زبیدہ بنت جعفر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
زبیدہ بنت جعفر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 766  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 10 جولا‎ئی 831 (64–65 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جامع مسجد طرسوس  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
شوہر ہارون الرشید  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد امین الرشید  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
پیشہ ہمسر ملکہ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ام جعفر زبیدہ بنت جعفر بن ابو جعفر منصورہاشمی خاندان کی چشم و چراغ تھیں۔ یہ خلیفہ ہارون الرشید کی چچا زاد بہن اور بیوی تھیں ان کا نام ” امۃ العزیز “ تھا۔ ان کے دادا منصور بچپن میں ان سے خوب کھیلا کرتے تھے، ان کو ” زبیدہ “ ( دودھ بلونے والی متھانی ) کہہ کر پکارتے تھے، چنانچہ سب اسی نام سے پکارنے لگے اور اصلی نام بھول ہی گئے۔ یہ نہایت خوبصورت اور ذہین و فطین تھیں۔ جب جوان ہوئیں تو خلیفہ ہارون الرشید سے ان کی شادی ہو گئی۔ یہ شادی بڑی دھوم دھام سے ذوالحجہ 165ھ مطابق جولائی 782ء میں ہوئی۔ ہارون الرشید نے اس شادی کی خوشی میں ملک بھر سے عوام و خواص کو دعوت پر بلایا اور مدعوین کے درمیان میں اس قدر زیادہ مال تقسیم کیا جس کی مثال تاریخ اسلامی میں مفقود ہے۔ اس موقع پر خاص بیت المال سے اس نے پانچ کروڑ درہم خرچ کیے۔ ہارون الرشید نے اپنے خاص مال سے جو کچھ خرچ کیا وہ اس کے علاوہ تھا۔

زبیدہ کی وجہ تسمیہ[ترمیم]

ہارون الرشید ملکہ زبیدہ سے بہت محبت کرتا تھا۔ ایک مرتبہ اس نے اپنی بیوی کو یہ کہہ کر پکارا: ھلمی یا ام نھر ” ام نہر! ذرا ادھر آنا “ زبیدہ نے بعد میں مشہور عالم اصمعی کو بلوا کر پوچھا: امیر المومنین مجھے ” ام نہر “ کہہ کر پکارتے ہیں، اس کے کیا معنی ہیں؟ اصمعی نے جواب دیا: چونکہ جعفر عربی لغت میں ” نہر “ کو کہتے ہیں اور آپ کی کنیت ام جعفر ہے، اس لیے نہر معنی مراد کے آپ کو اس نام سے پکارا ہو گا۔

نہر زبیدہ[ترمیم]

زبیدہ بنت جعفر نے پانی کی قلت کے سبب حجاج کرام اور اہل مکہ کو درپیش مشکلات اور دشواریوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تو انہوں نے مکہ کو پانی کی فراہمی کے لیے نہر بنوائی جسے نہر زبیدہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

وفات[ترمیم]

ملکہ زبیدہ کی وفات بروز سوموار 26 جمادی الاول 216ھ مطابق 10 جولائی 831ء کو بغداد میں ہوئی اور مقبرہ خیزران میں دفن ہوئیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]