مندرجات کا رخ کریں

ضلع صوابی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ضلع صوابی
ضلع صوابی
صوابۍ ولسوالۍ
ضلع of خیبر پختونخوا
Top: Sunset at Jalbai at مینی
Bottom: Kunal River
Swabi District (red) in خیبر پختونخوا
Swabi District (red) in خیبر پختونخوا
ملک پاکستان
صوبہ خیبر پختونخوا
ڈویژنمردان
ہیڈکوارٹرصوابی
حکومت
 • قسمضلع Administration
 • ڈپٹی کمشنرNasr Ullah Khan
 • ضلعی پولیس آفیسرAzhar Khan
 • ضلعی ہیلتھ آفیسرDr Abdul Latif
رقبہ
 • Total1,543 کلومیٹر2 (596 میل مربع)
آبادی (2023ء)[1]
 • Total1,894,600
 • کثافت1,200/کلومیٹر2 (3,200/میل مربع)
 • شہری339,670 (17.93%)
 • دیہی1,554,930 (82.07%)
Literacy[2]
 • Literacy rate
  • کل:
    58.48%
  • مرد:
    72.34%
  • خواتین:
    44.50%
منطقۂ وقتپاکستان میں وقت (UTC+5)
تحصیلوں کی تعداد4
ویب سائٹswabi.kp.gov.pk
صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع صوابی کا محل وقوع

خیبر پختونخوا کا ایک ضلع اور تحصیل۔ صوابی اپنے ضلعي صدر مقام کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ جون 1988 تک یہ ضلع مردان کا حصہ تھا۔ بعد ميں یہ ضلع مردان سے علاحدہ ہو گیا۔ یہ ضلع چار تحصیلوں پر مشتمل ہے۔ قبائلی علاقہ گدون بھی اس میں شامل ہے۔ اس علاقے نے بڑے جرار، نامور اور پیر مولانا دوست محمد بارکزئ

بڑے عالم و فاضل پیدا کیں۔ اس کے علاوہ صوابی کی موجودہ تاریخ کرنل شیر خان شہید کے ذکر کے بغیر نا مکمّل ہے۔

ضلع صوابی مُلکي سطح پر ايک زرخيز زمين ہے۔ جو گنے، مکئی، گندم اور تمباکو کي فصل کيلئے بہت زيادہ مشہور ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے يہاں چيني اور تمباکو کے کارخانے موجود تھے۔ پورے صوبہ خیبر پختونخوا ميں چيني اور تمباکو کے کارخانوں کا انحصار اس ضلع کي پيداوار پر ہے۔ ضلع کا بيشتر حصہ ديہي نوعيت کا ہے۔ ليکن حکومت کي

گدون آمازئی کا صنعتی علاقہ بھی علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حال ہي میں غلام اسحق خان انسٹيٹيوٹ ٹوپي کے قيام نے علاقے کي ترقي کو مزيد چار چاندلگاديئے ہيں۔ دوسرے آبپاشي والے اضلاع کي طرح اس ضلع کو بھي سيم و تھور کا خطرہ لاحق ہے۔ اس معاشي مسئلہ کے سدباب کيلئے صوابي سکارپ کافي عرصہ سے کوشاں ہے۔ یہاں کے لوگ بہت مہمان نواز اور نڈر لوگ ہیں۔

شماريات

[ترمیم]
  • ضلع کا کُل رقبہ 1543 مربع کلوميٹر ہے۔
  • یہاں في مربع کلومیٹر 873 افراد آباد ہيں
  • سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 1253000 تھی
  • دیہي آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ہے۔
  • کُل قابِل کاشت رقبہ87050 ہيکٹيرزھے

شخصیات

[ترمیم]

مشہور شخصیات کے نام یہ ہیں:

آثار قدیمہ

[ترمیم]

خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے تقریباً دو ہزار سال پرانے بدھ مت تہذیب کے اب تک کے سب سے بڑے آثار دریافت کرلیے۔

ڈائریکٹر محکمہ آرکیالوجی اینڈ میوزیم ڈاکٹر عبد الصمد کے مطابق صوابی کے گاؤں باہو ڈھیری میں چھ ماہ قبل غیر قانونی کھدائی کی اطلاعات ملنے کے بعد سرکاری سطح پر اس علاقے میں کام شروع کیا گیا۔ کھدائی کے دوران ماہرین کو بدھ مت تہذیب کے آثار ملے جو 18 سے 19 سو سال پرانے ہیں۔

مزید پڑھیے

[ترمیم]
  1. "{{subst:PAGENAME}} rate, enrolments, and out-of-school population by sex and rural/urban, CENSUS-2023, KPK" (PDF)