مندرجات کا رخ کریں

ہندو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ھندو
اوم, ہندو لوگوں کا ایک علامتی نشان
اوم, ہندو لوگوں کا ایک علامتی نشان
Early-20th-century painting by M. V. Dhurandhar of Hindu devotees in satsanga and listening to the pravachana of the پران
کل تعداد
1.2 billion worldwide (2023) Increase[1][2][3][4]
(15% of the global's population[5])
گنجان آبادی والے علاقے
بھارتبھارت میں ہندومت[6][7][1][2][8]
نیپالنیپال میں ہندومت[2][9][10]
بنگلہ دیشبنگلہ دیش میں ہندومت[11][12][13][14][15][16]
پاکستانپاکستان میں ہندومت[17]
انڈونیشیا4,728,924[18][19][20][21]
ریاست متحدہ امریکا3,230,000[22]
سری لنکاسری لنکا میں ہندومت[2][23]
ملائشیا1,949,850[24][25]
متحدہ عرب امارات1,239,610[26]
مملکت متحدہ1,030,000[2][27]
کینیڈیا828,100[28]
آسٹریلیا684,000[29]
ماریشس670,327[30][31]
جنوبی افریقا505,000[32]
سعودی عرب451,347[33]
سنگا پور280,000[34][35]
فیجی261,136[36][37]
میانمار252,763[38]
ترینیداد اور توبیگو240,100[39][40][41]
گیانا190,966[42]
بھوٹان185,700[43][44]
اٹلی180,000[45]
نیدرلینڈز160,000[46]
فرانس150,000[47]
روس143,000[48]
سورینام128,995[49]
نیوزی لینڈ123,534[50]
مذاہب
ہندو مت
(سناتن دھرم)
[51][52][53][54][55]
مقدس کتب
  • شروتی
اسمرتی
[56][57][58][59][60]
زبانیں
Predominant spoken languages:
[55][62]

ہندو (جنھیں سناتنی بھی کہا جاتا ہے) ایسے لوگ ہیں جو مذہبی طور پر ہندو مت کے پیروکار ہیں، جسے اس کے اندورنی نام سناتن دھرم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔[63][64][65] تاریخی طور پر یہ اصطلاح جغرافیائی، ثقافتی اور بعد میں مذہبی شناخت کے طور پر برصغیر کے رہائشیوں کے لیے بھی استعمال ہوئی۔[66][67]

لفظ ہندو کی اصل اوستائی زبان کی کتاب وندیداد تک پہنچتی ہے جس میں سات دریاؤں کی سرزمین کو ہپتا ہندو کہا گیا ہے جو سنسکرت کے لفظ سپت سندھو (سات دریاؤں کی سرزمین) سے ہم معنی ہے۔ (سپت سندھو کا ذکر رگ وید میں آتا ہے اور یہ شمال مغربی بھارت کے اس خطے کے لیے استعمال ہوتا تھا جہاں سات بڑے دریا بہتے تھے۔) یونانی زبان میں اسی کا ہم معنی "Indus" (دریا کے لیے) اور "India" (ملک کے لیے) ہے۔[68][69][70] اسی طرح عبرانی زبان میں ہم معنی لفظ ہود-دو (הֹדּוּ) عبرانی بائبل (استر 1:1) میں بھارت کے لیے استعمال ہوا ہے۔ اصطلاح "ہندو" ابتدا میں دریائے سندھ کے اردگرد یا اس سے آگے کے باشندوں کی جغرافیائی، نسلی یا ثقافتی شناخت کے لیے بھی استعمال ہوتی تھی۔[71] سولہویں صدی عیسوی تک یہ لفظ ان برصغیر کے باشندوں کے لیے استعمال ہونے لگا جو ترک یا مسلمان نہ ہوں۔[71][ا]

