اہنسا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اَہِنْسَا کے لفظی معنے ہیں بنا ہنسا یا تشدد کے رجحان کے۔ یہ لفظ عام فہم اور آسان ہو کر بھی زندگی کی کٹھنائییوں سے جوجتے ہوئے اسکا اپنانا بے حد کٹھن ہے۔

تشدد کی مضرتیں[ترمیم]

اہنسا کا فروغ دینے والے دعوٰی کرتے ہیں کہ اگرزورآوری سے کہیں فتح ہوبھی جائے تو بھی طبعیت میں بے چینی رہتی ہی ہے۔ اس کی قدیم بھارت میں روشن مثال حکمران اشوک کی دی جاتی ہے۔ وہ خونریزی سے بھارت پر اپنی جیت کا پرچم پھیلایا لیکن آخر اسے سکھ حاصل نہیں ہؤا۔ اسی کے نتیجے میں اس نے اہنسا کا مبلغ بننا منظور کرکے بدھ مت کو اپنایا، تب اسے وہ سکھ حاصل ہوا۔

گاندھی کی مثال[ترمیم]

گاندھی جی کی زندگی بھی عام آدمی کی طرح تھی۔ مگرانہوں نے اپنی جدوجہد کے لیےاہنسا کو چنا ۔ انکا ماننا تھا کہ شانتی (امن) میں جو طاقت ہے وہ یدھ (جنگ) میں نہیں ہے۔ کئی لوگوں نے انکی باتوں کی مخالفت کی لیکن گاندھی جی اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے ۔ اپنے اسی کی وجہ سے انہوں نے بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کی پھانسی منظور کی کیونکہ ان کی نظروں میں ان لوگوں نے ہنسا کا جواب ہنسا سے دیا۔ اسی عدم تشدد تحریک آزادی سے بھارت نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی۔

اہنسا سے متاثر کچھ اور بین الاقوامی شخصیات[ترمیم]

اہنسا اور عام آدمی کو محظوظ کرنے والا میڈیا[ترمیم]

اہنسا اورگاندھی جی کے اسی اصول پر کچھ سال پہلے بھارت میں ایک فلم بنی جس کا نام تھا لگے رہو منا بھائی۔ سنجے دت کی مرکزی اداکاری والی ودھو ونود چوپڑا کی اس فلم میں کئی چھوٹے چھوٹے واقعات تھے جنہیں دیکھ کر ناظرین کو یہ یقین دہانی کی کوشش کی گئی کہ اہنسا میں طاقت ہوتی ہیں مثلاً روزانہ ایک شخص دوسرے کے گھر کے سامنے پان کا پیپ تھوکتا ہے، وہ شخص اس سے روز لڑتا لیکن وہ نہیں سنتا۔ لیکن جس دن اس شخص نے بنا لڑائی کیے امن سے اس جگہ کو صاف کرنا شروع کیا، تھوکنے والے شخص کو خود ہی اپنی کرتوت پر شرم آ گئی اور اس نے وہ عادت سدھار لی۔ جو کام لڑکر نہیں ہو پایا وہ امن سے ہو گیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]