قصور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Kasur
قصور
Punjab Dist Kasoor.svg
ملک پاکستان
صوبہ پنجاب
ضلع قصور
رقبہ
 • کل 3,995 کلو میٹر2 (1,542 مربع میل)
بلندی 218 میل (715 فٹ)
آبادی (2007)
 • کل 288,181
 • کثافت 595/کلو میٹر2 (1,540/مربع میل)
منطقۂ وقت PST (یو ٹی سی+5)
Calling code 049
ویب سائٹ قصور

قصور صوبہ پنجاب پاکستان کا ایک قدیم ضلع قصور کا مرکزی شہر اور ضلعی دارالحکومت ہے۔ضلع کا درجہ حاصل کرنے سے پہلے یہ لاہور کی ایک تحصیل تھی، یکم جولائی 1976 ءکو ضلع لاہور سے تحصیل قصور کو علیحدہ کر کے ضلع کادرجہ دے دیاگیا ۔جو لاہور سےجنوب کی طرف55کلومیٹر دور واقع ہے۔یہ شہر ہماری ملی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہے جس نے اسلامی تہذیب و تمدن اور مسلم ثقافت کی ترقی اور اس کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔قصورلاہور سے بہت مشابہت رکھتا ہے، لاہور پاکستان کا دل ہے تو قصور اس کی آنکھ ہے۔

قصور شہر اپنی مزیدار مٹھائیوں اور مسالے دار مچھلی کی وجہ سے مشہور ہے۔ کھانے پینے کے حوالے سے قصوریوں کی حسِ ذائقہ نہایت قابلِ رشک ہے،ملک بھر میں قصوری فالودہ کی ایک جداگانہ شناخت ہونے کے ساتھ ساتھ قصوری اندرسا، بھلے پکوڑیاں، اوجڑی اور ناشتے میں دہی قلچہ نہایت مرغوب سمجھے جاتے ہیں۔ ملنساری، زندہ دلی اور محنت یہاں کے لوگوں کے امتیازی اوصاف ہیں۔

قصورکاگنڈا سنگھ والابارڈر مشہور ہے ،ہےاس کا تقسیم ہند سے قبل قصور کے مضافاتی قصبات میں شمار ہوتا تھا۔یہاں پرپاکستان اور بھارت کی مشترکہ پرچم کشائی کی تقاریب ہوتیں ہیں،جب کہ اس بارڈر کے دوسری طرف بھارت کا شہر فیروزپور ہے اسی طرح۱۹۶۵ء کی پاک بھارت جنگ میں فتح ہونے والابھارتی شہر کھیم کرن بھی ہے ،یہاں پر ایک بڑی ٹینکوں کی جنگ کے مقام کی وجہ سے ٹینکوں کا قبرستان بھی کہا جاتا ہے۔

قصورکا لفظ عربی زبان کے لفظ قصر کی جمع ہے جس کا معنی محل ہوتا ہے ،قصورشہر کو سب سے پہلے پٹھان امرا نے آباد کیا اور یہاں پر اپنے خاندانوں کی رہائش کے لئے علیحدہ علیحدہ قلعہ نما محل بنا لئے ، انہی محلات کی وجہ سے قصورکا نام معرض وجود میں آیا،پہلے زمانے میں ان کے بڑے بڑے دروازے تعمیر کیے گئے تھے، اب ان کے صرف آثار باقی ہیں یہ محلات بعد میں کوٹ کے نام سے مشہور ہوئے بہت سے کوٹ اب بھی انہی پرانے ناموں کے ساتھ موجود ہیں۔مثلاً کوٹ حلیم خاں ، کوٹ فتح دین خاں ، کوٹ عثمان خاں ، کوٹ غلام محمد خاں ، کوٹ رکن دین خاں ،کوٹ مراد خاں ،کوٹ اعظم خاں ، کوٹ بدردین خاں ، کوٹ پیراں ، کوٹ بڈھا ،کوٹ میربازخاں ، کوٹ شیربازخاں ، دھوڑکوٹ ، روڈ کوٹ اور کوٹ علی گڑھ وغیرہ۔

