مندرجات کا رخ کریں

عبد اللہ بن عباس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عبداللہ بن عباس سے رجوع مکرر)

 مکمل

عبد اللہ بن عباس
(عربی میں: عبد الله بن عبَّاس ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 619ء [1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ [4]  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 687ء (67–68 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طائف [4]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت خلافت راشدہ (632–)
سلطنت امویہ (661–)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عارضہ اندھا پن   ویکی ڈیٹا پر (P1050) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد علی بن عبد اللہ بن عباس
والد عباس بن عبد المطلب   ویکی ڈیٹا پر (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ لبابہ بنت حارث   ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
فضل ابن عباس ،  تمام بن عباس ،  قثم بن عباس ،  معبد ابن عباس ،  عبد الرحمن بن العباس ،  کثیر بن عباس ،  ام حبيب بنت عباس   ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ محمد بن عبداللہ   ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص عطاء بن ابی رباح ،  وہب بن منبہ ،  طاؤس بن کیسان ،  انس بن مالک ،  قاسم بن محمد بن ابی بکر ،  محمد بن سیرین ،  مجاہد بن جبیر ،  بکیر بن الاخنس السدوسی   ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ مفسر قرآن ،  مورخ ،  فقیہ   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی [5]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل اسلامی الٰہیات ،  تفسیر قرآن ،  فقہ   ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں تنویر المقباس   ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد اللہ بن عباس ( 3 قبل ہجرت تا 68ھ مطابق 618ء تا 687ء) آپ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے چچا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرزند ہیں۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے لیے حکمت اور فقہ و تفسیر کے علوم کے حاصل ہونے کے لیے دعا مانگی۔ (حوالہ درکار)ان کا علم بہت ہی وسیع تھا اسی لیے کچھ لوگ ان کو بحر (دریا) کہتے تھے اور حبرالامۃ (امت کا بہت بڑا عالم)یہ تو آپ کا بہت ہی مشہور لقب ہے۔آپ بہت ہی خوبصورت اور گورے رنگ کے نہایت ہی حسین و جمیل شخص تھے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو کم عمری کے باوجود امور خلافت کے اہم ترین مشوروں میں شریک کرتے رہے ۔ لیث بن ابی سلیم کا بیان ہے کہ میں نے طاؤس محدث سے کہا کہ تم اس نو عمر شخص (عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی درس گاہ سے چمٹے ہوئے ہو اور اکابر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی درس گاہوں میں نہیں جار ہے ہو۔[6] طاؤس محدث نے فرمایا کہ میں نے یہ دیکھا ہے کہ ستر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب ان کے مابین کسی مسئلہ میں اختلاف ہوتا تھا تو وہ سب حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول پر عمل کرتے تھے اس لیے مجھے ان کے علم کی وسعت پر اعتماد ہے اس لیے میں ان کی درس گاہ چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتا ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر خوف خدا کا بہت زیادہ غلبہ رہتا۔ آپ اس قدر زیادہ روتے کہ آپ کے دونوں رخساروں پر آنسوؤں کی دھار بہنے کا نشان پڑ گیا تھا ۔ [7] انھوں نے اپنی کم سنی اور نو عمری کے باوجود حصولِ علم کے ہر طریقے کو اختیار کیا اور اس راہ میں انتہائی جاں فشانی اور ان تھک محنت سے کام لیا۔ وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چشمہ صافی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بھر سیراب ہوتے رہے۔ آپ کے وصال کے بعد وہ باقی ماندہ علما صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے بھرپور استفادہ فرمایا۔ وہ اپنے شوقِ علم کا حال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

جب کسی صحابی کے متعلق مجھے معلوم ہوتا کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث ہے تو میں قیلولہ کے وقت دوپہر میں ان کے دروازے پر پہنچ جاتا اور اپنی چادر کو سرہانے رکھ کر ان کے گھر کی چوکھٹ پر لیٹ جاتا۔ اس وقت دوپہر کی تیز اور گرم ہوائیں بہت سا گردو غبار اڑا کر میرے اوپر ڈال دیتیں۔ حالانکہ اگر میں ان کے گھر داخل ہونے کی اجازت مانگتا تو مجھے اجازت مل جاتی۔ لیکن میں ایسا اس لیے کرتا تھا کہ ان کی طبیعت مجھ سے خوش ہو جائے، جب وہ صحابی گھر سے نکلتے اور مجھے اس حال میں دیکھتے تو کہتے؛ ابن عمِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! آپ نے کیوں یہ زحمت گوارا کی، آپ نے میرے یہاں اطلاع بھجوا دی ہوتی، میں خود حاضر ہو جاتا لیکن میں جواب دیتا، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا زیادہ حقدار ہوں کیونکہ حصول علم کے لیے صاحب علم کے پاس جایا جاتا ہے۔صاحب علم خود طالب علم کے پاس نہیں جایا کرتے۔ پھر میں ان سے حدیث پوچھتا۔ [8]

[9]

حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کے لیے حکمت اور فقہ وتفسیر کے علوم کے حاصل ہونے کے لیے دعا مانگی ۔ ان کا علم بہت ہی وسیع تھا اسی لیے کچھ لوگ ان کو بحر (دریا) کہتے تھے اور حبرالامۃ (امت کا بہت بڑا عالم)یہ تو آپ کا بہت ہی مشہور لقب ہے ۔ یہ بہت ہی خوبصورت اور گورے رنگ کے نہایت ہی حسین وجمیل شخص تھے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کو کم عمری کے باوجود امور خلافت کے اہم ترین مشوروں میں شریک کرتے رہے ۔ خوف خدا کی وجہ سے آپ اس قدر زیادہ روتے کہ آپ کے دونوں رخساروں پر آنسوؤں کی دھار بہنے کا نشان پڑ گیا تھا۔ 68ھ ؁میں بمقام طائف 71 برس کی عمر میں وصال ہوا۔ [10][11] [12]

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا نام عبد اللہ، ابوالعباس کنیت تھی۔ آپ کے والد کا نام عباس بن عبدالمطلب اور والدہ کا نام ام الفضل لبابہ تھا۔ آپ کا شجرہِ نسب یہ ہے۔

عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف۔

آپ کے والد عباس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سگے چچا تھے۔ اس طرح آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ابنِ عم تھے۔ آپ اُم المومنین میمونہ بنت حارث کے خواہرزادہ تھے کیونکہ آپ کی والدہ اُم الفضل اور میمونہ بنت حارث حقیقی بہنیں تھیں۔[13] [14]

پیدائش[ترمیم]

عبد اللہ ابن عباس کی پیدائش ہجرت سے 3 برس قبل شعب ابی طالب میں محصوریت کے دوران میں ہوئی تھی۔ آپ کی پیدائش کے بعد حضرت عباس رضی اللّٰہ عنہ آپ کو بارگاہِ رسالت میں لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے منہ میں اپنا لعابِ دہن ڈال کر آپ کے حق میں دعا فرمائی۔ [15] [16]

قبولِ اسلام[ترمیم]

حضرت عباس ؓ نے بظاہر فتح مکہ کے بعد اسلام قبول کیا، لیکن حضرت عبد اللہ ؓ کی والدہ حضرت ام الفضل ؓ نے ابتداہی میں داعیِ توحید کو لبیک کہا تھا، ابن سعد کی روایت ہے کہ ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ کے بعد عورتوں میں ان کا ایمان سب پر مقدم تھا، اس بنا پر حضرت عبد اللہ ؓ نے یومِ ولادت ہی سے توحید کی لوریوں میں پرورش پائی اور ہوش سنبھالنے کے ساتھ وہ قدرۃ ایک پرجوش مسلم ثابت ہوئے، امام بخاری ترجمۃ الباب میں فرماتے ہیں:
کان ابن عباس مع امہ من المستضعفین ولم یکن مع ابیہ علی دین قومہ وقال الاسلام یعلوولایعلی۔ [17] ابن عباس رضی اللہ اپنی ماں کے ساتھ ضعفائے اسلام میں تھے جو اپنی مجبوریوں کے باعث مکہ میں رہ گئے تھے، وہ اپنے والد کے ساتھ اپنی قوم کے مذہب پر نہ تھے وہ کہا کرتے تھے کہ اسلام سربلند رہے گا، مغلوب نہ ہوگا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ جب یہ آیت تلاوت فرماتے:
" اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ" [18] تو فرماتے کہ میں بھی اپنہ والدہ کے ساتھ ان لوگوں میں شامل تھا جن کو خدا نے معذور قرار دیا ہے۔ [19][20] [21].[22]

ہجرت[ترمیم]

حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں فتح مکہ سے کچھ عرصہ پہلے حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے اور اپنے اہل و عیال کے ساتھ ہجرت کرکے مدینہ منورہ پہنچے ،[23]حضرت عبد اللہ ؓ کی عمر اس وقت گیارہ برس سے زیادہ نہ تھی، لیکن وہ اپنے والد کے حکم سے اکثر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوتے تھے، ایک روز انھوں نے واپس آکر بیان کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کو میں نہیں جانتا ہوں ، کاش مجھے معلوم ہوتا کہ وہ کون تھے؟، حضرت عباس ؓ نے آنحضرت سے اس کا تذکرہ کیا، آپ نے ان کو بلاکر فرطِ محبت سے اپنے آغوش عاطفت میں بٹھایا اور سر پر ہاتھ پھیر کر دعا فرمائی،اے خدا اس میں برکت نازل فرما اور اس سے علم کو روشنی پھیلا۔ [24][25]

عہد طفویلیت میں مصاحبتِ رسول[ترمیم]

آپ کی مصاحبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو زمانہ پایا، دراصل وہ آپ کے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ تاہم آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اکثر رہتے۔حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ گوفطرۃ ذہین،سلیم الطبع،متین اور سنجیدہ تھے، تاہم انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی مصاحبت کا جو زمانہ پایا وہ درحقیقت ان کا عہد طفولیت تھا، جس میں انسان کو کھیل کود سے دل آویزی ہوتی ہے ،فرماتے ہیں کہ میں لڑکوں کے ساتھ گلیوں میں کھیلتا پھرتا تھا، ایک روز رسول اللہ ﷺ کو پیچھے آتے ہوئے دیکھا تو جلدی سے ایک گھر کے دروازہ میں چھپ گیا، لیکن آپ ﷺ نے آکر مجھے پکڑلیا اورسرپر ہاتھ پھیر کرفرمایا،جا معاویہ ؓ کو بلالا وہ آنحضرت کے کاتب تھے، میں دوڑ کر ان کے پاس گیا اور کہا چلیے رسول اللہ ﷺ آپ کو یاد فرماتے ہیں، کوئی خاص ضرورت ہے۔ [26] ام المومنین میمونہ آپ کی خالہ تھیں اور آپ سے بہت شفقت رکھتیں تھیں اس لیے آپ اکثر ان کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور کئی مرتبہ رات میں ان کے گھر پر ہی سو جاتے تھے۔اس طرح ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے مستفیض ہونے کا بہترین موقع میسر تھا۔ آپ ایسے ہی ایک رات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔

ایک مرتبہ میں اپنی خالہ کے پاس سو رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور چار رکعت پڑھ کر استراحت فرما ہوئے، پھر کچھ رات باقی تھی کے آپ بیدار ہوئے اور مشکیزہ کے پانی سے وضو کر کے نماز پڑھنے لگے میں بھی اٹھ کر بائیں طرف کھڑا ہو گیا۔ آپ نے میرا سر پکڑ کر مجھے داہنی طوف کھڑا کر لیا۔[27]

[28]

آپ کے حق میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا[ترمیم]

اسی طرح ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے بیدار ہوئے تو عبد اللہ بن عباس نے وضو کے لیے پانی لا کر رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو سے فراغت کے بعد پوچھا کے پانی کون لایا تھا۔سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عبد اللہ بن عباس کا نام لیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوش ہو کر یہ دعا دی۔

اللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّينِ وَعَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ

یعنی اے اللہ اس کو مذہب کا فقیہ بنا اور تاویل کا طریقہ سکھا[29][30][31]

ایک دفعہ وہ نماز میں آنحضرت کے پیچھے کھڑے ہوئے،آپ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا اور اپنے برابر کھڑا کر لیا،لیکن وہ کھڑے کے کھڑے رہ گئے، آنحضرت نے نماز سے فارغ ہوکر پوچھا تمھارا کیا حال ہے؟ عرض کیا یارسول اللہ کیا آپ کے برابر کھڑا ہونا کسی کے لیے مناسب ہے، حالانکہ آپ رسول خدا ہیں،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ازدیاد علم و فہم کی دعا فرمائی۔ [32][33][34]

خلفائے راشدین کا عہد[ترمیم]

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ صرف تیرہ برس کے تھے کہ حضرت سرورِ کائنات نے اس دارِ فانی سے رحلت فرمائی، سوا دو برس کے بعد خلیفہ اول نے بھی داغِ مفارقت دیا ، خلیفہ دوم یعنی حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسند آرائے خلافت ہوئے تو وہ سنِ شباب کو پہنچ چکے تھے، حضرت عمرؓ نے ان کو جوہر قابل پاکر خاص طور سے اپنے دامن تربیت میں لے لیا اور اکابر صحابہ ؓ کی علمی صحبتوں میں شریک کیا، یہاں تک کہ لوگوں کو اس پر رشک ہوتا تھا، صحیح بخاری میں خود حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ مجھ کو شیوخ بدر کے ساتھ بٹھایا کرتے تھے، اس پر بعض بزرگوں نے کہا کہ آپ اس نوعمر کو ہمارے ساتھ کیوں شریک کرتے ہیں اور ہمارے لڑکوں کو جوان کے ہمسر ہیں کیوں یہ موقع نہیں دیتے؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، یہ وہ شخص ہے جس کی قابلیت تم کو بھی معلوم ہے۔ [35] محدث ابن عبد البر استیعاب میں تحریر فرماتے ہیں "کان عمر یحب ابن عباس ویقربہ" یعنی حضرت عمرؓ ، ابن عباس ؓ کو محبوب رکھتے تھے اور ان کو تقرب دیتے تھے، بسااوقات حضرت عمرؓ کی مجلس میں کوئی مسئلہ پیش ہوتا، عبد اللہ بن عباس ؓ اس کا جواب دینا چاہتے؛ لیکن کم سنی کی وجہ سے جھجکتے، حضرت عمر بن خطاب ؓ ان کی ہمت بندھاتے اور فرماتے علم سن کی کمی اور زیادتی پر موقوف نہیں ہے تم اپنے نفس کو حقیر نہ بناؤ، [36] حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اکثر پیچیدہ اور مشکل مسائل ان سے حل کراتے تھے اور ان کی فطری ذہانت وطباعی سے خوش ہوکر داد دیتے تھے، انشا اللہ علم و فضل کے بیان میں اس کی تفصیل آئے گی۔ خلیفہ ثالث کے عہد میں عبد اللہ بن ابی سرح والیٔ مصر کے زیر اہتمام 27ھ میں افریقہ پر فوج کشی ہوئی، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ایک جماعت کے ساتھ مدینہ منورہ سے چل کر اس مہم میں شریک ہوئے اور ایک سفارت کے موقع میں جرجیر شاہِ افریقہ سے مکالمہ ہوا، اس کو ان کی ذہانت وطباعی سے نہایت حیرت ہوئی اور بولا میں خیال کرتا ہوں کہ آپ "حبرعرب" (عرب کے کوئی عالم متبحر) ہیں۔ [37][38] ".[39]".[40][41]

امارت حج[ترمیم]

چونکہ 35ھ میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ محصور تھے اس لیے اس سال وہ خود امارتِ حج کا قرض انجام نہ دے سکے، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کو بلاکر فرمایا، خالد بن العاص کو میں نے مکہ مکرمہ کا والی مقرر کیا ہے، میں ڈرتا ہوں کہ امارتِ حج کے فرائض انجام دینے پر شاید ان کی مزاحمت کی جائے اوراس طرح خانۂ خدا میں فتنہ و فساد اٹھ کھڑا ہو اس لیے میں تم کو اپنا قائم مقام بنا کر بھیجتا ہوں۔ [42] حضرت عبد اللہ ؓ اس خدمت کو سر انجام دے کر واپس آئے تو مدینہ نہایت پر آشوب ہورہا تھا، خلیفہ ثالث شہید ہو چکے تھے اور حضرت علی ؓ کو بارِ خلافت اٹھانے پر لوگ مجبور کر رہے تھے انھوں نے ان سے مشورہ طلب کیا۔ حضرت علیؓ نے کہا:خلافت کے متعلق تمھاری کیا رائے ہے؟ میں خیال کرتا ہوں کہ اس حادثہ عظیم کے بعد کوئی شخص اس بار کو اٹھانے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے کہا یہ ضرور ہے کہ اب جس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی اس پر خونِ ناحق کا اتہام لگایا جائے گا، تاہم لوگوں کو اس وقت آپ کی ضرورت ہے۔ غرض اہل مدینہ کے اتفاقِ عام سے حضرت علی ؓ مسند آرائے خلافت ہوئے اورنئے سرے سے ملکی نظم ونسق کا اہتمام شروع ہوا، حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ نے مشورہ دیا کہ سردست موجودہ عمال وحکام برقرار رکھے جائیں؛ لیکن جب حضرت علی ؓ نے سختی کے ساتھ اس سے انکار کیا تو انھوں نے دوسرے روز اپنی رائے واپس لے لی اور کہا امیر المومنین میں نے رائے دینے کے بعد غور کیا تو آپ ہی کا خیال انسب نظر آیا، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فوراً اصل حقیقت کو تاڑ گئے اور بولے میرے خیال میں مغیرہ کی پہلی رائے خیر خواہی پر مبنی تھی، لیکن دوسری دفعہ انھوں نے آپ کو دھوکا دیا۔ حضرت علی نے پوچھاؓ خیر خواہی کیا تھی؟حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جواب دیا: آپ جانتے ہیں کہ معاویہ اوران کے احباب دنیا دار ہیں، اگر آپ ان کو برطرف کر دیں گے تو وہ تمام ملک میں شورش و فتنہ پردازی کی آگ بھڑکا دیں گے اور اہل شام و عراق کو خلیفہ ثالث کے انتقام پر اُبھار کر آپ کے خلاف کھڑا کر دیں گے۔ حضرت علیؓ نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ تمھاری رائے مصالح دنیاوی کے لحاظ سے نہایت صائب ہے؛ تاہم میرا ضمیر اس کو پسند نہیں کرتا کہ میں جن لوگوں کی بداعمالیوں سے واقف ہوں ان کو اپنے عہدوں پر برقرار رہنے دوں، خدا کی قسم میں کسی کو نہ رہنے دوں گا، اگر سرکشی کریں گے تو تلوار سے فیصلہ کروں گا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے کہا:میری بات مانیے گھر کا دروازہ بند کرکے بیٹھ جایے یا اپنی جاگیر پرمنبع چلے جائیے، لوگ تمام دنیا کی خاک چھان ماریں گے، لیکن آپ کے سوا کسی کو خلافت کے لائق نہ پائیں گے، خدا کی قسم اگر آپ ان مصریوں کا ساتھ دیں گے تو کل ضرور آپ پر عثمان ؓ کے خون کا اتہام لگایا جائے گا۔ حضر ت علی ؓ نے کہااب کنارہ کش ہونا میرے امکان سے باہر ہے۔ حضرت علی ؓ نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کو امیر معاویہ ؓ کی بجائے شام کا والی مقرر کرنا چاہا، لیکن انھوں نے انکار کیا اور بار بار یہی مشورہ دیا کہ آپ معاویہ ؓ کو برقرار رکھ کر اپنا طرفدار بنا لیجئے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نے برہم ہو کر نہایت سختی سے انکار کر دیا اور فرمایا خدا کی قسم یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔ [43] غرض اس تشدد آمیز طرزِ عمل پر حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو اندیشہ ظاہر کیا تھا وہ واقعہ بن کر سامنے آیا، تمام ملک میں جناب امیر ؓ کے خلاف مخالفت کی آگ بھڑک اٹھی، ایک طرف حضرت طلحہ ؓ، حضرت زبیر ؓ اور حضرت عائشہ ؓ نے مطالبہ اصلاح و انتقام کا علم بلند کرکے بصرہ پر قبضہ کر لیا اور دوسری طرف امیر معاویہ ؓ نے شام میں ایک عظیم الشان جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ [16][44]

