ابو درداء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو درداء
(عربی میں: أبو الدرداء خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Abi Al-Daardaa.JPG 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 580  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 653 (72–73 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دمشق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ ام الدرداء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد بلال بن ابو درداء  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ تاجر،  واعظ،  قاضی،  فقیہ،  محدث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ احد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

حکیم الامت ابو الدرداء مشہور انصار صحابی ہیں، تارک الدنیا اصحاب صفہ میں سے تھے۔ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ”حكيم هذہ الأمة“ اِس اُمت کے حکیم کا لقب عطا ہوا۔[2]

حلیہ[ترمیم]

اُن کا جسم خوبصورت، ناک اُٹھی ہوئی، آنکھیں شربتی، داڑھی اور سر میں خضاب لگاتے تھے جس کا رنگ سنہرا ہوتا تھا۔ لباس عربی ہوتا تھا۔ ایک خاص قسم کی ٹوپی سر پر پہنتے تھے جس کو قلنسوہ کہتے تھے۔ عمامہ باندھتے تو اِس کا شِملہ پیچھے لٹکاتے تھے۔[3]

نام و نسب[ترمیم]

عویمر نام، ابو داؤد کنیت، قبیلہ خزرج کے خاندان عدی بن کعب سے ہیں، نسب نامہ یہ ہے، عویمر بن زید بن قیس بن امیہ بن مالک بن عامر بن عدی بن کعب بن خزرج بن حارث بن خزرج اکبر والدہ کا نام مجتہ تھا، جو ثعلبہ بن کعب کے سلسلہ سے وابستہ تھیں۔ اُم درداء آپ کی زوجہ کا نام ہے۔[4]

قبول اسلام[ترمیم]

ابو درداء دوسرے اکابر انصار کے ایک سال بعد 2ھ میں مشرف باسلام ہوئے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا اسلام تقلیدی نہ تھا، اجتہادی تھا،ممکن ہے کہ یہ ایک سال مزید غور و فکر اورکاوش و تحقیق میں صرف ہوا ہو۔ لیکن قبول اسلام میں یہ ایک سال تمام عمران کے لیے تکلیف دہ رہا فرمایا کرتے تھے ایک گھڑی کی خواہش نفس دیرپا غم پیدا کرتی ہے۔

غزوات میں شرکت[ترمیم]

غزوہ بدر میں وہ مسلمان نہ تھے، اس لیے اس میں شریک نہ تھے، غزوہ احد حالت ایمان میں پیش آیا، اس میں نہایت سرگرمی سے حصہ لیا ،گھوڑے پر سوار ہو کر میدان میں آئے، رسول اللہ نے ان کی شجاعت وبسالت کو دیکھ کر فرمایا :نعم انفارس عویمر یعنی عویمر کس قدراچھے سوار ہیں۔ احد کے علاوہ دیگر غزوات میں رسول اللہ کے ساتھ شرکت کی ،سلمان فارسی نے اسلام قبول کیا تو رسول اللہ نے ان کو ابو درداء کا اسلامی بھائی تجویز فرمایا۔[5]

اکابرین میں شمار[ترمیم]

عمرنے اپنے عہد خلافت میں تمام اکابر صحابہ کے نقد وظائف مقرر کر دیے تھے، مجاہدین بدر کی سب سے بڑی تنخواہ تھی، ابو درداء مجاہدین بدر میں داخل نہ تھے، لیکن عمر نے ان کا وظیفہ بدریوں کے برابر مقرر کیا۔ عثمان کے عہدِ خلافت میں امیر معاویہ نے عثمان کی منظوری سے ان کو دمشق کا قاضی مقرر کیا، کبھی کبھی جب امیر معاویہ کو باہر جانے کی ضرورت پڑی تو وہ ان کو اپنا قائم مقام بنا جاتے،دمشق میں قضا کا یہ پہلا عہدہ تھا۔

وفات[ترمیم]

ابو درداء مسافرانہ زندگی بسر کرتے تھے، ہجرت کا بتیسواں 32ھ سال تھا کہ یہ مسافر کاروان سرائے عالم سے وطن مالوف کو سدھارا۔

فتنہ و فساد سے دور[ترمیم]

ابو درداء فساد وشر سے دور بھاگتے تھے ،شام کا ملک حجاز سے کسی حال میں بہتر نہ تھا؛ لیکن فتنوں کے زمانہ میں شام ایک حکومت کے ماتحت بہر حال قائم رہا اور حجاز میں ہر سال نئی فوج کشی کا سامنا تھا، ابو درداء کی سکونت شام کا یہی سبب تھا، فرماتے تھے جس مقام پر دو آدمی ایک بالشت زمین کے لیے منازعت کریں میں اس کو بھی چھوڑ دینا زیادہ پسند کرتا ہوں۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مصنف: Aydın Əlizadə — عنوان : Исламский энциклопедический словарь — ناشر: Ansar — ISBN 978-5-98443-025-8
  2. سیر اعلام النبلاء از شمس الدین ذہبی ج 2
  3. سیر اعلام النبلاء از شمس الدین ذہبی ج 2، ص 368
  4. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی از احمد یار خان نعیمی، جلد 8، صفحہ 481، نعیمی کتب خانہ گجرات
  5. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی از احمد یار خان نعیمی، جلد 8، صفحہ 441، نعیمی کتب خانہ گجرات
  6. مسند ابو داؤد طیالسی: 131