حکیم اجمل خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حکیم اجمل خان
Hakim Ajmal Khan 1987 stamp of India.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 12 فروری 1868  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 29 دسمبر 1927 (59 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حکیم اجمل خاں

حکیم اجمل خان دہلوی (پیدائش: 12 فروری 1868ء— وفات: 29 دسمبر 1927ء) طب یونانی کے مشہور طبیب و حکیم تھے۔

تعارف[ترمیم]

طبیب اور مصلح۔ دہلی میں پیدا ہوئے۔ مورث اعلیٰ شہنشاہ بابر کے ساتھ ہرات سے ہندوستان آئے تھے۔ اکبر کے عہد میں ان کا خاندان دربار شاہی سے وابستہ ہوا۔ اجمل خان کے والد حکیم محمود خان شاہ عالم کے طبیب خاص حکیم محمد شریف خان کے پوتے تھے۔ حکیم اجمل خان نے قرآن حفظ کرنے کے بعد عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں اپنے بڑے بھائی حکیم محمد واصل خاں سے طب پڑھی۔ اور اس علم میں اتنی دست گاہ پیدا کی کہ ملک کے طول و عرض میں مشہور ہو گئے۔ 1892ء میں نواب رام پور کے طبیب مقرر ہوئے۔ 1906ء میں طبی کانفرنس کی بنیاد رکھی۔ اسی سال مسلم لیگ کے قیام کی تائید کی۔ 1908ء میں حکومت ہند نے حاذق الملک کا خطاب دیا۔ دو مرتبہ یورپ کا سفر کیا۔ 1912ء میں طبیہ کالج قائم کیا اور 1920ء میں جامعہ ملیہ کے منتظم اعلٰی مقرر ہوئے۔ کانگرس کی مجلس عاملہ نے حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک آپ ہی کی صدارت میں منظور کی تھی۔ 1921میں خلافت کانفرنس کی صدارت کی۔ قوم نے آپ کو مسیح الملک کا خطاب دیا تھا اور آپ دہلی کے بے تاج بادشاہ کہلاتے تھے۔ ہندو مسلم اتحاد کے پرجوش حامی تھے۔ ملکی سیاست میں آپ کی رائے خاص اہمیت رکھتی تھی۔ سیاسی مضامین کے علاوہ طب پر کئی کتابیں تصنیف کیں۔

نامور طبیب، سیاست دان اور کل ہند طبی کانفرنس کے بانی تھے۔ ہندو مسلم اتحاد کے حامی اور اقبال کے دوست تھے۔ شملہ وفد میں شامل تھے اور لارڈ منٹو سے جداگانہ انتخاب کا مطالبہ کیا۔ سیای مظامین کے علاوہ وہ طب پر کئی کتابیں لکھ چکیں ہیں۔ آج کا ان کے نام پر ان کے خاندان کے اجمل دوخانے پورے پاکستان میں موجود ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

خطاب[ترمیم]