جابر بن عبداللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

جابر بن عبداللہ یا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ (عربی: جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام الأنصاري) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک تھے جن کا تعلق یثرب (مدینۃ الرسول) سے تھا۔ عقبۂ ثانی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی۔ وہ کثیر الحدیث صحابی اور حدیث لوح کے راوی ہیں اس حدیث میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے ائمۂ شیعہ کے اسماء مبارک درج ہیں۔

جابر امام حسین کے مزار کے پہلے زائر ہیں۔[1] وہ (واقعہ کربلا کے چالیس دن بعد) روز اربعین کربلا پہنچے اور امام محمد باقر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سلام پہنچایا۔[2]

نسب اور کنیت[ترمیم]

ان کے پردادا عَمرو بن حرام بن کعب بن غَنْم تھے ان کا سلسلہ نسب خَزْرَج سے جا ملتا ہے۔[3]

جابر کے والد ہجرت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے مسلمان ہوئے اوردوسری بیعت عقبہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عہد کیا اور ان بارہ نقیبوں میں سے ایک تھے جنہيں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے قبیلوں کے نمائندوں کے طور پر مقرر کیا تھا۔ وہ غزوہ بدر میں شریک تھے اور غزوہ احد میں شہید ہوئے۔[4]

جابر کی کنیت ان کے بیٹوں کے ناموں کی مناسبت سے مختلف تاریخی منابع میں مختلف ہے لیکن ان کی صحیح تر کنیت "ابو عبد اللہ" مانی گئی ہے۔[5]

ابتدائی زندگی اور اسلام[ترمیم]

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ہجرت سے پندرہ سال پہلے مدنیہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق قبیلہ خزرج کے ایک غریب خاندان سے تھا۔ آپ کم عمری میں اسلام لائے اور بے شمار غزوات میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ساتھ دیا۔ والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام نصیبہ بنت عقبہ بنت عدی تھا جو ان کے والد کے خاندان ہی سے تھیں۔ آپ کے والدعبد اللہ انصاری غزوہ احد میں شہید ہوئے۔ ان کی نسل کو بنو حرام کہا جاتا ہے جو آج بھی مسجد قبلتین کے قریب رہائش رکھتے ہیں۔[6] جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سات بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ بعض روایات کے مطابق ایک دفعہ وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ :اے جابر تم ایک لمبی زندگی پاؤ گے اگرچہ اندھے ہو جاؤ گے مگر تمہاری ملاقات میری اولاد میں سے ایک شخص سے ہوگی وہ میرا ہم نام ہوگا اور میری طرح چلتا ہوگا جو پانچواں امام ہوگا۔ جب اسے ملو تو میرا سلام کہنا۔ یہ بات پوری ہوئی جب ان کی ملاقات امام محمد باقر سے ہوئی۔

جابر کی زندگی سے موصولہ سب سے پہلی معلومات کا تعلق دوسری بیعت عقبہ ہے جو بعثت کے تیرہویں سال انجام پائی۔ اس بیعت میں وہ اپنے والد کے ساتھ تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ پر اوس اور خزرج کی بیعت کے کم عمر ترین شاہد و گواہ ہیں۔[7] ان کی مدتِ عمر اور سال وفات کو مد نظر رکھتے ہوئے اندازا لگایا جاسکتا ہے کہ بیعت عقبہ میں ان کی عمر 16 برس ہوگی۔

جنگوں میں شرکت[ترمیم]

مکہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجرت مدینہ کے وقت جابر ان نوجوانوں میں شمار ہوتے تھے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیشتر غزوات اور سرایا میں شریک تھے اور صرف غزوہ بدر اور غزوہ احد میں شریک نہيں ہوئے تھے۔[8] ان دو جنگوں میں عدم شرکت کا عذر والد کی اطاعت تھی جنہوں نے جابر کو اپنے بڑے کنبے کی سرپرستی سونپی تھی۔[9]

تاہم بعض روایات میں انہيں بدری کہا گیا ہے اور انہوں نے خود بھی کہا کہ "میں جنگ بدر میں آبرسانی پر مامور تھا"۔ [10]

جن غزوات میں جابر نے شرکت کی ہے ان کی تعداد مختلف منابع نے مختلف بتائی گئی ہے۔ انہوں نے خود کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ستائیس غزوات میں سے انیس میں شریک رہے ہیں"۔[11] جابر نے بعض سرایا میں بھی شرکت کی ہے اور ان سرایا کی روئداد بھی نقل کی ہے۔[12]

غزوہ حمراء الاسد[ترمیم]

غزوہ حمراء الاسد، جو 4 ھ میں اور غزوہ احد کے بعد واقع ہوا اور یہ جابر کا پہلا جنگی تجربہ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان پر احد کے شرکاء کے سوا کسی کو بھی حمراء الاسد میں شرکت کی اجازت نہ تھی تاہم جابر غزوہ احد میں شریک نہ ہونے کے باوجود اس جنگ میں شریک ہوئے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ احد میں ان کی عدم شرکت کا عذر قبول فرمایا تھا۔ [13]

جنگوں میں جابر کا کردار[ترمیم]

مغازی اور جنگوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ میں جابر کا کردار کچھ زيادہ بڑا نہ تھا۔ وہ ایک نوجوان مؤمن تھے جو دوسرے مجاہدین کے ہمراہ بعض غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رکاب میں لڑتے تھے اور بعد میں بعض غزوات کے وقائع نگار کا کردار ادا کیا۔

شادی[ترمیم]

سنہ 3 ھ میں غزوہ ذاتُ الرَقاع سے پہلے، جابر نے سُہَیمہ، بنت مسعود بن اوس، نامی بیوہ خاتون سے شادی کی تا کہ والد کی شہادت کے بعد اپنی 9 بہنوں کی بہتر سرپرستی کرسکیں۔[14]

اس زمانے میں جابر کو معاشی مسائل کا سامنا تھا اور انہیں والد کے کچھ قرضے ادا کرنے تھے۔ کچھ عرصہ بعد (سنہ 4 ھ میں) غزوہ ذات الرقاع سے واپسی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جابر کا حال پوچھا اور آبرومندانہ انداز سے ان کے قرضے ادا کئے اور ان کے لئے طلب مغفرت کی۔ [15]

