ضلع دیر زیریں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع دیر زیریں کا محل وقوع
چاول کے کھیت


لوئر دیر یا دیرِ زیریں پاکستان کے صوبےخیبر پختونخوا کا ایک ضلع ہے ۔دیر زیریں پاکستان کے بہت سے خوبصورت علاقوں میں بھی شمار ہے۔دیر زیریں اسلام آباد سے 265 کلومٹر اور پشاور سے تقریبا 180 کلو مٹر شمال میں واقع ہے۔

تاریخ[ترمیم]

ریاست دیر ایک نوابی ریاست ہوتی تھی جو اب دیر زیریں اور دیر بالا میں تقسیم کیا گیا ہے۔اس پر نوابوں کا راج ہوا کرتا تھا ۔ برطانوی راج کے وقت میں اسے اس کے وارثوں کو ہی سپرد کیا گیا تھا اور قریب ایک صدی سے زیادہ نوابوں کا محکوم رہا۔پھر جب یہ پاکستان کے ساتھ مل گیا تو اسے 1970 ميں ملاکنڈ ڈويژن ميں ضم کر دياگيا۔ يہ ضلع خوبصورت مناظر، جنگلات، معدني دولت اور محنت کش افرادي قوت کي وجہ سے پہچانا جاتا ہے۔ لوئرديرکو اگست 1996 ميں ملاکنڈ ڈويژن کے ايک عليحدہ ضلع کي حيثيت دي گئي۔ہلوئرديردو سب ڈویژن تیمرگرہ اور جندول پر مشتمل ہے۔ذرائع معاش ميں کھيتي باڑي اورتجارت کو مرکزي حيثيت حاصل ہے۔

منظرِ عام اور سیر و تفریح[ترمیم]

موسم بہار کے دوران وادی میدان،لوئر دیر کا ایک دلکش منظر
دیر زیریں میں ایک ندی

دیر ایک خوبصورت وادیوں کا مجموعہ جو مشرق میں سوات ،مغرب-جنوب میں قبائلی علاقہ جات ، شمال میں دیر بالا سے لگا ہوا ہے اور جنوب میں مالاکنڈ سے۔صوبہ خیبر پختونخوا کے 26 ضلعوں میں سے ایک اہم ضلع ہے۔ یہاں کے مناظر دلکش اور خوشگوار ہیں۔اب و ہوا بالکل تندرست اور پانی بالکل میٹھا اور قدرتی ہے۔یہاں فصلیں بھی اُگتی ہیں جن میں گندم،جوار یا مکھئ ،اور چاول اہم فصلیں ہیں۔یہاں کے عوام سو فیصد مسلمان ہیں اور یہاں پر پشتو زبان بولی جاتی ہے۔

لوئر دیر پاکستان کے دیگر شمالی علاقوں کی طرح ایک خوبصورت جاہ ہے جوکہ سرسبز وادیوں پہ مشتمل ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومتِ پاکستان نے یہاں بھی پاکستان کے دوسرے علاقوں کی طرح، کسی قسم کی سہولیات کی فراہمی یقینی نہیں بنائی ہے جس کی وجہ سے یہاں پہ سیر و تفریح کو فروغ نہیں ملتا۔ پشاور اور دیر کے دیگر آس پاس کے علاقوں سے تو یہاں لوگ سیروتفریح کے لئے آتے ہیں لیکن پاکستان کے دیگر صوبوں اور بین الاقوامی سطح سے آمد و رفت کم ہے جس کو فروغ دینے کہ ضرورت ہے۔

شماریات[ترمیم]

ضلع کا کُل رقبہ 1583 مربع کلوميٹر ہے۔

یہاں في مربع کلو میٹر 570 افراد آباد ہيں

سال 2004-05ميں ضلع کي آبادي 903000 تھی

دیہی آبادي کا بڑا ذریعہ معاش زراعت ,جنگلات اور ماہی گيری ہے۔

کُل قابِل کاشت رقبہ 116910 ہيکٹيرز ہے

مزید دیکھئے[ترمیم]