بورے والا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(بورے والہ سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
بورے والا
Burewala
شہر
Asif home - panoramio.jpg
بورے والا Burewala is located in پنجاب، پاکستان
بورے والا Burewala
بورے والا
Burewala
بورے والا Burewala is located in پاکستان
بورے والا Burewala
بورے والا
Burewala
متناسقات: 30°9′33″N 72°40′54″E / 30.15917°N 72.68167°E / 30.15917; 72.68167متناسقات: 30°9′33″N 72°40′54″E / 30.15917°N 72.68167°E / 30.15917; 72.68167
ملکFlag of Pakistan.svg پاکستان
صوبہپنجاب
بلندی133 میل (436 فٹ)
آبادی (2010)
 • کل209,343
منطقۂ وقتپاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)

بورے والا (Burewala)(بوریوالا، بورے والہ، بوریوالہ) جنوبی پنجاب، پاکستان میں ضلع وہاڑی کا ایک شہر ہے۔ 2000ء کے مطابق بورے والا پاکستان کا اکتیسواں بڑا شہر ہے‎-‎اسے city of sports and education ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ کیونکہ ملتان سے لاہور تک کے طویل فاصلہ میں سوائے ایک شہر ساہیوال کے کوئی بھی شہر اس کی کامیابیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ تعلیمی لحاظ اس میں گورنمنٹ ایم سی بوائز ہائی سکول سمیت لڑکوں کے تین اور طالبات کے چھے سرکاری ہائی سکول ہیں جس میں تازہ ترین اضافہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول عربیہ اسلامیہ مرضی پورہ کا ہے۔ اس کے علاوہ بوائز و گرلز ڈگری کالجز ، ایرڈ یونیورسٹی سب کیمپس، اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سب کیمپس موجود ہیں۔ جبکہ پاکستان میں کام کرنے والے تقریباً تمام نجی سکولز اور کالجز کی شاخیں اس شہر کی شان بڑھا رہی ہیں۔کھیلوں میں بھی یہ شہر کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔اعلی تعلیم کے لیے بورے والا میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کا ایک سب کیمپس موجود ہے- اس وقت جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو بورے والا ضلع بناؤ تحریک بہت زور وشور سے جاری ہے اور امید ہے کہ آنے والے کچھ سالوں میں اس کی قسمت کا فیصلہ ہو جائے گا۔ فی الحال بورے والا کے شہری متفقہ طور پر یہ چاہتے ہیں کہ بورے والا کو ضلع بنا کر ساہیوال ڈویژن میں شامل کیا جائے۔

زبان[ترمیم]

مقامی زبان پنجابی ہے، اردو قومی زبان ہونے کی وجہ سے ہر جگہ بولی اور سمجھی جاتی ہے

تاریخ[ترمیم]

1925ء معرض وجود میں آنے والی چند گھرانوں پر مشتمل آبادی آج اپنی صنعتی اور زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ اپنے محل وقوع ملتان ،وہاڑی ، لاہور اور قصور کو آپس میں ملانے والی سڑک پر واقع ہونے کی وجہ سے ایک بڑے اور شاندار شہر کا روپ دھار چکی ہے گزرے دنوں کے اوراق الٹ پلٹ کے دیکھیں تو معلوم پڑتا ہے کہ جہاں آج ریلوے اسٹیشن کی عمارت موجود ہے اس کے ساتھ ایک شخص کی جھگی ہوا کرتی تھی اس کا نام بورا سنگھ تھا اس کے ساتھ ایک تالاب تھا جس کا پانی مخلوق خدا کے کام آتا تھا، 1927ء میں انگریز نے یہاں رائے ونڈ ، قصور ، پاکپتن ،لودھراں تک ریلوے لائن بچھائی پھر ریلوے اسٹیشن تعمیر کیا تو اس جگہ کا نام اسی بورا سنگھ کے نام کی نسبت سے بورے والا رکھا گیا ۔

بورے والا دہلی ملتان روڈ پر واقع ہے۔ دریائے ستلج بورے والا کے قریبی قصبات جملیرا اور ساہوکا کے پاس سے گزرتا ہے۔ بورے والا سے 18کلومیٹر کے فاصلے پر دیوان صاحب میں حضرت بابا حاجی دیوان چاولی مشائخ کا مزار بهی واقع ہے۔ آغاز میں بورے والا کی جگہ پر جنگل تھا جسے مقامی بلوچ قبائل نے آباد کیا۔ پاکپتن نہر کے بننے کی وجہ سے زراعت میں اس علاقے نے ترقی کی جس کے نتیجے میں یہاں گاؤں کے گاؤں آباد ہو گئے زمین کو کاشتکاری کے قابل بنانے کے لیے جنگل کو کاٹ دیا گیا۔ چونکہ یہ علاقہ پاکپتن نہر کے مشرقی نہر ڈویژن (Eastern Canal Division ) اس لیے اس علاقے میں موجود چکوک کے نام کے ساتھ ای بی (EB) لگایا جاتا ہے (جیسے 148EB). بورے والا کے شمالی طرف دریائے بیاس کی پرانی گزرگاہ ہے جو سکھ بیاس کے نام سے معروف ہے۔ یہ ضلعی صدر مقام وہاڑی سے 35 کلومیٹر مشرق کی جانب دہلی ملتان روڈ پر واقع ہے۔ بورے والہ پنجاب کی دوسری سب سے بڑی تحصیل ہے۔یہاں حضرت بابا حاجی دیوان چاولی مشائخ کےمزار کے قریب سکھ مذہب کے روحانی پیشوا بابا گرو نانک صاحب کی بیٹھک موجود ہے جہاں انہوں نے 3 سال چلہ کاٹا ہے اور پاکستان کے کرکٹ کھلاڑی وقار یونس اور محمد عرفان کا تعلق بورے والا سے ہے اور دنیا کے سب سے بڑے اردوکے موٹیویشنل سپیکر راشد غفار شاکر بھی بورے والا سے تعلق رکھتے ہیں،

مزید دیکھیں[ترمیم]