رسول اللہ کے ساتھ تعلق[ترمیم]

بعض روایات کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جابر کے ساتھ رویہ ہمیشہ شفقت آمیز رہا جابر کا تعلق بھی الفت اور محبت آمیز تھا۔ ایک دفعہ جابر بیمار پڑ گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی عیات کے لئے گئے اور جابر نے ـ جو گویا اپنی تندرستی سے مایوس ہوچکے تھے ـ بہنوں کے درمیان اپنے ترکے کی تقسیم کے بارے میں سوالات پوچھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے انہیں طویل عمر کی خوشخبری دی اور ان کے سوال کے جواب میں ایک آیت نازل ہوئی جو آیت کلالہ کے نام[16] سے مشہور ہوئی۔[17]

خلفائے ثلاثہ کا دور[ترمیم]

جابر سے خلیفۂ اول کے بارے میں کوئی بات نقل نہیں ہوئی ہے۔ وہ شاید ابتداء میں مدینہ میں انصار اور مہاجرین کے ہمراہ تھے اور کچھ عرصہ بعد امام علی اور اہل بیت کے حامیوں سے جا ملے تھے۔[18]

خلفائے راشدین، کے دور میں جابر غالبا علمی اور تعلیمی امور میں مصروف تھے اور سیاسی اور عسکری معاملات سے دوری اختیار کرتے تھے۔ انہوں نے اس دور میں صرف ایک عسکری مہم میں شرکت کی جس کا تعلق خلیفۂ ثانی کے دور کے آغاز میں اسلامی فتوحات سے تھا۔

جابر نے ایک روایت میں خالد بن ولید کی سرکردگی میں دمشق کے محاصرے کی روئداد بیان کی ہے جس میں وہ شریک ہوئے تھے۔[19] لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ کیا جابر فتح عراق کے دوران بھی خالد کی سپاہ میں تھے یا نہیں۔

جابر خلیفۂ ثانی کے دور میں عَریف تھے۔[20] عریف کسی بھی قبیلے کے ایسے فرد کو کہا جاتا تھا جو خلیفہ کی طرف سے اپنے قبیلے کے سربراہ کے طور پر مقرر کیا جاتا تھا یا قبیلے کے ہاں خلیفہ کا رابط یا نمائندہ ہوتا تھا۔.

خلیفۂ ثالث کے دور میں جابر کی سرگرمیوں کے بارے میں کوئی خاص اطلاع، تاریخ نے ثبت نہیں کی ہے؛ صرف یہی کہا جاسکتا ہے کہ جب مصری معترضین نے مدینہ کا رخ کیا تو جابر انصار کے دوسرے پچاس افراد کے ہمراہ خلیفہ کی طرف سے متعین ہوئے کہ معترضین کے ساتھ مذاکرات کرکے انہيں مصر کی طرف پلٹا دیں۔[21]

خلافت امام علی کا دور[ترمیم]

وہ جنگ صفین میں امیرالمؤمنین امام علی کی سپاہ میں شامل تھے۔[22]

امیرالمؤمنین مولا علی کی خلافت کے اواخر میں جب معاویہ کے گماشتوں نے شہروں کو غارت کرنا شروع کیا تو مدینہ بھی اس لوٹ مار اور قتل و غارت سے محفوظ نہ رہا۔ معاویہ کی طرف سے بُسر بن اَرْطاۃ نے سنہ 40 ھ میں مدینہ پر حملہ کیا تو جابر کا قبیلہ یعنی قبیلۂ بنو سَلَمہ بھی اس حملے میں نشانہ بنا اور بسر بن ارطاۃ نے اس قبیلے سے بیعت کا مطالبہ کیا۔

جابر جو بُسر کی بیعت کو گمراہی اور ضلالت سمجھتے تھے، نے ام المؤمنین ام سلمہ کے گھر میں پناہ لی اور آخر کار ام سلمہ کے مشورے سے خونریزی کا سد باب کرنے کی غرض سے، بیعت کر لی۔[23]

منبر رسول کی منتقلی[ترمیم]

معاویہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد (سنہ 50 ھ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منبر کو دمشق منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جابر ان لوگوں میں سے ایک تھے جو معاویہ کے پاس گئے اور اس کو اس عمل سے روکا تو وہ باز رہے۔[24]

جابر کے سفر[ترمیم]

جابر نے سنہ 50 ھ کے عشرے میں مصر کا سفر کیا۔ بعض مصریوں نے ان سے حدیثیں نقل کی ہیں۔[25] ان دنوں جابر کے قبیلے سے تعلق رکھنے والا مَسلَمۃ بن مُخَلَّد انصاری، مصر کا والی تھا اور ابن مَنْدَہ، کی روایت کے مطابق جابر نے مسلمہ کے ہمراہ شام اور مصر کا سفر اختیار کیا۔[26]

حدیث کے بعض منابع کے مطابق جابر نے عبداللہ بن أُنَیس سے قصاص کے بارے میں ایک حدیث سننے کی غرض سے شام کا سفر کیا؛[27] جس کی تاریخ نامعلوم ہے۔ وہ معاویہ کے دور میں شام گئے جہاں انہیں معاویہ کی بے اعتنائی کا سامنا کرنا پڑا۔ جابر معاویہ کے اس رویے سے سخت ناراض ہوئے اور مدینہ کی طرف واپس روانہ ہوئے اور معاویہ کی طرف سے 600 دینار کا ہدیہ بھی قبول نہيں کیا۔[28] جابر کے ساتھ معاویہ کے طرز سلوک کو خلیفۂ ثالث کے قتل کے بموجب اہلیان مدینہ کی توہین و تذلیل کی اموی روش کا تسلسل اور حصہ سمجھا جاسکتا ہے۔

امویوں کی حکومت[ترمیم]

جابر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دور دیکھا تھا اور قرآن و سنت سے واقف تھے چنانچہ وہ امویوں کی بدعتوں اور نہایت بھونڈے اعمال سے آزردہ خاطر تھے اور آروز کرتے تھے کہ کاش سماعت سے محروم ہوتے اور بدعتوں اور دینی اقدار میں تبدیلیوں کی خبریں نہ سنتے۔[29]

