زریاب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زریاب
"زرياب"
أبو الحسن علي بن نافي
Monument of Ziryab represented as a blackbird in قرطبہ
Monument of Ziryab represented as a blackbird in قرطبہ

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 789  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
موصل(شہر)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 857
قرطبہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت اندلس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ لسانیات، جغرافیہ دان، شاعر، کیمیادان، موسیقار، ماہر فلکیات، gastronomist
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

زریاب ایران کا ایک ہمہ دان جو فلکیات، جغرافیہ، موسمیات، نجوم، جمالیات، موسیقی، تاریخ، طبیعیات، کیمیا اور غذائیات پر عبور رکھتا تھا۔ وہ بیک وقت شاعر، موسیقار، گلوکار، فیشن ڈیزائنر، پالیسی ساز، رجحان ساز اور عود نواز تھا۔

غیر معتبر روایات کے مطابق زریاب بغداد میں پیدا ہوا اور اس کے آبا و اجداد ایرانی کرد تھے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ ایک افریقی غلام تھا جسے عرب فاتحین ساتھ لیکر آئے تھے۔وہ مشہور موسیقار اور شاعر اسحاق موصلی کا شاگرد تھا ۔اس کا اصل نام ابوالحسن بن علی ابن نافع تھا زریاب کا لقب اسے عربوں نے اس کی خوش الحانی اور کالے رنگ کی وجہ سے دیا تھا۔ عرب ایک سیاہ رنگ کا پرندےکو زریاب کہتے ہیں جس کی آواز بہت دلنشیں ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں غالبا اسے کوئل کہا جاتا ہے۔ کیونکہ ہسپانوی اسے پجرو نگرو کہتے تھے ۔ پجرو نگرو کی گوگل تلاش کے نتیجے میں مجھے کوئل کی تصاویر ملیں۔

زریاب کو پہلی بار ایک فنکار اور عظٰیم ایرانی موسیقار اسحاق موصلی کے شاگرد کی حیثیت سے ہارون رشید کے دربار سے شہرت ملی۔ درباری سازشوں کی وجہ سے اس نے مامون الرشید کے دور میں بغداد کو خیر باد کہا اور شام چلا گیا کچھ عرصے بعد تیونس چلا گیا اور زیادۃ اللہ کے دربار میں رہا اسی دوران میں اندلس کے حکمران الحکم نے اسے اندلس آنے کی دعوت دی۔ جب وہ قرطبہ(اندلس) پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ الحکم کی وفات ہو چکی ہے۔الحکم کے بیٹے عبدالرحمان ثانی نے اپنے باپ کے وعدے کا پاس رکھتے ہوئےاسے درباری موسیقار کا عہدہ دیا اور دو سو طلائی سکے ماہانہ تنخواہ مقرر کی۔ جلد ہی وہ اپنی صلاحیتوں ، سرگرمیوں اور اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے پورے اندلس میں مشہور ہو گیا۔ زریاب دنیا کا پہلا سیلیبرٹی تھا۔ مورخ المقری لکھتا ہے

زریاب سے پہلے اور نہ اس کے بعد دنیا میں کوئی ایسا شخص پیدا ہوا جسے عوام اور خواص میں اس قدر شہرت، پزیرائی اور محبت ملی ہو

موسیقی ،فیشن، سٹائل، غذائیات اور جدید طرز رہن وسہن میں اس نے انقلابات برپا کر دیے۔ اس نے ایک ساز عود میں پانچویں سر کا اضافہ کیا اور لکڑی کی بجائے عقاب کی ہڈی استعمال کی۔قرطبہ میں دنیا کے پہلے موسیقی کےاسکول کی بنیاد رکھی۔اس کی بنائی دھنوں اور نغموں نے پورے عرب کو اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ زریاب وہ پہلا شخص تھا جس نے مختلف ہئر سٹائل ایجاد کیے اور خصوصا چھوٹے بالوں کا فیشن متعارف کروایا، زریاب نے ہی داڑھی شیو کرنے کا رواج ڈالا اور مختلف صابن، کریمیں اور پاؤڈر ایجاد کیے، خوش ذائقہ ٹوٹھ پیسٹ ایجاد کیا۔مختلف موسموں کے لیے مختلف انداز کے لباس بنائے اور دن میں دو مرتبہ نہانے کو فروغ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے طبقہ امرا کی خواتین کے لیے بیوٹی پارلر بھی بنائے۔ اس نے مختلف سبزیاں اور پھل متعارف کروائے جن سے لوگ پہلے واقف نہیں تھے۔ اور سہ دورانی کھانے کا انداز پیش کیا جس میں پہلے سوپ یا سلاد وغیرہ پیش کیا جاتا ہے اسے ابتدائیہ (سٹارٹر) کہا جاتا ہے اس کے بعد اصل کھانا یعنی جو بھی گوشت، چاول جسے اصل دور کہا گیا اور آخر میں میٹھا وغیرہ یا یوں کہہ لیجیے کہ سلاد اور میٹھے کو اصل کھانے میں شامل کر لیا۔ اس نے شیشے کا گلاس ایجاد کیا (اس سے پہلے صرف دھات کے گلاس ہوتے تھے)۔

بلا شبہ زریاب ایک ذہین و طباع شخص تھا جس نے نہ صرف اس وقت کے اندلس کے طرز حیات کو ہر زاویے سے بدل کر رکھ دیا بلکہ جدید دنیا کو فیشن، صحت اور لائف سٹائل کے بنیادی افکار بھی دے گیا۔ آج پیرس کا فیشن ویک ہو یا سمر، ونٹر فیشن شو، بیوٹیشنگ ہو یا لگژری لائف سٹائل سب کے سب زریاب سے اخذ کیے گئے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]