جنگ جمل[ترمیم]

حضرت علی ؓ بصرہ کو محفوظ رکھنے کے خیال سے ایک فوجِ گراں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے تھے، لیکن وہ پہلے داعیانِ اصلاح کے قبضہ میں آچکا تھا، اس لیے طرفین نے میدان ذی قار میں صف آرائی کی، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ جناب امیر ؓ کی طرف سے اہل حجاز کی افسری پر مامور ہوئے اور جنگ شروع ہونے پر نہایت شجاعت و جانبازی کے ساتھی نبرد آزما ہوئے، یہاں تک کہ حامیانِ عرشِ خلافت کی فتح پر اس افسوس ناک خانہ جنگی کا خاتمہ ہوا۔ [45]

ولایت بصرہ[ترمیم]

بصرہ پر دوبارہ قبضہ ہونے کے بعد حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ یہاں کے گورنر بنائے گئے اورزیاد ان کے مشیر اور بیت المال کے مہتمم مقرر ہوئے۔

معرکۂ صفین[ترمیم]

جنگ جمل کے بعد امیر معاویہ ؓ سے معرکہ صفین پیش آیا، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بصرہ سے ایک جماعت فراہم کرکے جناب امیر ؓ کی حمایت میں میدانِ جنگ میں پہنچے اور نہایت جانبازی وپامردی کے ساتھ سرگرمِ کارزار ہوئے، حضرت علی ؓ نے ان کو میسرہ کا افسر مقرر فرمایا تھا۔ چونکہ دنوں طرف سے روزانہ تھوڑی تھوڑی فوجیں نکل کر معرکہ آرا ہوتی تھیں، اس لیے اس جنگ کا سلسلہ طویل عرصہ تک قائم رہا، لیکن رفتہ رفتہ حامیانِ خلافت کا پلہ بھاری ہونے لگا یہاں تک کہ ایک روز شامی فوجوں نے شکست کے خوف سے اپنے نیزوں پر قرآن مجید بلند کر کے صلح کی دعوت دی، گو جناب مرتضیٰ ؓ اور ان کے چاہنے والوں نے اپنی فوج کو اس دامِ تزویز سے محفوظ رکھنے کی بے پناہ کوشش کی تاہم مخالف کا جادو چل چکا تھا، ایک بڑی جماعت نے دعوتِ قرآن کو تسلیم کرنے پر اصرار کیا۔ [46][47][48]

ثالثی اور اس کا حشر[ترمیم]

غرض جنگ ملتوی ہو گئی اور مسئلہ خلافت کا فیصلہ دوحکم پر محمول ہوا،شامیوں نے حضرت عمرو بن العاص ؓ کو حکم مقرر کیا اور اہلِ عراق کی طرف سے ابوموسیٰ اشعری ؓ کا انتخاب ہوا، حضرت علی ؓ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کو ثالث بنانا چاہتے تھے؛ لیکن لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا آپ اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ایک ہی ہیں حکم کو غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ دونوں فریق کے اتفاق سے دومۃ الجندل حکمین کے لیے مقامِ اجلاس قرار پایا اور ہر ایک نے اپنے حکم کے ساتھ چار ہزار آدمیوں کی جمعیت ساتھ کردی، حضرت ابوموسیٰ اشعری ؓ کے ساتھ جو فوج گئی تھی اس کے افسر شریح بن ہانی اور مذہبی نگران حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نہایت نیک طینت و سادہ مزاج تھے وہ جب تخلیہ میں حضرت عمرو بن العاص ؓ سے کسی فیصلہ پر متفق ہوکر باہر تشریف لائے تو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا، خدا کی قسم! مجھے یقین ہے کہ عمرو نے آپ کو دھوکا دیا ہوگا اگر کسی رائے پر اتفاق ہوا ہو توآپ ہرگز اعلان میں سبقت نہ کیجئے گا وہ نہایت چالاک ہیں، کیا عجب ہے کہ آپ کے بیان کی مخالفت کر بیٹھیں، بولے، ہم دونوں ایک ایسی رائے پر متحد ہوئے ہیں کہ اس میں اختلاف کی گنجائش نہیں، غرض دوسرے روز مسجد میں مسلمانوں کا مجمع ہوا، حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے حضرت عمرو بن العاص ؓ کے اصرار پر کھڑے ہوکر یہ متفق علیہ فیصلہ سنایا۔ صاحبو ! ہم نے علی ؓ اور معاویہ ؓ دونوں کو معزول کرکے پھر نئے سرے سے مسلمانوں کو مجلسِ شوریٰ کے انتخاب کا حق دیا وہ جس کو چاہے اپنا امیر بنائے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے جو اندیشہ ظاہر کیا تھا وہ نہایت صحیح ثابت ہوا، عمرو بن العاص ؓ نے قرارداد سے منحرف ہوکر کہا، صاحبو! بے شک علی ؓ کو جیسا کہ ابوموسیٰ نے معزول کیا، میں بھی معزول کرتا ہوں؛ لیکن معاویہ ؓ کو اس منصب پر قائم رکھتا ہوں؛ کیونکہ وہ امیر المومنین عثمان ؓ کے ولی اور خلافت کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ اس خلاف بیانی پر ششدرہ گئے، چلا کر کہنے لگے یہ کیا غداری ہے؟ یہ کیا بے ایمانی ہے؟افسوس !ابن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے عمرو کی غداری سے ڈرایا تھا؛لیکن میں نے اس پر اطمینان رکھا، مجھے کبھی یہ گمان نہ تھا کہ وہ مسلمانوں کی خیر خواہی پر کسی چیز کو ترجیح دیں گے، غرض اسی ثالثی نے گتھی کو سلجھانے کی بجائے اور زیادہ الجھا دیا، جناب امیر ؓ کے اعوان وانصار میں تفریق واختلاف کی ہوا چل گئی اور ایک بڑی جماعت نے لشکر حیدری سے کنارہ کش ہوکر خارجی فرقہ کی بنیاد ڈالی، اس کا عقیدہ تھا کہ معاملاتِ دین میں حکم مقرر کرنا کفر ہے، اس بنا پر دونوں حکم اور ان کے انتخاب کرنے والے کافر ہیں۔ [49]

حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خارجیوں کے پاس بھیجا کہ بحث ومباحثہ سے ان کی ضلالت دور کر دیں، لیکن قلوب تاریک ہو چکے تھے، آنکھوں پر ضلالت وگمراہی کا پردہ پڑ چکا تھا، اس لیے ارشاد و ہدایت کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔ معرکہ نہروان خارجیوں نے نہروان میں مجمتع ہوکر عملاً سرکشی اختیار کی اور تمام ملک میں قتل و غارتگری کا بازار گرم کر دیا، حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوبارہ شام پر فوج کشی کے خیال سے روانہ ہو چکے تھے ، ان سرکشوں کا حال سن کر نہروان کی طرف پلٹ پڑے، حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ گورنری کے عہد پر بصرہ پہنچ گئے تھے، وہ وہاں سے تقریباً ًسات ہزار کی جمعیت فراہم کرکے مقام نخیلہ میں افواجِ خلافت سے مل گئے اور نہروان پہنچ کر نہایت بہادری و پامردی کے ساتھ سرگرم پیکار ہوئے۔ [50][51][52]

ایران کی حکومت[ترمیم]

جنگِ نہروان نے گو خارجیوں کا زور توڑ دیا تھا تاہم ان کی چھوٹی چھوٹی جماعتوں نے فارس، کرمان اور ایران کے دوسرے اضلاع میں پھیل کر ایک عام شورش برپا کردی اور ذمیوں کو بھڑکا کر آمادہ بغاوت کر دیا، چنانچہ ایران کے اکثر صوبوں میں عمال نکال دیے گئے اور عجمیوں نے خراج ادا کرنے سے قطعاً انکار کر دیا،حضرت علی ؓ نے اپنے تمام عمال کو بلا کر اس شورش کے متعلق مشورہ طلب کیا، حضرت عبد اللہ ؓ نے کہا میں ایران میں تسلط قائم کرنے کا ذمہ لیتا ہوں؛ چونکہ بصرہ ایران کے باغی اضلاع سے بالکل متصل تھا اوروہ ایک عرصہ سے وہاں کامیابی کے ساتھ گورنری کے فرائض انجام دے رہے تھے، اس لیے حضرت علی ؓ نے ان کی درخواست قبول فرمائی اوران کو تمام ایران کا حاکم اعلیٰ بنادیا۔ [53][54]

بغاوت کا استیصال[ترمیم]

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے بصرہ پہنچ کر زیاد بن ابیہ کو ایک زبردست جمعیت کے ساتھ ایران کی بغاوت فرو کرنے پر مامور فرمایا ، چنانچہ انھوں نے بہت جلد کرمان، فارس اور تمام ایران میں امن و سکون پیدا کر دیا۔[55] [56]

مکہ میں عزلت نشینی[ترمیم]

ایک روایت کے مطابق 40ھ یعنی حضرت علی ؓ کی زندگی ہی میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے بصرہ کے عہد امارت سے مستعفی ہوکر مکہ میں عزلت نشینی اختیار کرلی، وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ابو اسود دئلی قاضیِ بصرہ میں باہم مخالفت تھی، ابو الاسود نے بارگاہ خلافت میں ان کی شکایت لکھی کہ انھوں نے بیت المال میں تصرف بے جا کیا ہے، حضرت علی ؓ نے ان سے جواب طلب کیا تو انھوں نے لکھا: ان الذی بلغک وباطل وانی لماتحت یدی ضابط قائم لدولد حافظ فلا تصدق الظنون آپ کو جو خبر ملی ہے وہ قطعا غلط ہے، میرے قبضہ میں جو کچھ ہے میں اس کا محافظ و نگہبان ہوں،آپ ان بدگمانیوں کو باورنہ فرمائیں ۔ حضرت علی ؓ نے اس کے جواب میں ان سے بیت المال کا تمام وکمال حساب طلب کیا، عبد اللہ بن عباس ؓ کو یہ ناگوار گزار، انھوں نے برداشتہ خاطر ہوکر لکھا۔ فهمت تعظيمك مرزأة ما بلغك أني رزأتہ من مال أهل هذا البلد فابعث إلى عملك من أحببت فإني ظاعن عنہ والسلام [57] میں سمجھتا ہوں کہ آپ اس شکایت کو کہ میں نے اس شہروالوں کے مال میں کچھ خورد برد کیا ہے، زیادہ اہمیت دینا چاہتے ہیں، اس لیے آپ اپنے کام پر جس کو چاہے بھیج دیجئے میں اس سے کنارہ کش ہوتا ہوں۔ ایک دوسری روایت یہ ہے کہ حضرت علی ؓ نے جب زیادہ باز پرس کی تو انھوں نے لکھ بھیجا کہ ابھی میں نے اپنا پورا حق نہیں لیا ہے اور بیت المال سے ایک بڑی رقم لے کر مکہ چلے گئے۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ حضرت علی ؓ کی شہادت تک بصرہ کی گورنری پر مامور تھے، البتہ جب حضرت امام حسین ؓ اور امیر معاویہ ؓ میں مصالحت کی سلسلہ جنبانی شروع ہوئی تو انھوں نے بطور حفظ ما تقدم پہلے ہی امیر معاویہ ؓ کو خط لکھ کر جان و مال کی امان حاصل کی اور مکہ مکرمہ جاکر گوشہ نشین ہو گئے۔ [58][59][60]

حضرت امام حسین ؓ کو کوفہ جانے سے منع کرنا[ترمیم]

60ھ میں امیر معاویہ ؓ کے بعد جب یزید مسند نشین حکومت ہوا تو شیعانِ علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس انقلاب سے فائدہ اٹھانے پر ابھارا اور کوفہ آنے کی دعوت دی، چنانچہ وہ مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آئے اور یہاں سے عازم کوفہ ہوئے۔ چونکہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کوفیوں کی غداری کا دیرینہ تجربہ رکھتے تھے، اس لیے انھوں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کو بہ اصرار کوفہ جانے سے منع کیا اورکہا: عبد اللہ بن عباسؓ: اے ابن عم میں اپنے دل کو مطمئن کرنا چاہتا ہوں؛لیکن وہ نہیں ہوتا، اس طریقہ سے جانے میں مجھ کو تمھاری ہلاکت وتباہی کا خوف ہے، اہل عراق نہایت غدار ہیں، تم ان کے قول و قرار پر اعتبار نہ کرو، تم اہل حجاز کے سردار ہو، اس لیے کوفہ جانے سے یہاں مقیم رہنا زیادہ مناسب ہے، ہاں اگر اہل کوفہ درحقیقت تمھارے عقیدت کیش ہیں تو ان کو لکھو کہ وہ پہلے اپنے ملک سے دشمن کو نکال باہرکریں،پھر ان کے پاس جاؤ، اگر یہ منظور نہ ہوتو یمن کی راہ لو، وہاں بہت سے قلعے اور گھاٹیاں ہیں، ملک نہایت وسیع وفراخ ہے اور تمھارے والد کا اثر بھی خاصہ ہے، علاوہ ازیں دشمن کے دور ہونے کے باعث لوگوں سے مراسلت ومکاتبت کرسکتے ہو اور تمام ملک میں اپنے داعی پھیلا سکتے ہو، مجھے امید ہے کہ اس طرح زیادہ آسانی واطمینان کے ساتھ تمھارا مقصد حاصل ہو جائے گا۔ حضرت امام حسین ؓ: اے ابن عم! خدا کی قسم میں جانتا ہوں کہ آپ میرے سچے خیر خواہ مہربان ہیں؛لیکن اب سفر کوفہ کی تیاریاں ہو چکی ہیں اور میں نے وہاں جانے کا عزم مصمم کر لیا ہے۔ عبد اللہ بن عباس ؓ اگر تم جاتے ہو تو خدارا بیوی، بچوں کو ساتھ نہ لے جاؤ، خدا کی قسم مجھے خطرہ ہے کہ کہیں تم بھی اس طرح نہ شہید کیے جاؤ جس طرح حضرت عثمان غنی ؓ اپنی عورتوں اور بچوں کے سامنے ذبح کیے گئے۔ لیکن مشیتِ الہی میں کس کو دخل تھا، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے ضد و اصرار کے باوجود حضرت امام حسین ؓ اپنے تمام خاندان کے ساتھ راہی کوفہ ہوئے اور میدان کربلا نے وہ خونیں منظر پیش کیا جس سے جگر پاش پاش ہوتا ہے، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کو اپنے خاندان کی تباہی کا جو روح فرسا صدمہ ہوا ہوگا اس کا کون اندازہ کرسکتا ہے؟ وہ بیس سال سے گوشہ نشین تھے؛ لیکن اس واقعہ کے بعد تمام دنیا ان کے سامنے تیرہ و تار تھی، بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اخیر عمر میں نابینا ہو گئے تھے۔ [61]شاید اسی جگر خراش سانحہ کا اثر ہو۔ عبد اللہ بن زبیر ؓ کی بیعت سے انکار اسی سال حضرتِ عبد اللہ بن زبیر ؓ نے مکہ میں خلافت کا دعویٰ کیا، چونکہ حجاز وعراق میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے معتقدین کی ایک بڑی جماعت تھی، اس لیے انھوں نے ان سے بیعت کے لیے بے حد اصرار کیا اور بصورتِ انکار آگ میں جلادینے کی دھمکی دی، لیکن وہ تمام جھگڑوں سے کنارہ کش ہو چکے تھے اس بناپر انھوں نے نہایت سختی سے انکار کیا اور ابوطفیل کو کوفہ بھیج کر اپنے معتقدین سے مدد طلب کی۔ ابو طفیل کا بیان ہے کہ ہم کوفہ سے چار ہزار جان نثاروں کی ایک جماعت لے کر نعرۂ تکبیر بلند کرتے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے تو عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غلافِ کعبہ تھام کر پناہ حاصل کی، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے مکان کے ارد گرد لکڑیوں کا انبار لگایا جاچکا تھا، ہم نے ان سے کہا اگر آپ اجازت دیجئے تو اس شخص سے مخلوقِ الہی کو نجات دیں، بولے نہیں یہ حرم ہے، یہاں کشت وخون جائز نہیں، تم صرف میری حفاظت کرو اور مجھے پناہ دو۔ [62] حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ درحقیقت بنوامیہ کی بہ نسبت حضرت عبد اللہ بن زبیر ؓ کو خلافت کا زیادہ مستحق سمجھتے تھے، ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نے ان کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا، کیا آپ ابن زبیر ؓ سے لڑکر حرم الہی کو حلال کرنا چاہتے ہیں؟بولے معاذ اللہ!حرم میں خونریزی کرنا تو صرف بنوامیہ اور عبداللہ ابن زبیر ؓ کی قسمت میں لکھا ہے، میں خدا کی قسم کبھی ایسی جرأت نہ کروں گا، میں نے کہا لوگ عبد اللہ ابن زبیر ؓ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں، معلوم نہیں ان کو خلافت کا دعویٰ کس بنا پر ہے؟ فرمایا، کیوں نہیں ان کے والد زبیر ؓ حواری رسول ﷺ تھے، ان کے نانا ابوبکر صدیق ؓ آنحضرت ﷺ کے رفیق غار تھے، ان کی ماں اسماء ؓ ذات النطاق تھیں، ان کی خالہ عائشہ ؓ ام المومنین تھیں، ان کے والد کی پھوپھی خدیجہ ؓ آنحضرت کی حرم محتر تھیں اور ان کی دادی حضرت صفیہ ؓ آنحضرت ﷺ کی پھوپھی تھیں، پھر وہ ایک خود بھی پاک باز مومن اوقاریِ قرآن ہیں، خدا کی قسم! اگر وہ میرے ساتھ کوئی احسان کریں گے تو ایک رشتہ دار کا احسان ہوگا اور اگر وہ میری پرورش کریں گے تو یہ اپنے ایک ہمسر محترم کی پرورش ہوگی۔ [63][64]

طائف منتقل ہونا[ترمیم]

لیکن اس دلی ہمدردی و جانبداری کے باوجود انکار بیعت سے جو مخالفت پیدا ہو گئی تھی، اس کی بنا پر مکہ میں ان کا رہنا خطرہ سے خالی نہ تھا، اس لیے کوفی معاونین کی حفاظت میں مکہ سے طائف منتقل ہو گئے اور بقیہ زندگی کے دن وہیں پورے کیے۔

علم و فضل[ترمیم]

فضل و کمال کے اعتبار سے حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ اس عہدِ مبارک کے ممتاز ترین علما میں تھے ان کی ذات ایسی زندہ کتاب خانہ تھی، جس میں تمام علوم ومعارف بہ ترتیب جمع تھے، قرآن، تفسیر ، حدیث، فقہ، ادب، شاعری، وغیرہ کوئی ایسا علم نہ تھا جس میں ان کو یدِطولیٰ حاصل نہ رہا ہو۔ [65]

تفسیر[ترمیم]