ہندی آبادی کے اندر مذہبی یا ثقافتی معنوں میں ہندو شناخت کی تاریخی نشو و نما غیر واضح ہے۔[66][72] بعض محققین کے مطابق ہندو شناخت برطانوی راج کے دوران ابھری، جبکہ دیگر کے مطابق یہ آٹھویں صدی عیسوی کے بعد برصغیر میں مسلم فتوحات اور ہندوستان میں مسلم حکمرانی کے اثرات سے بنی۔[72][73][74] تیرہویں سے اٹھارہویں صدی کے درمیان بعض سنسکرت ادب اور بنگالی ادب کے متون میں لفظ ہندو اور اس شناخت کا ذکر ملتا ہے۔[73][75] چودھویں تا اٹھارویں صدی کے بھارتی شعرا جیسے ودیاپتی، کبیر (صوفی شاعر)، تلسی داس اور ایک ناتھ نے ہندو دھرم (ہندومت) کی اصطلاح استعمال کی اور اسے ترک دھرم (اسلام) کے مقابل رکھا۔[72][76] مسیحی مبلغ سیبستیاو منریک نے 1649 میں لفظ "ہندو" کو مذہبی معنی میں استعمال کیا۔ [77] اٹھارویں صدی میں یورپی تاجر اور نوآبادیاتی مصنفین نے دھرمی ادیان کے پیروکاروں کو مجموعی طور پر ہندو کہا، جبکہ مسلمانوں کے لیے محمدن کی اصطلاح استعمال کی۔[66][71] انیسویں صدی کے وسط تک نوآبادیاتی متون میں ہندوؤں کو بدھ مت، سکھ اور جین مت سے الگ بیان کیا جانے لگا،[66] تاہم نوآبادیاتی قوانین بیسویں صدی کے وسط تک ان سب کو ہندو کے دائرے میں شمار کرتے رہے۔[78][ب]

تقریباً 1.2 ارب کی آبادی کے ساتھ ہندو دنیا کے بڑے مذہبی گروہ میں عیسائی اور مسلمان کے بعد تیسرے نمبر پر ہیں۔ ان میں سے تقریباً 96.6 کروڑ (عالمی ہندو آبادی کا 94.3%) بھارت میں ہندومت کے پیروکار ہیں (مردم شماری 2011 کے مطابق)۔[80] بھارت کے بعد سب سے بڑی ہندو آبادی والے ممالک (کم ہوتے ترتیب میں) یہ ہیں: نیپال میں ہندومت، بنگلہ دیش میں ہندومت، انڈونیشیا میں ہندومت، پاکستان میں ہندومت، سری لنکا میں ہندومت، ریاستہائے متحدہ میں ہندومت، ملائیشیا میں ہندومت، متحدہ عرب امارات میں ہندومت اور برطانیہ میں ہندومت۔[81] یہ ممالک دنیا کی 99% ہندو آبادی پر مشتمل ہیں، جبکہ بقیہ دنیا میں مجموعی طور پر تقریباً 60 لاکھ ہندو بمطابق 2010 پائے جاتے ہیں۔[81] لفظ ہندو ایک بیرونی نام (Exonym) ہے۔[82][83] یہ لفظ ہند آریائی زبانیں[84] اور سنسکرت[84][70] کے لفظ سندھو سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں ’’بڑا آبی ذخیرہ‘‘، یعنی دریا یا سمندر۔[85][پ] یہ لفظ دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اصل اصطلاح ہندو پہلی مرتبہ، گیون فلڈ کے مطابق، ایک فارسی جغرافیائی نام کے طور پر پانچویں صدی قبل مسیح کے داریوش اول کے کتبے میں ظاہر ہوتی ہے، جس کا مطلب تھا ’’ان لوگوں کے لیے جو دریائے سندھ (سنسکرت: سندھو) کے پار رہتے ہیں‘‘۔ [70][86] داریوش اول (518–515 قبل مسیح) کے ایک کتبے میں ہِدو [ہندو] کو ماتحت ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی طرح پرسیپولس کے ایلامی زبان کے مٹی کے کتبوں میں ہی-اِن-تو (ہند) کا ذکر ملتا ہے، جو اس خطے کے جغرافیائی مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔ یونانی مورخ ہیروڈوٹس نے بھی اپنی تصنیف ہسٹوریا (III، 91، 94، 98–102) میں اس لفظ کو "انڈوئی" کے طور پر استعمال کیا، کیونکہ یونانی رسم الخط میں حرف ’’ہ‘‘ کی آواز موجود نہ تھی۔ [86]

وجہ تسمیہ

[ترمیم]

