ابن بیطار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابن بیطار
Ibn al-Baytar.JPG 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1197[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1248 (50–51 سال)[1][3][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دمشق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت اندلس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ماہر نباتیات،طبیب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل ماہر نباتیات, سائنسدان, ماہر الادویہ, طبیب

محمد ضیاء الدین عبد اللہ بن احمد بن البیطار المالقی الاندلسی، یہ طبیب اور پودوں یعنی نباتاتی عالم تھے، عرب کے ہاں وہ علمِ نبات (پودوں کا علم) کے سب سے مشہور عالم سمجھے جاتے ہیں، وہ چھٹی صدی ہجری کے اواخر میں پیدا ہوئے، اندلس کے مشہور نباتاتی عالم ابی العباس کے شاگرد تھے جو اشبیلیہ کے علاقے میں پودوں پر تجربات کیا کرتے تھے .

اپنی جوانی کے ابتدائی زمانے میں ہی وہ ملکِ مغرب کی طرف نکل پڑے اور مراکش، جزائر اور تونس کا سارا علاقہ پودوں کی تلاش اور تجربات میں چھان مارا۔.!! کہا جاتا ہے کہ اس جستجو میں اور علمائے نبات سے سیکھنے کے لیے وہ اغریق اور ملکِ روم کے آخر تک گئے ..!! اور کارِ آخر مصر آن پہنچے جہاں ایوبی شاہ الکامل نے ان کا اکرام کیا، ابن ابی اصیبعہ لکھتے ہیں کہ الکامل نے انہیں مصر میں تمام علمائے نبات کا سربراہ مقرر کر دیا تھا اور انہیں پر اعتماد کیا کرتے تھے، الکامل کے بعد وہ ان کے بیٹے شاہ الصالح نجم الدین کی خدمت میں دمشق آ گئے، دمشق میں ابن البیطار پودوں کی تلاش اور تجربات کے سلسلے میں شام اور اناضول کے علاقوں کے مسلسل چکر لگایا کرتے تھے، اس عرصہ میں “طبقات الاطباء” کے مصنف ابن ابی اصیبعہ ان سے جاملے اور پودوں پر ان کی علمیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے چنانچہ انہی کی معیت میں دسقوریدس کی دواؤں کی تفاسیر پڑھی، ابن ابی اصیبعہ لکھتے ہیں : “میں ان کی علمی زرخیزی سے بہت کچھ لیتا اور سیکھتا تھا، وہ جس دوا کا بھی ذکر کیا کرتے ساتھ ہی یہ بھی بتاتے کہ دسقوریدس اور جالینوس کی کتب میں وہ کہاں درج ہے اور اس مقالے میں مذکور ادویات میں وہ کون سے عدد پر ہے۔.!!”

تصانیف[ترمیم]

ان کی اہم تصانیف میں کتاب الجامع لمفردات الادویہ والاغذیہ ہے، یہ کتاب مفردات ابن البیطار کے نام سے مشہور ہے، ابن ابی اصیبعہ اس کتاب کو کتاب الجامع فی الادویہ المفردہ کا نام دیتے ہیں .. اس کتاب میں طبعی عناصر سے نکالے گئے آسان علاجات ہیں، اس کتاب کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا، ان کی کتاب المغنی فی الادویہ المفردہ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جس میں جسم کے ایک ایک حصہ کی تکالیف مع علاجات بتائے گئے ہیں، ان کی دیگر اہم تصانیف میں کتاب الافعال الغریبہ والخواص العجیبہ اور الابانہ والاعلام علی ما فی المنہاج من الخلل والاوہام قابلِ ذکر ہیں .پہلی کتاب یعنی ’’المغنی‘‘ سلطان الصالح کے نام منسوب ہے اور اس میں مختلف امراض کے لیے موزوں سادہ دواؤں اور ان کے خواص سے بحث کی گئی ہے۔ اسے اعضائے ماؤفہ کے اعتبار سے ایک سہل شکل میں طبیبوں کے استعمال کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔ دوسری کتاب یعنی ’’الجامع‘‘ میں حیوانات، نباتات اور معدنیات کے ذریعے معالجے کے تقریباً 1400سہل نسخوں کو حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دیا گیا۔ اس کتاب کی ترتیب میں ابن البیطارنے اپنے تجربات کے علاوہ اندازہً 150یونانی اور عرب ماہرینِ موضوع سے بھی استفادہ کیا۔ ان ماہروں میں الرازی اور ابن سینا کے نام بھی شامل ہیں۔ ابن البیطارکا سب سے اہم کارنامہ ان دریافتوں کو ایک باقاعدہ شکل میں ترتیب دینا تھا جو قرون وسطیٰ میں عربوں نے کی تھیں۔ اس طرح متقد مین کی ہزاروں دوائیوں کی فہرست میں مزید300سے 400ناموں کا اضافہ ہوا۔ انہوں نے عربی، فارسی، بربری، یونانی، لاطینی، رومانی اور عرب کی علاقائی زبانوں کے درمیانفنی مترادفات قائم کرنے کی طرف بھی خاصی توجہ دی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ابن میمون کی ’’شرح اسماء العقار‘‘ سے بہت مددلی کیونکہ وہ خود اس کا ترجمہ بھی کرچکے تھے۔ مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک کے اندر اور باہر ادویہ کے موضوع پر جتنی کتابیں لکھی گئیں، ان پر ’’الجامع‘‘ کے گہرے اثرات پڑے ہیں۔ اس کے برعکس مغرب میں اس کا اثر بہت کم ہوا کیونکہ عربی سے لاطینی میں تراجم کا دور تیرہویں صدی عیسوی کے وسط میں ختم ہو گیا تھا۔ تاہم Andrea alpagoنے ابن سینا پر اپنی تحریروں میں ’’الجامع‘‘ سے بھر پور استفادہ گیا ہے۔ عہد متاخرین میں یہ کتاب ولیم پورٹلWilliam portelاور گالاں Antoine gallandجیسے عرب دانوں کی توجہ کا مرکز رہی اور انہوں نے اس کا خلاصہ اور فرانس میں محفوظ اس کا قلمی نسخہ شائع کیا۔

ابن البیطار کی صفات میں جیسا کہ ابن ابی اصیبعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ انتہائی صاحبِ اخلاق شخص تھے اور زرخیز علم رکھتے تھے، انہوں نے حیرت انگیز یاداشت پائی تھی جس سے انہیں پودوں اور دواؤں کی درجہ بندی کرنے میں بہت آسانی ہوئی، انہوں نے طویل تجربات کے بعد مختلف پودوں سے مختلف ادویات بنائیں اور اس ضمن میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ ان کے بارے میں میکس مائ رہاف کہتے ہیں : وہ عرب علمائے نبات کے سب سے عظیم سائنس دان تھے .

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb120669478 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. ^ 2.0 2.1 ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6kp8z5v — بنام: Ibn al-Baitar — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118937138 — اخذ شدہ بتاریخ: 13 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  4. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb120669478 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