بالخصوص قرآن پاک کی تفسیر وتاویل میں جو مہارت اور آیات قرآنی کے شانِ نزول اور ناسخ و منسوخ کے علم میں جو وسعت ان کو حاصل تھی وہ کم کسی کے حصہ میں آئی، حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ جو علم و فضل میں ان کے ہمسر تھے، فرماتے تھے کہ عبد اللہ بن عباس ؓ قرآن کے کیا اچھے ترجمان ہیں، شقیق تابعی راوی ہیں کہ ایک مرتبہ حج کے موسم میں عبد اللہ بن عباس ؓ نے خطبہ دیا اور اس میں سورۂ نور کی تفسیر بیان کی میں کیا بتاؤں وہ کیا تفسیر تھی، اس سے پہلے نہ میرے کانوں نے سنی تھی، نہ آنکھوں نے دیکھی تھی، اگر اس تفسیر کو فارس اورروم والے سن لیتے تو پھر اسلام سے ان کو کوئی چیز نہ روک سکتی۔ [66] حضرت عمر بن خطاب کی علمی مجلسوں میں یہ برابر شریک ہوتے تھے اور قرآن پاک کے فہم میں وہ اکثر بڑے بڑے صحابہ سے بازی لے جاتے تھے، ایک دن فاروق اعظم کے حلقۂ مجلس میں اکابر صحابہ کا مجمع تھا، ابن عباسؓ بھی موجود تھے، حضرت عمرؓ نے اس آیت کا مطلب پوچھا: "أَيَوَدُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تَكُونَ لَهُ جَنَّةٌ مِنْ نَخِيلٍ وَأَعْنَابٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ لَهُ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَأَصَابَهُ الْكِبَرُ وَلَهُ ذُرِّيَّةٌ ضُعَفَاءُ فَأَصَابَهَا إِعْصَارٌ فِيهِ نَارٌ فَاحْتَرَقَتْ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ" [67] کیا تم میں سے کوئی اس کو پسند کرے گا کہ اس کا کھجور اور انگور کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں رواں ہوں، اس کے لیے ہر قسم کے پھل اس میں موجود ہوں اور اس شخص پر بڑھاپا آگیا ہو اور اس کے ناتواں بچے ہوں، اس حالت میں اس باغ میں ایسا بگولہ آیا، جس میں آگ بھری تھی، اس نے باغ کو جلادیا، اسی طریقہ سے اللہ تمھارے لیے کھول کھول کر نشانیاں بیان کرتا ہے، شاید تم بچو۔ لوگوں نے کہا واللہ اعلم!حضرت عمرؓ کو اس بے معنی جواب پر غصہ آگیا، بولے اگر نہیں معلوم تو صاف صاف کیوں نہیں کہتے کہ نہیں معلوم، عبد اللہ ابن عباس ؓ جھجکتے ہوئے بولے میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں، فرمایا تم اپنے کو چھوٹا نہ سمجھو جو دل میں ہو بیان کرو، کہا اس میں عمل کی مثال دی گئی ہے، جواب گو صحیح تھا، تاہم ناکافی تھا، عمرؓ بن خطاب نے پوچھا کیسا عمل؟ ابن عباس ؓ نے اس سے زیادہ نہ بتا سکے، تب خود حضرت عمرؓ نے بتایا کہ اس میں اس دولت مند کی تمثیل ہے جو خدا کی اطاعت بھی کرتا ہے، لیکن اس کو شیطانی وسوسہ گناہوں میں مبتلا کر دیا ہے اور اس کے تمام اچھے اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔ [68] حضرت عمرؓ ان کی ذہانت اور ذکاوت کی وجہ سے ان کو شیوخ بدر کے ساتھ مجلسوں میں شریک کرتے تھے، بعض صحابہؓ کو اس سے شکایت پیدا ہوئی، انھوں نے کہا کہ ان کو ہمارے ساتھ مجلسوں میں کیوں شریک کرتے ہو، ان کے برابر تو ہمارے لڑکے ہیں، فرمایا تم لوگ ان کا مرتبہ جانتے ہو، اس کے بعد ان کی ذہانت کا مشاہدہ کرانے کے لیے ایک دن ان کو بلا بھیجا اور لوگوں سے پوچھا کہ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ [69] کے بارہ میں تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اس کے کیا معنی ہیں؟ کسی نے جواب دیا کہ نصرت و فتح پر ہم کو خدا کی حمد وثناء کا حکم دیا گیا ہے، کوئی خاموش رہا، پھر ابن عباسؓ سے پوچھا کہ ابن عباسؓ! تمھارا بھی یہی خیال ہے، انھوں نے کہا نہیں پوچھا پھر کیا ہے؟ عرض کیا اس میں آنحضرت کی وفات کا اشارہ ہے، حضرت عمرؓ نے فرمایا جو تم کہتے ہو یہی میرا بھی خیال ہے۔ [70] درحقیقت حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ کی فہم تفسیر قرآن میں ایسی دقیقہ رس تھی کہ وہاں تک مشکل سے دوسروں کا خیال پہنچ سکتا تھا؛چنانچہ اس سورہ کا مقصد خاص محرمان اسرار کے علاوہ عام لوگ کم سمجھ سکتے تھے، جب یہ آیت نازل ہوئی تو اکثر صحابہؓ میں مسرت وشادمانی کی لہر دوڑ گئی کہ اس میں خدانے فتح و نصرت اور اسلام کی مقبولیت کے ایفائے عہد پر حمدو ثناء کا حکم دیا ہے، لیکن مقرب بارگاہ رسالت، محرمِ اسرار نبوت، ثانی اثنین فی الغار حضرت ابوبکر صدیقؓ کی آنکھوں سے جوئے اشک رواں ہو گئی کہ اس کی صبح وصل کا نور چھنتا ہو اورشام فراق کی تاریکی چھاتی ہوئی نظر آگئی تھی۔ (بخاری) بظاہر اس سورہ کو آنحضرت کی وفات سے کوئی تعلق نہیں معلوم ہوتا ؛لیکن اگر انسان کے مقصدِ حیات کو پیش نظر رکھ کر اس کی ترتیب اور اس کے معنی پر غور کیا جائے تو مطلب واضح ہوجاتا ہے، دنیا میں انسان ایک نہ ایک مقصد لے کر آتا ہے اور اس کے حصول کے بعد اس کے آنے کا مقصد پورا ہوجاتا ہے، پھر قیام کی ضرورت باقی نہیں رہتی، آنحضرت ﷺ دین الہیٰ کی تبلیغ کے لیے دنیا میں تشریف لائے تھے وہ پوری ہو چکی تو خدانے فرمایا کہ جب خدا کی مدد اوراس کی فتح آچکی اورتم نے دیکھ لیا لوگ جوق در جوق خدا کے دین میں داخل ہو رہے ہیں تو اب تم خدا کی تحمید و تقدیس کرو، اس سے مغفرت چاہو وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے، یعنی خدا کو کچھ کام تمھارے ذریعہ لینا تھا وہ لے چکا اب تم کو اس سے ملنے کی تیار کرنی چاہیے۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ تفسیر میں ہمیشہ عام، جامع اور قرینِ عقل شق کو اختیار کرتے تھے، سورۂ کوثر کی تفسیر خود آنحضرت ﷺ سے حضرت عائشہ ؓ اور متعدد اکابر صحابہ ؓ کے ذریعہ سے منقول ہے، حضرت انس بن مالک ؓ راوی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ کوثر کے نزول کے وقت پوچھا جانتے ہو کوثر کیا چیز ہے، لوگوں نے عرض کیا خدا اور اس کا رسول خوب جانتا ہے، فرمایا خدانے مجھ سے ایک نہر کا وعدہ کیا ہے جس میں بے شمار بھلائیاں ہیں، قیامت کے دن اس حوض پر میری امت آئے گی[71] حضرت عائشہ ؓ اور حضرت انس ؓ کوثر سے مراد نہر لیتے ہیں اور حضرت ابن عباس ؓ "خیر کثیر"مراد لیتے ہیں[72]حضرت ابن عباس ؓ کی اس تفسیر سے عطیہ الہی کی وسعت اور عظمت بہت بڑھ جاتی ہے اور دوسری تفسیریں بھی اس کے تحت میں آجاتی ہیں اور قرآن پاک کے سلسلہ کلام کا بھی یہی اقتضا ہے کہ کوثر سے مراد"خیر کثیر" لیا جائے، تاکہ اس کے بعد کفار سے برأت (قل یاایھا الکافرون) اور فتح و نصرت(فتح مکہ) کی بشارت اسی سلسلہ میں داخل ہوجائے۔ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى [73] کہدواے محمد :تبلیغ رسالت کے عوض میں تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا، صرف یہ کہ قرابت داری کی محبت ملحوظ رکھو۔ عام مفسرین"قربیٰ"سے مراد خاص آنحضرت ﷺ کے اہل بیعت لیتے ہیں، لیکن عبد اللہ ابن عباس ؓ قریش کے تمام قبائل کو اس میں شامل کرتے ہیں، ایک مرتبہ کسی نے ان سے "مودۃ فی القربی" کی تفسیر پوچھی، سعید بن جبیر بولے اس سے مراد آنحضرت کی قرابت ہے، یعنی آپ کے اہل بیت کی قرابت، ابن عباس ؓ نے کہا تم نے جلد بازی سے کام لیا، قریش کا کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی قرابت نہ رہی ہو، اس آیت میں یہ سب شامل ہیں۔ [74] تفسیر قرآن اورفہم قرآن کے فطری ملکہ کے علاوہ شانِ نزول اورناسخ ومنسوخ کے بارہ میں اس قدر حاضر المعلومات تھے کہ بمشکل کوئی ایسی آیت نکل سکے گی جس کے تمام جزئیات اورمَالَہ وماعلیہ سے پوری ان کو واقفیت نہ ہو۔

لَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا [75] اے مسلمانو!(اظہار اسلام کے لیے)جو تم کو سلام کرے، اس کو تم خواہ مخواہ نہ کہو تو مسلمان نہیں ہے۔ بظاہر یہ ایک عام حکم ہے اس کی تفسیر بھی ابن عباس ؓ کی ممنونِ احسان ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ کسی غزوہ میں ایک شخص کچھ مالِ غنیمت لیے ہوئے تھا، مسلمانوں کا سامنا ہوا تو اس نے سلام کیا، ان لوگوں نے (شبہ میں) مارڈالا، اورمالِ غنیمت چھین لیا، اس پر یہ حکم نازل ہوا۔ [76] اسی طریقہ سے اس آیت: وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ (حجر:24) ہم نے تم میں سے بعض ان لوگوں کو جو آگے بڑھ کر کھڑے ہوتے ہیں جان لیا ہے اوران کو بھی جو پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔ کے متعلق بیان کرتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت جماعت کی نماز میں شریک ہوتی تھی، بعض محتاط اشخاص اگلی صف میں چلے جاتے تھے کہ اس پر نظر نہ پڑے اوربعض دیکھنے کی نیت سے پیچھے رہتے تھے اوررکوع میں بغل کے راستہ سے نظر ڈال لیتے تھے، ان کی اس خیانت پر یہ آیت نازل ہوئی۔ [77] قرآن مجید کا یہ حکم : "لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَفْرَحُونَ بِمَا أَتَوْا وَيُحِبُّونَ أَنْ يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِنَ الْعَذَابِ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ" [78] اورجو لوگ اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں اورجو نہیں کیا ہے اس پر تعریف چاہتے ہیں تو ایسے لوگوں کی نسبت ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ عذاب سے بچ جائیں گے، بلکہ ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ بظاہر انسانی فطرت کے کس قدر خلاف ہے، کیونکہ ہرشخص اپنے کیے پر خوش ہوتا ہے اورجو نہیں کرتا ہے اس پر بھی تعریف کاخواہاں رہتا ہے، اگر بہت بلند اخلاق کا شخص ہے تو زیادہ سے زیادہ وہ یہ کہ دوسرا جذبہ اس میں نہ ہوگا، اس تہدیدی حکم کے استفسار کے لیے مروان نے اپنے دربان کو عبد اللہ بن عباس ؓ کے پاس بھیجا کہ ان سے جاکر پوچھو کہ ہم میں سے کون ایسا ہے، جس کے دل میں یہ جذبہ نہ ہو، اس حکم کے مطابق تو ہم سب عذاب میں مبتلا ہوں گے حضرت ابن عباس ؓ نے جواب دیا کہ اس کو ہم لوگوں سے کوئی تعلق نہیں، یہ ایک خاص موقع پراہل کتاب کے بارہ میں نازل ہوئی تھی، پھر یہ آیت۔ وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ [79] جب خدانے ان لوگوں سے جن کو کتاب دی ہے یہ وعدہ لیا کہ وہ اسے لوگوں کو کھول کھول کے سنائیں گے۔ تلاوت کرکے کہا کہ ان کو یہ حکم ملاتھا، مگر انھوں نے بالکل اس کے برعکس عمل کیا، ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے ان سے کسی بات کے متعلق استفسار فرمایا، انھوں نے اصل جواب جوان کی کتاب میں تھا چھپا ڈالا اور اپنے حسب منشا دوسرا فرضی جواب دے کر آنحضرت ﷺ پر ظاہر کیا کہ انھوں نے اصل جواب دیا ہے اور پھر اس فعل پر آنحضرت ﷺ سے خوشنودی کے طالب ہوئے اور اپنی اس چالاکی پر شاداں وفرحاں ہوئے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جو لوگ اپنے کیے پر خوش ہوتے ہیں(جیسا کہ اہل کتاب اپنی چالاکی پر خوش ہوئے تھے) اورجو نہیں کیا ہے اس پر تعریف کے خواہاں ہوتے ہیں (جیسا کہ یہ لوگ آنحضرت ﷺ کی خوشنودی کے خواہاں ہوئے تھے) تو ایسے لوگوں کے لیے عذاب سے چھٹکارا نہیں ہے اوران کے لیے دردناک عذاب ہے۔ [80] ذیل کے واقعہ سے ان کی فراست، طباعی، دقیقہ سنجی اور قوتِ استنباط کا اندازہ ہوگا، ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے صحابہ ؓ کے مجمع میں سوال کیا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ لیلۃ القدر رمضان کے اخیر عشرہ کی ایک طاق رات ہے، تم لوگ اس سے کون سی طاق رات سمجھتے ہو؟ کسی نے ساتویں کسی نے پانچویں، کسی نے تیسری بتائی، ابن عباس ؓ سے فرمایا تم کیوں نہیں بولتے، عرض کیا اگر آپ فرماتے ہیں تو مجھ کو کیا عذر ہو سکتا ہے، حضرت عمرؓ نے فرمایا میں نے بولنے ہی کے لیے تمھیں بلایا ہے، کہا میں اپنی ذاتی رائے دوں گا، فرمایا ذاتی رائے تو پوچھتا ہی ہوں، کہا میں نے آنحضرت ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سات کے عدد کو بہت اہمیت دی ہے، چنانچہ فرمایا ہے کہ سات آسمان، سات زمین، ایک دوسرے موقع پر فرمایا ہے کہ ہم نے زمین کو پھاڑا اوراس میں غلہ، انگور، شاخ، زیتون، کھجور، کے درخت، گنجان باغ، اورمیوے اُگائے، یہ بھی سات باتیں ہیں، حضرت عمرؓ نے یہ جواب سن کر فرمایا کہ تم لوگ اس بچہ سے بھی گئے گذرے ہوئے، جس کے سرکے گوشہ بھی ابھی درست نہیں ہوئے، یہ جواب کیوں نہ دیا، [81]گو بعض دوسرے صحابہ ؓ نے بھی سات کی تعیین کی تھی، لیکن کسی استدلال کے ساتھ نہیں، سبھوں نے ایک ایک طاق رات اپنے اپنے قیاس و فہم کے مطابق لی، کسی نے سات کی شب بھی لی، لیکن ابن عباس نے قرآن سے اس کی تائید پیش کی، حضرت ابن عباس ؓ تفسیر میں نہایت دلیری سے کام لیتے تھے، بعض محتاط صحابہ ؓ اس دلیری کو ناپسند کرتے تھے، لیکن بالآخر ان کو بھی ان کی مہارتِ تفسیر کا اعتراف کرناپڑا۔ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر ؓ کے پاس ایک شخص آیا، اوراس نے آیت "کانتا رتقا ففتقنا" کا مطلب پوچھا، انھوں نے امتحان کی غرض سے ابن عباس ؓ کے پاس بھیج دیا کہ ان سے پوچھ کر بتاؤ، اس نے جاکر پوچھا، انھوں نے بتایا کہ آسمان کا فتق یہ ہے کہ پانی نہ برسائے زمین کا فتق یہ ہے کہ نباتات نہ اگائے، سائل نے واپس آکر یہ جواب حضرت ابن عمرؓ کو سنایا انھوں نے کہا ابن عباس ؓ کو نہایت سچا علم مرحمت ہوا ہے، مجھ کو تفسیر قرآن میں ان کی دلیری پر حیرت ہوتی تھی ؛لیکن اب معلوم ہوا کہ درحقیقت علم انھی کا حصہ ہے، [82] حضرت ابن عمرؓ اس کے بعد قرآن کے سائلین کو خود جواب نہ دیتے تھے، بلکہ ابن عباس ؓ کے پاس بھیج دیتے تھے، ایک مرتبہ عمروبن حبشی نے ایک آیت کے متعلق ان سے استفسار کیا، انھوں نے کہا ابن عباس ؓ سے پوچھو، قرآن کے جاننے والے جو لوگ باقی رہ گئے ہیں، ان میں سب سے زیادہ معلومات وہی رکھتے ہیں۔ [83] علومِ قرآنی میں علم النسخ کی اہمیت بالکل عیاں ہے، حضرت ابن عباس ؓ اس بحرزخار کے بھی شناور تھے، اورتمام ناسخ اورمنسوخ احکام ان کے ذہن میں مستحضر تھے، یہ اس علم کو اس قدر اہمیت دیتے تھے کہ بغیر اس پر حاوی ہوئے وعظ کی لب کشائی کی اجازت نہ دیتے تھے، ایک مرتبہ کسی راستہ سے گذر رہے تھے، ایک اور واعظ وعظ کہہ رہا تھا، اس سے پوچھا ناسخ منسوخ جانتے ہو کسے کہتے ہیں، اس نے کہا نہیں، فرمایا: تو تم خود بھی ہلاک ہوئے اور دوسروں کو بھی ہلاک کیا۔ [84] گو حضرت ابن عباس ؓ قرآن کی تعلیم میں بخل نہ کرتے تھے، اوران کا دروازہ ہر طالب قرآن کے لیے کھلا ہوا تھا، تاہم وہ اس نکتہ سے بھی بے خبر نہ تھے کہ جب کثرت سے قرآن کی اشاعت ہوگی اورہر کس وناکس فہم قرآن کا مدعی ہوجائے گا توامت میں اختلاف کا دروازہ کھل جائے گا، ان کی اس نکتہ رسی کا اعتراف حضرت عمرؓ کو بھی کرنا پڑا، حضرت عمرؓ نے اپنے عہدِ خلافت میں سارے ممالک محروسہ میں حافظِ قرآن مقرر کر دیے تھے کہ وہ مسلمانوں کو قرآن کی تعلیم دیں، ایک دن ابن عباس ؓان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، حاکم کوفہ کا خط آیا کہ کوفہ والوں نے اتنا اتنا قرآن پڑھ لیا، حضرت عمرؓ نے یہ مژدہ سنکر تکبیر کا نعرہ لگایا، لیکن ابن عباس ؓ بولے کہ اب ان میں اختلاف کا تخم پڑ گیا، حضرت عمرؓ نے غصہ سے پوچھا تم کو کیسے معلوم ہوا، اس واقعہ کے بعد یہ گھر چلے آئے، لیکن حضرت عمرؓ کے دل میں ان کا کہنا کھٹکتا رہا، چنانچہ آدمی بھیج کر ان کو بلا بھیجا، انھوں نے عذر کر دیا، دوبارہ پھر آدمی بھیجا کہ تم کو آنا ہوگا، اس تاکید پر یہ چلے آئے، حضرت عمرؓ نے پوچھا تم نے کوئی رائے ظاہر کی تھی، انھوں نے کہا پناہ بخدا اب میں کبھی دوبارہ کوئی خیال نہ ظاہر کروں گا، حضرت عمرؓ نے کہا میں طے کر چکا ہوں کہ جو تم نے کہا تھا اس کو کہلوا کر رہوں گا، اس اصرار پر انھوں نے کہا کہ آپ نے جب کہا کہ میرے پاس خط آیا ہے کہ کوفہ والوں نے اتنا اتنا قرآن یاد کر لیا، اس پر میں نے کہا کہ ان لوگوں میں اختلاف پیدا ہو گیا، حضرت عمرؓ نے کہا یہ تم نے کیسے جانا، انھوں نے سورۂ بقرہ کی یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصَامِ، وَإِذَا تَوَلَّى سَعَى فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ، وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ [85] اے محمد لوگوں میں سے بعض ایسے آدمی بھی ہیں جن کی باتیں تم کو دنیاوی زندگی میں بھلی معلوم ہوتی ہیں اوروہ اپنی دلی باتوں پر خداکو گواہ بناتا ہے، حالانکہ وہ دشمنوں میں بڑا جھگڑالو ہے اورجب وہ تمھارے پاس لوٹ کر جائے تو ملک میں پھرے تاکہ اس میں فساد پھیلائے اورکھیتی اورنسل کو تباہ کرے اوراللہ فساد کو پسند نہیں کرتا اورجب اس سے کہا جائے کہ خداسے ڈرو تو اس کو عزت نفس گناہ پر آمادہ کرے، ایسے شخص کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت بُراٹھکانا ہے اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو خدا کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان تک بیچ ڈالتے ہیں اوراللہ بندوں پر شفقت کرنے والا ہے۔ یہ آیتیں سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم نے سچ کہا۔ [86][87][88]