سنہ 74 ھ میں حجاج بن یوسف (امویوں کی طرف سے) مدینہ کا والی بنا،[30] اور ہر طرف اس کی گستاخیوں کا چرچا تھا۔ جہاں تک ممکن تھا اس نے مدنی عوام اور بزرگوں کی توہین کی اور جابر سمیت اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غلاموں کے طرح داغ لگا دیئے۔[31] اس کے باوجود جابر نے اپنے رویے میں تبدیلی کے سوا حجاج کے اس عمل پر کوئی رد عمل ظاہر نہيں کیا۔ [32] اور وصیت کی کہ حجاج ان کی نماز جنازہ نہ پڑھائے۔ [33]

حدیث میں جابر کا کردار[ترمیم]

جابر صحابہ کے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بکثرت حدیثیں نقل کی ہیں۔[34] حدیث و روایت اور سیرت و تاریخ کی کتب میں جابر کی روایات سے بکثرت استناد ہوا ہے اور ان کی منقولہ روایات اسلامی مذاہب کے ہاں قابل توجہ ہیں۔ جابر فقہی احکام میں صاحب رائے تھے اور فتوی دیا کرتے تھے۔[35] چنانچہ ذہبی [36] نے انہیں صاحب فتوی مجتہد اور فقیہ کا خطاب دیا ہے۔

جابر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حدیث نقل کرنے کے علاوہ صحابہ اور حتی بعض تابعین سے بھی روایت کی ہے۔ علی بن ابی طالب، طلحہ بن عبیداللہ، عمار بن یاسر، معاذ بن جبل، اور ابو سعید خدری جیسے صحابہ سے جابر نے روایت کی ہے۔[37]

جابر اس قدر دینی معارف و تعلیمات حاصل کرنے کے طالب و مشتاق تھے کہ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے براہ راست حدیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سننے کے لئے عازمِ شام ہوئے۔[38]

اس شوق نے آخرِ عمر میں جابر کو خانۂ خدا کی مجاورت پر آمادہ کیا تاکہ وہاں رہ کر بعض حدیثیں سن لیں۔[39] وہ حدیث کے سلسلے میں نہایت بابصیرت اور نقاد تھے اور احادیث اور روایات نقل کرنے میں قبائلی مسابقتوں سے پرہیز کرتے تھے؛ مثال کے طور پر وہ خود خزرجی تھے لیکن اس بات کے معترف تھے کہ خزرجی راویوں نے بنو قریظہ کے فیصلے کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس کلام میں تحریف کی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سعد بن مُعاذ کے حق میں ادا کئے تھے؛ صرف اس لئے کہ سعد بن مُعاذ قبیلۂ اوس کے ز‏عیم تھے۔[40]

امام باقر، نیز امام صادق اور امام کاظم نے امام باقر کے حوالے سے، چند احادیث نبوی جابر سے نقل کی ہیں۔ [41]

مشہور شیعہ احادیث کی اسناد میں جابر کا نام ذکر ہوا ہے؛ ان مشہور احادیث میں حدیث غدیر،[42] حدیث ثقلین، [43] حدیث ''انا مدینۃ العلم و علی بابہا''،[44] حدیث منزلت، [45] حدیث رد الشمس،[46] اور حدیث سد الابواب [47] شامل ہیں۔

نیز جابر ان احادیث کے راوی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بعد بارہ ائمہ کے اسماء گرامی بیان فرمائے ہیں۔[48] اور امام مہدی کی خصوصیات متعارف کرائی ہیں۔[49]

حدیث لوح ان مشہور احادیث میں سے ہے جو جابر نے نقل کی ہیں اور ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانشین ائمۂ اثناعشر کے اسماء گرامی بیان ہوئے ہیں۔[50]

جابر کا حلقۂ درس[ترمیم]

جابر نے مسجد نبوی میں اپنا حلقۂ درس دائر کیا تھا جہاں وہ حدیثیں املاء کرتے اور لکھواتے تھے اور تابعین کی ایک جماعت ان سے علم حاصل کرتے اور حدیثیں لکھتے تھے۔[51]

جابر سے بڑی تعداد میں راویوں نے حدیثیں نقل کی ہیں جن میں سعید بن مُسیب، حسن بن محمد بن حنفیہ، عطاء بن ابی رباح، مجاہد بن جَبر، عمرو بن دینار مکی، عامر بن شراحیل شعبی، اور حسن بصری سر فہرست ہیں۔[52]

مفتیِ مدینہ[ترمیم]

الطبقات الکبیر میں ابن سعد کی درجہ بندی کے مطابق جابر کو مفتی اصحاب، اور مقتدی یا اہل العلم والفتوی کے زمرے میں قرار نہیں دیا گیا ہے تاہم ذہبی نے انہیں مفتی مدینہ کے عنوان سے یاد کیا ہے۔

موسی بن علی بن محمد امیر نے جابر بن عبداللہ کی فقہی آراء کو مختلف منابع سے اخذ کر کے ایک جامع تحقیق کے طور پر مرتب کر کے ایک کتاب جابر بن عبداللہ و فقہہ کے نام سے زیور طبع سے آراستہ کی ہے۔[53]

تفسیر قرآن[ترمیم]

قرآن کریم کی تفسیر میں جابر سے بہت سی روایات منقول ہیں جن سے تفسیری منابع میں استناد کیا گیا۔[54] بعض آیات کے سلسلے میں جابر کی تفسیری آراء شیعہ تفسیری آراء سے ہمآہنگ ہیں۔[55]

امامیہ منابع میں[ترمیم]

امامیہ کے رجالی منابع میں جابر کی شخصیت کو محترم اور قابل احترام قرار دیا گیا ہے۔ وہ ائمہ، (امام علی سے امام باقر، تک) کے اصحاب میں شمار کئے گئے ہیں۔ [56]

تاہم یہ امر قابل ذکر ہے کہ جابر امام سجاد کے دور میں دنیا سے رخصت ہوئے ہیں جبکہ امام باقر ابھی لڑکپن یا نوجوانی کی عمر میں تھے چنانچہ انہيں امام باقرکے اصحاب میں شمار نہيں کیا جاسکتا۔[57]