قصور جنکشن ریلوے اسٹیشن شہر کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔تقسیم ہند سے پہلے قصور بذریعہ ریل امرتسر،فیروزپور سے ملا ہوا تھا مگر اب یہ ریلوے لائن ختم کر دی گئی ہے اور اس کازیادہ تعلق بذریعہ سڑک اور ریل لاہور شہر سے قائم ہے ، یہاں کی زیادہ تر نقل و حمل اور تجارت لاہور ہی سے منسلک ہے ، لاہور سے کراچی جانے والے ریلوے ٹریک پر رائے ونڈ جنکشن ریلوے اسٹیشن سے قصور کے لئے ایک ریلوے لائنعلیحدہ ہوتی ہے جو قصور شہر سے گزرتی ہوئی براستہ کھڈیاں خاص اور کنگن پور ضلع قصور سے نکل کر لودھراں جا پہنچتی ہے ،جبکہ 1910ء میں قصورسے لودھراں تک ریلوے ٹریک مکمل ہوا ۔اس کے علاوہ 1883 ءمیں رائے ونڈ سے گنڈا سنگھ والاتک ریلوے لائن بچھائی گئی ۔ قصورشہر کے مشرقی حصے سے فیروزپور روڈ گزرتی ہے جو لاہور سے شروع ہو کر براستہ گنڈا سنگھ والا فیروزپور تک جاتی ہے ،تقسیم ہند کے بعد یہ سڑک بین الاقوامی پاک بھارت سرحد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے ، یہ شاہراہ قصور شہر سے لاہور تک تقریباً 55 کلومیٹر اور بھارتی شہر فیروزپور تک 25 کلومیٹر ہے ۔

قصور کا عجائب گھر فیروزپور روڈ پر ضلعی کمپلیکس کے سامنے واقع ہے،جس کا قیام 1999 ء میں عمل میں آیا،قصور عجائب گھر میں تاریخ کے مختلف ادوار اور ثقافت کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں،اس میں آثار قدیمہ کے متعلق چکوال سے دریافت شدہ پرانے درختوں اور ہڈیوں کے نمونے رکھے گئے ہیں ،جن کی عمر کا اندازہ 88 لاکھ سے ایک کروڑ سال تک کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ہڑپہ اور چکوال کے دیگر تاریخی مقامات کی کھدائیوں سے ملنے والے پکی مٹی کے برتن، ٹھیکریاں، انسانی و حیوانی مورتیاں، اوزان کے پیمانے اور باٹ کے علاوہ گندھارا عہد کے متعلق بدھا اور ہندو دیوتاؤں کے مجسمےبھی رکھے گئے ہیں۔

صدیوں پرانی روایت پارچہ بافی کے یہاں کے جولاہے (انصاری) وارث ہیں۔ اس صنعت میں کپڑے کی قسم 'بافتہ' کو خاص امتیاز حاصل ہے جس میں ایک ریشم کے تار کے ساتھ سوت کے ایک تار کو بُنا جاتا ہے،گرم اوڑھنیوں میں یہاں کے جولاہے کھیس بنانے میں خاص کمال رکھتے ہیں۔

قصور چمڑے کی صنعت کے اعتبار سے ایک اہم شہر ہے،جانوروں کی کھال سے چمڑا تیار کرنے کی قدیم صنعت بھی قصورشہرکی خاص شناخت ہے۔چمڑے کی صنعت کی وسعت اور قدامت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ صدیوں سے تازہ گیلی کھال سے ماس اور خون کی باس نکالنے، بالوں کی صفائی وغیرہ سے لے کر قابلِ استعمال سوکھے چمڑے کی تیاری تک کے مراحل میں جو خاص کیمیاوی مواد برتا جاتا ہے، اس سے قصورکی زمین کے نیچے موجود پانی نہایت آلودہ ہو چکا ہے۔اس پانی کو پینے اور دیگر ضروریات میں استعمال کرنے کی وجہ سے قصورمیں کینسر کے مریضوں کی شرح ملک بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ یہاں پانی کا ایک بڑا ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کیا گیا ہےجو شہر بھر کو پینے کا صاف پانی مہیا کرتا ہے۔ اس اقدام کی وجہ سے صورتِ حال کی سنگینی میں بہت کمی واقع ہوئی۔

مشہور شخصیات[ترمیم]

قصور لاہور موٹروے[ترمیم]

قصور لاہور موٹر وے کا افتتاح جنرل پرویز مشرف نے کیا۔ یہ چھ لائن پر مشتمل ہےاور شہباز شریف کی سرکردگی میں تکمیل کو پہنچی۔ درحقیقت یہ پاکستان کی خوبصورت ترین سڑکوں میں سے ایک ہے۔ اس کے بنانے کا اہم مقصد بھارت کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا تھا۔ [1]