حدیث[ترمیم]

حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی ﷲ تعالیٰ عنہ مخصوص صحابہ ؓ میں ہیں جو علم حدیث کے اساطین سمجھے جاتے ہیں،اگر حدیث کی کتابوں سے ان کی روایتیں علاحدہ کرلی جائیں تو اس کے بہت سے اوراق سادہ رہ جائیں گے، ان کی مرویات کی مجموعی تعداد 1660 ہے ، ان میں 75 متفق علیہ ہیں، یعنی بخاری اور مسلم دونوں میں ہیں، ان کے علاوہ 18 روایتوں میں بخاری منفرد ہیں اور49 میں مسلم۔ [89] ان کی روایات کی کثرت اور معلومات کی وسعت خود ان کی ذاتی کاوش وجستجو کا نتیجہ ہیں، گوبہت سی روایتیں براہِ راست خود زبانِ وحی والہام سے لی ہیں، لیکن آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت ان کی عمر 14،15 سال سے زائد نہ تھی، ظاہر ہے کہ اس عمر میں علم کا اتنا سرمایہ کہاں سے حاصل کرسکتے تھے،ان کے ذوقِ علم اور تلاش وجستجو کا اندازہ ذیل کے واقعات سے ہوگا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد ایک انصاری سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے، مگر آپ ﷺ کے اصحاب زندہ ہیں چلو ان سے تحصیل علم کریں، انھوں نے کہا ابن عباس ؓ! مجھو کو تم پر حیرت ہوتی ہے، تم دیکھتے ہو کہ لوگ علم میں خود تمھارے محتاج ہیں، پھر تم دوسروں کے پاس جاتے ہو، یہ جواب سن کر ان کو چھوڑ دیا اور تنہا جہاں کہیں سراغ ملتا کہ فلاں شخص نے آنحضرت ﷺ سے کوئی حدیث سنی ہے، فوراً مشقت اٹھا کر اس کے پاس پہنچتے اور اطلاع دیتے وہ گھر سے نکل آتا اور کہتا کہ تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے، وہ کہتا: اے ابن عم رسول ﷺ !آپ نے کیوں زحمت گوارا کی، کسی دوسرے کو بھیج دیا ہوتا، کہتے نہیں یہ میرا فرض تھا، اس طریقہ سے عرب کے گوشہ گوشہ سے ایک ایک دانہ چن چن کر خرمنِ علم کا انبار لگایا، جب ان کے فضل وکمال کا چرچا زیادہ ہوا، اس وقت ان انصاری نے جنھوں نے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا تھا، ندامت کے ساتھ اقرار کیا، ابن عباس ؓ ہم سے زیادہ عقل مند تھے۔ [90] ابوسلمہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ ابن عباس ؓ کہتے تھے جس شخص کے متعلق مجھ کو پتہ چلتا کہ اس نے آنحضرت ﷺ سے کوئی حدیث سنی ہے تو میں خود اس کے مکان پر جاکر حاصل کرتا ؛حالانکہ اگر میں چاہتا تو راوی کو اپنے یہاں بلواسکتا تھا۔ [91] ابو رافع ؓ آنحضرت ﷺ کے غلام تھے، اس لیے ان کو آنحضرت ﷺ کے افعال دیکھنے اوراقوال سننے کا زیادہ موقع ملتا تھا، ابن عباس ؓ ان کے پاس کاتب لے کر آتے اور پوچھتے کہ آنحضرت ﷺ نے فلاں فلاں دن کیا کیا کیا، ابو رافع ؓ بیان کرتے اورکاتب قلمبند کرتا جاتا۔ [92] اسی تلاش وجستجو نے ان کو اقوال وافعال نبوی کا سب سے بڑا حافظ بنادیا تھا، اکثراکابر صحابہ ؓ کو جوعمر اورمرتبہ میں ان سے کہیں زیادہ تھے، ان کے مقابلہ میں اپنے قصورِعلم کا اعتراف کرنا پڑتا تھا، یہ فتویٰ دیتے تھے کہ حائضہ طواف رخصت کیے بغیر لوٹ جائے، حضرت زید بن ثابت ؓ انصاری کاتب وحی کو معلوم ہوا تو انھوں نے پوچھا تم حائضہ عورت کو یہ فتویٰ دیتے ہو، انھوں نے کہا ہاں، زید بن ثابت ؓ نے کہا یہ فتویٰ نہ دیا کرو، انھوں نے کہا میں تو یہی دوں گا، اگر آپ کو شک ہے تو فلاں انصاریہ سے جاکر پوچھ لیجئے کہ اس کو یہ حکم دیا تھا یا نہیں، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جاکر پوچھا تو ابن عباس ؓ کا فتویٰ صحیح نکلا، چنانچہ ہنستے ہوئے واپس آئے اور بولے تم نے سچ کہا تھا۔ [93] اسی طریقہ سے ایک مرتبہ ان میں اور مسور بن مخرمہ میں محرم کے سر دھونے کے بارہ میں اختلاف ہوا، یہ کہتے تھے محرم سردھوسکتا ہے، مخرمہ اس کے خلاف تھے، اس پر عبد اللہ بن عباس ؓ نے عبد اللہ بن حنین کو حضرت ابوایوب انصاری ؓ کے پاس تحقیق کے لیے بھیجا، یہ اس وقت کپڑا آڑ کیے ہوئے کنوئیں پر نہا رہے تھے، عبد اللہ نے سلام کیا، انھوں نے پوچھا کون؟ کہامیں ہوں عبد اللہ بن حنین، ابن عباس ؓ نے پوچھا ہے کہ آنحضرت ﷺ احرام کی حالت میں کسی طرح سردھوتے تھے، ابوایوب ؓ نے عملا ًنقشہ کھینچ کر بتادیا۔ [94] جب صحابہ کرام ؓ میں آنحضرت ﷺ کے کسی قول وفعل کے بارہ میں اختلاف ہوتا تو وہ ابن عباس ؓ کی طرف رجوع کرتے، اس بارہ میں کہ آنحضرت ﷺ نے کہاں سے احرام باندھا؟ صحابہ ؓ میں بہت اختلاف ہے، سعید بن جبیر نے عبد اللہ ابن عباس ؓ سے کہا کہ ابو العباس رضی اللہ عنہ مجھ کو حیرت ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اصحاب ؓ میں آپ کے احرام باندھنے کی جگہ کی تعیین میں بہت زیادہ اختلاف ہے، انھوں نے کہا میرے معلومات اس بارہ میں سب سے زیادہ ہیں، چونکہ آنحضرت ﷺ نے ایک ہی حج کیا ہے، اس لیے لوگوں میں اختلاف پیدا ہو گیا، اس کا سبب یہ ہے کہ جب آپﷺ نے ذو الحلیفہ کی مسجد میں دو رکعت نماز پڑھنے کے بعد احرام باندھا اورلبیک کہنا شروع کیا، جولوگ اس وقت موجود تھے انھوں نے اسی کو یادرکھا، پھر جب آپ ﷺ اونٹنی پر سوار ہوئے اور وہ چلی تو پھر آپ نے لبیک کہا، اس وقت جو لوگ موجود تھے وہ یہ سمجھے کہ آپ نے یہیں ابتدا کی ہے، چنانچہ وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جب آپﷺ اونٹنی پر سوار ہوکر چلے اسی وقت سے لبیک کہنا شروع کیا، اس کے بعد جب آپ ﷺ بلندی پر چڑھے اس وقت سے کہنا شروع کیا، لیکن میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آپ نے مسجد میں احرام باندھا، اس کے بعد جب اونٹنی چلی تب، اورجب بلند مقام پر چڑھے تب دونوں مرتبہ لبیک کہا۔ [95][96][97]،[98][99]

روایتوں میں احتیاط[ترمیم]

عموماً کثیر الروایت راویوں کے متعلق یہ شبہ کیا جاتا ہے کہ وہ روایت کرنے میں محتاط نہیں ہوتے اور رطب و یابس کا امتیاز نہیں رکھتے ، لیکن عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی ذات اس سے مستثنی اور اس قسم کے شکوک و شبہات سے ارفع و اعلیٰ تھی، وہ حدیث بیان کرتے وقت اس کا پورا پورا لحاظ رکھتے تھے کہ کوئی غلط روایت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب نہ منسوب ہونے پائے، جہاں اس قسم کا کوئی خفیف سا بھی خطرہ ہوتا، وہ بیان نہ کرتے تھے، چنانچہ اکثر کہا کرتے تھے کہ ہم اس وقت تک آنحضرت صلی اللہ علی وسلم کی حدیث بیان کرتے تھے، جب تک جھوٹ کا خطرہ نہ تھا، لیکن جب سے لوگوں نے ہر قسم کی رطب ویابس حدیثیں بیان کرنا شروع کر دیں، اس وقت سے ہم نے روایت ہی کرنا چھوڑ دیا، [100]لوگوں سے کہتے کہ تم کو قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے وقت یہ خوف نہیں معلوم ہوتا کہ تم پر عذاب نازل ہو جائے یا زمین شق ہوجائے اور تم اس میں سما جاؤ، [101]اسی احتیاط کی بنا پر فتویٰ دیتے تو آنحضرت ﷺ کا نام نہ لیتے تھے، [102] کہ آپ کی طرف نسبت کرنے کا بار نہ اٹھانا پڑے۔ [103][104]

حلقہ درس[ترمیم]

حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا حلقہ درس بہت وسیع تھا، سینکڑوں طلب گار روزانہ ان کے خرمنِ کمال سے خوشہ چینی کرتے تھے، ان کی زندگی کا ہر لمحہ درس و تدریس کے لیے وقف تھا کبھی کوئی شخص ان کے چشمہ فیض سے ناکام واپس نہ ہوا، اس عام فیض کے علاوہ بعض مجلسیں خصوصیت کے ساتھ درس و تدریس اور علمی مذاکروں کے لیے مخصوص تھیں اوران میں باقاعدہ ہر علم وفن کی جدا جدا تعلیم ہوتی تھی، ابوصالح تابعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف ایک ایسی علمی مجلس دیکھی کہ اگر سارا قریش اس پر فخر کرے تو بھی بجا ہوگا، اس مجلس کا یہ حال تھا کہ عبد اللہ بن عباس ؓ کے مکان کے سامنے آدمیوں کا اتنا ازدحام تھا کہ ان کی کثرت سے آمدورفت مشکل تھی، میں نے جاکر اس ازدحام کی اطلاع دی تو مجھ سے پانی مانگا، میں پانی لایا، انھوں نے وضو کیا، وضو کرکے بیٹھ گئے، پھر مجھ سے کہا جاؤ قرآن کے جس شعبہ کے متعلق جو سائل ہوں ان کو اطلاع دو، میں نے اطلاع دی، دیکھتے دیکھتے سائلوں سے سارا گھر اور تمام حجرے بھر گئے، جس نے جو سوال کیا اس کے سوال سے زیادہ اس کو جواب دے کر رخصت کیا،پھر مجھ سے کہا جاؤ حرام و حلال اور فقہ کے سائلوں کو بلاؤ میں نے ان لوگوں کو اطلاع دی، چنانچہ ان کا جم غفیر آیا اور جن کو جو سوالات کرنا تھے پیش کیے، فرداً فرداً سب کو نہایت تشفی بخش اور ان کے سوالات سے زیادہ جواب دے کر رخصت کیا، پھر فرمایا کہ اب تمھارے دوسرے بھائیوں کی باری ہے، اس کے بعد فرائض وغیرہ کے سائلوں کو بلایا، ان کی تعداد بھی اتنی بڑی تھی کہ پورا گھر بھر گیا، ان کے پیشرؤوں کی طرح ان کے سوالات سے زیادہ جوابات دے کر فارغ ہوئے تو مجھے سے کہا عربی زبان، شعر و شاعری اور ادب و انشاء کے سائلوں کو بلا لاؤ، چنانچہ میں نے اطلاع دی، یہ لوگ آئے، ان کے ہجوم کا بھی وہی حال تھا، ان لوگوں نے جو سوالات کیے، ان کے سوالات سے زیادہ جوابات دیے ، ابوصالح تابعی یہ واقعہ بیان کرکے کہتے ہیں کہ میں نے کسی شخص کی اتنی بڑی مجلس نہیں دیکھی تھی۔ [105] درس کے ان مستقل حلقوں کے علاوہ کبھی کسی نماز کے بعد تقریر اور خطبہ کے ذریعہ سے تعلیم دیتے، عبد اللہ بن شقیق بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ابن عباس ؓ نے عصر کے بعد ہم لوگوں کے سامنے تقریر کی اور اتنی دیر تک کرتے رہے کہ آفتاب غروب ہو گیا اور تارے نکل آئے، لوگوں نے نماز نماز کی آوازیں بلند کرنا شروع کیں، ایک تمیمی نے مسلسل نماز کہنا شروع کیا، ابن عباس ؓ جھنجھلا کر بولے "لاام لک" تو مجھ کو سنت کی تعلیم دیتا ہے میں نے آنحضرت کو دیکھا ہے، آپﷺ ظہر، عصر اور مغرب وعشاء کی نمازیں ایک ساتھ پڑھتے تھے، عبد اللہ بن شقیق کے دل میں یہ بات کھٹکتی رہی، انھوں نے جاکر حضرت ابوہریرہ ؓ سے پوچھا حضرت ابوہریرہؓ نے کہا ہاں صحیح ہے۔ [106] حضر کے علاوہ سفر میں بھی ان کا یہ چشمہ فیض جاری رہتا تھا، چنانچہ جب چند دنوں کے لیے حج کی غرض سے مکہ معظمہ تشریف لے جاتے تھے، اس وقت بھی ان کی قیامگاہ طالبانِ علم کی درسگاہ بن جاتی۔ [107][108]

ترجمان کا تقرر[ترمیم]

اسلامی فتوحات کے بعد جب اسلام عرب کے حدود سے نکل کر ایران و مصر وغیرہ میں پھیلا تو وہ قومیں اسلام کے حلقہ اثر میں آئیں جن کی زبان عربوں سے جدا تھی، عبد اللہ ابن عباس ؓ نے ان کی آسانی کے لیے مخصوص ترجمان رکھے کہ ان کو سوال میں زحمت نہ ہو۔ [109] [110]

تلامذہ[ترمیم]

ان کی اس فیض رسانی و علم وعرفان کی بارش نے ان کے تلامذہ کا دائرہ بہت وسیع کر دیا تھا، جن کی تعداد ہزاروں تک پہنچ جاتی ہے، مشہور تلامذہ اور شاگردوں کی مختصر فہرست یہ ہے۔ بیٹوں میں محمد اور علی، پوتوں میں محمد بن علی، بھائیوں میں کثیر، بھتیجوں میں عبد اللہ بن عبیداللہ اور عبد اللہ بن معبد، عام لوگوں میں عبد اللہ بن عمر، ثعلبہ بن حکم، مسور بن مخرمہ، ابو الطفیل، ابوامامہ بن سہل، سعید بن مسیب، عبد اللہ بن حارث، عبد اللہ بن عبد اللہ، عبد اللہ بن شداد، یزید بن اصم، ابوسلمہ بن عبد الرحمن، ابو حمزہ ضبعی، ابومجلز لاحق بن حمید، ابو رجاء عطاردی، قاسم بن محمد، عبید بن اسباق، علقمہ بن وقاص، علی بن حسین، عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ، عکرمہ، عطاء، طاؤس، کریب، سعید بن جبیر، مجاہد، عمرو بن دینار، ابوالجوزاء، اوس بن عبد اللہ ربعی، ابوالشعثا، جابر بن زید، بکر بن عبد اللہ مزنی، حصین بن جندب، حکم بن اعرج، ابوالجویرہ، حطان بن خفاف، حمید بن عبد الرحمن بن عوف، رفیع ابوالعالیہ، مقسم، ابوصالح السمان، سعد بن ہشام، سعید بن ابو الحسن بصری، سعید بن حویرث، سعید بن ابی ہند، ابوالحباب سعید بن یسار، سلیمان بن یسار، ابوزمیل سماک بن ولید، سنان بن سلمہ، صہیب، طلحہ بن عبد اللہ بن عوف، عامر الشعبی، عبد اللہ بن ابی ملیکہ، عبد اللہ بن کعب بن مالک، عبد اللہ بن عبید ، عبید بن حنین، عبد الرحمن بن مطعم، عبد الرحمن بن وعلہ، عبد العزیز بن رفیع ، عبد الرحمن بن عاص نخعی، عبیداللہ بن عبد اللہ بن ابی ثور، عبیداللہ بن یزید الملکی، علی بن ابو طلحہ، عمرو بن مرہ، عمرو بن میمون، عمران بن حطان، عماربن ابی عمار، محمد بن عباد بن جعفر، مسلم بن صبیح ، سلم القریر، موسیٰ بن سلمہ، میمون بن مہران جزری، نافع بن جبیر بن مطعم ، ناعم، نضر بن انس، یحییٰ بن یعمر ، ابوالبختری الطائی، ابو الحسن الاعرج، یزید بن ہرمز، ابوحمزہ قصاب، ابوالزبیرمکی ، ابو عمر البہرانی، ابو المتوکل الناجی، ابولنضرہ العبدی، فاطمہ بنت حسین، محمد بن سیرین وغیرہ۔[111][112]

فقہ و فرائض[ترمیم]