بعض رجالی منابع میں جابر کی شہرت اور ان کی مدح میں منقولہ روایات کے پیش نظر، تاکید ہوئی ہے کہ "جابر کے لئے کسی توثیق کی ضرورت نہیں ہے"۔[58] گوکہ جابر سقیفہ کے واقعے میں امیرالمؤمنین کے ساتھیوں میں سے نہ تھا لیکن کچھ عرصہ بعد اہل بیت علیہم السلام کے سچے، وفادار اور مخلص اصحاب و انصار کے زمرے میں قرار پائے۔[59] کَشّی، [60] نے جابر کو علی بن ابی طالب کے فدائیوں کے گروہ میں شمار کیا ہےجو ہمیشہ علی کے تابع اور گوش بہ فرمان تھے اس گروہ کو ‌شرطۃ الخمیس‌ کہا جاتا ہے.[61]

محبت اہل بیت[ترمیم]

جابر کی نگاہ میں علی بن ابی طالب اس قدر بلند مقام و مرتبے کے مالک تھے جنہیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں میزان حق سمجھا جاتا تھا اور آپ کے ساتھ بغض اور دشمنی، منافقین کی شناخت کا ذریعہ تھی۔[62]۔[63] جابر مدینہ کی گلیوں سے گذرتے تھے اور انصار کی مجالس میں شرکت کرتے تھے اور انہیں نصیحت کرتے تھے کہ اپنے فرزندوں کی تربیت حب علی بن ابی طالب کے ساتھ کیا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ "جو شخص امیرالمؤمنین علی کو اللہ کی برتر مخلوق نہ سمجھے وہ ناشکری کا مرتکب ہوا ہے"[64] جابر کا یہ کلام کہ "علی خیر البشر ہیں" جعفر بن احمد قمی نامی شیعہ مؤلف کی کتاب نوادر الاثر فی علی خیر البشر کا عنوان ٹہرا۔ قمی نے اس کتاب کی ایک تہائی روایات جابر سے نقل کی ہیں۔[65]

جابر اور واقعۂ عاشورہ[ترمیم]

واقعۂ عاشورہ اور شہادت امام حسین کے وقت جابر بن عبداللہ انصاری مدینہ کے معمر بزرگوں میں شمار ہوتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذریت کے لئے فکرمند تھے۔ امام حسین نے یزیدی کے والی عبید اللہ بن زیاد کے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے جابر بن عبداللہ کو اپنے مدعا کے گواہ کے عنوان سے متعارف کرایا ہے[66]۔[67] امام حسین کی شہادت کے چالیسویں روز جابر آپکے اولین زائر تھے۔[68]۔</ref> محمدبن ابوالقاسم عمادالدین طبری، بشارۃ المصطفی لشیعۃ المرتضی، ص74ـ 75۔</ref> امام زین العابدین کی امامت کے آغاز پر، آپ کے اصحاب کی تعداد بہت کم تھی اور جابر ان ہی انگشت شمار اصحاب میں شامل تھے۔ وہ اپنے بڑھاپے کی وجہ سے حجاج بن یوسف ثقفی کے تعاقب سے محفوظ تھے۔[69]

امام باقرکی ملاقات[ترمیم]

محمد باقر کے ساتھ جابر کی ملاقات کا واقعہ بہت سے مآخذ و مصادر میں نقل ہوا ہے۔[70] رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ نے جابر بن عبداللہ انصاری سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا: "اے جابر! تم اس قدر عمر پاؤگے کہ میری ذریت میں سے میرے ایک فرزند کا دیدار کرو گے جو میرے ہم نام ہوگا؛ وہ علم کا چیرنے پھاڑنے والا ہے (یبْقَرُالعلم بَقْراً؛ علم کی تشریح کرتا ہے جیسا کہ تشریح و تجزیئے کا حق ہے)، پس میرا سلام انہیں پہنچا دو[71]۔[72] جابر کو اس فرزند کی تلاش تھی حتی کہ مسجد مدینہ میں پکار پکار کر کہتے تھے "‌یا باقَرالعلم" اور آخر کار ایک دن امام محمد بن علی کو تلاش کیا ان کا بوسہ لیا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سلام انہیں پہنچایا۔[73]۔[74]۔[75]۔[76]

کاوشیں[ترمیم]

کثیر احادیث کی روایت[ترمیم]

آپ سے 1500 سے زائد احادیث روایت کی گئی ہیں۔ آپ ان کو مدینہ میں مسجد نبوی میں اور مصر و دمشق میں بیان کیا کرتے تھے۔

اہل سنت کے منابع حدیث کے ذریعے منقولہ مسند جابر، 1540 احادیث پر مشتمل ہے جن میں سے 58 حدیثیں بخاری اور مسلم کے ہاں متفق علیہ ہیں۔[20] احمد بن حنبل نے جابر کی حدیثیں اپنی مسند میں [77] جمع کی ہیں۔ مسند جابر بن عبداللہ بروایت ابو عبدالرحمن بن احمد بن محمد بن حنبل، مراکش کے خزانۃ الرباط میں موجود ہے[78] جو غالبا مسند احمد بن حنبل میں منقولہ جابر بن عبد اللہ کی روایات پر مشتمل ہے۔ حسین واثقی نے بھی جابر کی روایات شیعہ کتب حدیث سے جمع کرکے اپنی کتاب جابر بن عبداللہ الانصاری حیاتہ و مسندہ میں شائع کی ہیں۔

اہم ترین کاوش جو منابع میں جابر سے منسوب کی گئی ہے صحیفۂ جابر ہے۔ یہ صحیفہ ـ جو تدوین حدیث کی قدیم ترین صورت ہے ـ سلیمان بن قیس یشْکری نے تالیف کیا ہے لیکن بعد کے راویوں نے ـ سلیمان کی اچانک وفات کی وجہ سے ـ یہ حدیثیں سماع اور قرائت کے بغیر مذکورہ صحیفے سے نقل کی ہیں۔[79] اس صحیفے کا ایک نسخہ استنبول کے مجموعے شہید علی پاشا میں موجود ہے۔[80]

حدیث کا ادب[ترمیم]

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:

مجھے ایک صاحب کے متعلق اطلاع ملی کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک حدیث سنی ہے۔ میں نے فوراً ایک اونٹ خریدا، اس پر کجاوہ کسا اور ان صاحب کی طرف ایک ماہ کا سفر طے کر کے سیدھا ملک شام پہنچا۔ یہ صاحب عبداللہ بن انیس تھے۔ میں نے ان کے دربان سے کہا، جاکر کہو کہ جابر دروازے پر کھڑا ہے.

