تیمرگرہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Viw of Timergara in Summer. JPG.jpg
Timergara.jpg

تیمرگرہ پاکستان کے ضلع دیر زیریں کاضلعی صدر مقام ہے۔ تیمرگرہ دریائے پنجکورہ کے مشرقی کنارے پر واقع ہے۔ دیر زیریں میں سب سے بڑا بازار تیمرگرہ ہھی ہے- تیمرگرہ کے نام کے بارے میں یوں تو بہت سے افسانے موجود ہیں مگر کچھ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جب امیر تیمور ہندوستان پر حملہ کرنے کی غرض سے جا رہا تھا تو اس کا گزر اِس علاقے سے ہوا اور يہاں امیر تیمور نے اپنی فوجوں کے آرام و سکون کے لئیے پڑاؤ ڈالا تھا تو اس وجہ سے اس علاقے کا نام تیمورگرہ پڑ گیا جو کے بعد میں رفتہ رفتہ تبدیلی کیوجہ سے تیمرگرہ بن گیا۔ اور دوسرا یے بھی کہا جاتا ہے کہ امیر تیمور ترک تھا تو فارسی میں (تیمور) کو (تیمر) بولا جاتا تھا کیونکہ اُردو زبان بہت بعد میں ایجاد کی گئی جبکہ تیمور کا زمانہ بہت پہلے کا ہے۔

ماحولیات و تاریخ[ترمیم]

قدیم تاریخ[ترمیم]

تیمرگرہ میں کچھ قدیم مقبرے بھی موجود ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ قبریں آریہ لوگوں کی ہیں اور ان کا زمانہ 1500 سے 600 قبل مسیح عیسوی بتایا جاتا ہے۔

سیاحت[ترمیم]

سیاحت کے لیے یوں تو بہت سی جگہ ہیں مگر تیمرگرہ سے 5 یا 4 کیلومیٹر پشاور کیطرف آتے ہوئے سدو ملیگی جہاں ایک قوم عمر خیل آباد ہیں۔ انہی کے آباواجداد سے ملی ہوئی کمرانی کے پہاڑیاں ہیں جو سیاحوں کے توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے مگر جنگلات کے بے دریغ کٹائی اس قدرتی حسین نظاروں کو خاصا متاثر کر رہی ہیں۔

تیمرگرہ سے تقریباً 30-35 کلومیٹر دور لڑم ٹاپ ہے جو دیر زیریں کی سب سے ہائی الٹیچیوڈ پہاڑی مانی جاتی ہے جو تحصیل ادینزئی میں آتی ہے۔

تیمرگرہ سے ثمرباغ کیطرف جائیں تو شاہی بن شاہی کے خوبصورت جنت نظیر وادیاں آپکی منتظر ہوں گے جہاں کی یخ بستہ ہوائیں آپکو اپنے حسن کے اسیر بنا دیں گے۔

تیمرگرہ کے ارد گرد پہاڑیوں کا حسن بھی ہر زبان پہ عام ہے جسے explore کرنے کی اور صوبائی حکومت کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن تاحال صوبہ کے وزیر اعلیٰ دیر کے استحصال میں لگے ہوئے ہیں ایسا مقامی لوگوں کا ماننا ہے۔

تجارت[ترمیم]

تیمرگرہ نوابی دور کے بعد سے بہت آگے بڑھ رہا ہے اور تجارت میں اول فہرست پہ زمین کی خرید و فروخت اور ساتھ ساتھ گاڑیوں کا کاروبار عروج پر ہے مگر آج کل یہ کاروبار بھی ماندا پڑھ گیا ہے کیونکہ تیمرگرہ اور اردگرد مکینوں کا زیادہ تر انحصار بیرون ملک خاص کر سعودیہ عرب پہ ہے اور وہاں کی پابندیوں کے باعث یہاں کا کاروبار خاصی متاثر ہوا ہے۔