خطہ پنجاب، جسے ویدوں میں سپت سندھو کہا گیا ہے، ژند میں ہپتا ہندو کہلاتا ہے۔ چھٹی صدی قبل مسیح کے کتبے میں بھی ہنْدُش نامی صوبے کا ذکر آتا ہے جو شمال مغربی بھارت کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ [87][88][89] آٹھویں صدی کے متن چچ نامہ میں بھارتی عوام کو ہندوان اور بھارتی زبان کے لیے ہندوی کا صفتی لفظ استعمال ہوا ہے۔ [89] ڈی این جھا کے مطابق قدیم ریکارڈز میں لفظ ہندو ایک نسلی-جغرافیائی اصطلاح تھی اور اس کا تعلق کسی مذہب سے نہیں تھا۔ [90]

بالی، انڈونیشیا میں ہندو ثقافت۔ ڈنپسار میں بھگود گیتا سے متاثر کرشن-ارجن کا مجسمہ (اوپر) اور روایتی لباس میں ہندو رقاصائیں۔

لفظ ہندو کے مذہبی مفہوم کے ابتدائی معروف شواہد ساتویں صدی عیسوی کے چینی متن ہیون سانگ کا سفرنامہ ہند میں ملتے ہیں جو بدھ مت کے عالم ہیون سانگ (Xuanzang) نے تحریر کیا۔ ژوان زانگ نے اس کا ماخوذ لفظ ان-تو (In-tu) استعمال کیا جس کے بارے میں اروند شرما لکھتے ہیں کہ اس میں ’’مذہبی معنویت اُبل کر آتی ہے‘‘۔ [91] ژوان زانگ نے اس لفظ کو ایک ایسے ملک کے لیے استعمال کیا جو چاند کے نام سے موسوم ہے، تاہم دوسرے بدھ مت عالم یی جنگ (بھکشو) نے اس رائے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان-تو اس ملک کا عام نام نہیں تھا۔ [92]

ابو ریحان بیرونی کی گیارھویں صدی کی تصنیف تاریخ الہند اور سلطنت دہلی کے عہد کی تحریروں میں لفظ ہندو تمام غیر مسلم باشندوں (مثلاً بدھ مت کے پیروکاروں) کے لیے استعمال ہوا اور اس میں ’’علاقہ یا مذہب‘‘ کی دوہری معنویت باقی رہی۔ [87][تصدیق کے لیے حوالہ در کار] ہندوستانی مؤرخ رومیلا تھاپر کے مطابق درباری تواریخ میں ’’ہندو‘‘ برادری مسلمانوں کے مقابل ایک غیر واضح ’’دیگر‘‘ کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ موازنہ ادیان کے ماہر ولفریڈ کینٹ ویل اسمتھ کے مطابق یہ اصطلاح ابتدا میں جغرافیائی تھی: ’’ہندی‘‘، ’’مقامی‘‘، ’’اہلِ وطن‘‘۔ رفتہ رفتہ ہندوستانی گروہوں نے خود کو حملہ آوروں سے ممتاز کرنے کے لیے یہ لفظ اپنانا شروع کیا۔ [93]

چند بردائی کی تصنیف پرتھوی راج راسو (1192ء میں پرتھوی راج چوہان کی شہاب الدین غوری کے ہاتھوں شکست) میں متعدد جگہ ’’ہندو‘‘ اور ’’ترک‘‘ کے تذکرے ملتے ہیں اور ایک مقام پر لکھا ہے کہ ’’دونوں مذاہب نے اپنی خم دار تلواریں سونت لیں‘‘، تاہم اس متن کی تاریخ مشکوک ہے اور اکثر محققین کے نزدیک یہ بعد کا ہے۔ [94] اسلامی ادب میں عبد الملک عصامی کی فارسی تصنیف فتوح السلاطین (1350ء، بہمنی سلطنت) میں لفظ ہندی نسلی و جغرافیائی معنوں میں ’’ہندوستانی‘‘ کے لیے اور ہندو مذہبی پیروکار کے لیے آیا ہے۔ [94] شاعر ودیاپتی کی کیرتی لاتا (1380ء) میں لفظ ’’ہندو‘‘ واضح مذہبی مفہوم میں آیا ہے، جس میں ہندوؤں اور ترکوں (مسلمانوں) کے میل جول اور باہمی طنز و مزاح کا ذکر ہے۔ [95] اسی دور میں سلسلہ نقشبندیہ کے صوفی مراکز قسطنطنیہ میں اکثر ’’ہندولر تکّے سی‘‘ (Hindular Tekkesi) کہلاتے تھے۔[96][97]

