ایبٹ آباد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ایبٹ آباد
(City of Umar Gillani)
ایبٹ آباد
شملہ پہاڑی سے ایبٹ آباد کا منظر
شملہ پہاڑی سے ایبٹ آباد کا منظر
لوا خطا ماڈیول:Location_map میں 427 سطر پر: "پاکستان" is not a valid name for a location map definition۔
متناسقات: 34°9′21″N 73°13′10″E / 34.15583°N 73.21944°E / 34.15583; 73.21944متناسقات: 34°9′21″N 73°13′10″E / 34.15583°N 73.21944°E / 34.15583; 73.21944
Country Flag of پاکستان پاکستان
صوبہ Flag of خیبر پختونخوا خیبر پختونخوا
ضلع ایبٹ آباد
بنیاد 1863ء
بلندی 1,256 میل (4,121 فٹ)
آبادی
 • کل 1,430,238
منطقۂ وقت PST (یو ٹی سی+5)
Calling code 0992
Number of Union Councils 6[1]
ویب سائٹ http://www.abottabad.gov.pk
Abbottabad District Government

ایبٹ آباد، ضلع ایبٹ آباد کا صدر مقام اور صوبہ خیبر پختونخوا پاکستان کا ایک اہم شہر ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 4120 فٹ ہے۔ راولپنڈی سے 101 کلومیٹر دور یہ پاکستان کا پرفضا مقام ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق اس شہر کی آبادی 881,000 افراد پر مشتمل ہے اور 94 فیصد افراد کی مادری زبان ہندکو انسانی رشتوں کو مد نذر رکھا جاے تو ظاہر ہنے کہ ایرانیوں نی یہ نام ہندوستان کے پہاڑوں پر بسنے والوں کے رویہ کو .انڈیا کے اونچے مکامات پر رہنے والے لوگوں کے طرز حیات کا نام رکھا جو وقت کے لوگ پسند کرنے لگے . ایرانی چونکہ پباروں پر آباد گھر دیکھ کر . انکے رہن سہن دیکھ کر . اور فروانی و سادگی دیکھ کر . ایران جا کہتے تھے کے . پہاڑوں پر لوگ آباد ہیں . ایران میں اتنے اونچی چوٹیاں ہیں ہے نہیں . اور ان کا طرز زندگی اپنا ہنے . بہت بڑھی زمین کے باوجود دریا نہیں ہیں .ایران میں جہاں پانی نکلا زمین وہیں شہر آباد ہوا اور کاریز کے پانی کو جانے ہی نہ دیا .جب ہندوستان اینے اور بے شمار دریا ہونے کے باوجود بلند مقآم پر بولی جانے والی زبان کو ہندکی کھتے تھے . ان تمام علاقوں کے نام . جسے پہتھی دا میرا . جہاں بتھی ہے .جوگنی یہ نام درختوں والی بلند چوٹی کا ہنے . ترے ہدہ . جہاں تین حدود ملتی ہیں . مندروچھ . مطلب نیچی سطح پر جبہ جہاں پانی امنڈتا ہنے . اب ہندکی ایبٹ آباد حری پور . مانسہرہ .آوگی .مردان میں . اور یہی زبان کیی دوسرے ناموں سے . کہیں گوجری اور کہیں سرآیکی کہلاتی ہنے . ضلح کوہاٹ بنوں اور پشاور کے لوگ اسے ہندکی ہی کہتے ہیں . دور ہونے کے باوجود طرز زندگی میں مماثلت ہوتی ہنے . نہ صرف پاک و ہند میں بلکے کشمیر میں بھی اس زبان کو سب ہی سمجھتے ہیں . زبان کوئ بھی ہو . علاقوں کی وجھ تسمیہ معلوم ہو تو ایک طرح کا تعارف ہو جاتا ہنے . جسے انگریز مطلب گریز نہ کرنے والے . فرنچ مطلب اپنایت والے .جرمن مطلب غور فکر والے .اسے طرح . اس پر توجہ کی ضرورت ہنے

تعلیمی ادارے[ترمیم]

ایبٹ آباد میں کئی مشہوراسکول اور تعلیمی ادارے ہیں۔ برطانوی دور حکومت میں قائم شدہ آرمی برن ہال کالج اور پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول ان میں اہم تعلیمی ادارے ہیں جو کہ فوجی اور سول تعلیم کے لئے پاکستان میں شہرت رکھتے ہیں۔پاكستان كے شہر كراچی كو جس طرح روشنيوں كا شہر كہا جاتا ہے اسي طرح ايبٹ آباد كو بھی اسكولوں كا شہر كہا جاتاہے۔تعليمی سرگرميوں ميں ہميشہ پيش پيش رہا۔ صوبہ خیبر پختونخوا كےہر علاقے سے ہر سال یہاں سينكڑوں بچے پڑھنے آتے ہیں.

سیر و تفریح[ترمیم]

ایبٹ آباد اپنے پرفضا مقامات کی وجہ سے پورے پاکستان میں مشہور ہے۔ مشہور قراقرم ہائی وے ایبٹ آباد ضلع کے مقام ہری پور سے شروع ہوتی ہے۔ سر سبز مقامات سے گھرے ہونے کی وجہ سے گرمیوں میں بھی موسم خوشگوار ہوتا ہے۔ ہنزہ، گلگت، سکردو جانے کے لئے ایبٹ آباد ایک جنکشن کا کام دیتا ہے۔

یہ علاقہ چار چھوٹی پہاڑیوں پر مشتمل ہے اور سابق صدر پاکستان جناب ایوب خان کے نام پر اس علاقے کانام ایوبیہ رکھا گیا۔ یہ علاقہ 26 کلومیٹر پر مشتمل ہے اور علاقے کی سیر کے لئے چیر لفٹ ہے جس سے علاقے کا نظارہ کیاجا سکتا ہے۔ 

ٹھنڈیانی، جس کا مطلب مقامی زبان میں سرد ہے ایک اہم تفریحی مقام ہے۔ پائن درختوں کے جھنڈ میں یہ ایک سطح مرتفع پر مشتمل پرفضا مقام ہے۔ سطح سمندر سے اس کی بلندی 2700 میٹر ہے۔ ایبٹ آباد شہر سے اس کی دوری 31 کلومیٹر ہے اور ایبٹ آباد سے آسانی کے ساتھ وہاں پہنچا جا سکتا ہے۔ شام کے وقت ایبٹ آباد شہر کی روشنیاں وہاں سے صاف دکھائی دیتی ہیں۔ مشرق کی طرف دریائے کنہار کے پرے کشمیر کی برفیلی پہاڑیان نظر آتی ہیں۔ ايبٹ آباد شہر كے علاوہ اس كے گاؤں بھی صاف اور پرفضاء ہين .ايبٹ آباد كے مشہور گاؤں ميں مالسہ جو کہ ایک وادی نما خطہ ہے بہت خوبصورت ہے۔ ايك ستوڑہ گاؤں ہے. جو ايبٹ آباد سے 15 كلو ميٹركے فاصلہ پر ہے . یہ چاروں طرف سےخوبصورت پہاڑوں کے درمیان واقع ہے یہ پیالہ نما وادی ہے یہ ضلع اایبٹ آبادکا سب سے بڑا گاؤں ہے وادی ستوڑہ میں قوم کڑال کے لوگ آباد ہیں۔ میران جانی ضلع کا سب سے اونچا مقام ہے-

  1. "URL accessed 5 April 2006". Nrb.gov.pk. 28 October 2005. Retrieved 28 January 2012.