قانون طب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Arabic herbal medicine guidebook.jpeg
دیاسقوریدوس کی مفردات طب (materia medica)| کی عربی جلد کا ایک صفحہ؛ عربی زبان میں متعدد اضافے بھی شامل کیۓ گۓ۔
چند اہم الفاظ

دیاسقوریدوس
مادہ
مادہ
مفردات
الطب
مفردات الطب
مفرداتِ طب

Dioscorides
matter
meteria
meteria
medica
materia medica
materia medica

قانون طب یا principle of medicine سے مراد ان اصول و ضوابط یا باالفاظ دیگر قوانین کی ہوتی ہے کہ جن کی بنیادوں پر علم طب (medicine) و حکمت (yunani) کی عمارت تعمیر کی جاتی ہے۔ قانون طب سے متعالق اس موجودہ مضمون میں بالخصوص طب یونانی یا حکمت کا ذکر شامل ہے اور ساتھ ساتھ اس کا موازنہ طب یا میڈیسن سے کیا جاتا رہے گا تاکہ یہ اندازہ ہو جائے کے ان دونوں اقسام کے طب کا بنیادی ڈھانچہ کیا ہے۔ مزید یہ کو گو حکمت ہو یا میڈیسن دونوں ہی اقسامِ علمِ طب کے دائرۂ اثر میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ تمام اقسام کی حیات (بالخصوص حیوانات) آجاتے ہیں لیکن اس مقالے میں یہ دائرہ سمٹ کر صرف انسانی جسم اور اس کے امراض کی بحث تک محدود کیا گیا ہے۔

انسانی جسم کی اساس[ترمیم]

حکمت میں انسان کے جسم کو زندگی (life) کی بقا کے لیے جن بنیادی اجزاء یا امور سے واسطہ ہوتا ہے انہیں مشترکہ طور پر اساس طبیعیہ کہا جاتا ہے اور گو موجودہ طب یا میڈیسن، بنیادی طور پر انسانی جسم کو خلیات یا ان خلیات کو بنانے والے سالمات کی اساس پر قائم قرار دیتی ہے لیکن اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو انسانی جسم کی اساس کے بنیادی اجزاء کے بارے میں طب اور میڈیسن میں کوئی ایسا اختلاف نہیں کہ یہ ایک دوسرے کی تنسیخ کرتے ہوں۔

حکمت و میڈیسن[ترمیم]

انسانی جسم کی اساس طبیعیہ، حکمت کے مطابق درج ذیل اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے۔ اگر یہ اجزاء کل موجود ہیں تو انسان کا بدن بھی موجود ہے اور ان میں سے کسی ایک کی ناپیدی انسانی جسم کی ناپیدی قرار دی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ اگر یہ ایک مخصوص تناسب میں ہیں تو صحت اور اگر کسی بھی قسم کے توازنی بگاڑ میں ہیں تو بیماری نتیجہ کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔

ہر اساس طبیعیہ کے سامنے قوسین میں اس کے بارے میں میڈیسن کا نظریہ بھی تحریر کر دیا گیا ہے۔
  • ارکان: (میڈیسن کے مطابق انکو عناصر کہا جاسکتا ہے)
  • مزاج: (یہ جزء عموما میڈیسن میں نہیں پایا جاتا، لیکن بعض اوقات اس سے انکار بھی نہیں کیا جاتا)
  • اخلاط: (یہ جزء میڈیسن کی نظر سے دیکھا جائے تو ٹشو پھر باڈی فلوئڈ کا متبادل کہلایا جاسکتا ہے)
  • اعضاء: (میڈیسن میں بھی تسلم ہیں)
  • قوہ: (میڈیسن میں بھی تسلم ہیں)
  • ارواح: (میڈیسن میں عموما نہیں مانا جاتا، لیکن بعض جگہوں پر اس سے انکار بھی ممکن نہیں)

ارکان (عناصر)[ترمیم]

پانی (طب)۔ ہوا (طب)۔
آگ (طب) ہوا (طب)
مٹی (طب)۔ پانی (طب)۔
مٹی (طب) پانی (طب)

یہ جسم بسیط یا جسم مفرد ہوتے ہیں اور انکو مزید سادہ اجزاء میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا یعنی اپنی ماہیت میں سہل و موحود ہوا کرتے ہیں۔ انکا مخالف جسم مرکب کو تسلیم کیا جاتا ہے، جسم مرکب وہ جسم ہوتا ہے کہ جس کو مزید سادہ ارکان بسیط میں تقسیم کیا جاسکتا ہو۔ حکمائے تقدم زمانی کے نظریات کے مطابق ارکان بسیط ہی انسانی جسم کے بنیادی اجزاء ہوا کرتے ہیں اور انکو اسی وجہ سے حکماء نے اجزاء اولیہ بھی کہا ہے۔ حکمت کے یہ عناصر چار ہیں

  1. آگ (النار) --- گرم و خشک ہے۔ میڈیسن کی تشریح کے مطابق اس کو خلیات میں بننے والی توانائی ATP تصور کیا جاسکتا ہے۔
  2. ہوا --- گرم و تر ہے۔ میڈیسن کے مطابق اس کو عمل تنفس میں تبادلہ پانے والی ہوائیں تصور کیا جاسکتا ہے۔
  3. پانی (الماء) --- سرد و تر ہے۔ میڈیسن کے مطابق خون کا پلازمہ، بین الخلیاتی مائع اور لمف تصور کیا جاسکتا ہے۔
  4. مٹی (الارض) --- سرد و خشک ہے۔ میڈیسن میں کوئی تصور نہیں، لیکن اگر حیاتی کیمیاء کے تحت دیکھا جائے تو اس کو معدنیات کا متبادل کہا جاسکتا ہے۔