حضرت ابن عباس ؓ کے فتاویٰ فقہ کی سنگ بنیاد ہیں، اس کی تشریح کے لیے ایک دفتر چاہیے، اس لیے ہم ان کو قلم انداز کرتے ہیں، تاہم ان کی فقہ دانی کا سرسری اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ابوبکر محمد بن موسیٰ، خلیفہ مامون الرشید کے پر پوتے نے جو اپنے زمانہ کے امام تھے، ان کے فتاویٰ 20 جلدوں میں جمع کیے تھے۔ [113] مکہ میں فقہ کی بنیاد انھی نے رکھی، وہ تمام فقہا جن کا سلسلہ مکہ کے شیوخ تک پہنچتا ہے، وہ سب بالواسطہ یا بلاواسطہ ان کے خوشہ چین تھے، ایک فقیہ ومجتہد کے لیے قیاس ناگزیر ہے، کیونکہ وقتاً فوقتاً بہت سے ایسے نئے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں جو حضرت حامل شریعت علیہ السلام کے عہد میں نہ تھے اوران کے متعلق کوئی صریح حکم موجود نہیں ہے، ایسے وقت میں مجتہد کا یہ فرض ہے کہ وہ منصوصہ احکام اوران میں علت مشترک نکال کر ان پر قیاس کرکے حکم صادر کرے، ورنہ فقہ کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا، حضرت ابن عباس ؓ کے سامنے جب کوئی مسئلہ پیش ہوتا تو وہ پہلے کتاب اللہ کی طرف رجوع کرتے، اگر اس سے جواب مل جاتا تو فبہا، ورنہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی طرف رجوع کرتے، اگر اس سے بھی مقصد برآری نہ ہوتی، توحضرت ابوبکر ؓ وعمرؓ کا فیصلہ دیکھتے، اگر اس سے بھی عقدہ حل نہ ہوتا تو، پھر اجتہاد کرتے، [114] مگر اسی کے ساتھ قیاس بالرائے کو برا سمجھتے تھے، چنانچہ وہ اس کی مذمت میں کہتے ہیں کہ جو شخص کسی مسئلہ میں ایسی رائے دیتا ہے جو کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ میں نہیں ہے، تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ جب وہ خدا سے ملے گا تو اس کے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے گا۔ [115] حضرت علی ؓ کے عہدِ خلافت میں کچھ لوگ مرتد ہو گئے، حضرت علی ؓ نے ان کو زندہ جلادیا، ابن عباس ؓ کو معلوم ہواتو کہا اگر ان کی جگہ میں ہوتا تو جلانے کی بجائے قتل کی سزا دیتا؛کیونکہ میں نے آنحضرت سے سنا ہے کہ جو شخص مذہب تبدیل کرے اس کو قتل کردو، پھر فرمایا کہ :جو عذاب خدا کا مخصوص ہے اس کو تم لوگ نہ دو، یعنی آگ میں کسی کو نہ جلاؤ، حضرت علی ؓ کو معلوم ہوا تو فرمایا عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ پر افسوس ہے۔ [116] فقہ کے ساتھ ساتھ فرائض میں بھی درک تھا، اگرچہ وہ اس فن میں حضرت معاذ بن جبل ؓ، زید بن ثابت ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ کے برابر نہ تھے، تاہم عام صحابہ ؓ میں حضرت ابن عباس ؓ بھی اس فن میں ممتاز درجہ رکھتے تھے، عبید اللہ بن عبد اللہ کا بیان ہے کہ حساب اور فرائض میں عبد اللہ ابن عباس ؓ ممتاز درجہ رکھتے تھے۔ [117][118][119]

دیگر علوم[ترمیم]

ان مذہبی علوم کے علاوہ ان تمام علوم میں جو اس زمانہ میں لازمہ شرافت سمجھے جاتے تھے کافی دستگاہ اور ناقدانہ نظر رکھتے تھے، اوپر گذرچکا ہے کہ مذہبی علوم کے علاوہ ان کے حلقۂ درس میں عربی شعروشاعری اور ادب وانشاء کے طالبین بھی آتے تھے، عربوں میں شاعری لازمہ شرافت تھی، بالخصوص قریش کی آتش بیانی مشہورتھی، ابن عباس ؓ نہ صرف سخن سنج تھے، بلکہ خود بھی اشعار کہتے تھے، ابن رشیق نے ان کے یہ چند اشعار کتاب العمدہ میں نمونہ کے طور پر نقل کیے ہیں۔ اذاطارقات الہم ضاجعت الفتی واعمل فکر اللیل واللیل عاکر جب رات کے آنے والے غم کسی جواں مرد کے ساتھ ہم خواب ہوتے ہیں اورشب کے آخر حصہ میں تفکرات اپنا عمل کرتے ہیں۔ وباکرنی فی صاحبۃ لم یجد بھا سوای ولا من نکبۃ الدھر ناصر اور وہ صبح کو میرے پاس اسی حالت میں اپنی حاجت لے کر آتا ہے کہ اس میں اوراس کی زمانہ کی بدبختیوں میں اس کا کوئی مدد گار نہیں ہوتا۔ فرجت بمالی ھمہ من مقامہ ونائلہ ہمّ طروق مسام تو میں اپنے مال کے ذریعہ اس کا غم دور کرتا ہوں اوراس کے رات کی آنے والی تفکرات دور ہو جاتے ہیں۔ وکان لہ فضل علی بظنّہ بی الخیرانی للذی ظن شاکر اور میں اسی کا ممنون ہوں کیونکہ وہ میرے ساتھ حسن ظن رکھتا ہے اور جو شخص میرے ساتھ حسن ظن رکھتا ہے اس کا میں مشکور ہوتا ہوں۔ شعر گوئی کے ساتھ فصیح و بلیغ بھی تھے، اگرچہ خطیب کی حیثیت سے انھوں نے کوئی شہرت نہیں حاصل کی تاہم ان کی روزانہ کی گفتگو بھی ادب کی چاشنی سے خالی نہ ہوتی تھی، مسروق کا بیان ہے کہ جب ابن عباس ؓ گفتگو کرتے تھے تو فصیح ترین آدمی معلوم ہوتے تھے۔ [120] حضرت حسن ؓ کی وفات کے بعد ان میں اور امیر معاویہ ؓ میں جو گفتگو ہوئی ہے، وہ حسن بیان کا ایک دل آویز نمونہ ہے۔ [121] امیر معاویہ ؓ: اجرک اللہ ابا العباس فی ابی محمد الحسن بن علی معاویہ ؓ: ابوالعباس خدا تمھیں ابی محمد الحسن بن علی کی موت پر اجر دے۔ فقال ابن عباس ؓ: اناللہ وانا الیہ راجعون وغلبہ البکاء فردہ ثم قال لایسد داللہ مکانہ حفرتک ولایزید موتہ فی اجلک واللہ لقد اصبنا بمن ہواعظم منہ فقد فما صنیعاواللہ بعدہ ابن عباس ؓ: نے انا اللہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور آنسو ضبط کرکے بولے، خدا کی قسم ان کی موت سے تمھاری قبر پرنہ ہو جائے گی اور نہ ان کی موت سے تمھاری زندگی میں کچھ اضافہ ہو گا، خدا کی قسم ہم کو ان سے بڑے کی موت کا صدمہ اٹھانا پڑا، خدا کی قسم اس کے بعد ہمارا کیا چارہ تھا۔ معاویہ ؓ: کم کانت سنہ معاویہ ؓ:کتنی عمر تھی۔ ابن عباس ؓ: مولدہ اشھرمن ان تتعرف سنہ ابن عباس ؓ:ان کی ولادت اتنی مشہور ہے کہ تم کو ان کی عمر معلوم کرنے کی ضرورت نہیں۔ امیر معاویہ ؓ: احسبہ ترک اولادا صفارا امیر معاویہ ؓ: میرا خیال ہے کہ انھوں نے چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے۔ ابن عباس ؓ: کان کائنا صغیرافکسر ولئن اختاراللہ لا بی محمد ما عندہ وقبضہ الی رحمتہ لقد ابقی اللہ اباعبداللہ وفی مثلہ الخلف الصالح ابن عباس ؓ: ہم سب چھوٹے تھے، پھر بڑے ہوئے، اگر خدانے ابو محمد حسن ؓ کو اپنی رحمت کی طرف بلالیا اورابھی اس نے ابو عبد اللہ (حسین ؓ) کو زندہ رکھا ہے اور ان کے ایسے لوگ خلف صالح ہوتے ہیں۔ تقریر اس قدر شیریں ہوتی تھی کہ بے ساختہ سننے والوں کی زبانوں سے مرحبا نکل جاتا، ہم نے مستدرک حاکم کے حوالہ سے اوپر کہیں نقل کیا ہے کہ شقیق بیان کرتے تھے کہ ابن عباس ؓ نے ایک مرتبہ حج کے موسم میں سورۂ نور کی تفسیر اس اچھوتے انداز سے بیان کی تھی کہ اس سے بہتر نہ میرے کانوں نے سنی تھی، نہ آنکھوں نے دیکھی تھی اگر اس کو فارس و روم سن لیتے تو پھر ان کو اسلام سے کوئی چیز نہ روک سکتی، ابن ابی شیبہ کی روایت میں اتنا اوراضافہ ہے کہ ایک شخص بولا کہ ابن عباس ؓ کی شیریں بیانی اور حلاوت پر میرا بے اختیار دل چاہتا تھا کہ ان کا سرچوم لوں۔ [122][123]

ابن عباس ؓ کی جامعیت[ترمیم]

اوپر کی تفصیل سے ان کی جامعیت کا اندازہ ہوا ہوگا، عبد اللہ بن عبد اللہ کے اس تبصرہ سے اس کا پورا اندازہ ہوگا وہ کہا کرتے تھے کہ اس زمانہ کے علوم میں کوئی ان کا ہمسر نہ تھا ، معاملہ فہمی اور اصابت رائے میں وہ سب پر فائق تھے، نسب دانی اور تاویلِ قرآن کے بڑے ماہر تھے، احادیث نبوی اور ابوبکر صدیق ؓ ، عمر بن خطاب ؓ اور عثمان بن عفان ؓ کے فیصلوں کا ان سے زیادہ کوئی واقف کار نہ تھا،شعر و شاعری، ادب، تفسیر ، حساب اور فرائض میں ممتاز درجہ رکھتے تھے اور ان سب میں ان کی رائے بے نظیر ہوتی تھی، ان کے علمی مذاکرے کے دن مقرر تھے، کسی دن فقہ کا درس دیتے تھے، کسی دن تاویل قرآن پر روشنی ڈالتے کسی دن مغازی کے واقعات کا تذکرہ کرتے، کسی دن ایامِ عرب کی داستان سناتے، کسی دن شعر و شاعری کا چرچا ہوتا، غرض ان کا چشمہ معرفت فیض ہر دن نئے رنگ سے اُبلتا تھا، میں نے کسی بڑے سے بڑے عالم کو نہیں دیکھا جو تھوڑی دیر کے لیے ان کی صحبت میں بیٹھا ہو اوران کے کمالِ علم کے سامنے اس کی گردن نہ جھک گئی ہو، کسی علم کے متعلق کوئی سوال بھی کرتا اس کو اس کا جواب ضرور ملتا۔ [124][125]

معاصرین کا اعتراف[ترمیم]

حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ صحابہ ؓ کی جماعت میں گو عمر میں بہت چھوٹے تھے مگر ان کا علم سب سے بڑا تھا، ان کے تمام معاصرین جن میں سے بڑے بڑے صحابہ ؓ تک تھے ان کے فضل وکمال کے معترف تھے۔ حضرت عمرؓ بن خطاب فرماتے تھے : عبد اللہ ابن عباس ؓ ادھیڑ عمر والوں میں نوجوان ہیں، ان کی زبان سائل اوران کا ذہن رسا ہے، مجاہد تابعی کہتے تھے کہ میں نے ابن عباس ؓ کے فتاویٰ سے بہتر کسی شخص کا فتویٰ نہیں دیکھا، علاوہ اس شخص کے جو قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہتا ہے، طاؤس کہتے تھے کہ میں نے آنحضرت کے پانچ سو اصحاب ؓ کو دیکھا ہے کہ جب وہ کسی مسئلہ میں ابن عباس ؓ سے مباحثہ کرتے اور دونوں میں اختلافِ رائے ہوتا تو آخر میں ابن عباس ؓ ہی کی رائے پر فیصلہ ہوتا۔ عبید اللہ بن عباس ؓ کہتے تھے کہ میں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے زیادہ سنت کا عالم ، ان سے زیادہ صائب الرائے ، ان سے بڑا دقیق النظر کسی کو نہیں دیکھا ، حضرت عمرؓ بن خطاب باوجود اپنے ملکہ اجتہاد اور مسلمانوں کی خیر خواہی کے ابن عباس ؓ کو مشکلات کے لیے تیار کرتے تھے، قاسم بن محمد کا بیان ہے کہ ہم نے ابن عباس ؓ کی مجلس میں کبھی کوئی باطل تذکرہ نہیں سنا اوران سے زیادہ کسی کا فتویٰ سنتِ نبوی ﷺ کے مشابہ نہیں دیکھا۔ [126] طاؤس تابعی حضرت ابن عباس ؓ کے ساتھ بہت رہا کرتے تھے، ابو سلیم نے ان پر اعتراض کیا کہ آنحضرت ﷺ کے اکابر صحابہ ؓ کو چھوڑ کر تم اس چھوکرے سے کیوں چمٹے رہتے ہو؟ انھوں نے کہا میں نے آنحضرت ﷺ کے ستر اصحاب ؓ کو دیکھا ہے جب وہ کسی مسئلہ میں گفتگو کرتے تھے تو آخر میں ان کو ابن عباس ؓ ہی کے قول کی طرف رجوع کرنا پڑتاتھا، [127] حضرت زید بن ثابت ؓ کا انتقال ہوا تو حضرت ابو ہریرہ ؓ نے کہا آج اس امت کا عالم اُٹھ گیا، امید ہے کہ خدا ابن عباس ؓ کو ان کا قائم مقام بنائے گا، [128] مشہور عالم صحابی ابی بن کعب ؓ کے بیٹے محمد روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک دن میرے والد کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، جب وہ اُٹھ کر چلے تو میرے باپ نے کہا کہ ایک دن یہ شخص اس امت کا حبر [129] ہوگا، [130] حضرت ابی بن کعب ؓ کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی اور حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ اپنے کثرت علم کی وجہ سے حبرالامہ کہلانے لگے۔[131] [132]

معاصرین کی عزت[ترمیم]

اس ذاتی علم و فضل کے باوجود دوسرے علما کی بڑی عزت کرتے تھے اور ان سے نہایت تواضع اور انکسار سے پیش آتے تھے، ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت ؓ سوار ہوئے، تو عبد اللہ ابن عباس ؓ نے احتراماً ان کی رکاب تھام لی، زید بن ثابت ؓ نے کہا اے ابن عمِ رسول ایسا نہ کیجئے، فرمایا ہم کو اپنے علما کا ایسا ہی احترام کرنا چاہیے، زید بن ثابت ؓ نے ان کا ہاتھ چوم کر کہا ہم کو اپنے نبی کے اہل بیت کا ایسا ہی احترام کرنا چاہیے ہئے۔ [133] [134]

بدعت سے نفرت[ترمیم]

عقیدہ کی صحت مذہب کی روح ہے، اس میں جہاں رخنہ پیدا ہوا ، مذہب کی بنیادیں ہل جاتی ہیں، تقدیر کا مسئلہ مذہب میں ایسا نازک اور پیچیدہ ہے کہ اس میں ادنے افراط و تفریط سے عظیم الشان فتنوں کا دروازہ کھل جاتا ہے صحابہ کرام ؓ کے آخر زمانہ میں نو مسلم عجمیوں کے ذریعہ سے خیر و شر اور قضاء و قدر کی بحث عراق میں پیدا ہو چلی تھی، ایک مرتبہ حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کو معلوم ہوا کہ ایک شخص تقدیر کا منکر ہے، اس وقت ان کی آنکھوں کی بصارت زائل ہو چکی تھی پھر بھی لوگوں سے کہا کہ مجھ کو اس شخص تک پہنچا دو، لوگوں نے پوچھا آپ اس کے ساتھ کیا طرزِ عمل اختیار کریں گے؟ بولے اگر ہو سکا تو اس کی ناک کاٹ ڈالوں گا اور اگر گردن ہاتھ میں آگئی تو اس کو توڑدوں گا، میں نے آنحضرت سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ میں بنو فہر کی عورتوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ خزرج کا طواف کررہی ہیں اورسب کی سب اعمالِ شرک میں مبتلا ہیں، تقدیر کا انکار اس امت کا پہلا شرک ہے، میں اس ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ایسے لوگوں کی بُری رائے یہیں تک نہ محدود رہے گی، بلکہ جس طرح انھوں نے خدا کو شر کی تقدیر سے معطل کر دیا ہے، اسی طرح اس کی خیر کی تقدیر سے منکر ہو جائیں گے۔ [135][136]

رسول کی محبت[ترمیم]

حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کو ذات نبوی ﷺ کے ساتھ غیر معمولی شیفتگی اور گرویدگی تھی، آپ کی وفات کے موقع کے ایک واقعہ کو یاد کرتے تو روتے روتے بے قرار ہو جاتے ہیں، سعید بن جبیر تابعی روایت کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا، پنجشنبہ کا دن کون پنجشنبہ اتنا کہنے پائے تھے، ابھی مبتدا کی خبر نہ نکلی تھی کہ زار و قطار رونے لگے اور اس قدر روئے کہ سامنے پڑے ہوئے سنگ ریزے ان کے آنسوؤں سے تر ہو گئے، ہم لوگوں نے کہا ابوالعباس ؓ پنجشنبہ کے دن میں کیا خاص بات تھی، بولے اس دن آنحضرت کی بیماری نے شدت پکڑی تھی، آپ نے فرمایا، لاؤ میں تم لوگوں کو ایک پرچہ پر لکھ دوں کہ گمراہی سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جاؤ، اس پر لوگ جھگڑنے لگے، حالانکہ نبی ﷺ کے پاس جھگڑا مناسب نہیں ہے اور کہنے لگے کہ (بیماری کی تکلیف سے) ہذیان ہو گیا ہے اور آپ سے بار بار پوچھتے تھے کہ یہ حکم آپ حواس کی حالت میں دے رہے ہیں یا ہذیان ہے، آپ نے فرمایا میرے پاس سے ہٹ جاؤ میں جس حالت میں ہوں وہ اس سے بہتر ہے جس کی طرف مجھے لے جانا چاہتے ہو۔ [137][138]

رسول کی خدمت[ترمیم]

ام المومنین حضرت میمونہ ؓ ان کی خالہ تھیں، یہ ان کے پاس بہت رہا کرتے تھےٍ، اکثر راتوں کو بھی رہ جاتے تھے، اس لیے آنحضرت کی خدمت گزاری کا بھی انھیں موقع ملتا رہتا تھا، ایک دن آنحضرت ﷺ حضرت میمونہ ؓ کے گھر میں تشریف فرما تھے، ابن عباس ؓ نے آپ کے لیے وضو کا پانی رکھا، حضرت میمونہ ؓ نے آنحضرت ﷺ سے کہا کہ عبد اللہ ابن عباس ؓ نے آپ کے لیے وضو کا پانی رکھا ہے، آپ نے دعادی خدایا ان کو دین میں سمجھ اور قرآن کی تفسیر کا علم عطا فرما۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ جائے ضرور ت سے فارغ ہوکر تشریف لائے، تو ایک طشت پانی ڈھکا ہوارکھا دیکھا پوچھا کس نے رکھا ہے، عبد اللہ ابن عباس ؓ نے عرض کیا میں نے، فرمایا: خدایا ان کو قرآن کی تفسیر کا علم عطا فرما، [139] کبھی کبھی آپ ﷺ خود بھی ان سے کام لیا کرتے تھے، ایک دفعہ یہ بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کہ آنحضرت ﷺ کو اپنی طرف آتے ہوئے دیکھا، سمجھ گئے کہ میرے پاس آ رہے ہیں، بچپن کا زمانہ تھا بھاگ کے ایک مکان کے دروازے کی آڑ میں چھپ رہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پشت سے آکر پکڑلیا اور فرمایا جاؤ معاویہ ؓ کو بلا لاؤ ، امیر معاویہ ؓ اس وقت آپ کے کاتب تھے ابن عباس ؓ نے جاکر کہا کہ نبی ﷺ کو تمھاری ضرورت ہے، فوراً چلو۔ [140][141]

رسول کا احترام[ترمیم]

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اتنا احترام کرتے تھے کہ نماز میں بھی آپ کے برابر گھڑا ہونا گستاخی سمجھتے تھے، ایک مرتبہ آخر شب میں نماز کے لیے کھڑے ہوئے، عبد اللہ ابن عباس ؓ آ کر پیچھے کھڑے ہو گئے، آنحضرت نے ان کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے برابر کر لیا، اس وقت تو یہ ساتھ کھڑے ہو گئے، مگر جیسے ہی آپ نے نماز شروع کی ابن عباس ؓ ہٹ کر اپنی جگہ پر آگئے، نمازختم کرنے کے بعد آپ ﷺ نے پوچھا کہ میں نے تم کو اپنے ساتھ کھڑا کیا تھا تم پیچھے کیوں ہٹ گئے، عرض کیا کسی کی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے شانہ بشانہ کھڑا ہوکر نماز پڑھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس معقول عذر پر خوش ہوئے اور ان کے لیے فہم و فراست کی دعا فرمائی۔ [142]