یورپی زبانوں میں مذہبی مفہوم میں لفظ ’’ہندو‘‘ کے اولین استعمالات میں سے ایک 1649ء میں ہسپانوی زبان میں سیبستیان منریکے کی اشاعت میں ملتا ہے۔ [77] بھارتی مؤرخ ڈی۔ این۔ جھا کے مطابق: ’’چودھویں صدی سے پہلے کوئی ہندوستانی خود کو ہندو نہیں کہتا تھا۔ ‘‘ ان کے بقول ’’برطانویوں نے یہ لفظ ہندوستان سے اخذ کیا، اسے نیا معنی و اہمیت دی اور بطور ایک متعین مظہر (Hinduism) دوبارہ ہندوستان میں رائج کیا۔ ‘‘[98] اٹھارہویں صدی میں یورپی تاجروں اور نوآبادیاتی حکمرانوں نے برصغیر کے تمام مقامی مذاہب کے پیروکاروں کے لیے اجتماعی طور پر ’’ہندو‘‘ کی اصطلاح استعمال کرنا شروع کی، یہاں تک کہ انیسویں صدی میں ابراہیم لودھی کو بھی انسائیکلوپیڈیا امیریکانہ (1829ء) میں ’’ہندو شہنشاہ‘‘ کہا گیا۔[99]

چودھویں صدی کے جنوبی ہندوستانی کتبوں (موجودہ آندھرا پردیش) میں بھی لفظ ’’ہندو‘‘ کا استعمال مسلمانوں (’’ترک‘‘) کے مقابل مذہبی شناخت کے طور پر ملتا ہے۔ [100] بعد ازاں یہ لفظ کبھی کبھار سنسکرت متون میں بھی آیا، مثلاً راج ترنگنی کے بعد کے نسخوں (ہندوکا، تقریباً 1450ء) اور سولھویں تا اٹھارہویں صدی کے بنگالی گوڑیہ ویشنو مت متون جیسے چیتنیہ چرتا مرت اور چیتنیہ بھاگوت میں۔ ان میں ہندوؤں کو مسلمانوں سے ممتاز کرنے کے لیے ’’ہندو دھرم‘‘ جیسی تراکیب استعمال ہوئیں۔[75]

شماریات

[ترمیم]
ہندو مت بلحاظ براعظم (2017–18)[حوالہ درکار]
براعظم ہندو آبادی % ہندو pop % براعظم pop متبعین دنیا بھر میں
ایشیا 1,074,728,901 99.3 26.0 Increase ترقی Increase ترقی
یورپ 2,030,904 0.2 0.3 Increase ترقی Increase ترقی
بر اعظم امریکا 2,806,344 0.3 0.3 Increase ترقی Increase ترقی
افریقا 2,013,705 0.2 0.2 Increase ترقی Increase ترقی
اوشیانا 791,615 0.1 2.1 Increase ترقی Increase ترقی
کل مجموعی 1,082,371,469 100 15.0 Increase ترقی Increase ترقی