انہوں نے سنتے ہی پوچھا "کیا جابر بن عبداللہ؟"

میں نے کہا کہ "ہاں"

وہ فوراً باہر آگئے اور گلے ملے، میں نے کہا مجھے ایک حدیث کے متعلق اطلاع ملی ہے کہ آپ نے اسے آنحضرت سے سنا ہے، میں ڈرا کہ کہیں مجھے موت آجائے اور میں اس حدیث کے علم سے محروم رہ جاؤں. یہ سن کرعبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے وہ حدیث بیان کردی۔[81]

اولاد[ترمیم]

جابر کی اولاد میں عبدالرحمن، محمد[82] محمود، عبداللہ[83] اور عقیل[84] شامل ہیں۔

افریقیہ[85] اور بخارا [86] میں جابر سے منسوب افراد اور خاندانوں کے بارے میں روایات موجود ہیں۔ ان کی نسل ایران میں موجود ہے اور اس خاندان کے مشہور ترین فرد معاصر دور کے عظیم المرتبت شیعہ فقیہ اور اصولی شیخ مرتضی انصاری، تھے۔[87]

وفات[ترمیم]

انہوں نے چورانوے سال کی عمر پائی اور 68 یا 78ھ میں وفات پائی۔

جابر عمر کے آخری سالوں میں ایک سال تک مکہ میں بیت اللہ کی مجاورت میں مقیم رہے۔ اس دوران عطاء بن ابی رَباح اور عمرو بن دینار سمیت تابعین کے بعض بزرگوں نے ان کا دیدار کیا۔ جابر عمر کے آخری برسوں میں نابینا ہوئے اور مدینہ میں دنیا سے رخصت ہوئے۔[88] مِزّی[89] نے جابر کے سال وفات کے بارے میں بعض روایات نقل کی ہیں جن میں جابر کے سال وفات کے حوالے سے اختلاف سنہ 68 تا سنہ 79 ہجری تک ہے۔ بعض مؤرخین اور محدثین سے منقولہ روایت کے مطابق جابر بن عبداللہ انصاری نے سنہ 78 میں، 94 سال کی عمر میں وفات پائی اور والی مدینہ ابان بن عثمان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔[90]

روایات کے مطابق انہیں حجاج بن یوسف نے زہر دلوایا تھا۔ انہیں بغداد کے قریب مدائن میں دریائے دجلہ کے قریب دفن کیا گیا۔

قبر کشائی[ترمیم]

