اسحاق الموصلی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسحاق الموصلی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 767  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رے  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات اگست 850 (82–83 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص زریاب،  ابن خردادبہ  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ موسیقار  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

اسحاق الموصلی (پیدائش: 767ء — وفات: اگست 850ء) عہدِ عباسیہ کا ایک مشہور مغنی شاعر تھا۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

پیدائش اور خاندان[ترمیم]

اسحاق الموصلی 150ھ مطابق 767ء میں رے شہر میں پیدا ہوا۔ اُس کا والد ابراہیم الموصلی بھی نامور مغنی تھا۔ اسحاق فارسی النسل امیر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا گو کہ اُس کے والد ابراہیم الموصلی کی پیدائش اور تربیت بنو تمیم کے درمیان کوفہ شہر میں ہوئی تھی۔ ابن ندیم کے بقول ابراہیم الموصلی کی پیدائش و تربیت بنو دارم کے قبیلہ میں ہوئی تھی جو کوفہ کے مضافات میں آباد تھا۔

تعلیم[ترمیم]

اسحاق کو نہایت بہترین تعلیم دی گئی۔ علم حدیث ہُشَیم بن بُشَیر سے حاصل کیا۔ علم قرأت امام علی بن حمزہ کسائی کوفی اور امام ابو یحییٰ زکریا الفراء سے حاصل کیا۔ علم موسیقی اپنے چچا زلزال، عاتکہ بنت شُہدہ اور اپنے والد سے حاصل کیا۔

سرکاری سرپرستی[ترمیم]

اسحاق کے سب سے اولین سرپرست ہارون الرشید، یحییٰ بن خالد البرمکی اور اُس کے فرزندگان تھے۔ یحییٰ کے بیٹوں نے اِس نوجوان صاحبِ فن کو ایک مکان خرید کر دیا اور اِس مکان کے سامانِ آرائش کے لئے ایک لاکھ درہم فراہم کیے۔ 794ء میں جب فضل بن یحییٰ البرمکی کو خراسان کا گورنر مقرر کیا گیا تو اُس نے اسحاق کو محض ایک شعر کے صلے میں ایک ہزار دینار عنایت کیے تھے جو اُس نے اسحاق کی ایک تقریب کے لئے موزوں کیا تھا۔ خلفاء اور اُن کے امراء کی فیاضی کی بارش اسحاق پر مسلسل ہوتی رہی، چنانچہ وہ بھی اپنے والد کی طرح اِنتہائی مالدار ہوگیا تاہم وہ اپنی دولت فیاضی کے ساتھ خرچ کیا کرتا تھا اور اُس کے وظیفہ خواروں میں لغت نویس ابن العربی بھی تھا۔ اپنے والد ابراہیم الموصلی کی وفات کے بعد وہ اپنے زمانے کا بہترین مغنی قرار دیا گیا۔ خلفائے عباسیہ میں امین الرشید، مامون الرشید، المعتصم باللہ، الواثق باللہ اور المتوکل علی اللہ اِس کے سب سے زیادہ مداح تھے اور اِس پر بکثرت نوازشات کرتے رہتے تھے۔ مامون الرشید نے ایک بار کہا کہ اگر اسحاق ایک مغنی کی حیثیت سے اِس قدر مشہور نہ ہوتا تو میں اُسے قاضی کا عہدہ دے دیتا۔ درباری محافل میں اُسے بڑے بڑے علماء اور ادباء کی صف میں کھڑے ہونے کی اجازت تھی اور وہ لباس پہننے کی بھی جو فقہاء کے لے مخصوص تھا۔ الواثق باللہ کہتا تھا کہ جب اسحاق میرے سامنے گاتا ہے تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے مقبوضات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جب اِس شہرۂ آفاق مغنی کا اِنتقال ہوا تو المتوکل علی اللہ پکار اُٹھا کہ: ’’ اسحاق کی موت نے میری سلطنت کو بڑی زینت اور افتخار سے محروم کردیا۔‘‘ [1] [2] [3] [4]

وفات[ترمیم]

اسحاق الموصلی نے ماہِ رمضان 235ھ مطابق اگست 850ء میں بغداد میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اردو دائرہ معارف اسلامیہ: جلد 2، صفحہ 119۔ مطبوعہ لاہور، 2017ء
  2. ابوالفرج الاصبہانی: کتاب الاغانی، جلد 5، صفحہ 52، 131۔ طبع بولاق، مصر۔
  3. ابن ندیم: کتاب الفہرست، صفحہ 141 تا 143، مطبوعہ لائپزگ، 1871ء
  4. ابن عبد ربہ: العقد الفرید، جلد 3، صفحہ 188، مطبوعہ قاہرہ، 1305ھ