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب "Can Muslims surpass Hindus in population numbers? Experts say practically not possible"۔ 24 اپریل 2022۔ 2023-03-11 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-09-12
  2. ^ ا ب پ ت ٹ "The Future of World Religions: Population Growth Projections, 2010–2050"۔ Pew Research Center۔ 1 جنوری 2020۔ 2017-02-22 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-02-22
  3. "The Global Religious Landscape – Hinduism"۔ A Report on the Size and Distribution of the World's Major Religious Groups as of 2010۔ Pew Research Foundation۔ 18 دسمبر 2012۔ 2013-05-06 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-03-31
  4. "Christianity 2015: Religious Diversity and Personal Contact" (PDF)۔ gordonconwell.edu۔ جنوری 2015۔ 2017-05-25 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-05-29
  5. "Hindus push for recognition as official religion in Belgium"۔ 2023-09-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-01-18
  6. "India at 75: Dreams of a Hindu nation leave minorities worried"۔ 13 اگست 2022۔ 2023-01-03 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-01-03
  7. "1. Population growth and religious composition"۔ 21 ستمبر 2021۔ 2023-05-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-01-03
  8. "Központi Statisztikai Hivatal"۔ Nepszamlalas.hu۔ 2019-01-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-10-02
  9. "The World Factbook"۔ سی آئی اے, United States۔ 2013۔ 2021-01-09 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-01-24
  10. "Nepal"۔ US Department of State۔ 2020-05-18 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-05-22
  11. "Bangla minister underscores Hindu safety"۔ 2023-03-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-03-22
  12. "Census 2022: Bangladesh population now 165 million"۔ 27 جولائی 2022۔ 2022-07-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-10-07
  13. "Atrocities on Hindus in Bangladesh: Now, 1.8 crore Hindu Bengali citizens of Bangladesh are ready to go to India, said Ravindra Ghosh, Chairman of Bangladesh Hindu Janajagruti Samiti.| APN News"۔ 25 دسمبر 2019۔ 2021-05-22 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-07-12
  14. "Introduction – Bangladesh"۔ tradeinfolink.com.my۔ 2021-05-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-05-09
  15. "Hindu population in Bangladesh grew by 1 per cent in 2015: Report"۔ The Economic Times۔ 23 جون 2016۔ 2020-11-12 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-01-07
  16. Bangladesh 2012 International Religious Freedom Report آرکائیو شدہ 1 اگست 2020 بذریعہ وے بیک مشین, US State Department (2012), p. 2
  17. "District Wise Results / Tables (Census - 2023)" (PDF)۔ www.pbscensus.gov.pk۔ ادارہ شماریات پاکستان
  18. "Religion in Indonesia"
  19. Indonesia: Religious Freedoms Report 2010 آرکائیو شدہ 11 جولا‎ئی 2022 بذریعہ وے بیک مشین, US State Department (2011), Quote: "The Ministry of Religious Affairs estimates that 10 million Hindus live in the country and account for approximately 90 percent of the population in Bali. Hindu minorities also reside in Central and East Kalimantan, the city of Medan (North Sumatra), South and Central Sulawesi, and Lombok (West Nusa Tenggara). Hindu groups such as Hare Krishna and followers of the Indian spiritual leader Sai Baba are present in small numbers. Some indigenous religious groups, including the "Naurus" on Seram Island in Maluku Province, incorporate Hindu and animist beliefs, and many have also adopted some Protestant teachings."
  20. Indonesia International Religious Freedom Report 2005 آرکائیو شدہ 11 جولا‎ئی 2022 بذریعہ وے بیک مشین – US State Department, Quote: "The Hindu association Parishada Hindu Dharma Indonesia (PHDI) estimates that 18 million Hindus live in the country, a figure that far exceeds the government estimate of 4 million. Hindus account for almost 90 percent of the population in Bali."
  21. United Nations High Commissioner for Refugees۔ "Refworld | 2010 Report on International Religious Freedom – Indonesia"۔ United Nations High Commission for Refugees۔ 2012-10-19 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-05-27
  22. "2014 Religious Landscape Study – Pew Forum on Religion & Public Life"۔ 12 مئی 2015۔ 2019-01-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-05-15
