طب یونانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
طب متبادل - ترمیم
اصطلاحات طب متبادل (انگریزی)
  1. طب متبادل
  2. مداخلہ جسم و ذھن
  3. حیاتیاتی معالجات
  4. بادستکاری معالجات
  5. معالجات توانائی
مزید دیکھیۓ

طب یونانی جسکو صرف یونانی اور حکمت کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے آج ایک ایسا طریقہ علاج بن چکا ہے جس پر شاید ہر ملک میں ہی طب متبادل کا ٹھپہ لگایا جاچکا ہے۔ اب اس بات پر کوئی اعتراض بھی کرنا مشکل ہے کہ خود حکمت نے اپنے آپکو تبدیل کرنے اور نئی تحقیق میں اتنا سست کرلیا کہ آج اسکو واقعی طب کے اولین انتخاب کے طور پر نہیں اپنایا جاسکتا کہ اسمیں مختلف امراض کا اسقدر پریقین علاج ناممکن ہے کہ جیسا طب مغرب (werstern medicine) سے کیا جاسکتا ہے۔ بس اسی لیۓ آج یہ متبادل طب بن چکا ہے۔ گو کہ ایک زمانہ تھا جب طب کے اس شعبے میں اس وقت موجود دنیا کے ہر طریقہء علاج سے بہتر علاج موجود تھا ۔ اگر اس میں تحقیق اور ترقی کی رفتار کو برقرار رکھا جاتا تو آج اسکے زریعے جراحی سمیت وہ تمام معالجات ممکن ہوتے جو کہ موجودہ میڈیسن کے زریعے ممکن ہیں۔

نام کی ماخوذیت

طب یونانی میں یونانی کا لفظ دراصل Ionian کی عربی زدہ صورت ہے جسکے معنی Greek یا یونان کے ہیں۔ اسکو حکمت بھی کہا جاتا ہے اور یونانی طب بھی اور بعض اوقات صرف یونانی۔

تاریخ

بقراط

طب یونانی کی تاریخ کا تعاقب کیا جاۓ تو یہ قبل مسیح 460 تا 377 کے زمانے تک لے جاتی ہے جب ایک فلسفی بنام بقراط (hippocrates)، جسکو باباۓ طب بھی کہا جاتا ہے ، نے ایسے مقالات و دانش نامے تحریر کیے کہ جنہوں نے طب کی بنیاد بننے والے اصولوں کو ایک مضبوط و مرتکز مقام دیا ، بقراط کے باباۓ طب کہلاۓ جانے سے بحث نہیں لیکن واقعی ایسا تھا کہ نہیں اسکا کوئی بھی حتمی فیصلہ مشکل ہے کیونکہ یہ مان لینا منطق کے خلاف ہے کہ اچانک ایک فرد نے اٹھ کر تمام علم کی بنیاد رکھ دی ہو اور اسکا کوئی استاد ہی نہ ہو، شواہد راہنمائی کرتے ہیں اور تاریخ عالم تائید ، کہ بقراط نے مصر اور بین النہرین کی قدیم ترین تہذیبات اور وہاں پیدا ہونے خیالات سے بھی استفادہ کیا ، بین النہرین (Mesopotamia) موجودہ عراق ، شام اور ترکی میں شامل وہ علاقہ ہے جو دریائے دجلہ (Tigris) اور فرات (Euphrates) کے مابین پایا جاتا ہے ، اس میں پروان چڑھنے والی تہذیب دنیا کی چند قدیم ترین (بعض اندازوں کے مطابق قدیم ترین) تہذیبوں میں سے ہے۔ بقراط کے بارے میں یہ یقینا کہا جاسکتا ہے کہ اس نے پہلے سے موجود علم میں بے پناہ اضافہ، نئے خیلات و تصورات شامل کیے اور اصلاحات کر کے اسکو اس مقام تک پہنچایا کہ جہاں سے آنے والے زمانوں میں تحقیق اور ترقی کی بنیادیں فراہم ہوئيں۔

جالینوس

جالینوس (Galenus) بھی ایک یونانی طبیب و فلسفی تھے ، انکو انگریزی میں Galen بھی کہا جاتا ہے۔ (حکیم) جالینوس کا زمانہ 129 تا 200 م کا احاطہ کرتا ہے۔ جالینوس ایک حکیم یا طبیب ہونے کے ساتھ ساتھ علم الہیئت ، نجوم اور فلسفہ میں بھی ماہر تھے۔ انہوں نے قدیم یونانی نظریات کو ایک شفاف شکل دی اور اسکو عملی طور پر سمجھنے کی کوششیں کیں، مثلا انہوں نے جانوروں پر تجربات کیے اور گردوں ، اعصاب اور خون کی دل میں گردش کے بارے میں اپنے نظریات پیش کیے اور اپنے بعد آنے والے طبیبوں کے واسطے ایک واضح راستہ بنا دیا۔

جابر ابن حیان

جابر ابن حیان (انگریزی میں Geber) کا زیادہ تر کام گو کہ کیمیا ، طبیعیات اور علم الہیت پر ہے مگر انہوں نے طب میں بھی تحقیق کی ۔ انکا زمانہ 721 تا 815 م کا ہے۔

علی ابن ربان الطبری

علی ابن ربان الطبری کا تعلق ایران کے علاقے طبرستان سے تھا جو کہ مازندران کا پرانا نام ہے۔ اور زمانہ انکا 838 تا 870 م ہے۔ حکیم صاحب نے حکمت پرایک جامع کتاب فردوس الحکمت لکھی۔ یہ مشہور عالم ابوبکرالرازی کے استاد بھی تھے۔

ابوبکرالرازی

مزید دیکھیۓ