1932ء میں عراق کے اس وقت کے بادشاہ شاہ فیصل کو خواب میں صحابیِ رسول حذیفہ بن یمانی (معروف بہ حذیفہ یمانی) کی زیارت ہوئی جس میں انہوں نے بادشاہ کو کہا کہ اے بادشاہ میری قبر میں دجلہ کا پانی آ گیا ہے اور جابر بن عبداللہ کی قبر میں دجلہ کا پانی آ رہا ہے چنانچہ ہماری قبر کشائی کر کے ہمیں کسی اور جگہ دفن کر دو۔ اس کے بعد ان دونوں اصحابِ رسول کی قبریں سینکڑوں لوگوں کی موجودگی میں کھولی گئیں جن میں مفتیِ اعظم فلسطین، مصر کے شاہ فاروق اول اور دیگر اہم افراد شامل تھے۔ ان دونوں کے اجسام حیرت انگیز طور پر تازہ تھے، جیسے ابھی دفنائے گئے ہوں۔ ان کی کھلی آنکھوں سے ایسی روشنی خارج ہو رہی تھی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں چکا چوند ہو گئیں۔ ہزاروں لوگوں کو ان کی زیارت بھی کروائی گئی جن کے مطابق ان دونوں کے کفن تک سلامت تھے اور یوں لگتا تھا جیسے وہ زندہ ہوں۔ ان دونوں اجسام کو سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کے بالکل قریب سلمان پاک نامی جگہ پر دوبارہ دفنا دیا گیا جو بغداد سے تیس میل کے فاصلے پر ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الامین، اعیان الشیعۃ، ج4، ص46.
  2. ہاشم معروف الحسنی، زندگی دوازدہ امام، ج 2، ص 206۔
  3. ابن سعد، طبقات الکبری، ج3، قسم 2، ص104ـ105؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص208.
  4. بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص286؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص208، 211؛ قیس ابن حَبّان، مشاہیر علماء الامصار و اعلام فقہاء الاقطار، ص 30 نے عبداللہ و اس کے بیٹے جابر کی بیعتِ عقبہ اولی و عقبہ ثانیہ میں موجودگی کا لکھا ہے۔
  5. ابن عبدالبرّ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، 1412، ج1، ص220؛ ابن اثیر، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، 1417، ج1، ص377.
  6. المسکینہ ۔ بزبان انگریزی
  7. ابن قُتَیبَہ، المعارف، ص307؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص192.
  8. ابن قتیبہ، المعارف، ص307.
  9. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج 3، ص191.
  10. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص216ـ 217.
  11. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص214، 216ـ217، نیز ص219 جہاں 16 غزوات میں جابر کی شرکت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
  12. مثال کے طور پر انہوں نے سریۂ خَبَط میں شرکت کی ہے؛طبری، تاریخ طبری، ج3، ص32ـ33.
  13. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، قسم 1، ص34؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص402ـ403.
  14. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج8، ص248؛ ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ج4، ص99ـ100.
  15. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، قسم 1، ص43ـ44.
  16. سورہ نساء (4) 176۔ ارشاد ہوا: "يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللّہُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلاَلَۃِ إِنِ امْرُؤٌ ہَلَكَ لَيْسَ لَہُ وَلَدٌ وَلَہُ أُخْتٌ فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَہُوَ يَرِثُہَآ إِن لَّمْ يَكُن لَّہَا وَلَدٌ فَإِن كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَہُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِن كَانُواْ إِخْوَۃً رِّجَالاً وَنِسَاء فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللّہُ لَكُمْ أَن تَضِلُّواْ وَاللّہُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ"۔ (ترجمہ: آپ سے حکم شرعی دریافت کرتے ہیں کہئے کہ اللہ تمہیں کلالہ کے بارے میں حکم شرع بتاتا ہے۔ اگر کوئی شخص بے اولاد مر جائے اور اس کی ایک بہن ہو تواس کے لئے آدھا ترکہ ہوگا اور وہ اس (بہن) کا پورا وارث ہو گا اگر اس (بہن) کی اولاد نہ ہو۔ اب اگر دو بہنیں ہوں تو انہیں دو تہائی ترکہ ملے گا اور اگر بہنیں اور بھائی ہوں تو ہر بھائی کو دو بہنوں کے برابر ملے گا۔ اللہ تمہارے لئے صاف صاف بیان کرتا ہے کہ تم گمراہ نہ ہو اور اللہ ہر چیز کو جاننے والا ہے)۔
  17. ؛ طبری، جامع طبری؛ و محمد بن طوسی، التبیان فی التفسیر القرآن، آیہ کے ذیل میں۔
  18. محمدبن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص38
  19. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص210؛ و ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص192.
  20. ^ 20.0 20.1 ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص194.
  21. ابن شَبّہ نمیری، تاریخ المدینہ المنورہ: اخبار المدینہ النبویہ، ج3، ص1134ـ1136؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ج3، قسم 1، ص44ـ 45؛ و احمد بن یحیی بلاذری، انساب الاشراف، ج5، ص193.
  22. الامین، اعیان الشیعۃ، ج4، ص46؛ ابن بابویہ، من لایحضرہ الفقیہ، ج1، ص232.
  23. ابراہیم بن محمد ثقفی، الغارات، ج2، ص602ـ607؛ ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص235.
  24. طبری، تاریخ طبری، ج5، ص239.
  25. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج11، ص213ـ214.
  26. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ج11، ص213ـ214۔
  27. ابن حنبل، مسند الامام احمدبن حنبل، ج3، ص495.
  28. مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص318ـ319.
  29. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص235؛ ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص193.
  30. زبیریوں کی مکمل سرکوبی کے بعد حجاج نے مکہ، یمامہ اور یمن کی حکومت سنبھالی اور اپنے ہاتھوں ویران شدہ کعبہ کی مرمت کی؛تاریخ یعقوبی، ترجمہ ابراہیم آیتی، ج2، ص207۔ کچھ عرصہ بعد عثمان کے آزاد کردہ طارق بن عمرو کی جگہ مدینہ کا والی بنا؛ تاريخ طبرى، ترجمہ ابوالقاسم پايندہ، تہران، اساطير، ج8، ص3490؛ اور پہلے ہی دن سے اہل مدینہ کے ساتھ بدسلوکی کا آغاز کیا کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ اہل مدینہ عثمان کے قاتل ہیں۔ نویری، شہاب الدین احمد؛ نہایۃ الارب فی فنون الادب، ترجمہ مہدوی دامغانی، ج6، ص12۔ اس نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تذلیل کی غرض سے سہل بن سعد (طبری، ج 8، ص 3511)؛ سمیت متعدد صحابہ کی گردنوں پر سیسے کی پگھلتی مہریں لگا دیں۔ یعقوبی، وہی ماخذ، ج2، ص 222۔ یہ وہ سلوک تھا جو ان دنوں ذمیوں کے ساتھ روا رکھا جانے لگا تھا؛ ابن خلدون، العبر تاريخ ابن خلدون، ترجمہ عبد المحمد آيتى، ج2، ص70۔ اور اس کے اس عمل کی وجہ بھی یہی بتائی جاتی تھی "صحابہ نے عثمان کو مدد نہيں پہنچائی تھی۔ طبری، ج8، ص3511۔
  31. بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص288؛ طبری، تاریخ طبری، ج6، ص195.
  32. ابن عساکر، ج11، ص234.
  33. ابن حَجَر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ج1، ص435.
  34. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج2، قسم 2، ص127؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، 1412، ج1، ص220.
  35. ابن قیم جوزی، اعلام الموقعین عن رب العالمین، ج1، ص12 میں رقمطراز ہے کہ وہ ان صحابہ میں سے ہیں جن سے اوسط تعداد میں فتاوی نقل ہوئے ہیں۔
