المہتدی باللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
المہتدی باللہ
(عربی میں: أبو إسحاق محمد المهتدي بالله بن الواثق خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
المہتدی باللہ

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 825  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سامراء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 19 جون 870 (44–45 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
سامراء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Iraq.svg عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب سنی اسلام
والد الواثق باللہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
خاندان خلافت عباسیہ
مناصب
خلیفۂ خلافت عباسیہ (14 )   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
11 جولا‎ئی 869  – 19 جون 870 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png المعتز باللہ 
المعتمد علی اللہ  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
دیگر معلومات
پیشہ بادشاہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

المہتدی باللہ (وفات: 19 جون 870ء) خلافت عباسیہ کا چودہواں خلیفہ تھا جس نے 869ء سے 870ء تک حکومت کی۔ اُس کا عہدِ حکومت گیارہ مہینے رہا۔ مہتدی باللہ کے عہد خلافت میں خلافت عباسیہ کا ایک حصہ جو مصر اور بلاد الشام پر واقع تھا، دولت طولونیہ کی شکل میں ایک نئی باقاعدہ سلطنت کے طور پر قائم ہو گئی۔

نام و نسب اور پیدائش[ترمیم]

مہتدی باللہ کا نام محمد بن الواثق باللہ ہے۔ کنیت ابو عبد اللہ ہے۔ پیدائش 210ھ/ 845ء میں غالباً سامراء میں ہوئی۔ والدہ ایک اُم ولد وردہ تھی جس کا نام یعقوبی نے قرب لکھا ہے۔[1][2][3] مہتدی کے والد خلیفہ عباسی الواثق باللہ العباسی تھے۔

عہد خلافت[ترمیم]

مہتدی نے اُس وقت تک کسی کی بیعت قبول نہ کی تھی تاوقتیکہ المعتز باللہ کو لایا گیا اور اُس نے اپنے آپ کو معزول کر دیا۔ اُس نے جو کچھ جو اُس کے سپرد تھا، اُسس کے انتظام سے اپنی عاجزی ظاہر کی اور اِسے مہتدی باللہ کے سپرد کرنے کی اپنی رغبت ظاہر کی۔ المعتز باللہ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور مہتدی سے بیعت کرلی۔ لوگوں نے محمد بن الواثق باللہ کو المہتدی باللہ کا نام دیا۔ مہتدی کی بیعتِ خلافت بدھ 29 رجب 255ھ/ 13 جولائی 869ء کو کی گئی۔ اُس کا شاہی خطاب المہتدی باللہ رکھا گیا۔[4][5]

عہد خلافت کے متفرق واقعات[ترمیم]

255ھ[ترمیم]

  • اِس سال الجاحظ نے 96 سال کی عمر میں انتقال کیا۔[6]
  • رمضان 255ھ/ اگست 869ء میں سابقہ مقتول المعتز باللہ کی ماں قبیحہ منظر عام پر آگئی جو اپنے بیٹے المعتز باللہ کے قتل کے بعد روپوش ہو گئی تھی۔ اُس کی دولت عوام میں شہرت پاچکی تھی۔ بے شمار قیمتی جواہرات اور بے حساب دولت اُس سے فراہم کرلی گئی۔ بعد ازاں اُسے جلاوطن کرکے مکہ مکرمہ بھیج دیا گیا جہاں وہ المعتمد علی اللہ کی خلافت کے زمانہ تک مقیم رہی۔ المعتمد علی اللہ نے اُسے واپس سامراء بلوا لیا اور 264ھ میں وہ سامراء میں فوت ہوئی۔[1][7][8]
  • اِس سال خلیفہ مہتدی نے اصلاحی احکام نافذ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ رقص والے غلام اور باندیاں سب کے سب سامراء سے نکال دیے جائیں۔ خلیفہ کے قلعہ میں دلچسپی کے لیے جتنے درندے اور چیتے وغیرہ پالے گئے تھے، سب مار ڈالے جائیں۔ پالے ہوئے شکاری کتے ہلاک کردیے جائیں۔ لہو و لعب کے سامان ختم کردیے جائیں اور ظلم سے جس کا جتنا سامان لیا گیا ہے، وہ واپس کیا جائے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکر عام کیا جائے۔ خلیفہ خود عوام کی فریاد رسی کے لیے عام اجلاس منعقد کرنے لگا۔[9]
  • اِس سال علی بن الحسین بن اسماعیل بن محمد بن عبداللہ بن عباس نے لوگوں کو حج کروایا۔[10]

256ھ[ترمیم]

وفات[ترمیم]