امہات المومنین کا احترام[ترمیم]

آنحضرت کے ساتھ اس غیر معمولی عقیدت کا فطری اقتضا یہ تھا کہ وہ امہات المومنین کے ساتھ بھی اس عزت وتکریم سے پیش آتے تھے، جب حضرت میمونہ ؓ کا انتقال ہوا اور لوگ مقام شرف میں جنازہ کی شرکت کے لیے جمع ہوئے تو انھوں نے کہا کہ :لوگو یہ آنحضرت ﷺ کی حرم محترم کا جنازہ ہے،نعش آہستہ اٹھاؤ ہلنے نہ پائے ۔ [143] یہ احترام حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کی ذات کے ساتھ مخصوص نہ تھا، بلکہ تمام امہات المومنین رضی اللہ عنہم کے ساتھ وہ اسی تعظیم سے پیش آتے تھے، البتہ خاندانی مناقشوں کی وجہ سے حضرت عائشہ ؓ سے کچھ بد مزگی ہو گئی تھی، مگر ان کی وفات سے پہلے خود ان کے درِ دولت پر حاضر ہوکر صفائی کرلی۔ ذکوان حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے حاجب بیان کرتے تھے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے مرض الموت میں ابن عباس ؓ آئے اور حضوری کی اجازت چاہی میں نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے جاکر عرض کیا، اس وقت حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے بھتیجے عبد اللہ بن عبد الرحمن ان کے سرہانے بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے بھی کہا کہ ابن عباس ؓ آنے کی اجازت چاہتے ہیں، بولیں ان کو آنے کی ضرورت نہیں عبد اللہ بن عبد الرحمن نے کہا، اماں :ابن عباس ؓ آپ کے سعادت مند بیٹے ہیں، وہ سلام کرتے ہیں اور رخصت کرنے کے لیے حاضر ہوئے ہیں ان کو اجازت دیجئے، فرمایا خیر اگر تم چاہتے ہو تو بلالو، چنانچہ ان کو باریابی کی اجازت مل گئی، بیٹھنے کے بعد عرض کیا، آپ کو بشارت ہو(یعنی آنحضرت ﷺ کے پاس پہنچاچاہتی ہیں) حضرت عائشہ ؓ نے جواب میں فرمایا، تم کو بھی بشارت ہو، اس خوش آیند سلسلہ کلام کے بعد ابن عباس ؓ نے عرض کیا کہ اب آپ کے اور آنحضرت ﷺ اور آپ کے اعزہ واحباب سے ملنے میں صرف روح کو جسم کا ساتھ چھوڑنے کی دیر ہے، آپ آنحضرت ﷺ کی محبوب ترین بیوی تھیں اور آنحضرت ﷺ ہمیشہ طیب ہی چیز کو محبوب رکھتے تھے، پھر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل بیان کیے۔ [144][145]

ذکاوت و ذہانت[ترمیم]

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا عبد اللہ ابن عباس کو گورنری سے دور رکھنا مسعودی نے ابن عباس سے نقل کیا کہ عمر نے مجھے بلایا اور کہا:حمص کا گورنر فوت ہو گیا ہے وہ نیکوکار تھا اور نیکوکار کم ہيں اور مجھے امید ہے کہ تو ان میں سے ہو لیکن میرا تیرے بارے میں میرے دل میں ایک خدشہ ہے، تمھارا کیا خیال ہے؟ عبد اللہ ابن عباس:میں ہرگز گورنری قبول نہیں کروں گا جب تک مجھے اپنے خدشے کے بارے میں نہ بتاو۔ عمر: تجھے اس سے کیا غرض ہے؟ ابن عباس: میں اس کو جاننا چاہتا ہوں، اگر وہ خطرناک ہو تو مجھے بھی اس کے خطرے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے جیسے آپ میرے بارے میں فکر مند ہوئے ہيں اور آکر میں اس سے بری ہوں اور مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ مجھ میں وہ برائی نہيں تو اس کام کو قبول کروں گا، میں نے آپ کو کم دیکھا جس چيز کے بارے میں فکر مند ہوں اس کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔ عمر:اے ابن عباس!میں اس چيز سے خوف زدہ ہوں کہ تیری گورنری میں کوئی حادثہ پیش آئے کہ تمھاری حکومت میں اس کو ہونا ہے کہ تو لوگوں سے کہنے لگے:ہماری طرف آؤ اور تم اپنے بنی ہاشم کے سوا کسی کو قبول نہيں کرو گے، لیکن میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تھا کہ تمھیں دور رکھا اور دوسروں کو کام پہ لگایا۔ ابن عباس:تجھے خدا کی قسم!اگر ایسا ہے تو گورنری کیوں دیتے ہو؟ عمر:خدا کی قسم!معلوم نہيں کیا تم گورنری کے لیے مناسب تھے اور تم سے حسد و بدبینی کی وجہ سے تمہيں دور رکھا یا وہ ڈر گئے کہ تمھاری بیعت کریں تو معاملہ مشکل ہو جائے کہ ایسا ہی ہوا، بہرحال تمھاری رائے کیا ہے؟ ابن عباس:میرا خیال ہے کہ میں تمھارے لیے کام نہ کروں؟ عمر: کیوں؟ ابن عباس:اگر میں اس حالت میں تمھارے لیے کام کروں کہ تم میرے بارے میں مطمئن نہیں ہو تو ہمیشہ میں تمھاری آنکھوں کا کانٹا بنا رہوں گا۔ عمر: پس اس معاملے میں کوئی مشورہ دو۔ ابن عباس:کسی ایسے شخص کو کام پر لگاو جو تمھاری نظر میں اور تمھارے لیے زیادہ صالح ہو۔

  • ابن عبدربہ اس کو ابو بکر بن ابی شیبہ م 235ھ سے دوسری طرح نقل کرتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ خلیفہ ثانی کے ابن عباس کو گورنر نہ بنانے کی وجہ یہ بتائے کہ ابن عباس سہم ذوی القربی کے بارے میں بے جا تاویلیں کی ہوئي تھیں اور اس کے لیے امام علی کی طرف منسوب خط کو تائید کے لیے پیش کرتا ہے ابو بکر بن ابی شیبہ نے یہ نقل کیا :ابن عباس عمر کے ہاں سب سے زيادہ محبوب تھے اور عمر انہيں دیگر اصحاب نبوی سے مقدم کرتے تھے لیکن ان کو ہرگز گورنری نہيں دی ان سے ایک دن کہا:شاید میں تجھے گورنر بنادیتا لیکن مجھے ڈر ہے کہ تو تاویل کرکے مال فیئ کو حلال سمجھ لے پس جب امام علی کا دور آیا اور آپ نے ابن عباس کو بصرہ کا والی بنایا تو ابن عباس نے آیت خمس کی تاویل کرکے فیئ کو حلال کر لیا۔

تبصرہ: ابن ابی شیبہ کی تصریح کے مطابق نبی اکرم ﷺ کے زمانے سے لے کر عمر کی خلافت کے آخری سال تک سہم ذوی القربی کے متولی امام علی بن ابی طالب تھے، بات ابن عباس جیسے دانشمند افراد سے پوشیدہ نہيں تھی پس وہ کس طرح امام علیؑ کی رائے کے بغیر سہم ذوی القربی میں تصرف کرسکتے تھے ثانیا اگر ابن عباس کے بارے میں تاویل کا خوف انہيں گورنر بنانے سے روکتا تھا تو امیر معاویہ کو شام کی حکومت کے لیے کیوں انتخاب کیا کہ ان کے مالیات میں تاویلیں کرنے کے باوجود باقی رکھا؟ ثالثا ابن عبد ربہ نے جس خط کو تائید کے لیے پیش کیا وہ جعلی ہے اس سے ہرگز استدلال نہيں کیا جا سکتا۔[146] [147]

حدیث بیان کرنے میں احتیاط[ترمیم]

امام علی کے فضائل کا بیان عمرو بن میمون کا بیان ہے کہ میں ابن عباس کے پاس بیٹھا تھا، آپ کے پاس نو گروہ آئے، ان سے ساتھ چلنے یا خلوت میں بات کرنے کی فرمائش کی، ابن عباس ساتھ چلنے پر راضی ہو گئے ، عبد اللہ ابن عباس اس وقت نابینا نہيں ہوئے تھے ایک جمع جمع ہوکر باتیں کیں، ہمیں ان کی باتوں کا علم نہيں ہو سکا وہاں سے ابن عباس دامن جھاڑتے ہوئے آئے اور بولے :افسوس! ان لوگوں نے ایسے شخص پر سبّ و شتم کیا ہے جس کے دس فضائل کا حامل کوئي نہيں ہے:[148]

  1. جس کے لیے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:میں علم دیکر ایسے شخص کو روانہ کروں گا جو خدا کو محبوب اور وہ خدا کو دوست رکھتا ہے، کسی نے طمع کی نگاہ سے حضور کو دیکھا تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: علی کہاں ہيں؟ کہا گیا کہ: وہ آٹا پیسنے میں مصروف ہيں۔

آپ نے فرمایا: کیا ان کے سوا آٹا پیسنے والا کوئی نہيں تھا؟ ایسے میں امام علیؑ آئے تو آشوب چشم میں مبتلا تھے حضور نے لعاب دہن لگایا اور پرچم کو تین بار جھٹکا دیکر امام علی کے حوالے کیا، امام علیؑ صفیہ بنت حییّ کو لے کر واپس ہوئے۔

  1. نبی اکرم ﷺنے فلاں کو سورہ توبہ دیکر بھیجا پھر پیچھے امام علی ؑکو روانہ کیا، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: سورہ توبہ کی تبلیغ کا حق یا مجھے ہے یا اس کو جو مجھ سے ہو۔
  2. نبی اکرم ﷺ نے اپنے چچا زاد بھائيوں سے پوچھا:تم میں سے کون ہے جو مجھے دنیا اور آخرت میں دوست رکھتا ہے؟سب ہچکچائے، امام علی نے جواب دیا، نبی اکرم ﷺ نے بار بار امام کے جواب سے چشم پوشی کرتے ہوئے سب سے پوچھا لیکن ہربار امام علیؑ کا جواب ملا تو نبی اکرم ﷺ نے امام علی سے فرمایا: تم دنیا و آخرت میں میرے محبوب ہو۔
  3. امام علی خدیجہ کے بعد سب سے پہلے ایمان لانے والے تھے۔
  4. نبی اکرم ﷺ نے اپنی چادر علی و فاطمہ اور حسن و حسین پر ڈالی اور آیت تطہیر کی تلاوت کی۔
  5. امام علی نے اپنی جان بیچ ڈالی، نبی اکرم ﷺ کا لباس پہن کر آپ کے بستر پر سوئے، ابو بکر آئے اور رسول اکرم ﷺ کو پکارا امام علیؑ نے جواب دیا:آپ بئر میمون کی طرف چلے گئے ہيں ان کے پیچھے جاو، چنانچہ ابو بکر، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غار میں داخل ہو گئے، مشرکین نے آکر امام علی ؑپر پتھر برسانا شروع کر دیے جس طرح نبی اکرم ﷺ پر برساتے تھے، امام علیؑ بسترپر پہوو بدلتے رہے، صبح تک چادر نہيں ہٹائی، صبح کو مشرکین نے علی ؑکی استقامت پر تعجب کیا۔
  6. نبی اکرم ﷺ نے جنگ تبوک میں امام علی کو ساتھ نہيں لیا تو آپ رونے لکے تو حدیث منزلت فرمائي؛کیا تو اس پر راضی نہيں کہ تیری مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون کو موسی سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہيں، اورمیرے لیے جانا مناسب نہيں سوائے یہ کہ تو میرا خلیفہ ہو۔
  7. نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:اے علی! تم ہر مومن اور مومنہ کے ولی ہو۔
  8. نبی اکرم ﷺ نے امام علی کے سوا سب کے دروازے مسجد سے بند کر دیے۔
  9. نبی اکرم ﷺنے غدیر خم میں امام علیؑ کے بارے میں فرمایا:جس جس کا میں مولا ہو اس اس کے علی مولا ہيں۔[149]

غدیر کی گواہی[ترمیم]

عبداللہ بن جعفر بن ابی‌طالب کا بیان ہے کہ میں، امام حسن و امام حسین کے ساتھ معاویہ بن ابی سفیان کے پاس موجود تھا اور وہاں عبد اللہ بن عباس و فضل بھی تھے، معاویہ میری طرف متوجہ ہوکر بولا: تم حسن و حسین کی بڑی تعظیم کرتے ہو، حالانکہ نہ وہ تم سے بہتر ہيں اور نہ ان کے باپ تیرے باپ سے بہتر، اوراگر دختر رسولؐ فاطمہ زہراءؑ نہ ہوتيں تو میں کہتا کہ تمھاری ماں اسماء بنت عمیس ان کی ماں سے کمتر ہے؟
میں نے کہا: خدا کی قسم! تمھاری معلومات ان کے اور ان کے والدین کے بارے میں بہت کم ہيں، خدا کی قسم یہ دونوں مجھ سے بہتر ہيں، ان کے والدین میرے والدین سے بہتر ہيں، اے معاویہ! جو کچھ میں نے ان کے متعلق اور ان کے والدین کے متعلق رسول اکرم ﷺ سے سنا اور اسے یاد کیا ہوا ہے اس سے تو قطعی غافل ہے۔

معاویہ بن ابی سفیان: اچھا تو وہ سب بیان کرو، تم نہ جھوٹے ہو، نہ تم پر تہمت لگائی جا سکتی ہے۔
ابن جعفر: میرا خیال تمھارے خیال سے بہت بلند ہوگا۔
معاویہ بن ابی سفیان: ٹھیک ہے، چاہے وہ احد و حراء پہاڑ سے بھی بڑا ہو، اس وقت تو خدا نے ان کو قتل کر دیا اور تمھاری جمعیت پراگندہ کردی، خلاقت کو اس کے مستحق تک پہنچا دیا، فضائل بیان کرنے میں کوئی حرج نہيں ہے اور نہ اس سے مجھے نقصان ہوگا۔

ابن جعفر:جب یہ آیت[اور(اے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ وقت یاد کریں)جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ آپ کے رب نے لوگوں کو گھیر رکھا ہے اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے اور وہ درخت جسے قرآن میں ملعون ٹھہرایا گیا ہے اسے ہم نے صرف لوگوں کی آزمائش قراردیا اور ہم انھیں ڈراتے ہیں مگر یہ تو ان کی بڑی سرکشی میں اضافے کا سبب بنتا جاتا ہے ] نازل ہوئي لوگوں کے استفسار پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے خواب میں اپنے منبر پر بارہ گمراہی کے سرداروں کوچڑھتے اور اترتے دیکھا اور مات کو الٹے پیر واپس کرنے کی سعی کرتے دیکھا میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا کہ وہ ابو العاص کے بیٹے ہيں، جب ان کی تعداد پندرہ تک پہنچ جائے گی تو کتاب خدا میں تحریف، بندگان خدا کو غلام اور مال خدا کو شخصی ملکیت سمجھنے لگیں گے۔
اے معاویہ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا، آپ منبر پر تھے اور میں آپ کے پہلو میں موجود تھا، نبر کے سامنے عمربن ابی سلمہ، اسامہ بن زيد، سعد بن ابی وقاص، سلمان فارسی، ابوذر، مقداداور زبیر بن عوام بھی تھے، آپ نے فرمایا: کیا میں مومنین کے نفسوں پر ان سے زیادہ بااختیار نہيں ہوں؟
سب نے کہا: یقینا ہيں، اے خدا کے رسولؐ!
پھر فرمایا:کیا میری بیویاں تمھاری مائيں نہيں ہیں؟
سب نے کہا:یقینا ہيں۔
پھر فرمایا: جس جس کامیں مولا ہوں اس کے نفس پر علیؑ اس سے زیادہ اختیار رکھتے ہیں۔
پھر امام علی کے شانے پر ہاتھ مارا اور فرمایا:خدایا! جو ان سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ اور جو ان سے دشمنی رکھے تو اس کو دشمن رکھ۔
اے لوگو! میں مومنین پر ان کے نفسوں سے زیادہ بااختیار ہوں، مومنین پر صرف یہی میرا امر ہے ان کے بعد میرا بیٹا حسنؑ مومنین پر اولی بالتصرف ہے اور مومنین پر صرف یہی اس کا امر ہے۔
دوبارہ لوگوں سے خطاب فرمایا:جب میں دنیا سے رخصت ہوجاوں تو علی تمھارے نفسوں پر زیادہ مختار کل ہوں گے، جب علی دنیا سے رخصت ہوجائيں تو میرا بیٹا حسن مالک و مختار ہے، حسن کے بعد میرا فرزند حسین مالک و مختار ہے۔
آخر میں عبد اللہ کا بیان ہے کہ معاویہ کہنے لگا:اے فرزند جعفر!تم نے بڑی بات کہی ہے اگر تمھاری بات سچ ہے تو تمھارے خاندان والوں کے سوا سبھی ہلاک ہو گئے، نہ مہاجر باقی بچے نہ انصار۔
ابن جعفر: خدا کی قسم جو کچھ میں نے کہا وہ حق و حقیقت ہے میں نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے۔
معاویہ بن ابی سفیان نے امام حسن و حسین نیز عبد اللہ بن عباس کی طرف رخ کرکے کہا: فرزند جعفر کیا کہہ رہے ہيں؟
ابن عباس نے جواب دیا: اگر تمہيں ان کے بیان پر ایمان نہين تو انھوں نے جن لوگوں کا نام لیا ان سے پوچھ لو۔
معاویہ بن ابی سفیان نے عمر بن سلمہ و اسامہ کے پاس آدمی بھیجا تو انھوں نے گواہی دی کہ فرزند جعفر نے جو کچھ کہا اسے ہم لوگوں نے بھی سنا ہے۔
آخر میں عبد اللہ بن جعفر نے کہا: ہمارے رسول ؐنے یقینا بہترین افراد کو غدیر خم میں اور دوسرے مواقع پر امت کی ہدایت کے لیے متعین فرمایا، ان پر حجت قرار دیا، ان کی اطاعت کا حکم دیا، انہيں سمجھا دیا کہ علی کی نسبت رسول سے وہی ہے جو ہارون کو موسیؑ سے تھی اور یہ کہ نبی اکرمﷺ کے بعد وہ تمام مومنین کے ولی ہيں اولی بالتصرف ہيں رسول ؐکی طرح، علی جانشین رسول ؐ ہيں، ان کے وصی ہيں، ان کی اطاعت خدا کی اطاعت، ان کی نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے، ان کی دوستی خدا کی دوستی ہے، ان سے کینہ خدا سے کینہ ہے۔[150]

ابن زبیر کے مقابلے میں فرزند عباس کی قدردانی[ترمیم]