مزاج[ترمیم]

حکمائے طب کے مطابق یہ ارکان بسیط (اوپر دیکھیے) سے پیدائش لینے والی دوسری اہم اساس طبیعیہ ہے جو انہی ارکان بسیط کی مرکب سازی میں موجود تعملات کے ایک خاص حد پر پہنچ جانے کے بعد ان کے مرکب میں پیدا ہوجانے والی ایک میانی کیفیت ہوا کرتی ہے۔ حکمت کے قوانین کے مطابق جب ارکان بہت ریزہ ریزہ ہو جائیں اور آپس میں ایک دوسرے سے اشتراک کریں تو انکی وہ چار تاثیریں (جو اوپر بیان ہوئیں) آپس میں ایک دوسرے پر عمل پیرا ہوتی ہیں اور ہر ہر رکن بسیط کی کیفیت (گرمی سردی کو اور تری خشکی کو) دیگر رکن کی مخالف کیفیت کو ختم کرنے کی کوشش کرتی ہے اور بالاخر ایک ایسی درمیانی کیفیت پیدا ہوجایا کرتی ہے کہ جسمیں غالب و مغلوب کی جنگ ایک توازن کی حالت پر آکر ٹہر جاتی ہے اور اسی درمیانی کیفیت یا تاثیر کہ جب تمام ارکان بسیط توازن میں آجائیں، مـــزاج کہا جاتا ہے۔

اخلاط[ترمیم]

بنیادی طور پر حکمت میں خلط، جسم انسانی میں پیدا اس سیالی ساخت کو کہا جاتا ہے کہ جو اپنا مبداء، غذا میں رکھتا ہو یعنی غذا سے پیدا ہوا کرتا ہو۔ لیکن غذا کی یہ وہ صورت ہے کہ جس میں اس نے اپنی ظاہری اور پکوانی خصوصیات کو خیرباد کہ کر ایک نہایت مختلف شکل اختیار کرلی ہو۔ یعنی نہ تو اس میں بو رہی ہو نہ ذائقہ۔ اخلاط کی چار اقسام ہوا کرتی ہیں

  1. خون
  2. صفراء
  3. بلغم
  4. سوداء

اعضاء[ترمیم]

اعضاء، انسانی جسم کی ترکیب میں اخلاط کے بعد آتے ہیں یعنی حکمت کی نگاہ میں ارکان سے مزاج اور مزاج سے اخلاط بنتے ہیں اور پھر ان اخلاط سے اعضاء وجود پاتے ہیں۔ اور اگر اعضاء کے درجہ تک پہنچنے کے لیے اگر میڈیسن کی عینک استعمال کی جائے تو اس کے مطابق، خلیات سے نسیجات اور پھر نسیجات سے اعضاء وجود پاتے ہیں۔ دراصل اخلاط بھی حکمت کے نظریہ کے مطابق براہ راست اعضاء میں نہیں بدلا کرتے بلکہ ان اخلاط کی ترکیب سے ایک رطوبت تیار ہوا کرتی ہے اور یہ رطوبت جو حکمت میں رطوبت ثانیہ کہلائی جاتی ہے پھر اعضاء کی ترکیب کرتی ہے۔

اعضاء کی بنیادی طور پر دو اقسام ہوتی ہیں
  1. اعضاء رئیسہ
  2. اعضاء غیر رئیسہ

قوتیں[ترمیم]

قوتیں، اس توانائی کا متبادل تصور کی جاتی ہیں جو جسم انسانی میں زندگی کی حرکات پیدا کیا کرتی ہیں۔ وہ قوتیں جو جسم کی نشو و نما کرتی ہیں اس کی تعمیر کرتی ہیں انکو طبیعیہ قوتیں کہا جاتا ہے جنکا ماخذ حکماء نے جگر کو قرار دیا ہے۔ ایک اور قوت، قوت حیوی ہوتی ہے، قوت حیوی کو میڈیسن میں vital force کا متبادل کہا جاسکتا ہے مگر فرق یہ ہوگا کہ میڈیسن میں قوت حیوی میں قوت حیوی، قوت طبیعیہ اور قوت نفسی، تینوں ہی شمار کی جاسکتی ہیں، حکمت میں قوت حیوی کو قلب میں پیدا شدہ تصور کیا جاتا ہے۔ تیسری قوت، قوت نفسی ہوتی ہے جس کو قوت نفسانیہ بھی کہا جاتا ہے اور اس کی پیدائش دماغ میں تصور کی جاتی ہے۔ قوت نفسی وہ قوت ہوتی ہے کہ جس کے ذریعہ سے احساس اور حرکات کی صلاحیت پیدا ہوا کرتی ہے۔

ارواح[ترمیم]

ارواح کا لفظ روح کی جمع ہے اور اطبائے علم حکمت نے ارواح کا نام جسم انسانی میں حیات کو برقرار رکھنے والے ایسے اجزاء کو دیا ہے کہ جو اخلاطِ عمدہ کے بخارات سے پیدا ہوتے ہیں اور تمام جسم میں پہنچ کر زندگی قائم رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ حکمت میں ارواح کی پیدائش کے تین مقامات بیان ہوتے ہیں 1- دماغ 2- قلب 3 جگر۔

مزید دیکھیے[ترمیم]