مہتدی باللہ نے عوامی اصلاحات کا نفاذ کیا لیکن ترک ہمیشہ سے خودسر چلے آئے تھے، علاوہ ازیں وہ خلیفہ کو جب چاہتے، تخت سے ہٹا کر نیا خلیفہ بنا لیتے۔ اُن کی یہ روش مہتدی کی نافذ کردہ اصلاحات میں آڑے آئی۔  موسیٰ ابن بغاء الکبیر رے (شہر) سے سامراء تاکہ صالح بن وصیف الترکی کے قتل کا ارادہ کرے اور المعتز باللہ کے قتل کا بدلہ لے سکے۔ موسیٰ ابن بغاء الکبیر نے خلیفہ مہتدی باللہ سے باریابی کا اذن مانگا چونکہ خلیفہ دارالعدل میں نشست لگائے بیٹھا تھا اور لوگوں کے مقدمات سن رہا تھا، تو انکار کر دیا۔ یہ واقعہ 12 محرم الحرام 256ھ کو پیش آیا۔ انکار پر موسیٰ ابن بغاء اکبیر دارالعدل میں نرغہ کرتے ہوئے داخل ہو گیا اور خلیفہ کو جبری نشست سے اٹھا کر ایک خچر پر سوار کروا کر تنہائی میں لے گیا اور کہا کہ: آپ صالح بن وصیف الترکی کی حمایت و طرفداری نہ کریں۔ مہتدی یہ رنگ دیکھ کر حلف لیا تو موسیٰ ابن بغاء الکبیر نے معذرات کر لی اور بیعت کی۔ بعد ازاں صالح بن وصیف الترکی کے معاملہ میں دوبارہ مہتدی اور موسیٰ ابن بغاء الکبیر میں ٹھن گئی یہاں تک کہ مہتدی کے خلافت سے الگ ہونے کی باتیں ہونے لگیں اور یہ سنتے مہتدی نے تلوار نکال لی اور کہا:

" موسیٰ ابن بغاء الکبیر! مجھے تمہارا ارادہ معلوم ہو گیا ہے۔ مجھے تم المستعین باللہ اور المعتز باللہ کی طرح نہ سمجھنا۔ واللہ! میں اِس وقت غضبناک ہوں اور اپنی جان سے مایوس ہوکر وصیت کرچکا ہوں۔ تلوار کا قبضہ جب تک میرے ہاتھ میں ہے، بہت سے لوگوں کی جان لے کر مروں گا۔ آخر دین اسلام اور حیاء بھی کوئی چیز ہے۔ خلفاء کی دشمنی اور خدا کے خلاف جرات کرنی سخت باعثِ وبال ہے اور مجھے ہرگز صالح کا علم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہے؟"

خلیفہ کے یہ الفاظ سن کر موسیٰ ابن بغاء الکبیر اور اُس کے ساتھی خاموشی سے دربار سے اُٹھ گئے۔ صالح بن وصیف الترکی کی تلاش میں موسیٰ نے اپنے آدمی متعین کردیے۔ دس ہزار دینار انعام مقرر ہوا۔ صالح ایک مکان کے گوشہ میں سو رہا تھا کہ غلاموں کی نظر پڑ گئی، اُنہوں نے موسیٰ کو مطلع کر دیا۔ موسیٰ کے آدمیوں نے جا کر صالح بن وصیف الترکی کو قتل کر دیا اور اُس کا سر سامراء میں تشہیر کے لیے پھرایا۔ ترک امرا کی خودسری کا اثر براہِ راست مہتدی کے خلاف تھا۔ موسیٰ سامراء سے روانہ ہوا تو مہتدی نے ایک ترک ساتھی امیر بابکیال کو لکھا کہ امیر موسیٰ اور دوسرے ساتھیوں کو قتل کر دیا جائے۔ بابکیال نے یہ خط موسیٰ کو دکھایا کہ بابِ خلافت سے آیا ہے۔ موسیٰ غضبناک ہوتا ہوا واپس پلٹا، بابکیال کو سامراء بھیجا اور پھر خود مہتدی کے قتل کا قصد کرکے سامراء لوٹ آیا۔ موسیٰ نے سامراء پہنچتے ہی مہتدی پر حملہ کر دیا۔ اہل مغرب و فرغانہ نے خلیفہ کی حمایت کی اور خوب مقابلہ کیا۔ امرا کے ساتھیوں میں صرف ایک دِن میں ہی چار ہزار ترک قتل ہو گئے۔ کئی روز کی لڑائی کے بعد خلیفہ کی فوج شکست کھا گئی اور خلیفہ مہتدی کو گرفتار کر لیا گیا۔ موسیٰ اور اُس کے دشمنوں نے اُسے خصیتین دبا کر مارنے کی سزا دی جس سے مہتدی سامراء میں 19 جون 870ء کو 45 سال کی عمر میں فوت ہو گیا۔[12]

اوصاف[ترمیم]

مہتدی باللہ کے متعلق یعقوبی نے لکھا ہے کہ:

