اچاریہ کرپلانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
جیوت رام بھگوان داس کرپلانی
(ہندی میں: आचार्य कृपलानी ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 11 نومبر 1888(1888-11-11)
حیدر آباد، بمبئی پریزیڈنسی، برطانوی ہند
وفات 19 مارچ 1982(1982-30-19) (عمر  93 سال)
احمد آباد، گجرات، بھارت
شہریت برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)
بھارت (26 جنوری 1950–)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب ہندو مت
جماعت انڈین نیشنل کانگریس
زوجہ سوچیتا کرپلانی
مناصب
رکن مجلس دستور ساز بھارت   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
برسر عہدہ
6 جولا‎ئی 1946  – 24 جنوری 1950 
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[1]،  ہندی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک تحریک آزادی ہند

جیوت رام بھگوان داس اچاریہ کرپلانی سندھ کے رہنے والے تھے لیکن اتر پردیش میں مقیم ہو گئے۔ انھوں نے تاریخ اور اقتصادیات میں ایم اے کیا اور کلکتہ یونیورسٹی میں پروفیسر ہوکر بہار میں پڑھانے لگے۔ آپ 1917 تک پروفیسر رہے۔ 1917 میں مہاتما گاندھی آنجہانی نے ستیہ گرہ شروع کی تو کرپلانی چمپارن میں گاندھی جی کے شریک کار ہو گئے۔ انھوں نے گجرات اور مہاراشٹر میں سماجی اصلاحات اور تعلیم کے کاموں میں گاندھی جی کے آشرموں میں بہت کام کیا اور بعد میں شمالی بھارت میں بہار اور دیگر متحدہ ریاستوں کی طرف متوجہ ہوئے تاکہ نئے لوگوں کو سکھایا اور منظم کیا جا سکے اور مزید آشرم قائم کیے. برطانوی راج کے خلاف سول نافرمانی تحریک میں بھی انتہائی سرگرم اور موثر کردار ادا کیا اور با رہا گرفتار ہوتے رہے۔ 1918 میں وہ نیڈن مدن موہن مالویہ کے پرائیویٹ سیکریٹری مقرر ہوئے لیکن 1919 میںیہ عہدہ چھوڑ کر پھر سے پروفیسر ہو گئے۔ اب کے وہ بنارس ہندو یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد مقرر ہوئے۔ لیکن ایک برس بعد ہی ملازمت چھوڑ کر پھر سے گاندھی آشرم کے ذریعے گرام سدھار کاکام شروع کر دیا۔ 1922 سے 1937 تک وہ گجرات ودیا پاٹھ کے اچاریہ (پرنسپل) رہے۔ 1934 میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سیکریٹری بنائے گئے۔ اور جون 1942 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ اکتوبر 1946 میں انھیں کانگریس کا صدر منتخب کیا گیا۔ لیکن ایک اختلاف کی بنا پر ایک برس بعد مستعفی ہو گئے۔ تقسیم ہند کے بعد کانگریس سے الگ ہوکراپنی پارٹی کسان مزدور پرجا پارٹی کی بنیاد ڈالی۔ بعد میں یہ پارٹی سوشلسٹ پارٹی میں مدغم کر دی گئی۔ کرپلانی اس جماعت کے صدر تھے۔ نو سے زائد مرتبہ جیل گئے۔ آپ کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔ ہندوستان کی پرجا سوشلسٹ پارٹی کے جن چھ بڑے لیڈروں نے جون 1953 میں کانگریس جے ساتھ کولیشن کی ناکام گفتگو کے مسئلہ پر اپنے عہدوں سے استعفے دیے تھے، ان میں آچاریہ کرپلانی بھی شامل تھے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2020
  2. معلومات فروری 1971 ص 262 ج 9