امین الرشید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امین الرشید
Abbasid Dinar - Al Amin - 195 AH (811 AD).jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 14 اپریل 787  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 25 ستمبر 813 (26 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد ہارون الرشید  ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ زبیدہ بنت جعفر  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
خاندان دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
پیشہ مصنف،  خلیفہ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

امین الرشید عباسی خلیفہ اور ہارون الرشید کا بیٹا تھا۔ زبیدہ کے بطن سے تھا۔ ہارون الرشید کی وفات 193ھ کے بعد خلافت سنبھالی۔ باپ نے سلطنت کو دو حصوں میں تقسیم کرکے اپنے دونوں بیٹوں امین اور مامون کے حوالے کرنے کی وصیت کی۔ اور یکے بعد دیگرے دونوں کو اپنا ولی عہد بنایا۔ بعد میں امین نے مامون کی ولی عہدی کا معاہدہ خانہ کعبہ سے منگوا کر پھاڑ دیا۔ اور اپنے بیٹے کی ولی عہدی کا اعلان کیا۔ یوں مامون نے خراسان سے بغداد پر حملہ کر دیا۔ دجلہ میں فرار ہوتے ہوئے امین کو قتل کر دیا گیا۔ کاہل اور عیش پسند تھا اس لیے سلطنت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اس کے بعد مملکت کی زمام مامون الرشید کے ہاتھوں میں آئی۔

امین دیوانگی کی حد تک ہم جنس پرست تھے۔ مسعودی لکھتے ہیں کہ اس کی ماں زبیدہ بنت جعفر اس کے ذوق کی تسکین کے لیے مجبوراً مرد نما لونڈیاں ڈھونڈتی تھی اور ان کو مردوں کے لباس پہنا کے بیٹے کی خلوت میں بھیجتی تھی۔ اپنے غلام کوثر سے اس کا جنسی تعلق گندی حد تک مریضانہ تھا۔ انہی عباسی خلفا کے محلوں نے مرد نما لڑکیوں کے فیشن کو جنم دیا اور ”الغلامیات“ ادب کی ایک باقاعدہ صنف بن گئی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "عورتوں کی ہم جنس پرستی اور اسلامی ادب۔راشد یوسفزئی/آخری قسط". مکالمہ. 28 اکتوبر، 2017. 
امین الرشید
پیدائش: 787ء وفات: 813ء
مناصب سنت
ماقبل 
ہارون الرشید
خلیفۃ الاسلام
809ء   –   813ء
مابعد 
مامون الرشید