مہتدی نہایت متقی تھا، تہذیب و شائستگی، علم و فضل میں اور اعتدال و میانہ روی میں امانت داری و دِینداری میں تمام مشہور خلفائے بنو عباس میں قریب قریب ویسا ہی تھا۔[13] احکامِ خدا کے اجرا میں سخت تھا، شجاع تھا مگر اُس کو ویسے مددگار نہ ملے۔ مہتدی خلیفہ ہونے کے وقت سے لے کر قتل ہونے تک روزہ رکھتا رہا۔ رکوع و سجود میں رات کا بڑا حصہ گزرتا تھا۔[14] مہتدی خلفائے عباسیہ میں ایسا خلیفہ تھا جو مذہب میں بہترین، کردار میں لاجواب، تقویٰ میں ممتاز اور عبادت میں بڑھ چڑھ کر تھا۔ وہ عمر بن عبدالعزیز سے بہت مشابہ تھا۔[15] مہتدی نے لہو و لعب کو برطرف کر دیا تھا۔ گانے بجانے اور شراب پر پابندی عائد کردی تھی اور اپنے رفقا کو ظلم و تعدی سے روک دیا تھا۔[16]

لباس[ترمیم]

مہتدی کا لباس نہایت سادہ ہوتا تھا۔ خلفائے عباسیہ  کی نفاست پسندی اور خوش لباس پر ایک لباس پہننا بار سمجھا جاتا تھا لیکن مہتدی نے اِس شان و شوکت کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ دربار کے وقت لباسِ فاخرہ پہنتا۔ استعمال میں مدت تک ایک ایک لباس رہا۔ گھر میں صوف کا ایک کرتا پہنتا تھا۔ نفطویہ کا بیان ہے کہ:مہتدی کے پاس ایک جامہ دانی تھی جس میں ایک کرتا صوف کا اور ایک چوڑا کپڑا رہتا تھا۔ مہتدی اُس کو رات میں پہن کر نماز پڑھتا تھا۔[17] بنو عباس کا ایوانِ عیش و عشرت کو بوریائے فقر سے تبدیل کر دیا۔ عبادت کے اوقات میں نہایت سادہ سا لباس زیب تن کرتا، صوف کا جبہ، چادر اور کلاہ مخصوص تھی جسے پہن کر نماز اداء کرتا۔[18]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب جلال الدین سیوطی: تاریخ الخلفاء، ص 398۔ مطبوعہ لاہور
  2. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی: تاریخ ملت، جلد 2، ص 389۔ مطبوعہ لاہور، 1991ء۔
  3. یعقوبی: تاریخ یعقوبی، جلد 1، ص 227۔
  4. ابن جریر طبری: تاریخ طبری، جلد 7، ص 194۔
  5. ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ، جلد 11، ص 51، تذکرہ واقعات سنۃ 255ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  6. ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ، جلد 11، ص 55، تذکرہ تحت واقعات سنۃ 255ھ، مطبوعہ لاہور۔
  7. ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ، جلد 11، ص 52، تذکرہ واقعات سنۃ 255ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  8. شاہ معین الدین احمد ندوی: تاریخ اسلام، تذکرہ خلافت المہتدی باللہ العباسی، ص 237۔ مطبوعہ لاہور، 2004ء۔
  9. ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ، جلد 11، ص 53، تذکرہ واقعات سنۃ 255ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  10. ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ، جلد 11، ص 55، تذکرہ واقعات سنۃ 255ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  11. ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ، جلد 11، ص 57، تذکرہ واقعات سنۃ 256ھ۔ مطبوعہ لاہور۔
  12. مفتی زین العابدی سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی: تاریخ ملت، جلد 2، ص 392 تا 394۔ مطبوعہ لاہور، 1991ء۔
  13. یعقوبی: تاریخ یعقوبی، جلد 1، ص 227۔ مطبوعہ لاہور
  14. مفتی زین العابدین سجاد میرٹھی/ مفتی انتظام اللہ شہابی اکبرآبادی: تاریخ ملت، جلد 2، ص 394۔ مطبوعہ لاہور، 1991ء۔
  15. ابن طقطقی: الفخری، ص 285/286۔
  16. ابن طقطقی: الفخری، ص 286۔
  17. جلال الدین سیوطی: تاریخ الخلفاء، ص 399۔ مطبوعہ لاہور
  18. شاہ معین الدین احمد ندوی: تاریخ اسلام، تذکرہ خلافت معتز باللہ العباسی، ص 249۔ مطبوعہ لاہور، 2004ء۔
المہتدی باللہ
پیدائش: 845ء وفات: 19 جون 870ء
مناصب سنت
ماقبل 
المعتز باللہ
خلیفہ اسلام
11 جولائی 869ء19 جون 870ء
مابعد 
المعتمد علی اللہ