  36. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص189.
  37. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص208ـ209؛ مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج4، ص444.
  38. خطیب بغدادی، الرّحلۃ فی طلب الحدیث، 1395، 1395، ص109ـ 118؛ ابن عبدالبرّ، جامع بیان العلم و فضلہ و ماینبغی فی روایتہ و حملہ، 1402، ص151ـ152.
  39. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص191.
  40. ابن اثیر، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، 1417، ج1، ص378.
  41. برائے نمونہ ابن اشعث کوفی، الاشعثیات (الجعفریات)، ص22، 44، 47؛ کلینی، الاصول من الکافی، ج1، ص532، ج2، ص373، ج3، ص233ـ234، ج5، ص528 ـ 529، ج8، ص144، 168ـ169؛ ابن بابویہ، عیون اخبارالرضا، 1404، ج1، ص47، ج2، ص74.
  42. عبدالحسین امینی، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب، ج1، ص57ـ60.
  43. صفار قمی، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد «‌ص »، ص414.
  44. ابن ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج2، ص34.
  45. ابن بابویہ، معانی الاخبار، 1361 ش، ص74.
  46. مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ج1، ص345ـ346.
  47. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج2، ص189ـ190.
  48. ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمہ، 1363 ش، ج1، ص258ـ259؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج1، ص282.
  49. ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمۃ، 1363ش، ج1، ص253، 286، 288.
  50. محمد بن یعقوب کلینی، الاصول من الکافی، ج1، ص527 ـ 528؛ ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمہ، 1363 ش، ج1، ص308ـ313.
  51. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج11، ص233؛ خطیب بغدادی، تقیید العلم، 1974، ص104؛ ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ج1، ص435.
  52. جابر سے نقل حدیث کرنے والے افراد کی مکمل فہرست کے لئے دیکھیے یوسف بن عبد الرحمن مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج4، ص444ـ 448؛ حسین واثقی، جابر بن عبداللہ الانصاری، ص108ـ 118.
  53. بیروت 1421.
  54. نمونے کے طور پرعبدالرزاق بن ہمام الصنعانی، تفسیر القرآن، ج1، ص89، 129، 131، ج2، ص211، 231ـ 232؛ محمد بن احمد قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ج2، ص112، 302، ج4، ص155، 166.
  55. طَبْرِسی، ذیل احزاب: 33؛ نساء: 24.
  56. احمدبن محمد برقی، کتاب الرجال، ص3، 7ـ9؛ محمدبن حسن طوسی، رجال الطوسی، ص59، 93، 99، 111، 129.
  57. خوئی، ج4، ص16؛ تستری، ج2، ص519 ـ521.
  58. مازندرانی حائری، منتہی المقال فی احوال الرجال، ج2، ص212؛ خوئی، معجم رجال الحدیث، ج4، ص12، 15.
  59. محمد بن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص38.
  60. محمدبن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص5.
  61. احمد بن محمد برقی، کتاب الرجال، ص4.
  62. محمدبن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص40ـ41۔
  63. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج42، ص284۔
  64. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج42، ص44.
  65. تستری، قاموس الرجال، ج2، ص525.
  66. مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ج2، ص97۔
  67. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، 1385ـ1386، ج4، ص62.
  68. طوسی، مصباح المتہجد، ص787۔
  69. کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص123ـ124۔
  70. منجملہابن سعد، الطبقات الکبری، ج5، ص164۔
  71. کلینی، الاصول من الکافی، ج1، ص304، 450ـ469۔
  72. مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ج2، ص159.
  73. کشی، اختیار معرفۃ الرجال، ص41ـ42۔
  74. کلینی، الاصول من الکافی، ج1، ص469ـ470۔
  75. ابن عساکر، تاریخ مدینہ دمشق، ج54، ص275ـ276۔
  76. ما رواہ ابن عساكر ان الامام زين العابدين ومعہ ولدہ الباقر دخل على جابر بن عبد اللہ الانصاري، فقال لہ جابر: من معك يا ابن رسول اللہ؟ قال: معي ابني محمد فاخذہ جابر وضمہ إليہ وبكى ثم قال: اقترب اجلي، يا محمد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم يقرؤك السلام فسئل وما ذاك؟ فقال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم يقول: للحسين بن علي يولد لابنى ہذا ابن يقال لہ علي بن الحسين، وہو سيد العابدين إذا كان يوم القيامۃ ينادي مناد ليقم سيد العابدين فيقوم علي بن الحسين، ويولد لعلي بن الحسين ابن يقال لہ محمد اذا رأيتہ يا جابر فاقرأہ منى السلام، يا جابر اعلم أن المہدي من ولدہ۔۔۔"۔ (ترجمہ: ابن عساکر نے روایت کی ہے کہ امام زین العابدینجابر بن عبداللہ انصاری پر وارد ہوئے جبکہ ان کے بیٹے محمدبھی آپ کے ساتھ تھے؛ پس جابر نے عرض کیا: اے فرزند رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! کون آپ کے ساتھ ہے؟ فرمایا: اے جابر یہ میرا بیٹا محمد ہے۔ جابر نے انہیں آغوش میں لیا اور اپنے سینے سے چپکایا اور روئے اور کہا: میری موت قریب ہوچکی ہے اور مزید کہا: اے محمد! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کو سلام کہتے ہیں۔ ان سے پوچھا گیا: وہ کیسے؟ عرض کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو امام حسینکے بارے میں فرماتے ہوئے سنا: میرے اس بیٹے کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوگا جو امام علی بن الحسین کہلائے گا وہ امام سید العابدین ہے؛ جب قیامت کے دن منادی ندا دے گا کہ "امام سید العابدین اٹھے"، تو وہی اٹھے گا اور امام علی بن الحسین کے ہاں ایک فرزند پیدا ہوگا جو محمد کہلائے گا؛ اے جابر جب اسے دیکھو اس کو میری طرف سے سلام پہنچاؤ؛ اے جابر جان لو کہ امام مہدی(عج) اسی کی نسل سے ہیں؛ اے جابر! اس کے بعد آپ کی زندگی کم ہے)۔
    حياۃ الإمام محمّد الباقر عليہ السلام دراسۃ وتحليل - ج 1، ص25؛ بحوالہ:تاريخ ابن عساكر 51 / 41 من مصورات مكتبۃ الامام أمير المؤمنين۔
  77. مسنداحمدبن حنبل، ج3، ص292ـ 400.
  78. خیرالدین زرکلی، الاعلام، ج2، ص104.
  79. خطیب بغدادی، الکفایۃ فی علم الروایۃ، 1406، ص392؛ سزگین، ج1، ص85؛ ترجمہ عربی، ج1، جزء 1، ص154ـ 155.
  80. نجم عبدالرحمن خلف، استدراکات علی تاریخ التراث العربی لفؤاد سزگین فی علم الحدیث، ص32.
  81. حکایات صحابہ : مولانا محمد زکریا
  82. ابن قتیبہ، المعارف، ص307..
  83. ابن حزم، جمہرۃ انساب العرب، ص359۔
  84. یوسف بن عبدالرحمن مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج4، ص446.
  85. آج کا تیونس؛ابن حزم، جمہرۃ انساب العرب، ص359..
  86. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، 1385ـ1386، ج10، ص545.
  87. عباس قمی، تحفۃ الاحباب فی نوادر آثار الاصحاب، ص40؛ ایران میں جابر کے اعقاب و احفاد کے سلسلے میں مزید آگہی کے حصول کے لئےواثقی، حسین واثقی، جابربن عبداللہ الانصاری، ص31ـ34.
  88. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ج3، ص191ـ192.
  89. مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، ج4، ص453ـ545.
  90. نیزابن قتیبہ، المعارف، ص307.