عبد اللہ صفوان بن امیہ کا بیان ہے کہ ابن زبیر کے عہد حکومت میں میرا گذر مکہ کی ایک گلی سے ہوا تو میں نے ایک دروازے پر لوگوں کے ہجوم کو دیکھا، معلوم ہوا کہ یہ تمام لوگ عبد اللہ بن عباس سے تفسیر و حدیث اور فقہ حاصل کرنے کے لیے جمع ہیں۔ میں یہ منظر دیکھ کر آگے روانہ ہوا تو میں نے ایک وسیع مکان میں لوگوں کی آمد و رفت ملاحظہ کی، معلوم ہوا کہ یہ عبید اللہ بن عباس کا مکان ہے جہاں غرباء و مساکین کو مفت کھانا کھلایا جاتا ہے۔ میں یہ دونوں منظر دیکھ کر عبد اللہ بن زبیر کے پاس آیا اور کہا: یہ عجیب بات ہے کہ تو نے خلافت کا دعوی کیا ہوا ہے لیکن تیری کنجوسی پورے عرب میں ضرب المثل بن چکی ہے جبکہ عباس کے دو بیٹوں نے تیرے لیے فضیلت کا کوئی موقع باقی نہيں رکھا، ایک بھائی تفسیر و حدیث اور فقہ کا معلّم ہے اور ہزاروں طلاب اس سے صبح و شام مستفید ہو رہے ہيں جبکہ دوسرے بھائی کا دستر خوان ہر غریب و مسافر کے لیے بچھا ہوا ہے۔ یہ سن کر ابن زبیر سخت پریشان ہوا اور اس نے دونوں بھائيوں کو بلا کر خوب سرزنش کی اور کہا:آئندہ تمھارے دروازوں پر یہ لوگوں کا ہجوم نہ ہو۔ یہ طرفہ سن کر ابو طفیل عامر بن وائل کنانی نے چند اشعار کہے جن میں اس نے عباس کے دونوں بیٹوں کی تعریف کی اور ابن زبیر کا شکوہ کیا۔ میراث میں "عول" کی مخالفت ایک دن ابن عباس نے کہا: جو شخص "عول" کے مسئلے میں نزاع کرے میں اس سے مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہوں۔ کسی نے کہا: اے فرزند عباس!تم اس وقت بڑی شد و مد کے ساتھ اس کی مخالفت کر رہے ہو جبکہ عمر کے دور میں تم خاموش تھے، اس کی کیا وجہ ہے؟ ابن عباس نے کہا:وہ بہت خوفناک آدمی تھے، میں نے ان کے ڈر سے عول کی مخالفت نہيں کی تھی۔ ابن عباس کا خطبہ بصرہ اور انجام کا بیان شیخ طوسی نے امالی میں اپنی سند سے یونس بن عبد الوارث کی زبانی ابن عباس کی یہ تقریر نقل کی ہے۔ ابن عباس نے بصرہ کے منبر پہ یہ خطبہ دیا:اے اپنے دین میں حیران و پریشان ہونے والی امت! خدا کی قسم اگر تم اسے مقدم رکھتے جسے خدا نے مقدم کیا تھا اور اسے موخر کرتے جسے اللہ نے موخر کیا تھا اور ولایت و وراثت کو وہاں رکھتے جہاں اللہ نے اسے رکھا تھا تو اللہ کا کوئی فرض آج ضائع نہ ہوتا اور آج کوئی بھی خدا کا دوست تنگ دست نہ ہوتا، اب جوکچھ تم کرچکے ہو اس کا ذائقہ چکھو اور ظالم عنقریب جان لیں گے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ قاضی شوشتری نے فرمایا: روایات سے ظاہ رہے کہ امام علی نے ابن عباس کو طلحہ و زبیر سے اتمام حجت کے لیے بھیجا اور انھوں نے بڑے روشن دلائل سے امیر المومنینؑ کی حقانیت کو ثابت کیا، امام علیؑ نے ان کے انداز دلیل کو دیکھ کر فرمایا:جس کا ابن عباس جیسا چچا زاد بھائي ہو تو اللہ تعالی نے اس کو آنکھوں کو ٹھنڈک عطا کی ہے۔ معاویہ بن ابی سفیان سے بحث اور اہل بیت ؑکی مرجعیت کا بیان طبرسی نے احتجاج میں سلیم بن قیس کی کتاب سے ابن عباس کی معاویہ سے یہ گفتگو اس طرح نقل کی ہے: ایک مرتبہ معاویہ بن ابی سفیان مدینہ آئے اور وہ جہاں جہاں سے گزرتے لوگ ان کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوجاتے، اس کا گذر قریش کے مجمع سے ہوا اور اس گروہ میں عبد اللہ بن عباس موجود تھے، تمام مجمع نے اٹھ کر اس کی تعظیم کی لیکن ابن عباس بدستور بیٹھے رہے، معایہ نے انھیں مخاطب ہوکر کہا: میں جانتا ہوں کہ جنگ صفین کا کینہ تیرے دل میں ہے اسی لیے تو نے میری تعظیم نہيں کی اس کے باوجود میں درگزر کروں گا کیونکہ میں اس عثمان کا رشتہ دار ہوں جسے ظلم سے قتل کیا گیا۔ ابن عباس نے کہا: کیا کیا جائے عمر بن خطاب بھی قتل ہوئے تھے اور وہ بھی مظلوم ہوکر قتل ہوئے (مگر ان کے بارے میں ایسا نہيں کرتے ہو)۔ معاویہ بن ابی سفیان نے کہا: دونوں میں بڑا فرق ہے عمر کو ایک کافر نے قتل کیا تھا جبکہ عثمان کو مسلمانوں نے قتل کیا تھا۔ ابن عباس نے کہا:اس سے تیرا تمام دعوی ہی باطل ہوجاتا ہے۔ ابن عباس کا یہ جواب سن کر معاویہ شرمندہ ہوا۔ پھر اس نے ابن عباس سے کہا: میں نے پورے ملک میں تحریر حکم جاری کیا ہے کہ کوئي شخص علی اور اہل بیت کے فضائل بیان نہ کرے اور میں تجھے بھی یہی حکم دیتا ہوں کہ علی کے فضائل بیان نہ کرنا۔ ابن عباس نے کہا: کیا تو مجھے قرآن کی تلاوت سے روکنا چاہتا ہے؟ معاویہ نے کہا:ہاں میں ایسا ہی کرنا چاہتا ہوں۔ ابن عباس نے کہا: پھر اس کا مقصد تو یہ ہے کہ ہم قرآن پڑھیں اور مفہوم قرآن کو سمجھنا چھوڑ دیں اور اس پر عمل بھی نہ کریں۔ معاویہ نے کہا: مفہوم قرآن کے لیے ایسے افراد سے سوال کرو جو تیری اور اہل بیت کی بیان کردہ تفسیر و تاویل کی مخالفت کرتے ہوں۔ ابن عباس نے کہا: مگر اللہ تعالی نے قرآن کو اہل بیت کے گھر میں نازل کیا ہے اور میں تفسیر کے لیے اہل بیت کو چھوڑ کر آل ابی سفیان کی طرف رجوع کروں؟ معاویہ نے کہا:ابن عباس! اپنی زبان پر قابو رکھو اور اگر تو نے ایسا کرنا ہے تو اپنی خاموشی سے کرو کہ کوئي دوسرا تجھ سے سننے نہ پائے۔[151]

ابن عباس کی ابن زبیر سے بحث[ترمیم]

ایک دفعہ ابن زبیر نے ابن عباس سے کہا: تو نے ام المومنین حرم نبی سے جنگ کی اور تو نے متعہ کے حلال ہونے کا فتویٰ جاری کیا؟ ابن عباس نے جواب دیا: حرم نبی کو تواور تیرا باپ اور تیرا ماموں گھر سے باہر نکال لائے تھے جبکہ وہ ہماری وجہ ہی سے امّ المومنین کہلاتی تھیں اور ہم اس کے نیک بیٹے تھے اور ویسے تجھے حیا آنی چاہیے کیونکہ تو نے اور تیرے باپ نے امیر المومنین سے جنگ کی تھی اور تم نے لوگوں کو گمراہ کیا تھا اور انہيں امام علی کے مقابلے میں لائے تھے۔ اگر تم علی بن ابی طالب کو مومن مانتے ہو تو تم نے ایک مومن کے خلاف تلوار اٹھا کر اپنے لیے دوزخ خریدی ہے اور اگر خدانخواستہ تم امام علی کو کافر سمجھتے ہو تو ایک کافر کے سامنے تم نے پشت دکھا کر اللہ کے غضب کو دعوت دی اور یوں تیرا ٹھکانہ جہنم ہے جہاں تم ہمیشہ رہو گے۔ اور متعہ کو میں نے حلال نہيں کیا بلکہ متعہ کو نبی اکرم ﷺ نے حلال قرار دیا تھا اسی لیے میں نے اس کے جواز کا فتوی دیا ہے۔ امام حسن کی روضہ نبوی میں تدفین سے ممانعت پر تبصرہ امام حسن مجتبیٰ کی شہادت کے بعد امام حسین اپنے بھائی کی میت کو دفن کرنے کے لیے روضہ رسول کی طرف لے جا رہے تھے کہ عائشہ بنت ابی بکر خچر پر سوار ہوکر آئيں اور دفن سے منع کیا، ابن عباس یہ دیکھ کر برداشت نہ کرسکے اور کہنے لگے: ؂ تجمّلتِ، تبغّلتِ و ان عِشتِ تفیّلتِ لکِ التُسعُ مِنَ الثُّمنِ وَ بِالکُلِّ تَمَلَّکتِ۔ تو اونٹ پر بیٹھی، خچر پر سوار ہوئي اور اگر زندہ رہی تو ہاتھی پر بھی بیٹھے گی جبکہ تیرا حصہ آٹھویں میں سے نواں ہے یعنی 72/1 حصہ اور تو نبی پاک کی تمام جائداد کی مالک بن بیٹھی ہے۔

ابن عباس کا عمرو بن عاص کو جواب خط[ترمیم]

معاویہ نے عمر و عاص سے کہا:علی کے بعد سب سے مشہور و معروف شخیتت ابن عباس کی ہے اگر وہ کوئی بات کہے تو علیؑ اس کی مخالفت نہیں کریں گے، جتنی جلدی ہو کوئی تدبیرکروکیونکہ یہ جنگ ہم لوگوں کو ختم کردیگی، ہم ہرگز عراق نہیں پہنچ سکتے مگر یہ کہ شام کے لوگ نابود ہوجائیں۔ عمر و عاص نے کہا:ابن عباس دھوکا نہیں کھا سکتے اگر اس کو دھوکا دے دیا تو علیؑ کو بھی دھوکا دے سکتے ہو، معاویہ کے بے حد اصرار پر عمر و عاص نے ابن عباس کو خط لکھا اور خط کے آخر میں کچھ شعر بھی لکھے، جب عمروعاص نے اپنا خط او ر اپنا کہے ہوئے شعر معاویہ کو دکھائے تو معاویہ نے کہا لاٰ أریٰ کتابک علیٰ رقّةِ شعرِک یعنی تیراخط تیرے شعر کے پائے کا نہیں ہے! دھوکا بازوں کے سردار نے اس خط اور اشعار میں ابن عباس اور ان کے خاندان کی تعریف اور مالک اشتر کی برائی کی تھی اور آخر میں یہ وعدہ کیا تھا کہ اگر جنگ ختم ہو گئی تو ابن عباس شوریٰ کے ایک ممبر ہوگے جس کے ذریعے سے امیر اور خلیفہ معین ہوگا، جب یہ خط ابن عباس کو ملا تو انھوں نے امام علیہ السلام کودکھایا اس وقت امام نے فرمایا۔ خدا وند عالم عاص کے بیٹے کو موت دے، کیسا دھوکا دینے والا خط ہے جتنی جلدی ہو اس کاجواب لکھو اور اس کے شعر کے جواب کے لیے اپنے بھائی سے شعر لکھواؤ کیونکہ وہ شعر کہنے میں ماہ رہے۔

  • ابن عباس نے خط کے جواب میں لکھا: میں نے عربوں کے درمیان میں تجھ جیسا بے حیا نہیں دیکھا، اپنے دین کو بہت کم قیمت میں بیچ دیا اور دنیا کو گناہگاروں کی طرح بہت بڑاسمجھا اور ریاکاری کے ذریعے تقویٰ نمایاں کرتا ہے، اگر تو چاہتا ہے کہ خدا کو راضی کرے، تو سب سے پہلے مصر کی حکومت کی ہوس اپنے دل سے نکال دے اور اپنے گھر واپس چلاجا۔

علی اور معاویہ ایک جیسے نہیں ہیں، معاویہ نے ناحق جنگ شروع کی ہے اور اب خونریزی کا اسراف کر رہا ہے اور عراق اور شام کے لوگ برابر نہیں ہیں، عراقیوں نے بہترین مخلوق کی بیعت کی ہے اور شامیوں نے بدترین مخلوق کی بیعت کی ہے، تو اور میں بھی اس سلسلے میں برابر نہيں ہيں، میں نے خدا کی مرضی چاہی ہے اور تو نے مصر کی حکومت اور پھر ان اشعار کو جو ان کے بھائی فضل نے عمروعاص کے اشعار کے وزن پر کہے تھے اس خط میں لکھا: اے عمرو! تیرے حیلوں کا صرف یہی علاج ہے کہ مسلسل تیرے نرخروں پر ضرب لگائي جائے تاکہ تیرا غرور ٹوٹے، امام علی کو خدا نے برتری دی ہے تم جنگ سے باز آجاو تو ہم بھی ہاتھ کھینچ لیں گے۔ اور ابن عباس نے امام علی کو خط دکھایا، امام علی نے کہا: اگر وہ عقلمند ہوگاتو تمھارے خط کا جواب نہیں دے گا۔ جب عمرو عاص کو خط ملا تو اس نے معاویہ کو دکھایا اور کہا: تو نے مجھے خط کی دعوت دی لیکن نہ تجھے کوئی فائدہ ہوا اور نہ مجھے فائدہ ہوا۔ معاویہ نے کہا: علی اور ابن عباس کا دل ایک ہی جیسا ہے اوردونوں عبد المطلب کے بیٹے ہیں۔

  • جب معاویہ بن ابی سفیان نے احساس کیا کہ علی بن ابی طالب کے سپاہی پہلے سے کچھ زیادہ آمادہ ہو گئے ہیں اور محاصرہ تنگ ہو گیا ہے اورقریب ہے کہشکست کھا جائیں تو اس نے خود براہ راست ابن عباس کو خط لکھا اور یا د دلایا کہ یہ جنگ بنی ہاشم اور بنی امیہ کے درمیان میں بغض وعداوت کی بھڑکتی ہوئی چنگاری ہے اور انھیں اس کام کے انجام سے ڈرایا، اس خط میں اس نے ابن عباس کو لالچ دلائی اور کہا : اگر لوگ تمھارے ہاتھ پر بیعت کریں تو ہم بھی تمھار ی بیعت کرنے کے لیے تیار ہیں۔

جب ابن عباس کو خط ملا تو آپ نے ٹھوس او ر دندان شکن جواب معاویہ کو لکھا، ایسا جواب کہ معاویہ اپنے خط لکھنے پربہت شرمندہ ہوا اور کہا یہ خود میر ے کام کا نتیجہ ہے اب ایک سال تک اُسے خط نہیں لکھوں گا۔

ابن عباس اور عمرو بن عاص کی گفتگو[ترمیم]

ایک دن راستے میں عمرو بن عاص کی ابن عباس سے ملاقات ہو گئی، عمرو نے جل بھن کر کہا:ابن عباس! جب بھی مجھے دیکھتے ہو ناپسندیدہ ہی نظردیکھتے ہو جیسے تمھاری آنکھوں میں زخم ہو لیکن جب لوگوں کے سامنے ہوتے ہو تو نادانی، کمزوری اور وسواس کا مظاہرہ کرتے ہو۔ ابن عباس:کیونکہ تم دوغلے ہو، قریش نیک شعار ہيں، باطل و جہالت سے پرہیز کرتے ہيں، حق پہچاننے کے بعد چھپاتے نہيں، معنوی بزرگی بھی ہے، تم قریش سے کہاں ہو؟ تم تو دو بستروں سے پیدا ہوئے ہو، بنی ہاشم و بنی عبد الشمس میں سے کوئی تمہيں اپنانے پر آمادہ نہيں ہے، تم تو گمراہ، حرامی اور گمراہ کرنے والے ہو، معاویہ نے حکومت دے دی تو تم پھولنے لگے۔ عمرو:میں جب بھی تمہيں دیکھتا ہوں خوش ہوتا ہوں۔ ابن عباس:میں حق کی طرف مائل اور حق کا پرستار ہوں۔ عبد اللہ بن جعفر، معاویہ کی مجلس میں وارد ہوئے، وہاں ابن عباس و عمرو بن عاص بھی موجود تھے، عبد اللہ کو آتے دیکھ کر عمرو نے طعن و تشنیع شروع کردی، ابن عباس نے اسے آڑے ہاتھوں لیااور کہا: خدا کی قسم! تم جھوٹے ہو، یہ تو ذکر خدا، نعمتوں کے شکر گزار، برائيوں سے کنارہ کش، سخی، شریف اور سردار ہيں، یہ شریف النسب ہيں، حرامی نہيں اور نہ کم ظرف ہیں۔ یہ ایسے بھی نہيں جن کے متعلق قریش کے آوارہ لوگوں نے دعوی کیا ہو، پھر ایک قصاب بازی لے جائے۔ ہاں عبد اللہ ان ذلیل لوگوں کی طرف نہيں جن کے متعلق دو خاندان والے جھگڑا کر لیں کہ نہ معلوم کس محلے کا نوزائیدہ ہے۔ پھر عمرو کی طرف رخ کیا :کاش میں سمجھ سکتا کہ تم کس پاک نسب و عظیم شخصیت کو چھیڑ رہے ہو، کمینے، حرامی! اپنی حد میں رہنے کی کوشش کر۔ عبد اللہ نے ابن عباس سے کہا:خدا کی قسم! اب رہنے دیجئے، آپ نے اچھی طرح میرا دفاع کیا ہے۔[152]

وفات[ترمیم]

مسجد عبد اللہ بن عباس، طائف

ابن عباس آخر عمر میں نابینا ہو گئے تھے اور مکہ میں زندگی بسر کرتے تھے، انھیں عبد اللہ بن زبیر اور عبد الملک بن مروان کی جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ عبد اللہ بن زبیر نے آپ سے بیعت طلب کی لیکن ابن عباس نے انکار کر دیا؛ لہذا ابن زبیر نے انھیں طائف جلا وطن کر دیا۔ مشہور یہ ہے کہ ابن عباس کا انتقال سن 68 ہجری میں ستر سال کی عمر میں طائف میں ہوا اور محمد بن حنفیہ نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کو وہیں دفن کیا گیا۔ آپ کی وفات سن 69 ہجری میں نقل ہوئی ہے۔ ابن عباس آخر عمر میں نابینا ہو گئے تھے لہذا ان اشعار کو پڑھا کرتے تھے:

ان یاخذ اللہ من عینی نورھما ففی لسانی و قلبی منھما نور

اگر خدا نے میری آنکھوں کی بینائی لے لی ہے تو میری زبان اور کان کا نور تو ابھی باقی ہے۔

قلبی ذکی و عقلی غیر ذی دخل و فی فمی صارم کالسیف ماثور

میرا دل ذکی اور عقل سالم ہے میرے منہ میں تیز شمشیر کی مانند زبان ہے۔ [153]

اولاد[ترمیم]

آپ کے پانچ بیٹے تھے[154]

