایک بہن

دیگر حالاتِ زندگی

یوسف علیہ السلام بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم کا دین اسلام کی آسمانی کتاب قرآن پاک میں تذکرہ آیاہے۔اندازا ہے کہ انکی بعثت کا زمانہ سترھویں صدی قبل مسیح تھا۔ یہ وہی حضرت یوسف عہ ہیں جن کا ذکر یہودیوں کی کتاب تنک اور عیسائیوں کی مقدس کتاب بائبل میں بطور یوسف علیہ السلام آیا ہے۔ یوسف نام مشرق وسطیٰ میں مستعمل ایک نام ہے جبکہ تمام عالم اسلام بھی اس کو استعمال کیاجاتاہے۔ حضرت یعقوب کے تمام بیٹوں میں سے صرف حضرت یوسف کو ہی مقام نبوت سے سرفراز کیاگیاتھا۔ اگرچہ دیگر انبیاء کا تذکرہ قرآن کی مختلف سورتوں میں تھوڑا تھوڑا آیاہے تاہم حضرت یوسف عہ کے ذکر سے مزین ایک مکمل سورۃ جس کانام سورۃ یوسف ہے میں آیاہےتاکہ انکے واقعات کو خاص اہمیت دی جاسکے۔ گو کہ سارا قرآن پاک اہمیت کے حامل واقعات و دروس پر مبنی ہے۔ قرآن پاک میں حضرت یوسف عہ کی زندگی کے اہم ترین واقعات کو تفصیل سے بیان کیاگیاہے کہ کسی دیگر نبی کا اس قدر تفصیلی تذکرہ نہیں ہے اسی طرح بائبل سے زیادہ تفصیل بابت حضرت یوسف عہ قرآن پاک میں دستیاب ہے۔ علماء کے نزدیک حضرت یوسف اپنے والد یعقوب عہ کے گیارھویں اور لاڈلے فرزند تھے۔
ابن کثیر کے بیان کے مطابق حضرت یعقوب کے بارہ بیٹے تھے اور بنی اسرائیل میں ان سب کے ناموں سے قبیلے موسوم تھے تاہم ان سب قبائل میں سے سب سے عظیم، بہتر اور خاص قبیلہ بنی یوسف ہے۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات