رام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
رام
राम नवमी
An image collage of Hindu deity Rama.jpg
رام
ملحقہ وشنو کا ساتواں اوتار
مسکن ایودھیا اور سنتانک
متون رامائن
تہوار رام نوامی، ویوا پنچہمی، دیوالی، دشہرہ
ذاتی معلومات
شریک حیات سیتا[1]
والدین

ہندوؤں کے اعتقاد کے مطابق رام ، وشنو کا ساتواں اوتار ہے۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن کے مطابق شمالی ہند کی ایک ریاست ایودھیا (اودھ) پر سورج بنسی خاندان کا ایک کھتری راجا دشرتھ راج کرتا تھا۔ اس کی تین بیویاں تھیں اور چار بیٹے؛ رام چندر ، لکشمن ، شتروگھن اور بھرت تھے۔ رام چندر جی اپنی شہ زوری ، دلیری اور نیک دلی کے سبب پرجا میں بہت ہر دل عزیز تھے۔ ان کی شادی متھلا پوری (موجودہ جنک پور واقع نیپال) کے راجا جنک کی بیٹی سیتا سے ہوئی تھی۔ راجا دسرتھ کی چھوٹی رانی کیکئی نے کسی جنگ میں راجا کی جان بچائی تھی جس پر راجا نے وعدہ کیا تھا کہ اس کے بدلے میں وہ اس کی ایک خواہش پوری کرے گا۔

راجا دشرتھ لب گور ہوا تو اس نے رام چندر کو اپنا جانشین بنانا چاہا ۔ لیکن کیکیئی نے اسے اپنا عہد یا دلایا کہ وہ اس لڑکے بھرت کو اپنا ولی عہد نامزد کرے۔ اور رام چندر جی کو چودہ برس کا بن باس دے دیا جائے ۔ راجا نے رام چندر جی کو کیکئی کی خواہش اور اپنے عہد سے آگاہ کیا تو سعادت مند اور وفا کیش بیٹے نے سر تسلیم خم کر دیا اور جنوبی ہند کے جنگلوں میں چلا گیا۔ اس برے وقت میں اس کی بیوی سیتا اور بھائی لکشمن نے اس کا ساتھ دیا۔

ایک دن لنکا کے بدقماش راجا ، راون کا اس جنگل سے گزر ہوا اور سیتا کو اٹھا کر لے گیا۔ رام چندر نے بندروں کے راجا سکریو کی فوج جس کا سپہ سالار ہنومان تھا کی مدد سے لنکا پر چرھائی کی اور راون کو ہلاک کرکے سیتا کو رہا کرایا۔ دشہرا کا تہوار اسی فتح کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس عرصے میں 14 سال پورے ہوگئے تھے۔ رام چندر جی سیتا اور لکشمن کے ہمراہ ایودھیا واپس آگئے ۔ جہاں ان کا سوتیلا لیکن نیک نہاد بھائی بھرت ان کے کھڑاویں تخت پر رکھ کر ان کے نام سے راج کر رہا تھا۔ ان کی آمد کی خوشی میں گھر گھر چراغاں کیا گیا۔ ہولی کا تہوار اسی واقعے کی یادگار ہے۔ ہندو ، رام چندر کو وشنو بھگوان کا ساتواں اوتار مانتے ہیں۔ محقیقین تا حال ان کے زمانے کا تعین نہیں کر سکے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 1.2 James G. Lochtefeld 2002، صفحہ۔ 555.