[155][156]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118925857 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb120855658 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. Diamond Catalogue ID for persons and organisations: https://opac.diamond-ils.org/agent/16273 — بنام: ʿAbd Allāh ibn ʿAbbās Ibn ʿAbbās
  4. ^ ا ب عنوان : Абдуллах ибн Аббас
  5. بی این ایف - آئی ڈی: https://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb120855658 — اخذ شدہ بتاریخ: 12 نومبر 2021 — مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : اوپن ڈیٹا پلیٹ فارم — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. "ص126 - كتاب الأسامي والكنى"۔ المكتبة الشاملة۔ 5 مايو 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 مئی 2020 
  7. (اکمال ،ص604 و اسدالغابہ ،ج 3، ص 192)
  8. زندگیاں صحابہ کی: ڈاکٹر عبد الرحمن رافت پاشا
  9. "عبدالله بن عباس رضي الله عنه"۔ www.alukah.net (بزبان عربی)۔ 2018-12-08۔ 5 مايو 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 05 مئی 2020 
  10. (اکمال ،ص604 و اسدالغابہ، ج3 ،ص192)
  11. شمس الدين الذهبي (2006)۔ تاريخ الإسلام ووفيات المشاهير والأعلام جـ 2 (بزبان عربی) (السابعة ایڈیشن)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 427۔ 31 مارچ 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  12. محمد بن محمد بن سليمان بن طاهر المغربي المالكي (2002)۔ جمع الفوائد من جامع الأصول ومجمع الزوائد ج1 (بزبان عربی)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 281۔ ISBN 978-2-7451-3567-4۔ 31 مارچ 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  13. شمس الدين الذهبي (2001)۔ "سير أعلام النبلاء - ومن صغار الصحابة - عبد الله بن عباس البحر- الجزء رقم3"۔ islamweb.net (بزبان عربی)۔ مؤسسة الرسالة۔ صفحہ: 332: 341۔ 30 مارچ 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 مارچ 2020 
  14. خير الدين الزركلي (1980)۔ "لُبَابَة الكُبْرى"۔ موسوعة الأعلام۔ موسوعة شبكة المعرفة الريفية۔ 30 مارس 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 تشرين الأول 2012 
  15. سيد كسروي حسن (2003-01-01)۔ جامع تراجم ومسانيد الصحابيات المبايعات 1-3 ج2 (بزبان عربی)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 188۔ 13 ستمبر 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  16. ^ ا ب ابن كثير الدمشقي۔ "البداية والنهاية - ثم دخلت سنة ثمان وستين - ذكر وفاة عبد الله بن عباس ترجمان القرآن- الجزء رقم13"۔ islamweb.net (بزبان عربی)۔ مؤسسة الرسالة۔ صفحہ: 78: 105۔ 30 مارچ 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 مارچ 2020 
  17. (بخاری جلد 1 صفحہ 180)
  18. (النساء:98)
  19. (بخاری:2/660)
  20. "Ottomans : religious painting"۔ جامعة بيلكنت۔ 25 أكتوبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 نوفمبر 2015 
  21. "صحيح البخاري، كتاب تفسير القرآن، سورة النساء، باب وما لكم لا تقاتلون في سبيل الله والمستضعفين من الرجال والنساء الآية- الجزء رقم 8"۔ islamweb.net (بزبان عربی)۔ صفحہ: 104۔ 31 مارچ 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 مارچ 2020 
  22. (اسد الغابہ تذکرہ عباس بن عبد المطلب ؓ)
  23. (اصابہ تذکرہ عبد اللہ بن عباس ؓ)
  24. أبو بكر الهيثمي (1994)۔ "مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، كتاب المغازي والسير، باب بيعة من لم يحتلم، الجزء رقم 6"۔ islamweb.net (بزبان عربی)۔ مكتبة القدسي۔ صفحہ: 40۔ 31 مارچ 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 مارچ 2020 
  25. (مسند احمد بن حنبل:1/291)
  26. حضرت عبد اللہ بن عباس کے سو قصّے: مولانا اویس سرور ص 19
  27. "صحيح البخاري، كتاب العلم، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم اللهم علمه الكتاب، الجزء رقم1"۔ islamweb.net (بزبان عربی)۔ صفحہ: 204۔ 01 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 01 اپریل 2020 
  28. وصححہ الألباني في " السلسلة الصحيحة " ( 6 / 173 )
  29. البخاري ( 143 )، ومسلم ( 2477 )
  30. الإمام أحمد في " المسند " ( 4 / 225 )
  31. (مسند احمد بن حنبل:1/230، ومستدرک حاکم :3/35)
  32. ابن دقيق العبد۔ "إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام، كتاب الصلاة، باب الصفوف، حديث قام النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل فقمت عن يساره، الجزء رقم 1"۔ islamweb.net (بزبان عربی)۔ صفحہ: 223۔ 01 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 01 اپریل 2020 
  33. ابن كثير الدمشقي (2012)۔ جامع المسانيد والسنن الهادي لأقوم سنن ج15 (بزبان عربی)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 8395۔ 01 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  34. (بخاری :2/615)
  35. (ایضاً:651)
  36. (اصابۃ تذکرہ عبد اللہ بن عباس ؓ)
  37. نبيل بن منصور بن يعقوب البصارة (2005)۔ أنيس الساري في تخريج وتحقيق الآثار التي ذكرها ابن حجر العسقلاني في فتح الباري (بزبان عربی) (الأولى ایڈیشن)۔ بيروت: مؤسسة الريان۔ صفحہ: 3085، 3086۔ 01 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  38. "عبد الله بن عباس ترجمان القرآن. - إسلام ويب - مركز الفتوى"۔ www.islamweb.net (بزبان عربی)۔ 01 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 01 اپریل 2020 
  39. البلاذري (2010)۔ أنساب الأشراف ج3 (بزبان عربی)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 33۔ 01 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  40. ابن حجر العسقلاني۔ الإصابة في تمييز الصحابة، جـ 4، من عابد بن السائب حتى عمرو بن طلق (بزبان عربی)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 92۔ 04 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  41. (طبری واقعات 35ھ)
  42. (طبری صفحہ 3085)
  43. محمد قاسم الشوم (2014)۔ علوم القرآن ومناهج المفسرين (بزبان عربی)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 272۔ ISBN 978-2-7451-8276-0۔ 01 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  44. "عمدة القاري شرح صحيح البخاري، كتاب الجهاد والسير، باب: لا يعذب بعذاب الله، حديث رقم 2883"۔ جامع السنة وشروحها۔ 02 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  45. النسائي، تحقيق: عبد الغفار سليمان البنداري، وسيد كسروي حسن (1996)۔ السنن الكبرى للنسائي ج5 (بزبان عربی)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 165۔ 04 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  46. "مناظرة ابن عباس للخوارج - ملفات متنوعة"۔ ar.islamway.net (بزبان عربی)۔ 02 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اپریل 2020 
  47. "الأعلام من الصحابة والتابعين، الحاج حسين الشاكري، جـ 8، الصفحة 20: 22"۔ shiaonlinelibrary.com۔ 02 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اپریل 2020 
  48. (یہ تمام واقعات طبری سے ماخوذ ہیں)
  49. (تاریخ الطوال)
  50. أبو جعفر محمد بن جرير الطبري (2018)۔ تاريخ الطبري (تاريخ الرسل والملوك)، الجزء الرابع (بزبان عربی)۔ صفحہ: 543۔ 04 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  51. أسمى المطالب في سيرة أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه، د. علي محمد الصلابي، الفصل الخامس مؤسسة الولاية في عهد أمير المؤمنين علي، جـ 450، على المكتبة الشاملة آرکائیو شدہ 2016-09-18 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
  52. (تاریخ طبری: 3449)
  53. الشيخ المفيد أبو عبد الله محمد بن محمد بن النعمان العكبري البغدادي. المتوفى في سنة (413هـ)، تحقيق: مؤسسة آل البيت عليهم السلام لتحقيق التراث (1413هـ/1993م)۔ كتاب الإرشاد في معرفة حجج الله على العباد، الجزء الثاني. (على موقع المكتبة الشيعية). (الثانية ایڈیشن)۔ صفحہ: 8۔ 24 مايو 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  54. محمد بن سعد البغدادي (الطبعة الأولى، 1993مالطبقات الكبرى، متمم الصحابة، الطبقة الخامسة، جـ 1۔ مكتبة الصديق، الطائف۔ صفحہ: 371۔ 20 ديسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  55. (ایضاً)
  56. (تاریخ طبری:ذکر ماکان فیھامن الاحداث)
  57. (طبری ذکر بیعت حسن بن علی ؓ)
  58. ابن الأثير عز الدين أبي الحسن الجزري الموصلي. المتوفى في سنة (630هـ)، تحقيق: عمر عبد السلام تدمري (1417هـ/1997م)۔ الكامل في التاريخ، الجزء الثاني. (على موقع المكتبة الشاملة). (الأولى ایڈیشن)۔ بيروت-لبنان: دار الكتاب العربي۔ صفحہ: 735۔ 31 مايو 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ أكتوبر 2020 
  59. أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني. المتوفى في سنة (852هـ)، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود، وعلي محمد معوض (1415هـ)۔ كتاب الإصابة في تمييز الصحابة، الجزء الرابع. (على موقع المكتبة الشاملة). (الأولى ایڈیشن)۔ بيروت-لبنان: دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 129۔ 7 أغسطس 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ أكتوبر 2020 
  60. (اسد الغابہ:3/195)
  61. (اسد الغابہ:3/195)
  62. (بخاری :2/672)
  63. فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل، فَضَائِلُ الْحَسَنِ والحسين، رقم الحديث: 1215 آرکائیو شدہ 2019-01-05 بذریعہ وے بیک مشین
  64. ابن عثيمين۔ "كتاب أصول في التفسير، المشتهرون بالتفسير من الصحابة، المكتبة الشاملة"۔ المكتبة الشاملة۔ صفحہ: 33۔ 03 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 03 اپریل 2020 
  65. (مستدرک حاکم :3/537)
  66. (البقرۃ:266)
  67. (بخاری جلد، کتاب الفسیر باب قولہ ایود احدکم ان تکون لہ جنۃ الخ)
  68. (جب خدا کی نصرت اورفتح آگئی تو اے پیغمبر تو بہ اور استغفار کرنا)
  69. (بخاری:1/743،کتاب التفسیر، باب قولہ فسبح بحمد ربک الخ)
  70. (مسلم)
  71. (صحیح بخاری کتاب التفسیر انا اعطینک الکوثر)
  72. (شوریٰ:23)
  73. (ایضاً باب قولہ تعالی قل لا الخ)
  74. (نساء:94)
  75. (بخاری باب قولہ تعالی، لاتقولوا، مسنداحمد بن حنبل:1/229)
  76. (مسند احمد بن حنبل :1/305)
  77. (آل عمران:188)
  78. (آل عمران:187)
  79. (مسند احمد بن حنبل :1/298)
  80. (مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 539)
  81. (اصابہ :4/ 96)
  82. (کتاب الناسخ والمنسوخ ابو جعفر نحاس)
  83. (کتاب النساسخ والمنسوخ ابو جعفر نحاس)
  84. (بقرہ:204تا 206)
  85. (مستدرک حاکم جلد 3 صفحہ 540 شرط شیخین)
  86. عيسى علوي القصيّر (2013-05-22)۔ "قبر ومسجد عبدالله بن العباس.. حقائق للتاريخ (2 – 2)"۔ Madina (بزبان عربی)۔ 02 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اپریل 2020 
  87. "عبد الله بن عباس رضي الله عنه من أشهر مفسري الصحابة - موقع مقالات إسلام ويب"۔ www.islamweb.net۔ 03 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 03 اپریل 2020 
  88. (تہذیب الکمال :202)
  89. (مستدرک حاکم جلد 3 فضائل ابن عباس ؓ سعی ابن عباس ؓ فی طالب العلم)
  90. (تذکرہ الحفاظ :1/5)
  91. (اصابہ:4/96)
  92. (مسند احمد بن حنبل :1/ 226)
  93. (ابوداؤد کتاب المناسک باب الحرم یضل راسہ)
  94. (ابو داؤد کتاب المناسک باب وقت الاحرام)
  95. "صحيفة عكاظ - قبر عبد الله بن العباس يثير جدلا حول موقعه"۔ web.archive.org۔ 2016-05-02۔ 6 أبريل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اپریل 2020 
  96. "فتوى تغلق شوارع جامع العباس بالطائف 4 أعوام.. والأهالي يطالبون بحل عاجل"۔ صحيفة الشرق (بزبان عربی)۔ 02 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اپریل 2020 
  97. "ابن عباس ترجمان القرآن ولسان حال البيان"۔ www.alkhaleej.ae۔ 02 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اپریل 2020 
  98. (مسند دارمی باب فی الحدیث عن الثقات)
  99. (ایضاباب ماتیقی من تفسیر حدیث النبی ﷺ )
  100. (مسند احمد ابن حنبل جلد1 صفحہ 350)
  101. ابن حجر العسقلاني (1984)۔ "فتح الباري شرح صحيح البخاري، كتاب فضائل الصحابة، باب مناقب عمر بن الخطاب أبي حفص القرشي العدوي رضي الله عنه، الجزء رقم7"۔ islamweb.net (بزبان عربی)۔ دار الريان للتراث۔ صفحہ: 63۔ 01 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 01 اپریل 2020 
  102. السيوطي۔ "الإتقان في علوم القرآن، النوع الثمانون في طبقات المفسرين، من اشتهر بالتفسي، الجزء رقم2"۔ islamweb.net (بزبان عربی)۔ صفحہ: 466۔ 03 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 03 اپریل 2020 
  103. (مستدرک حاکم:3/538)
  104. (مسلم، کتاب صلوٰۃ المسافرین وقصر ہا، باب الجمع بین الصلوٰتین فی الحضر)
  105. (استعاب :1/ 353)
  106. "صحيح البخاري، كتاب تفسير القرآن، سورة التحريم، باب تبتغي مرضاة أزواجك قد فرض الله لكم تحلة أيمانكم والله مولاكم وهو العليم الحكيم، الجزء رقم 4"۔ islamweb.net (بزبان عربی)۔ دار ابن كثير۔ 1973۔ صفحہ: 1867۔ 01 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 01 اپریل 2020 
  107. (مسلم:1 )
  108. مناع القطان۔ "كتاب تاريخ التشريع الإسلامي، فقهاء الصحابة - المكتبة الشاملة"۔ المكتبة الشاملة۔ صفحہ: 241۔ 03 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 03 اپریل 2020 
  109. (تہذیب التہذیب)
  110. أبو نعيم الأصبهاني۔ "حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، المهاجرون من الصحابة، عبد الله بن عباس، الخبر المروي عن أبي صالح في أنه فخر قريش كلها"۔ islamweb.net (بزبان عربی)۔ دار الفكر۔ صفحہ: 321۔ 02 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اپریل 2020 
  111. (اعلام الموقعین:1/ 13)
  112. (اعلام الموقعین:1/13)
  113. (اعلام الموقعین:1/3)
  114. (مستدرک حاکم:3 /539)
  115. (اسد الغابہ:2/193)
  116. معجم البلدان - الحموي - ج 2 - الصفحة 354، المكتبة الشيعية آرکائیو شدہ 2018-11-06 بذریعہ وے بیک مشین
  117. سانچہ:استشهاد بويكي بيانات
  118. (کتاب العمدہ :5)
  119. (استیعاب :1/384)
  120. (اصابہ بحوالہ ابن ابی شیبہ تذکرہ عبد اللہ بن عباس ؓ)
  121. "نبذة عن العبادلة - إسلام ويب - مركز الفتوى"۔ www.islamweb.net (بزبان عربی)۔ 03 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 03 اپریل 2020 
  122. (اسد الغابہ:3/193،194)
  123. ابن عثيمين۔ "كتاب شرح مقدمة التفسير لابن تيمية، فصل في تفسير القرآن بأقوال التابعين، المكتبة الشاملة"۔ المكتبة الشاملة۔ صفحہ: 138۔ 03 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 03 اپریل 2020 
  124. (یہ تمام اقوال استیعاب سے منقول ہیں:1/384)
  125. (اسد الغابہ : 3/194)
  126. (اصابہ:4/92)
  127. (زبردست عالم )
  128. (اصابہ :4/ 98)
  129. محب الدين الطبري، تحقيق: محمد أمين ضناوي (2006)۔ ذخائر العقبى في مناقب ذوي القربى (بزبان عربی)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 264۔ ISBN 978-2-7451-5019-6۔ 03 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  130. محمد بن محمد بن علي الفارسي، تحقيق: صلاح محمد عويضة (1992)۔ جواهر الأصول في علم حديث الرسول (بزبان عربی)۔ بيروت: دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 17، 18۔ ISBN 978-2-7451-0684-1۔ 03 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  131. (مستدرک حاکم فضائل ابن عباس ؓ)
  132. شمس الدين الذهبي (2001)۔ "سير أعلام النبلاء، ومن صغار الصحابة، عبد الله بن عباس البحر- الجزء رقم 3"۔ islamweb.net (بزبان عربی)۔ مؤسسة الرسالة۔ صفحہ: 342: 352۔ 02 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اپریل 2020 
  133. (مسند احمد بن حنبل :1/330)
  134. ابن حجر العسقلاني، تحقيق: عادل أحمد عبد الموجود، وعلي محمد معوض (2010)۔ الإصابة في تمييز الصحابة، جـ 4 (بزبان عربی)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 192۔ 03 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  135. (مسند احمد بن حنبل :1/330)
  136. البخاري (1993)۔ "صحيح البخاري، كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة، باب قول النبي صلى الله عليه وسلم لا تسألوا أهل الكتاب عن شيء، الجزء رقم6"۔ islamweb.net (بزبان عربی)۔ دار ابن كثير۔ صفحہ: 2680۔ 03 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 03 اپریل 2020 
  137. (مستدرک حاکم :3/534،535)
  138. (مستدرک حاکم:3/534،537بشرط شیخین)
  139. قحطان حمدي (2007)۔ تاريخ المبرزين من فقهاء الصحابة رضي الله عنهم (بزبان عربی)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 278۔ ISBN 978-2-7451-5306-7۔ 03 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  140. (ایضاً)
  141. (مسلم کتاب الرضاع باب جواز ہبتہا الفرتہا)
  142. (مسند احمد بن حنبل :1 / 276)
  143. أبي الفضل أحمد بن علي/ابن حجر (2017-01-01)۔ فتح الباري شرح صحيح البخاري 1-15 ج13 (بزبان عربی)۔ Dar Al Kotob Al Ilmiyah دار الكتب العلمية۔ 23 اگست 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  144. العقد الفرید، ابن عبد ربہ، 4ص354-359 ۔
  145. "الكتاب المنسوب إلى ابن عباس رضي الله عنهما في التفسير موضوع عليه - الإسلام سؤال وجواب"۔ islamqa.info (بزبان عربی)۔ 03 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 03 اپریل 2020 
  146. شمس الدين الذهبي (2001)۔ "سير أعلام النبلاء، ومن صغار الصحابة، عبد الله بن عباس البحر، الجزء رقم3"۔ islamweb.net (بزبان عربی)۔ مؤسسة الرسالة۔ صفحہ: 352: 359۔ 02 اپریل 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اپریل 2020 
  147. مسند احمد بن حنبل 1 ص544 ح3052، مستدرک علی الصحیحین، حاکم نیشاپوری، محمد بن عبد اللہ، 3ص143 ح4652، مناقب خوارزمی، موفق بن احمد، ص125ح140، الریاض النضرۃ، احمد بن عبد اللہ طبری، 3ص153، البدایۃ و النہایۃ، اسماعیل بن عمرابن کثیر، 7ص337و 7ص373 حوادث سنہ4ھ، مجمع الزوائد، ہیثمی، علی بن ابی بکر، 9ص، 119، کفایۃ الطالب، محمد بن یوسف گنجی شافعی، ص241،ب62، الاصابۃ 2ص509، کنز العمال متقی ہندی، 11ص603 ح32916، تفسیر ثعلبی؛ الکشف البیان آیت 67سورہ مائدہ، تفسیر رازی، 12ص49، تفسیر نیشاپوری 6ص194، خصائص نسائی ص47ح24، سنن نسائی، 5ص15ح8409، الاربعین فی فضائل امیر المومنین ص40ح13۔
  148. کتاب سلیم بن قیس ہلالی 2ص834،ح42۔
  149. مجالس المومنین قاضی نور اللہ شوشتری، ص316، ترجمہ محمد حسن جعفری، ط اکبر حسین جیوانی ٹرسٹ کراچی، بی تا۔
  150. وقعہ صفین، ابن مزاحم، 550،کتاب صفین، ص414۔41٠، الامامةو السیاسةج1ص99۔98، شرح نہج البلاغۃ، ابن ابی الحدید، 8ص64خطبہ 124،الغدیر علامہ امینی، عبد الحسین، 2ص137۔
  151. "نبذة عن حبر الأمة وترجمان القرآن - إسلام ويب - مركز الفتوى"۔ www.islamweb.net (بزبان عربی)۔ 31 مارچ 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 31 مارچ 2020 
  152. تاریخ ابنِ کثیر جلد 7
  153. البلاذري (2010)۔ أنساب الأشراف جـ 2 (بزبان عربی)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 36۔ 31 مارچ 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ 
  154. ابن حزم الظاهري (2018)۔ جمهرة أنساب العرب (بزبان عربی)۔ دار الكتب العلمية۔ صفحہ: 19۔ ISBN 978-2-7451-0043-6۔ 31 مارچ 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