اوم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دیونگری خط میں اوم

ہندو مذہب کی رو سے وشنو جی اور شوجی اور برہما جی کا مقدس نام ۔ اصلاً خدائے واحد۔ رب الارباب ، ایشور کا مجرد تصور ۔ اوم کہلاتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ پہلا لفظ ہے جوانسان نے بولا تھا۔ ویدوں کے شروع اور ختم کرنے پر بولا جاتا ہے۔ اس کو اوم-کار بھی کہتے ہیں۔ یہ لفظ، ہندو مت کے علاوہ، جین مت، بدھ مت، سکھ مت میں بھی پایا جاتا ہے۔ اور ان متوں میں اس لفظ کو مقدس سمجھا جاتا ہے۔ ہندو مت کی مقدس مانی جانے والی کتابوں ویدوں کے علاوہ، اپنشدوں میں سے ایک “منڈوکیہ اپنشد“ میں اس اوم کا خاص طور سے تذکرہ کیا گیا ہے۔


  • یہ یک صوتی علامت سب سے پہلے اپنشدوں میں استعمال ہوئی ہے ۔ بعض کے نزدیک تمام منتر اسی سے پھوٹے ہیں ، انتہا اور ابتدا دونوں اسی سے ہے ۔ چنانچہ اوم وہ لافانی آواز ہے جس سے ہر طرح کی افزائش وابستہ ہے ۔ اس ایک آواز میں ماضی ، حال اور مستقبل بلکہ وہ سب بھی جو ان سے ماورا ہے ، اس ایک آواز میں شامل ہیں ۔

* چاندوگیہ اور ٹیٹ اپنشد میں زبان کی ابتدا بھی پرجا پتی سے منسوب ہے ۔ تین عالموں پر دھیان کے دوران تین لفظ بھر ، بھوہ اور سور پیدا ہوئے ، جو زمین کرہ ہوائی اور آسمان کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ اسی غور و فکر کے نتیجے میں تینوں وید وجود میں آئے تھے اور اسی سے اوم جو کل کلام اور عالم کی کلیت کی نمائندگی کرتا ہے ۔ * چاندوگیہ اپنشد کے مطابق شروع میں صرف اگنی لافانی تھا اور دوسرے دیوتاؤں نے فنا سے بچنے کے لےے لافانی اوم میں پناہ لی تھی ۔ اس لےے اوم کو ’ موت ‘ کے قتل کا خطاب ملا ۔

  • اوم کی نفسی معالجاتی طاقت کو لا محدود تصور کیا جاتا ہے ۔ ویدوں کے طالب علموں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سبق کا آغاز بعد اختتام ’ اوم ‘ سے کرے ْْاس لیے کہ اس کے اثرات اتنے لطیف خیال کئے جاتے ہیں کہ ان کا ادراک ناممکن سمجھا جاتا ہے ۔
  • ترتیب معین انصاری
  • ماخذ
  • منو دھرم شاشتر۔ گلوسری �( کشاف اصطلاحات ٰ �)ترجمہ ارشد رازی

نوٹس[ترمیم]

شبد کا سچ تلفظ: آئـــــــــــــــــــــــــــــوں۔

بیرونی روابط[ترمیم]