  23. Department of Census and Statistics,The Census of Population and Housing of Sri Lanka-2011 آرکائیو شدہ 7 جنوری 2019 بذریعہ وے بیک مشین
  24. "The World Factbook – Central Intelligence Agency"۔ cia.gov۔ 21 جون 2022۔ 2021-11-08 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-01-24
  25. "Malaysia"۔ U.S. Department of State۔ 2021-10-28 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-05-22
  26. Table: Religious Composition by Country, in Numbers – Pew Research Center۔ 2012۔ ISBN:978-2-02-419434-7۔ 2020-04-13 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-05-17
  27. UK Government (27 مارچ 2009)۔ "Religion in England and Wales 2011"۔ Office of National Statistics (11 December 2012)۔ 2015-09-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-09-07
  28. "2011 National Household Survey"۔ www12.statcan.gc.ca۔ Statistics Canada۔ 8 مئی 2013۔ 2018-03-01 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-04-21
  29. "Australian Bureau of Statistics : 2021 Census of Population and Housing : General Community Profile" (XLSX)۔ Abs.gov.au۔ 2022-06-28 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-07-02
  30. "The World Factbook – Central Intelligence Agency"۔ cia.gov۔ 21 جون 2022۔ 2021-01-09 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-01-24
  31. "Resident population by religion and sex" (PDF)۔ Statistics Mauritius۔ ص 68۔ 2013-10-16 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-11-01
  32. "Table: Religious Composition by Country, in Numbers (2010)"۔ Pew Research Center's Religion & Public Life Project۔ 18 دسمبر 2012۔ 2013-02-01 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-02-14
  33. "Religions in Saudi Arabia"۔ globalreligiousfutures.org۔ 2021-10-28 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-07-20
  34. "The World Factbook – Central Intelligence Agency"۔ cia.gov۔ 21 جون 2022۔ 2021-03-20 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-01-24
  35. Bureau of Public Affairs Department Of State. The Office of Electronic Information۔ "Singapore"۔ 2001-2009.state.gov۔ 2019-12-10 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-07-02
  36. "Fiji"۔ State.gov۔ 10 ستمبر 2012۔ 2017-01-22 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-07-02
  37. "The World Factbook"۔ Cia.gov۔ 2021-08-27 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-07-02
  38. "The 2014 Myanmar Population and Housing Census" (PDF)۔ Department of Population, Ministry of Labour, Immigration and Population, Myanmar۔ 2018-03-29 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-10-02
  39. "The World Factbook – Central Intelligence Agency"۔ cia.gov۔ 21 جون 2022۔ 2021-01-09 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-01-24
  40. "Trinidad and Tobago"۔ U.S. Department of State۔ 2019-06-04 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-07-02
  41. Bureau of Public Affairs Department Of State. The Office of Electronic Information۔ "Trinidad and Tobago"۔ 2001-2009.state.gov۔ 2020-05-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-07-02
  42. "Religious Composition (Census of Guyana – 2012)"۔ Bureau of Statistics – Guyana۔ جولائی 2016۔ 2018-07-09 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-12-16
  43. "CIA – The World Factbook"۔ Cia.gov۔ 2022-05-30 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-03-05
  44. "Bhutan"۔ State.gov۔ 2 فروری 2010۔ 2021-11-12 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2012-03-05
  45. "religion in Italy"۔ globalreligiousfuture.org۔ 2021-10-11 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-07-02
  46. "hindus in the Netherlands"۔ the hindu perspective۔ 23 مارچ 2013۔ 2022-06-28 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-07-01
  47. "religion in France"۔ globalreligiousfuture.org۔ 2019-07-24 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-07-02
  48. "Arena – Atlas of Religions and Nationalities in Russia"۔ Sreda.org۔ 2017-12-06 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-07-31
  49. "The World Factbook – Central Intelligence Agency"۔ cia.gov۔ 22 ستمبر 2022۔ 2021-01-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-01-24
  50. "2018 Census totals by topic – national highlights"۔ 2023-07-02 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-07-02
  51. Knott 1998, pp. 3, 5
  52. Hatcher 2015, pp. 4–5, 69–71, 150–152
  53. Bowker 2000
  54. Harvey 2001, p. xiii