قصور کے کوٹ[ترمیم]

قصور شہر کو بارہ کوٹوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ اب ےہ شہر کافی پھیل چکا ہے، تا ہم یہ کوٹ اب بھی موجود ہیں۔ پہلے زمانے میں ان کے بڑے بڑے دروازے تعمیر کیے گئے تھے، اب ین کے صرف آثار ہی باقی ہیں۔ ان کے نام ذیل میں ہیں:

  • کوت غلام محمدخان
  • کوت عثمان خان
  • کوت حلیم خان
  • کوت رکن دین خان
  • کوت فتح دین خان
  • کوت اعظم خان
  • کوت بدر دن خان
  • دھور کوٹ
  • روڈ کوت
  • کوٹ مراد خان
  • کوٹ امیر باز خان

قصور کے قصبے[ترمیم]

کوٹلی رائے ابو بکر
قصبہ
کوٹلی رائے ابو بکر is located in پاکستان
کوٹلی رائے ابو بکر
کوٹلی رائے ابو بکر
متناسقات: 30°56′56″N 73°44′36″E / 30.94889°N 73.74333°E / 30.94889; 73.74333متناسقات: 30°56′56″N 73°44′36″E / 30.94889°N 73.74333°E / 30.94889; 73.74333
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان
پاکستان کی انتظامی تقسیم پنجاب، پاکستان
پاکستان کے اضلاع ضلع قصور
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (یو ٹی سی+5)

کوٹلی رائے ابو بکر

کوٹلی رائے ابو بکر پاکستان کاایک قصبہ ہے جو صوبہ پنجاب کے ضلع قصور میں واقع ہےاس کا شمارآبادی اور رقبے کے اعتبار سے ضلع قصور کے بڑے اور مشہور و معروف قصبات میں ہوتا ہے۔ کوٹلی رائے ابو بکر محل وقوع کے اعتبار سے قصورشہر سے 22 کلو میٹر کے فاصلہ پر مغرب میں اور کوٹ رادھا کشن کے مشرق میں واقع ہے۔اس کے شمال میں رائے ونڈ اورجنوب میں کھڈیاں خاص ہے۔ پنجاب کا ایک قدیم دریائے بیاس اب موجود نہیں ہے لیکن اس کی پرانی گزر گاہ کے آثار مشرق سے مغرب کی طرف ضلع قصور کے وسط میں اب بھی موجود ہیں جس نے قدرتی طور پر اس علاقے کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے ، اس گزر گاہ کا شمالی علاقہ جنوبی علاقے کی نسبت اونچا ہے جس کی اوسط اونچائی تقریباً ساڑھے پانچ میٹر ہے ، شمالی علاقہ اونچا ہونے کی وجہ سے ماجھا اور جنوبی علاقہ ہٹھاڑ کہلاتا ہے ،کوٹلی رائے ابو بکرقصور قدیم شہرکی طرح ماجھا کے جنوب مغربی سرے پر آباد ہے ۔

اس قصبہ میں اہل سنت کےتینوں مسالک اہل حدیث ، دیوبندی اور بریلوی کے لوگ رہتے ہیں ،جب کہ آبادی اور مساجد کے اعتبار سے اہل حدیث مسلک کی اکثریت ہے، جب کہ باقی مسالک کی ایک ایک مسجدہے ۔مادری زبان پنجابی ہے، یہاں کے تمام لوگوں کا تعلق راجپوت برادری سے ہے، اس کے ساتھ ایک کوٹ ہے جہاں ملک کھوکھر برادری رہتی ہے۔ دال پورہ کے نام سے دوسرا کوٹ ہے جو مہاجر برادری پر مشتمل ہے،اس کے علاوہ لوہار ، ترکھان ، کمہار ، موچی اور جولاہے وغیر ہ بھی آباد ہیں۔ اس قصبہ میں لڑکوں کے لئے گورئمنٹ ہائی اسکول ، لڑکیوں کے لئے گورنمنٹ مڈل اسکول کا م کر رہے، اس کے علاوہ ہسپتال ،یونین کونسل بھی موجود ہے۔یہاں کے اکثر لوگوںکاپیشہ زراعت ہے اور ایک کثیر تعداد سرکاری و غیر سرکاری ملازمت سے بھی منسلک ہے۔