مآخذ[ترمیم]

  • ابن اثیر، اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت: چاپ عادل احمد رفاعی،1996ء/1417ھ ۔
  • ابن اثیر ، الکامل فی التاریخ، بیروت: 1385ـ 1386/ 1965ـ1966۔
  • ابن اشعث کوفی، الاشعثیات (الجعفریات)، چاپ سنگی، تہران: مکتبۃ نینوی الحدیثہ، بے تا۔
  • ابن بابویہ، عیون اخبار الرضا، بیروت: چاپ حسین اعلمی، 1404/1984۔
  • ابن بابویہ، کتاب من لا یحضرہ الفقیہ، قم: چاپ علی¬اکبر غفاری، 1414۔
  • ابن بابویہ، کمال الدین و تمام النعمۃ، قم: چاپ علی¬اکبر غفاری، 1363 ہجری شمسی۔
  • ابن بابویہ، معانی الاخبار، چاپ علی‌اکبر غفاری، قم 1361 ہجری شمسی۔
  • ابن حبّان، مشاہیر علماء الامصار و اعلام فقہاء الاقطار، بیروت: چاپ مرزوق علی ابراہیم، 1408/1987۔
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، بیروت: چاپ علی محمد بجاوی، 1412/1992۔
  • ابن حزم، الاحکام فی اصول الاحکام، قاہرہ: چاپ احمد شاکر، بے تا۔
  • ابن حزم، جمہرۃ انساب العرب، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، قاہرہ، 1982۔
  • ابن حنبل، مسند الامام احمدبن حنبل، بیروت: دارصادر، بے تا۔
  • ابن سعد (لائڈن)؛
  • ابن شبّہ نمیری، کتاب تاریخ المدینۃ المنورۃ: اخبار المدینۃ النبویۃ، جدّہ: چاپ فہیم محمد شلتوت، 1399/ 1979، قم: چاپ افست، 1368 ہجری شمسی۔
  • ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی طالب، قم: چاپ ہاشم رسولی محلاتی، بے تا۔
  • ابن عبدالبرّ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، بیروت: چاپ علی محمد بجاوی، 1412/1992۔
  • ابن عبدالبرّ، جامع بیان العلم و فضلہ و ماینبغی فی روایتہ و حملہ، قاہرہ: 1402/1982۔
  • ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، بیروت: چاپ علی شیری، 1415ـ1421/ 1995ـ 2000۔
  • ابن قتیبہ، المعارف، چاپ ثروت عکاشہ، قاہرہ 1960؛
  • ابن قیم جوزیہ، اعلام الموقعین عن رب العالمین، بیروت: چاپ طہ عبدالرؤف سعد، 1973۔
  • ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت: چاپ علی شیری، 1408/ 1988۔
  • عبدالحسین امینی، الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب، قم: 1416ـ1422/ 1995ـ2002۔
  • احمد بن محمد برقی، کتاب الرجال، تہران: 1383۔
  • احمد بن یحیی بلاذری، انساب الاشراف، دمشق: چاپ محمود فردوس العظم، 1996ـ2000۔
  • تستری، قاموس الرجال؛
  • ابراہیم بن محمد ثقفی، الغارات، تہران: چاپ جلال الدین محدث ارموی، 1355 ہجری شمسی۔
  • احمد بن علی خطیب بغدادی، تقیید العلم، بیروت: چاپ یوسف عش، 1974۔
  • خطیب بغدادی ، الرّحلۃ فی طلب الحدیث، بیروت: چاپ نورالدین عتر، 1395/1975۔
  • خطیب بغدادی ، الکفایۃ فی علم الروایۃ، بیروت: چاپ احمد عمر ہاشم، 1406/1986۔
  • نجم عبدالرحمن خلف، استدراکات علی تاریخ التراث العربی لفؤاد سزگین فی علم الحدیث، بیروت: 1421/2000۔
  • ابوالقاسم خوئی، معجم رجال الحدیث؛
  • ذہبی، سیر اعلام النبلاء؛
  • خیرالدین زرکلی، الاعلام، بیروت: 1986۔
  • فؤاد سزگین، تاریخ التراث العربی، ج1، جزء 1، نقلہ الی العربیۃ محمود فہمی حجازی، ریاض: 1403/ 1983۔
  • محمد بن حسن صفار قمی، بصائر الدرجات فی فضائل آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، قم: چاپ محسن کوچہ باغی تبریزی، 1404۔
  • عبدالرزاق بن ہمام صنعانی، تفسیرالقرآن، ریاض: چاپ مصطفی مسلم محمد، 1410/1989۔
  • طبرسی؛ طبری، تاریخ (بیروت)۔
  • طبرسی، جامع؛ محمد بن حسن طوسی، التبیان فی تفسیرالقرآن، چاپ احمد حبیب قصیر عاملی، بیروت بی‌تا۔
  • طبرسی، رجال الطوسی، قم: چاپ جواد قیومی اصفہانی، 1415۔
  • طبرسی، کتاب الخلاف، قم 1407ـ1417۔
  • طبرسی، مصباح المتہجد، بیروت 1411/ 1991۔
  • محمد بن ابوالقاسم عمادالدین طبری، بشارۃ المصطفی لشیعۃ المرتضی، نجف: 1383/1963؛
  • محمد بن احمد قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، بیروت: 1405/1985۔
  • عباس قمی، تحفۃ الاحباب فی نوادر آثار الاصحاب، تہران 1369۔
  • محمد بن عمر کشی، اختیار معرفۃ الرجال، [تلخیص] محمد بن حسن طوسی، چاپ حسن مصطفوی، مشہد: 1348 ہجری شمسی۔
  • کلینی؛ محمدبن اسماعیل مازندرانی حائری، منتہی المقال فی احوال الرجال، قم: 1416۔
  • یوسف بن عبدالرحمن مزّی، تہذیب الکمال فی اسماءالرجال، بیروت: چاپ بشار عواد معروف، 1422/2002۔
  • مسعودی، مروج (بیروت)؛ محمدبن محمد مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج¬اللہ علی العباد، قم: 1413۔
  • حسین واثقی، جابر بن عبداللہ الانصاری: حیاتہ و مسندہ، قم: 1378 ہجری شمسی۔

انگریزی ماخذ[ترمیم]

  • Fuat Sezgin, Geschichte des arabischen Schrifttums , Leiden لائڈن 1967-1984

بیرونی ربط[ترمیم]