  55. ^ ا ب پ ت ٹ "Chapter 1 Global Religious Populations" (PDF)۔ جنوری 2012۔ 2013-10-20 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا
  56. Dominic Goodall (1996), Hindu Scriptures, University of California Press, ISBN 978-0-520-20778-3, pp. ix–xliii
  57. RC Zaehner (1992), Hindu Scriptures, Penguin Random House, ISBN 978-0-679-41078-2, pp. 1–11 and Preface
  58. Ludo Rocher (1986), The Puranas, Otto Harrassowitz Verlag, ISBN 978-3-447-02522-5
  59. Moriz Winternitz (1996)۔ A History of Indian Literature۔ Motilal Banarsidass۔ ص xv–xvi۔ ISBN:978-81-208-0264-3۔ 2023-12-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-06-16
  60. Gyanshruti, Srividyananda (2007)۔ Yajna, a Comprehensive Survey۔ Yoga Publications Trust۔ ص 338۔ ISBN:978-81-86336-47-2
  61. Todd M. Johnson؛ Brian J. Grim (2013)۔ The World's Religions in Figures: An Introduction to International Religious Demography (PDF)۔ Hoboken, NJ: Wiley-Blackwell۔ ص 10۔ 2013-10-20 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-11-24
  62. Anjali Pandey (2019)۔ "Re-Englishing 'flat-world' fiction"۔ World Englishes۔ ج 38 شمارہ 1–2: 200–218۔ DOI:10.1111/weng.12370۔ S2CID:199152662
  63. John Zavos (Apr 2001). "Defending Hindu Tradition: Sanatana Dharma as a Symbol of Orthodoxy in Colonial India". Religion (بزبان انگریزی). 31 (2): 109–123. DOI:10.1006/reli.2001.0322. ISSN:0048-721X.
  64. Jeffery D. Long (2007)، A Vision for Hinduism، آئی بی ٹورس، ISBN 978-1-84511-273-8، صفحات 35–37
  65. Lloyd Ridgeon (2003)۔ Major World Religions: From Their Origins to the Present۔ Routledge۔ ص 10–11۔ ISBN:978-1-134-42935-6
  66. ^ ا ب پ ت
  67. Lorenzen 2006, pp. xx, 2, 13–26
  68. Mihir Bose (2006)۔ The Magic of Indian Cricket: Cricket and Society in India۔ Routledge۔ ص 1–3۔ ISBN:978-1-134-24924-4
  69. "India"۔ Online Etymology Dictionary۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-01-13
  70. ^ ا ب پ Flood 1996, p. 6
  71. ^ ا ب پ John Stratton Hawley؛ Vasudha Narayanan (2006)، The Life of Hinduism، University of California Press، ص 10–11، ISBN:978-0-520-24914-1
  72. ^ ا ب پ Lorenzen 2006, pp. 24–33
  73. ^ ا ب
  74. ^ ا ب O'Connell, Joseph T. (جولائی–ستمبر 1973)۔ "The Word 'Hindu' in Gauḍīya Vaiṣṇava Texts"۔ Journal of the American Oriental Society۔ ج 93 شمارہ 3: 340–344۔ DOI:10.2307/599467۔ JSTOR:599467
  75. Lorenzen 2010, p. 29
  76. ^ ا ب Lorenzen 2006, p. 15
  77. Sharma 2008, pp. 25–26
  78. مسلم آبادی کی شرح میں کمی، دی ہندو، 25 اگست 2015
  79. ^ ا ب 10 ممالک جہاں سب سے زیادہ ہندو آبادی ہے، 2010 اور 2050 آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ pewforum.org (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)، پیو ریسرچ سینٹر (2015)
  80. Herman Siemens, Vasti Roodt (2009)۔ Nietzsche, Power and Politics: Rethinking Nietzsche's Legacy for Political Thought۔ Walter de Gruyter۔ ص 546۔ ISBN:978-3-11-021733-9۔ 2024-03-31 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-10-04
  81. Murray J. Leaf (2014)۔ The Anthropology of Eastern Religions: Ideas, Organizations, and Constituencies۔ Lexington Books۔ ص 36۔ ISBN:978-0-7391-9241-2۔ 2024-03-31 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-10-04
  82. ^ ا ب Flood 2008, p. 3
  83. Sarolta Anna Takacs؛ Eric H. Cline (17 جولائی 2015)، The Ancient World، Routledge، ص 377–، ISBN:978-1-317-45839-5
  84. ^ ا ب Sharmaa 2002, p. 2
  85. ^ ا ب Sharmaa 2002, p. 1-36
  86. Thapar 2003, p. 38
  87. ^ ا ب Jha 2009, p. 15
  88. Jha 2009, p. 16
  89. Sharmaa 2002, p. 3"The word Hindu derives, by common consent, from the word Sindhu… at which point its connotation overflows into the religious, at least in Xanzuang's interpretation of it"
  90. Jha 2009, p. 14
  91. Wilfred Cantwell Smith 1981, p. 62
  92. ^ ا ب Lorenzen 2006, p. 33
  93. Lorenzen 2006, p. 31
  94. Rishad Chowdhury (27 فروری 2014)۔ ""Hindis" in Istanbul: Field Notes on the Making of an Archival Subject"۔ 2025-02-18 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
  95. "HİNDULAR TEKKESİ ÇEŞMESİ - AKSARAY-FATİH-İSTANBUL"۔ 23 فروری 2025۔ 2025-02-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
  96. Mukul Dube (10 جنوری 2016)۔ "ہندو مت کی مختصر تاریخ پر ایک نوٹ"۔ Scroll.in۔ 2022-11-28 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-07-09
  97. FRANCIS LIEBER (1830). Encyclopædia Americana (Lieber) Vol 1 (بزبان انگریزی). Philadelphia: CAREY & LEA. p. 506. …the last Hindoo emperor of the Patan or Afghan race.
  98. Lorenzen 2006, pp. 32–33